مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو نظم نگاری میں علامہ اقبال کا مقام

اردو نظم نگاری میں علامہ اقبال کا مقام: فکری، فلسفیانہ اور فنی مطالعہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

علامہ اقبال: اردو زبان و ادب کا عظیم سرمایہ

اردو ادب کی تاریخ علامہ محمد اقبال کے ذکر کے بغیر نامکمل ہے۔ ان کی ذات اور ان کا کلام اردو زبان کے لیے ایک انمول خزانہ ہے جس نے شاعری کو محض تفریح کے بجائے ایک اعلیٰ فکری اور فلسفیانہ مقصد عطا کیا۔ رشید احمد صدیقی نے بجا طور پر انہیں "مستقبل کا شاعر” قرار دیا ہے۔ اقبال نے اپنے قلم کے ذریعے مسلمانوں کے تابناک مستقبل کی تعمیر کی جو ناقابلِ فراموش کوشش کی ہے، وہ تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ سنہری حروف میں لکھی جائے گی۔

اقبال کی شاعری کے موضوعات انتہائی وسیع اور کثیر الجہتی ہیں۔ ان کے ہاں تخیل کی اڑان، تفکر کی گہرائی، زبان کی مٹھاس اور مطالعے کی وسعت کا ایک انوکھا سنگم ملتا ہے۔ غزل کی تنگ دامانی کا احساس کرتے ہوئے انہوں نے نظم نگاری کو وہ عروج بخشا جہاں سے وہ لازوال ہو گئی۔

نظم نگاری کا ارتقاء اور اقبال کا منفرد اسلوب

حالی اور آزاد نے جس جدید نظم نگاری کی بنیاد رکھی تھی، اقبال نے اسے بامِ عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے نظم کو اتنی وسعت دی کہ وہ پیچیدہ ترین فلسفیانہ خیالات کی ادائیگی کا بہترین ذریعہ بن گئی۔

فطرت نگاری اور مناظرِ قدرت کی عکاسی

اپنی شاعری کے ابتدائی دور میں اقبال نے مناظرِ فطرت پر شاندار نظمیں تخلیق کیں۔ ان کی یہ نظمیں نیچرل شاعری کے اعلیٰ ترین معیار پر پوری اترتی ہیں۔ انہوں نے اپنے لفظوں کے جادو سے ہندوستان کے پہاڑوں، دریاؤں، اور آبشاروں کو زبان دے دی۔ اس حوالے سے ان کی شاہکار نظم ’ہمالہ‘ کو ایک خاص مقام حاصل ہے جس میں پہاڑ کی عظمت کو انتہائی خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے:

اے ہمالہ اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
تجھ میں کچھ پیدا نہیں دیرینہ روزی کے نشاں
تو جواں ہے گردش شام و سحر کے درمیاں
ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تو تجلی ہے سراپا چشم بینا کے لیے
امتحان دیدہ ظاہر میں کوہستاں ہے تو
پاسباں اپنا ہے تو دیوار ہندستاں ہے تو
مطلع اول فلک جس کا ہو وہ دیواں ہے تو
سوئے خلوت گاہ دل دامن کش انساں ہے تو
برف نے باندھی ہے دستار فضیلت تیرے سر

حب الوطنی اور قومی یکجہتی کا درس

ابتدائی دور میں اقبال کے دل میں وطن کی محبت کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے ہندوستان کی ثقافتی، تاریخی اور جغرافیائی برتری کو دنیا کے دیگر ممالک کے سامنے فخریہ انداز میں پیش کیا۔ ان کا مشہورِ زمانہ ’ترانہ ہندی‘ ان کی بے پناہ حب الوطنی کا منہ بولتا ثبوت ہے:

یونان و مصر و روما سب مٹ گئے جہاں سے
اب تک مگر ہے باقی نام و نشاں ہمارا
کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری
صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا

اس کے ساتھ ہی اقبال نے اپنی نظموں میں قومی یکجہتی، رواداری اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام دیا۔ انہوں نے مذہبی شدت پسندی کی نفی کی اور تمام انسانوں اور ان کے پیشواؤں کی تکریم کا سبق دیا۔ سری رام اور گرو نانک جیسی شخصیات پر ان کی نظمیں اسی وسیع النظری کی عکاس ہیں۔ نظم ’نیا شوالہ‘ میں وہ تنگ نظری پر کڑی تنقید کرتے ہیں:

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہو گئے پرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھا یا واعظ کو بھی خدا نے
تنگ آکے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا چھوڑے ترے فسانے
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاک وطن کا مجھ کو ہر ذرہ دیوتا ہے

نیز، حب الوطنی کے حوالے سے ان کا یہ شعر بھی ان کے جذبات کا عکاس ہے:

سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ اک نیا شوالہ اس دیش میں بنادے
دنیا کے تیرتھوں سے اونچا ہو اپنا تیرتھ
دامان آسماں سے اس کا کلش ملادے

عورت کے مقام و مرتبے کا آفاقی تصور

روایتی اردو شاعری میں عورت کا ذکر محض محبوبہ کے ظاہری حسن تک محدود رہا ہے، لیکن علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں عورت کو ایک آفاقی اور کائناتی حیثیت عطا کی۔ ان کی نظر میں عورت زندگی کے ساز کا وہ تار ہے جس کے بغیر کائنات کا رنگ و روپ ادھورا ہے۔ نظم ’عورت‘ میں انہوں نے صنفِ نازک کی عظمت کا جو ترانہ گایا ہے، وہ اردو ادب کا ایک شاہکار ہے:

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں
شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی
کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

یورپ کا سفر اور فکری انقلاب (1905 کے بعد کا دور)

سال 1905 میں جب علامہ اقبال نے یورپ کا سفر کیا تو یہ ان کی زندگی اور شاعری کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ انہوں نے مغربی تہذیب اور طرزِ معاشرت کا قریب سے مشاہدہ کیا۔ ظاہری چمک دمک کے پیچھے چھپی کھوکھلی حقیقت، روحانیت کی کمی اور مادی ہوس نے اقبال کو یہ باور کرایا کہ مغربی تہذیب انسانیت کے لیے زہرِ قاتل ہے۔

اسلامی تہذیب کی جانب واپسی اور ملت کا درد

اس مشاہدے کے بعد انہیں شدت سے احساس ہوا کہ انسانیت کی بقا اور فلاح صرف اسلامی اقدار میں پوشیدہ ہے۔ اب ان کا دائرہ فکر وطنیت سے نکل کر عالمگیر اسلامی اخوت تک پھیل گیا۔ انہوں نے ’ترانہ ہندی‘ سے ’ترانہ ملی‘ تک کا سفر طے کیا۔ وہ مغربی امارت کے مقابلے میں اسلامی فقر اور عظمت کو ترجیح دینے لگے:

ترے صوفے ہیں افرنگی ترے قالیں ہیں ایرانی
لہو مجھ کو رلاتی ہے جوانوں کی تن آسانی
امارت کیا شکوہ خسروی بھی ہو تو کیا حاصل
نہ زور حیدری تجھ میں نہ استغنائے سلمانی
نہ ڈھونڈ اس چیز کو تہذیب حاضر کی تجلی میں

نوجوانانِ ملت کے لیے عقابی روح کا پیغام

اقبال کا خاص ہدف مسلم نوجوان تھے۔ انہوں نے نوجوانوں کی زبوں حالی، کاہلی اور اپنے شاندار ماضی سے دوری پر آنسو بہانے کے بجائے ان میں بیداری کی لہر دوڑانے کی کوشش کی۔ وہ نوجوانوں میں ایک عقابی روح پھونکنا چاہتے تھے جو ستاروں پر کمند ڈال سکے:

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید نومیدی زوال علم و عرفاں ہے
امید مرد مومن ہے خدا کے راز دانوں میں

اس کے علاوہ وہ نوجوانوں کو عملی جدوجہد کا راستہ دکھاتے ہیں، جیسا کہ ’خضر راہ‘ میں وہ فرماتے ہیں:

زندگی کا راز کیا ہے سلطنت کیا چیز ہے
اور یہ سرمایہ و محنت میں ہے کیسا خروش
ہو رہا ہے ایشیا کا خرقہ دیرینہ چاک
نوجواں اقوام نو دولت کے ہیں پیرا یہ پوش
گرچہ اسکندر رہا محروم آب زندگی
فطرت اسکندری اب تک ہے گرم ناؤ نوش

اقبال کی شاعری کے تین اہم ادوار

علامہ اقبال کی شاعرانہ زندگی اور فکری ارتقاء کو ماہرین عموماً تین نمایاں ادوار میں تقسیم کرتے ہیں:

1. پہلا دور (1905 تک): روایتی انداز اور مناظرِ فطرت

یہ دور قیامِ یورپ سے پہلے کا ہے۔ اس میں روایتی شاعری، وطن پرستی کے گیت اور قدرت کے حسین مناظر کی عکاسی ملتی ہے۔ اس دور کا کلام بانگِ درا میں موجود ہے۔ اس دور میں اقبال فطرت کے حسن سے بے حد متاثر تھے:

پانی کو چھو رہی ہے جھک جھک کے گل کی ٹہنی
جیسے حسین کوئی آئینہ دیکھتا ہو
آتی ہے ندی فراز کوہ سے گاتی ہوئی
کوثر و تسنیم کی موجوں کو شرماتی ہوئی

اسی دور میں انہوں نے گلِ رنگین، شمع اور خفتگانِ خاک سے سوال جیسی نظمیں لکھیں۔

2. دوسرا دور (1905 سے 1908): آفاقیت اور مغربی تہذیب پر تنقید

یہ ان کے یورپ میں قیام کا عرصہ ہے۔ اس دوران ان کی شاعری میں فارسیت کا غلبہ ہوا اور وہ ایک شاعر سے بڑھ کر ایک پیامبر بن کر ابھرے۔ انہوں نے سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید کی اور وطنیت کے محدود تصور کو مسترد کر دیا:

ان تازہ خداؤں میں بڑا سب سے وطن ہے
جو پیرہن اس کا ہے وہ مذہب کا کفن ہے

اسی دور میں انہوں نے امت مسلمہ کو یکجہتی کا پیغام دیا:

نرالا سارے جہاں سے اس کو عرب کے معمار نے بنایا
بنا ہمارے حصار ملت کی اتحاد وطن نہیں ہے

3. تیسرا دور (1908 کے بعد): درخشاں دور اور فکری پختگی

اس دور میں اقبال کی شاعری اپنے کمال تک پہنچ گئی۔ انہوں نے شکوہ، جوابِ شکوہ اور خضرِ راہ جیسی طویل اور معرکۃ الآراء نظمیں تخلیق کیں۔ ان کا پیغام تھا کہ عمل اور یقین سے ہی دنیا فتح کی جا سکتی ہے:

یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
جہاد زندگانی میں یہ ہیں مردوں کی شمشیریں

اسی دور میں انہوں نے قرآن و سنت سے وابستگی کا ابدی پیغام دیا:

حرم پاک بھی اللہ بھی قرآن بھی ایک
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

فلسفہ خودی اور مردِ مومن کا تصور

اقبال کی تمام تر شاعری کا مرکزی نقطہ ان کا فلسفہ خودی ہے۔ اگر اس تصور کو سمجھ لیا جائے تو کلامِ اقبال کی تفہیم انتہائی آسان ہو جاتی ہے۔ ان کے نزدیک فرد اور قوم کی ترقی کا راز اپنی ’خودی‘ کی پہچان اور اس کی تربیت میں ہے۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

یہ ’خودی‘ دراصل زندگی کا آغاز بھی ہے اور انجام بھی۔ اقبال فرماتے ہیں:

خودی کیا ہے راز دورنِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئی کائنات
ازل اس کے پیچھے ابد سامنے
نہ حد اس کے پیچھے نہ حد سامنے
زمانے کی دھارے میں بہتی ہوئی
ستم اس کی موجوں کے سہتی ہوئی
خودی کا نشیمن ترے دل میں ہے
فلک جس طرح آنکھ کے تل میں ہے
خودی کا سرِ نہاں لاالہ الا اللہ
خودی ہے تیغ فساں لاالہ الا اللہ

جب کوئی انسان ضبطِ نفس اور اطاعتِ الٰہی کے مراحل طے کر لیتا ہے تو وہ ’مردِ مومن‘ بن جاتا ہے۔ یہ مردِ مومن حالات کا غلام نہیں ہوتا بلکہ کائنات کو تسخیر کرتا ہے:

جہاں تمام ہے میراث مرد مومن کی
مری کلام پہ حجت ہے نکتہ لولاک
مہر و مہ و انجم کا محاسب ہے قلندر
ایام کا مرکب نہیں راکب ہے قلندر

تراجم اور مغربی ادب سے ماخوذ نظمیں

علامہ اقبال نے نظم میں فکری وحدت کا جو تصور پیش کیا، وہ بنیادی طور پر انہوں نے یورپی ادب کے مطالعے سے اخذ کیا تھا۔ انہوں نے بچوں کے لیے کئی دلکش نظمیں لکھیں جو انگریزی اور یورپی شعراء کے خیالات سے ماخوذ ہیں۔

  • بچوں کی نظمیں: ایک مکڑا اور مکھی، ایک پہاڑ اور گلہری، ایک گائے اور بکری، ہمدردی، بچے کی دعا، ماں کا خواب وغیرہ۔
  • انگریزی اثرات: ’پرندہ اور جگنو‘ اور ’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘ جیسی نظمیں ولیم کاوپر (William Cowper) کے اثرات کی غماز ہیں۔
  • دیگر ماخوذات: سمول راجر، ٹینی سن، لانگ فیلو اور ایمرسن کے اثرات بھی ان کے ہاں نمایاں ہیں۔ گورستانِ شاہی اور خفتگانِ خاک سے استفسار تھامس گرے کی ایلجی (Grey’s Elegy) سے متاثر ہیں۔
  • جرمن اثرات: ان کی نظم ’حسن اور زوال‘ کا مرکزی خیال جرمن ادب سے لیا گیا تھا، جسے انہوں نے نہایت خوبصورتی سے اردو کے سانچے میں ڈھالا۔

اقبال کی نظموں کا اسلوبیاتی اور فنی جائزہ

اقبال صرف ایک مفکر نہیں بلکہ ایک عظیم فنکار بھی تھے۔ ان کا اسلوب انہیں دیگر تمام شعراء سے ممتاز کرتا ہے۔

1. مکالماتی انداز اور تمثیل نگاری

اقبال نے اپنے پیغام کو مؤثر بنانے کے لیے مکالمے اور تمثیل کا شاندار استعمال کیا ہے۔ ان کی نظموں میں پہاڑ، گلہری، شمع، پروانہ، سورج، چاند اور ستارے آپس میں مکالمہ کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں، جس سے نظم میں ایک ڈرامائی اور متحرک کیفیت پیدا ہوتی ہے۔

2. شخصی کرداروں کی تخلیق

انہوں نے اپنے فلسفے کو بیان کرنے کے لیے تاریخ کی اہم شخصیات کو کرداروں کے روپ میں پیش کیا۔ خضر علیہ السلام، لینن، سرسید، اور ابلیس جیسے کرداروں کی زبانی انہوں نے زندگی کے گہرے حقائق بیان کیے ہیں۔

3. سادگی، سلاست اور صوتی نغمگی

مشکل ترین فلسفیانہ موضوعات کو بیان کرنے کے باوجود اقبال کے ہاں سادگی اور روانی موجود ہے۔ الفاظ کی تکرار اور حسین تراکیب سے وہ ایک کمال کی صوتی نغمگی پیدا کرتے ہیں:

عشق کی مضراب سے نغمہ تار حیات
عشق ہے نورِ حیات عشق ہے نارِ حیات

4. تلمیحات، تشبیہات اور علامت نگاری

علامہ اقبال نے شعری وسائل کا بھرپور استعمال کیا ہے۔ انہوں نے قرآنی اور تاریخی تلمیحات کو ایک نئے مفہوم کے ساتھ پیش کیا۔ ان کی علامت نگاری کا نظام بے حد مضبوط ہے۔ شاہین، پروانہ، ساحل، موج، اور ابلیس محض الفاظ نہیں بلکہ گہرے معانی کی علامتیں ہیں۔

شاہکار نظمیں اور خونِ جگر کا معجزہ

شعاعِ امید، شکوہ، جوابِ شکوہ، ساقی نامہ، مسجد قرطبہ، لینن خدا کے حضور میں، ابلیس کی مجلس شوریٰ اور ذوق و شوق اقبال کی وہ شاہکار نظمیں ہیں جنہوں نے اردو نظم کو عالمی ادب کے ہم پلہ کھڑا کر دیا۔ مسجد قرطبہ ان کے فن اور فکر کی معراج ہے۔

کوئی بھی نقاد ان کے فکری نظریات سے تو اختلاف کر سکتا ہے، لیکن ان کی شاعرانہ عظمت اور فنی پختگی سے انکار ممکن نہیں۔ جیسا کہ اقبال نے خود فرمایا تھا کہ سچا فنکار اپنے خونِ جگر سے فن پارے کو حیات بخشتا ہے:

نقش ہیں سب ناتمام خون جگر کے بغیر
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر
رنگ ہو یا خشت و سنگ چنگ ہو یا حرف و صوت
معجزہ فن کی ہے خون جگر سے نمود

(یہاں یہ واضح رہے کہ محترمہ رئیسہ پروین کے مطابق بیسویں صدی کی اردو شاعری میں ادبی، سماجی اور سیاسی بیداری کا جو شعور جوش، فیض، مجاز، اور سردار جعفری جیسے شعراء کے ہاں ملتا ہے، وہ سب علامہ اقبال ہی کا مرہونِ منت ہے۔)

غرض یہ کہ بانگِ درا، بالِ جبریل، ضربِ کلیم اور ارمغانِ حجاز کی صورت میں علامہ اقبال نے جو شعری اثاثہ چھوڑا ہے، اس نے اردو ادب کی پوری فضا کو بدل کر رکھ دیا۔ انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے سوئی ہوئی قوم کو بیدار کیا، غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کا شعور دیا اور اردو شاعری کو ایک ایسی بے مثال بلندی پر پہنچا دیا جہاں آج تک کوئی دوسرا شاعر نہیں پہنچ سکا۔ محبت، فقر، خودی اور عمل کے یہ نغمے تاقیامت اردو ادب کی پیشانی کا جھومر بنے رہیں گے۔

عشق دم جبرئیل عشق دل مصطفیٰ
عشق خدا کا رسول عشق خدا کا کلام
ہاتھ ہے اللہ کا بندہ مومن کا ہاتھ
غالب و کار آفریں کارکشا کارساز

نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں