موضوعات کی فہرست
اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز و ارتقاء | Urdu Mein Maktub Nigari ka Aaghaz o Irtiqa
اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز و ارتقاء
محقق کا تعارف
ابو رافع نے پی۔ایچ۔ڈی مقالہ "مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور (2013) میں ڈاکٹر شباب الدین کی نگرانی میں مکمل کیا۔
یہ باب صفحہ نمبر 57 سے منتخب گیا ہے، اور اس میں اردو میں مکتوب نگاری کی ابتدا اور اس کے ارتقاء پر تحقیق کی گئی ہے۔
مقالے کا مختصر خلاصہ
اس حصے میں اردو میں مکتوب نگاری کی ابتدا کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس روایت کی جڑیں غالباً فارسی ادبی روایات کی تقلید میں تھیں۔
تحقیق میں پروفیسر عرفان چشتی کا حوالہ بھی پیش کیا گیا ہے کہ دستی طور پر محفوظ شدہ اردو کا پہلا خط 6 دسمبر 1922 کا ہے
، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ اس سے پہلے اردو میں خطوط کا استعمال نہیں ہوا۔ تحقیقی شواہد سے معلوم ہوتا ہے کہ غالب سے قبل بھی اردو میں خطوط لکھے جاتے تھے، خاص طور پر دکن کے علاقوں سے ملنے والے ابتدائی خطوط سے یہ بات واضح ہوتی ہے۔
غالب کو عموماً اردو مکتوب نگاری کی روایت کا آغاز کرنے والا شاعری نگار سمجھا جاتا ہے، لیکن رجب علی بیگ سرور اور غلام غوث بے خبر جیسے ادب نگاروں نے غالب سے پہلے اردو خطوط لکھے اور شائع کیے تھے۔
غالب نے اردو میں سادہ، بے ساختہ اور عام فہم اسلوب میں خطوط کے لیے نئی سمت متعین کی، جس سے مکتوب نگاری کو ادبی حیثیت ملی۔
اردو میں مکتوب نگاری کا آغاز و ارتقاء
ماخذ و حوالہ جات
- مقالہ: مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
- مقالہ نگار: ابو رافع (ಚ Enrolment No. Pu07/160575)
- نگران: ڈاکٹر شباب الدین
- ادارہ: ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور
- غالب سے پہلے اردو خطوط: پژوهشگر سرور اور بے خبر نے غالب سے پہلے خطوط لکھے
- پروفیسر عرفان چشتی کے مطابق محفوظ شدہ پہلی اردو خط کی تاریخ 6 دسمبر 1922 ہے، لیکن اس سے پہلے بھی خطوط موجود تھے