موضوعات کی فہرست
اردو مکتوب نگاری اور اسد اللہ خان غالب | Urdu mein Maktub Nigari aur Asadullah Khan Ghalib
اردو مکتوب نگاری اور اسد اللہ خان غالب
محقق کا تعارف
ابو رافع نے اپنا پی۔ایچ۔ڈی مقالہ "مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور میں ڈاکٹر شباب الدین کی نگرانی میں پیش کیا تھا۔
یہ موضوع صفحہ نمبر 62 سے منتخب کیا گیا ہے۔
مقالے کا خلاصہ
اس حصے میں اسد اللہ خان غالب کی خطوط نویسی کو اردو مکتوب نگاری میں ایک انقلابی مقام دیا گیا ہے۔ غالب نے عام، بے ساختہ اور مکالماتی طرزِ تحریر کے ذریعے اردو خطوط کو رسمی اور پیچیدہ اسلوب سے آگے بڑھا دیا، اور انہیں ادبی اور تاریخی روایت کی حیثیت دی۔
ان کے خطوط نہ صرف خواندہ زبان کی دلکشی لیے ہوئے ہیں بلکہ ان میں طنز و مزاح، جذباتی گہرائی اور تاریخی روح بھی عیاں ہے۔
قبل غالب کے خطوط فارسی میں، باقاعدہ انداز سے لکھے جاتے تھے، تاہم غالب نے انگریزی یا فارسی روایتوں سے قطع نظری کرکے اردو مکتوب نگاری کو زیادہ انسانی، مربوط اور مکالماتی طریقہ سے متعارف کروایا۔
اردو مکتوب نگاری اور اسد اللہ خان غالب
ماخذ و حوالہ جات
- مقالے کا عنوان: مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
- مقالہ نگار: ابو رافع (Pu07/160575)
- نگران: ڈاکٹر شباب الدین
- ادارہ: ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور
- غالب نے اردو خط و کتابت کو رسمی انداز سے آزاد کرتے ہوئے مکالماتی اور سادہ انداز اختیار کیا — “…turned ‘murasla’ (letter-writing) into ‘mukalma’ (dialogue)”
- غالب سے پہلے خطوط فارسی میں رسمی اور طویل اسلوب میں ہوتے تھے، جبکہ ان کے خطوط روان، بے ساختہ اور انسانی دل سے رابطہ رکھنے والے تھے