اردو غزل کا پاکستانی دور: ارتقاء، تاریخ اور اہم رجحانات کا جامع جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
تعارف: غزل کی دیرپا توانائی
اردو ادب کی تاریخ میں صنفِ غزل نے ہر دور میں اپنی اہمیت اور مقبولیت کو برقرار رکھا ہے۔ یہ ایک ایسی توانا اور مستحکم صنف ہے جس نے سخت ترین حالات اور بدلتے ہوئے سماجی تقاضوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس کے مفاہیم اور موضوعات میں زبردست تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ خاص طور پر جب ہم اردو غزل کا پاکستانی دور زیرِ بحث لاتے ہیں، تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ اب یہ صرف لیلیٰ مجنوں یا شیریں فرہاد کے روایتی قصوں تک محدود نہیں رہی۔
آج کی جدید غزل محض عورتوں کے حسن و جمال یا زلف و رخسار کے تذکروں کا نام نہیں ہے۔ اس کا دامن اب اتنا وسیع ہو چکا ہے کہ دنیا کا ہر معاشی، سیاسی اور سماجی موضوع اس میں باآسانی سمویا جا سکتا ہے۔ یہ تبدیلی محض اتفاق نہیں بلکہ تقسیم ہند کے المیے، صنعتی انقلاب، مشینی زندگی کے بڑھتے ہوئے اثرات اور نئی نسل کے بدلتے ہوئے نفسیاتی رویوں کا نتیجہ ہے۔
قدیم روایات کا زوال اور نئے کرداروں کی آمد
ادب میں تبدیلیاں کسی مخصوص دن یا سال کی محتاج نہیں ہوتیں۔ وقت کے تقاضے اور معاشرتی جبر ادب کو ایک نئے سانچے میں ڈھال دیتے ہیں۔ قدیم غزل کا عاشق آج کے عاشق سے یکسر مختلف ہے۔ آج کا انسان صرف عشق کے مسائل میں نہیں الجھا ہوا، بلکہ اسے زمانے کے دیگر بے شمار غموں کا بھی سامنا ہے۔
نئی غزل نے اپنے روایتی دائرے کو توڑ دیا ہے۔ اب اس میں زاہد، شیخ، ناصح، ساقی اور رقیب جیسے پرانے کرداروں کی وہ اہمیت نہیں رہی۔ اظہارِ عشق کے طریقوں میں بھی جدت آ گئی ہے۔ آج کے دور میں کوٹھے پر ننگے پاؤں بھاگ کر جانے جیسی کیفیات کو فرسودہ تصور کیا جاتا ہے۔
مشہور مصنف احمد بشیر نے اپنی آپ بیتی "دل بھٹکے گا” میں نہایت دلچسپ انداز میں لکھا ہے کہ ان کے دور میں محبوب سے ملنے کے لیے دروازے کی چولوں میں تیل ڈالنا پڑتا تھا تاکہ آواز نہ ہو۔ لیکن آج کے دور میں یہ سب انسانی حقوق کا حصہ بن چکا ہے۔
نئے دور کے عاشق کی معاشی اور سماجی الجھنیں
آج کے فکشن اور غزل کا کردار روزگار کے غموں کا مارا ہوا ہے۔ یہاں تک کہ محبوب بھی زندگی کی کٹھن حقیقتوں سے نبرد آزما ہے۔ احمد مشتاق کے اس مشہور شعر میں آج کے محبوب کی حقیقی اور عملی شکل بڑی خوبصورتی سے دیکھی جا سکتی ہے:
میں نے کہا کہ دیکھ، یہ میں، یہ فضا، یہ رات
اس نے کہا کہ میری پڑھائی کا وقت ہے
اسی طرح پروین شاکر نے نئے دور کی معاشی مجبوریوں اور ہجرت کے دکھ کو اس طرح بیان کیا ہے:
وہ شہر چھوڑ کے جانا تو کب سے چاہتا تھا
یہ نوکری کا بلاوا تو ایک بہانہ ہوا
دورِ حاضر کی ہجرت اور معاشی بھوک کو افتخار عارف نے اس طرح رقم کیا کہ ان کا شعر ضرب المثل بن گیا:
شکم کی آگ لئے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سنگ زمانہ ہیں ہم کیا، ہماری ہجرت کیا
احمد فراز نے بھی عاشق اور محبوب کے درمیان فرضی اور دیومالائی پردوں کو گرا کر انہیں عام انسانوں کے روپ میں پیش کیا:
تو خدا ہے نہ مرا عشق فرشتوں جیسا
دونوں انساں ہیں تو کیوں اتنے حجابوں میں ملیں
ادب اور زندگی: تنقیدی اصولوں سے ماورا
شاعر اسی معاشرے کی پیداوار ہوتا ہے، اس لیے وہ سماج میں ہونے والی تبدیلیوں کو شدت سے محسوس کرتا ہے۔ جب ایک جدید تخلیق کار شعر کہتا ہے، تو وہ شبلی نعمانی اور الطاف حسین حالی کے لکھے گئے مقدموں کی پابندی نہیں کرتا۔ اسے کلیم الدین احمد یا عظمت اللہ خاں جیسے سخت ناقدین کی بھی کوئی پرواہ نہیں ہوتی۔ اس کے ذہن پر صرف اس کے اپنے معاشرے کے حالات حاوی ہوتے ہیں۔
اختر حسین رائے پوری نے اپنے مقالے "ادب اور زندگی” میں اس بات کو یوں واضح کیا ہے:
زندگی کے مقاصد سے ہٹ کر ادب نہ اپنی منزل تلاش کر سکتا ہے اور نہ یہ ممکن ہے۔ زندگی کی روانی اسے اپنے ساتھ چلنے کے لیے مجبور کرتی ہے۔ ایک انسان اور ایک ادیب کے فرائض و مقاصد یکساں اور مشترک ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک اپنے ماحول کی ترجمانی کرتا ہے اور دوسرا اس سے متاثر ہوتا ہے۔
(ترقی پسند ادب: پچاس سالہ سفر، ص ۱۵۹)
تقسیمِ ہند: المیہ جو غزل کا رخ موڑ گیا
جب ہم اردو غزل کا پاکستانی دور دیکھتے ہیں، تو یہ ہندوستانی غزل سے اپنے مزاج میں کافی مختلف نظر آتی ہے۔ تقسیمِ ہند کے بعد لوگوں کی نفسیات یکسر بدل گئی۔ ایک ہی رات میں انسانوں کی قومیتیں اور شناختیں تبدیل ہو گئیں۔
چودھری نذیر احمد خاں اپنی کتاب "داستان پاکستان” میں لکھتے ہیں:
ہم میں سے اکثر کام کرنے والوں کا یہ خیال تھا کہ ۱۴/۱۵ اگست ۱۹۴۷ء کی درمیانی رات گزرنے پر ہماری ماہیت قلب ہو جائے گی۔ ہم سو کر اٹھیں گے تو ایک نئی ملت ہوں گے۔
(ص ۸۷)
بدقسمتی سے برصغیر کے رہنماؤں نے فسادات کو ختم کرنے کے لیے تقسیم کا فیصلہ تو کیا، لیکن اس کے بھیانک نتائج کا اندازہ نہیں لگا سکے۔ قتل و غارت گری، ہجرت کا عذاب اور عصمت دری جیسے واقعات نے ادب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ مشہور مفکر لال خاں نے اس دردناک منظر کو کچھ یوں بیان کیا ہے:
"Along the roads, the refugees plodded dumbly forward, eyes and throats raw with dust, feet bruised by stones or searing asphalt, tortured by hunger and thirst, enrobed in a stench of urine, sweat and defecation, they flowed on in their filthy dhotis, saris and baggy trousers, often barefoot. Elderly women clung to their sons and pregnant women to their husbands. Men carried invalid wives and mothers on their shoulders and women their infants. They had to endure their burden not just for a mile or two but for a hundred, two hundred miles for days on end, with nothing to nourish their strength but a chapati and few sips of water.”
(Crisis in the Sub-continent, Partition: Can It be Undone? Lal Khan, Pg.76-77)
غزل کا فنی پس منظر
لفظ "غزل” بنیادی طور پر عربی زبان سے نکلا ہے، جس کے لغوی معنی عورتوں سے یا ان کے بارے میں باتیں کرنے کے ہیں۔ اگرچہ عربی میں غزل نام کی کوئی باقاعدہ صنف نہیں تھی، لیکن اس کا آغاز قصیدے کی ‘تشبیب’ سے ہوا۔ بعد ازاں فارسی سے ہوتی ہوئی یہ صنف اردو میں داخل ہوئی۔
غزل کی تکنیکی ساخت میں پہلا شعر ‘مطلع’ کہلاتا ہے جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتے ہیں۔ آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص استعمال کرتا ہے، ‘مقطع’ کہلاتا ہے۔ ناقد کلیم الدین احمد نے غزل کو ایک "نیم وحشی صنفِ سخن” قرار دیا تھا کیونکہ ان کے نزدیک اس کے اشعار میں موضوعاتی ربط نہیں ہوتا۔
کلاسیکی پس منظر: ولی سے غالب تک
دیگر اصناف جیسے قصیدہ، مرثیہ اور مثنوی وقت کے ساتھ پیچھے رہ گئیں، لیکن غزل نے بدلتے تہذیبی رویوں کے ساتھ خود کو ڈھال لیا۔ ولی دکنی کو باقاعدہ غزل کا پہلا بڑا نمائندہ تسلیم کیا جاتا ہے، اگرچہ ان سے قبل قلی قطب شاہ، نصرتی اور غواصی بھی غزل کہہ رہے تھے۔ ولی نے غزل کو تہذیبی قدروں سے روشناس کرایا۔
اس کے بعد ایہام گو شعراء کا دور آیا۔ پھر مظہر جانِ جاناں نے زبان کی اصلاح کی تحریک شروع کی۔ بعد ازاں میر تقی میر اور مرزا سودا نے غزل کو اس کے عہدِ زریں تک پہنچایا، جہاں ہند-ایرانی ثقافت کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ لکھنؤ کے پہلے دور میں مصحفی، انشاء اور جرأت نے کلاسیکی موضوعات کو نیا رنگ دیا، جبکہ آتش اور ناسخ نے محبوب کے تصور کو مزید تبدیل کیا۔
پھر مرزا غالب کا دور آیا، جنہوں نے غزل میں فلسفہ، کائنات اور خدا کے ساتھ انسان کے رشتے جیسے تفکری موضوعات شامل کیے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی کے بعد رام پور کا دور آیا جس میں داغ، امیر مینائی اور تسلیم شامل تھے۔
جدید غزل کی بنیاد: حالی، اقبال اور ترقی پسند تحریک
جدید غزل کی باقاعدہ بنیاد الطاف حسین حالی نے رکھی۔ ان کی غزل کا محور مقصدیت تھا۔ اس کے بعد علامہ اقبال نے غزل کو کائناتی اور آفاقی وسعت بخشی۔ اقبال کی غزل کا انسان فطرت اور اپنے باطن سے مکالمہ کرتا نظر آتا ہے۔
اقبال کے بعد اصغر گونڈوی، فانی بدایونی، حسرت موہانی اور یگانہ چنگیزی جیسے معماروں نے غزل کو سنوارا۔ حسرت موہانی نے عشق کو غیر مادی سے نکال کر ایک زمینی اور مادی پیکر عطا کیا۔
پھر ترقی پسند تحریک کا آغاز ہوا جس میں ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری، احمد ندیم قاسمی اور فیض احمد فیض جیسے قدآور نام سامنے آئے۔ ۱۹۴۷ء کے بعد یہی شعراء دو حصوں میں بٹ گئے۔
اردو غزل کا پاکستانی دور: مرحلہ بندی اور رجحانات
قیامِ پاکستان کے بعد کے برسوں میں اردو غزل کا پاکستانی دور مختلف نظریاتی اور فکری دھاروں میں تقسیم نظر آتا ہے۔ ان رجحانات کو مندرجہ ذیل عنوانات کے تحت سمجھا جا سکتا ہے:
۱۔ کلاسیکی رجحان کے امین
اس دور میں حفیظ جالندھری اور صوفی تبسم جیسے شعراء نمایاں تھے جنہوں نے پرانی کلاسیکی روایات کو زندہ رکھا۔
حفیظ جالندھری:
حفیظ کے ہاں میر، غالب اور مومن کے گہرے اثرات ملتے ہیں۔ ان کی غزل میں ترنم اور موسیقیت کمال کی ہے۔
ارادے باندھتا ہوں، سوچتا ہوں توڑ دیتا ہوں
کہیں ایسا نہ ہو جائے کہیں ویسا نہ ہو جائے
دیکھا جو تیر کھا کے کمیں گاہ کی طرف
اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہو گئی
صوفی تبسم:
بچوں کے ادب کے ساتھ ساتھ صوفی تبسم نے شاندار غزلیں کہیں۔ فارسی روایت اور لطافت ان کی پہچان تھی۔
دل کو جب بے کلی نہیں ہوتی
زندگی زندگی نہیں ہوتی
موت کی دھمکیاں نہ دو ہم کو
موت کیا زندگی نہیں ہوتی
دل تبسم کسی کو دو پہلے
مفت میں شاعری نہیں ہوتی
۲۔ ترقی پسند رجحان کی بازگشت
فیض احمد فیض:
فیض نے روایتی عشقیہ علامتوں کو سیاسی اور سماجی شعور کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے رومان اور حقیقت کا ایسا سنگم بنایا جو ان کی پہچان بن گیا۔
میدانِ وفا دربار نہیں یاں نام و نسب کی پوچھ کہاں
کچھ عشق کسی کی ذات نہیں عاشق تو کسی کا نام نہیں
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جاں کی تو کوئی بات نہیں
احمد ندیم قاسمی:
قاسمی صاحب نے اپنے نظریات کے ساتھ ساتھ جدید محبوب کی وہ تصویر پیش کی جو زندگی کے دکھ سہتا ہے۔
پوچھ بیٹھا ہوں میں تجھ سے تیرے کوچے کا پتہ
تیرے حالات نے کیسی تیری صورت کر دی
عمر بھر سنگ زنی کرتے رہے اہلِ وطن
یہ الگ بات کہ دفنائیں گے اعزاز کے ساتھ
عبدالحمید عدم:
عدم کی شاعری میں معاشرتی منافقت اور سیاسی جبر پر گہرا طنز موجود ہے۔
ہم کو شاہوں کی عدالت سے توقع تو نہیں
آپ کہتے ہیں تو زنجیر ہلا دیتے ہیں
اے عدم ہر گناہ کر لیکن
دوستوں سے ریا کی بات نہ کر
محبت کے حوالے سے عدم کا یہ طنزیہ شعر بھی مشہور ہے:
اب ہم کو الزام نہ دینا
ہم بھی کچھ مجبور ہوئے ہیں
۳۔ ہجرت کا کرب اور میر پرستی
ہجرت کے دکھوں اور اداسیوں نے شعراء کو میر تقی میر کے قریب کر دیا۔ ناصر کاظمی، ابنِ انشاء، اور مختار صدیقی جیسے شعراء نے اس کرب کو اپنی غزلوں کا حصہ بنایا۔
ناصر کاظمی:
ناصر کی غزل میں میر جیسی دبی دبی اداسی ہے۔ انہوں نے ہجرت کے کرب کو نئے استعاروں کے ذریعے بیان کیا۔
کہاں تک تاب لائے ناتواں دل
کہ صدمے اب مسلسل ہو گئے ہیں
جنہیں ہم دیکھے کر جیتے تھے ناصر
وہ لوگ آنکھوں سے اوجھل ہو گئے ہیں
دل تو میرا اداس ہے ناصر
شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے
ابنِ انشاء:
ان کے ہاں پختہ دکھ کی کیفیت ہے جس میں ہندی زبان کے نرم الفاظ کا خوبصورت استعمال ملتا ہے۔
ہم رات بہت روئے بہت آہ و فغاں کی
دل درد سے بوجھل ہو تو پھر نیند کہاں کی
اللہ کرے میر کا جنت میں مکاں ہو
مرحوم نے ہر بات ہماری ہی بیاں کی
مختار صدیقی:
حلقہ اربابِ ذوق سے وابستہ مختار صدیقی کے ہاں بھی ویرانی اور زبان و بیان کی چاشنی موجود ہے۔
سب خرابے ہیں تمناؤں کے
کون سی بستی ہے جو بستی ہے یاں
حفیظ ہوشیار پوری:
وہ ناصر کاظمی کے استاد تھے۔ ان کی غزل میں سماجی اقدار اور ہجر کی شدت انتہائی سلیقے سے موجود ہے۔
محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے
تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے
اگر تو اتفاقاً مل بھی جائے
تیری فرقت کے صدمے کم نہ ہوں گے
تمام عمر تیرا انتظار ہم نے کیا
اس انتظار میں کس کس سے پیار ہم نے کیا
۴۔ رومانوی رجحان
قتیل شفائی:
ان کی غزلوں اور گیتوں میں موسیقیت اور رومانوی لطافت بھری ہوئی ہے۔
مل کر جدا ہوئے تو نہ سویا کریں گے ہم
ایک دوسرے کی یاد میں رویا کریں گے ہم
گنگناتی ہوئی آئیں ہیں فلک سے بوندیں
کوئی بدلی تیری پازیب سے ٹکرائی ہے
دنیا میں قتیل اس سا منافق نہیں کوئی
جو ظلم تو سہتا ہے بغاوت نہیں کرتا
ادا جعفری:
ادا جعفری نے نسوانی جذبات اور تہذیبی رویوں کی بڑی سچی عکاسی کی۔
ہونٹوں پہ کبھی اُن کے میرا نام بھی آئے
آئے تو کبھی برسرِ الزام بھی آئے
میں نے سونپ دی جس کو کائناتِ جاں اپنی
وہ خدا نہ تھا لیکن کس قدر اکیلا تھا
دوسری دہائی (۱۹۵۷-۱۹۷۰): صنعتی انقلاب اور نئے استعارے
یہ دور صنعتی انقلاب اور مشینی زندگی کے بڑھتے ہوئے اثرات کا دور تھا۔ غزل میں اب مٹی، پیڑ، پرندے، تنہائی، دھواں اور دھوپ جیسے نئے استعارے شامل ہونے لگے۔
احمد فراز:
احمد فراز کی غزل میں رومانوی عناصر کے ساتھ ساتھ جدید دور کا بے وفا عاشق بھی نظر آتا ہے۔
یہ غزل دین اُس غزال کی ہے
جس میں ہم سے وفا زیادہ تھی
دل منافق تھا شبِ ہجر میں سویا کیسا
اور جب تجھ سے ملا ٹوٹ کے رویا کیسا
فراز نے عہدِ حاضر کی فرسٹریشن کو بھی عمدگی سے بیان کیا:
اس زندگی میں کتنی فراغت کسے نصیب
اتنا نہ یاد آ کہ تجھے بھول جائیں ہم
آنکھ سے دور نہ ہو دل سے اتر جائے گا
وقت کا کیا ہے گزرتا ہے گزر جائے گا
منیر نیازی:
منیر نیازی کے ہاں شہر کا دھواں، خوف اور سفر کی تھکن نمایاں ہے۔
اُس آخری نظر میں عجب درد تھا منیر
جانے کا اس کے رنج مجھے عمر بھر رہا
جانتا ہوں ایک ایسے شخص کو میں بھی منیر
غم سے پتھر ہو گیا لیکن کبھی رویا نہیں
صبحِ کاذب کی ہوا میں درد تھا کتنا منیر
ریل کی سیٹی بجی تو دل لہو سے بھر گیا
ان کے اشعار میں تنہائی کی کیفیت کچھ یوں ہے:
میری ساری زندگی کو بے ثمر اُس نے کیا
عمر میری تھی مگر اس کو بسر اُس نے کیا
شہر کو برباد کرکے رکھ دیا اُس نے منیر
شہر پر یہ ظلم میرے نام پر اُس نے کیا
شہزاد احمد:
شہزاد احمد نے سماجی گھٹن، نفسیات اور منافقت کو اپنی غزلوں میں بے نقاب کیا۔
میرا وہ جادہ ہے جس پہ چلا تھا نہ کوئی
تم ہر اک راہ میں نقشِ پا کفِ پا مانگتے ہو
سوا نیزے پہ سورج آگیا ہے
یہ دن بھی اب بسر کرنا پڑے گا
بہت آتے ہیں پتھر ہر طرف سے
شجر کو بے ثمر کرنا پڑے گا
شکیب جلالی:
۳۵ سال کی عمر میں خودکشی کرنے والے اس باکمال شاعر کی جیب سے موت کے وقت یہ شعر ملا تھا:
تو نے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
ان کی غزل میں شدید اضطراب اور کھوکھلے معاشرے کا عکس ملتا ہے:
دھوکے سے اُس حسین کو اگر چوم بھی لیا
پاؤ گے دل کا زہر لبوں کی مٹھاس میں
یہ اور بات وہ لب تھے پھول سے نازک
کوئی نہ سہہ سکے لہجہ کرخت ایسا تھا
ملبوس خوشنما ہیں مگر جسم کھوکھلے
چھلکے سجے ہو جیسے پھلوں کی دکان پر
فطرت کے ساتھ ان کا کائناتی مکالمہ کچھ یوں تھا:
کنارے آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی
گماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئی
درخت راہ بتائیں ہلاہلا کر ہاتھ
کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی
فیصلِ جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں
حدودِ وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی
جون ایلیا:
جون کی غزل میں محبت کی شدت، جنون اور روحانیت کا المیہ ایک ساتھ چلتے ہیں۔
کسی لباس کی خوشبو جب اُڑ کے آتی ہے
تیرے بدن کی جدائی بہت ستاتی ہے
میرے بغیر تجھے چین کیسے آتا ہے
تیرے بغیر مجھے نیند کیسے آتی ہے
یہ مجھے چین کیوں نہیں آتا
ایک ہی شخص تھا جہاں میں کیا
اختتام: غزل کا مستقبل اور عصری معنویت
اردو غزل کا پاکستانی دور محض چند ناموں یا تاریخوں کا مجموعہ نہیں، بلکہ ایک فکری اور تہذیبی سفر ہے۔ اس نے تقسیم کے المیے سے لے کر صنعتی دور کی بے چینی تک، اور کلاسیکی حسن سے لے کر جدید استعاروں تک کا سفر طے کیا ہے۔
آج بھی جب نئی نسل غزل کہہ رہی ہے، وہ اپنے عہد کے مسائل — مہنگائی، بے روزگاری، سیاسی استحصال، اور وجودی الجھنوں — کو اپنے کلام کا حصہ بنا رہی ہے۔ روایتی کردار اگرچہ کمزور پڑ گئے ہیں، لیکن غزل کی توانائی برقرار ہے۔ یہ صنف آج بھی اپنے دامن میں پوری کائنات سمیٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
جیسا کہ فراز نے کہا:
یہ غزل اب نہ وہ غزل ہے کہ جسے
چاند راتیں سنائی جاتی ہیں
آج کی غزل آج کے انسان کی
الجھنوں کا پتہ دیتی ہے
اور یہی اس کی بقا کی ضمانت ہے۔
محسن بشیر چودھری
ایم اے
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
ایم ایڈ
علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی
