اردو غزل کا لغوی، تاریخی اور فنی سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور
موضوعات کی فہرست
ادب کی دنیا میں جب بھی لطیف احساسات اور دلی جذبات کے اظہار کی بات آتی ہے تو اردو غزل کا نام سب سے پہلے ذہن میں ابھرتا ہے۔ یہ محض ایک صنفِ سخن نہیں بلکہ صدیوں کے تہذیبی، ثقافتی اور فکری ارتقا کا ایک حسین مرقع ہے۔
دنیا کی تیزی سے بدلتی ہوئی صورتحال، نت نئے سائنسی نظریات اور کارل مارکس یا ولادیمیر لینن جیسے مفکرین کے جدید فلسفوں کے باوجود، اردو غزل کی کشش اور اس کے اشعار کی معنویت آج بھی اسی طرح برقرار ہے۔ یہ اشعار زندگی کے تسلسل اور ویدِ مقدس سے لے کر آج تک کے آفاقی حقائق کی شاندار ترجمانی کرتے ہیں۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم اردو غزل کے لغوی مفہوم، اس کے تاریخی پس منظر، فنی لوازمات اور ان وجوہات کا گہرائی سے جائزہ لیں گے جن کی بدولت یہ آج بھی شاعری کی آبرو سمجھی جاتی ہے۔
مستند لغات کی روشنی میں: غزل کے لغوی اور اصطلاحی معانی
عربی زبان کے اس مؤنث لفظ "غزل” کی تشریح مختلف ماہرینِ لسانیات اور لغات نے نہایت جامع انداز میں کی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ اس کے معانی میں وسعت آتی گئی ہے۔
فرہنگِ آصفیہ کا نقطہ نظر
مولوی سید احمد دہلوی نے اپنی مشہورِ زمانہ تالیف "فرہنگِ آصفیہ” میں اس کے لغوی اور اصطلاحی پہلوؤں کو بڑی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ ان کے مطابق:
لغوی اعتبار سے اس کا مطلب محبوب یا معشوق کے ساتھ کھیلنا، عورتوں سے بات چیت کرنا، جوانی کے ایام اور ان کی ہم صحبتی کا ذکر کرنا ہے۔ یہ ان باتوں کا احاطہ کرتی ہے جو عورتوں کے حسن و وصف اور ان کے عشق میں بیان کی جائیں۔
اصطلاحی مفہوم کے حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ یہ وہ نظم ہے جس میں فراق و وصال، حسن و جمال اور عاشق کے قلبی خیالات کو وسعت دے کر دل کا غبار یا ارمان نکالا جائے۔ غزل کے اشعار کی کم از کم تعداد پانچ ہے جبکہ زیادہ کی کوئی حد نہیں، البتہ اشعار کی تعداد کا طاق (Odd) ہونا شرط ہے۔ اسے تمام بحروں میں کہا جا سکتا ہے۔
(حوالہ: سید احمد دہلوی، فرہنگ آصفیہ (جلد سوم و چہارم)، مطبوعہ اردو سائنس بورڈ، لاہور، طبع دوم 1987ء، ص 306)
نوراللغات اور القاموس الجدید کی تشریحات
مولوی نور الحسن نیئر اپنی مایہ ناز کتاب "نوراللغات” میں رقم طراز ہیں کہ اس کے لغوی معنی عورتوں سے باتیں کرنے کے ہیں۔ اصطلاح میں یہ ان اشعار کا مجموعہ ہے جن میں یاس، جنون، اشتیاق، ذوق، وصال و فراق اور حسن و عشق سے متعلق باتیں کہی جائیں۔
(حوالہ: نور الحسن نیئر، نوراللغات، لاہور، سنگِ میل پبلی کیشنز، 1989ء، ص 584)
اسی طرح، مولانا وحید الزماں قاسمی کیرانوی نے "القاموس الجدید” (ص 20) میں اس کے معانی "عشق بازی” اور "معاشقہ زنان” بتائے ہیں۔
ہرن کی پکار، سوت کاتنا اور غزل کا استعارہ
لفظِ غزل کی بنیاد کے حوالے سے مزید دو دلچسپ اور گہری روایات بھی موجود ہیں:
- غزال سے تعلق: قیس رازی نے "المعجم” میں اس بات کی نشاندہی کی ہے کہ یہ لفظ دراصل "غزال” (ہرن) سے نکلا ہے۔ جب کوئی ہرن شکاری کتوں یا خونخوار درندوں کے نرغے میں کسی جھاڑی میں پھنس جاتا ہے، اور اسے اپنی موت یقینی نظر آتی ہے، تو اس کے حلق سے جو انتہائی درد ناک اور سوز میں ڈوبی ہوئی آواز نکلتی ہے، اسے غزل کہتے ہیں۔ حقیقی شاعری وہی ہے جو اسی درد، خلوص اور آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی ہو۔
- سوت کاتنا: ممتاز ماہرِ لسانیات ڈاکٹر سٹینگاس (F. Steingass) کے نزدیک غزل سے مراد "سوت کاتنا” ہے۔
عرب و عجم کا سفر: اردو غزل کا تاریخی ارتقا
عام طور پر یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ غزل کی ایجاد ایرانیوں کی مرہونِ منت ہے اور یہ فارسی کے راستے اردو میں وارد ہوئی۔ تاہم، اس کی اصل جڑیں قدیم عربی ادب میں پیوست ہیں۔
قصیدے کی کوکھ سے پیدائش
ایران میں شاعری کا آغاز باقاعدہ قصیدے سے ہوا۔ مولانا شبلی نعمانی اس کے ابتدائی خدوخال کے بارے میں کچھ یوں فرماتے ہیں:
شروعات میں غزل کسی دلی جوش یا طبعی میلان سے نہیں بلکہ شاعری کی مختلف اقسام کو پورا کرنے کے لیے وجود میں آئی۔ قصیدے کے آغاز میں عشقیہ اشعار (تشبیب) کہنے کی روایت تھی۔ جب اس حصے کو قصیدے سے الگ کر لیا گیا تو وہ غزل بن گئی۔ گويا قصیدے کے درخت سے ایک قلم کاٹ کر الگ لگا دی گئی۔
(حوالہ: شبلی نعمانی، شعر العجم (جلد اول)، مطبوعہ معارف پریس شبلی اکیڈمی، اعظم گڑھ یوپی، جدید ایڈیشن 2004ء)
عربی زبان سے نکل کر جب اس صنف نے فارسی کا رخ کیا تو اس میں مزید نکھار آیا۔ امیر خسرو کے دور میں ہی اس نے فارسی سے اردو تک کا سفر طے کر لیا تھا، جس کے بعد یہ ہندوستان بھر میں مقبولیت کی بلندیوں کو چھونے لگی۔
مکہ و مدینہ میں غزل کے ابتدائی نقوش
حقیقی عربی غزل کی بنیاد مکہ میں عمر بن ابی ربیعہ نے رکھی، جس کی بازگشت محمد بن الاحوض الانصاری نے مدینہ کے گلی کوچوں میں بلند کی۔
اموی اور عباسی ادوار کے اثرات: اباحی اور عذری غزل
اموی دور میں جنم لینے والے متنوع سماجی اور سیاسی حالات نے شاعری پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس دوران "اباحی غزل” (جس میں کھلے عام اور بے باک عشقیہ باتیں کی جاتیں) نے اتنی ترقی کی کہ عباسی عہد تک آتے آتے یہ مکمل طور پر عریاں غزل کا روپ دھار گئی۔
اس بے باکی کے سخت ردِعمل کے طور پر ایک انتہائی پاکیزہ اور شفاف صنف ابھری، جسے الغزل العذری یا "پاک غزل” کہا جاتا ہے۔
اس کا نام نجد و حجاز کے مشہور قبیلے "بنی عذرہ” سے منسوب ہے، جو اپنے اخلاقِ فاضلہ کے لیے پورے خطے میں معروف تھا۔ اس صنف کے شعرا کا کلام اتنا بلند، معیاری اور پرتاثیر ہے کہ ان کے عشق کی داستانیں آج تک زبان زدِ عام ہیں۔
ان عاشق شعرا کی محبت اتنی سچی تھی کہ ان کی محبوباؤں کے نام ان کی پہچان کا لازمی حصہ بن گئے۔ مثال کے طور پر:
- جمیل بثینہ
- قیس بن ملوح (مجنوں لیلیٰ)
- قیس بن ذریح (قیس لبنیٰ)
بدویانہ بھاری پن کے باوجود ان کے الفاظ نہایت حسین، سبک اور فحاشی و ابتذال سے یکسر پاک تھے۔ ان کی شاعری کی موسیقیت اور نغمگی قاری کو آج بھی مسحور کر دیتی ہے۔
اسی زمانے میں روایت پسند شعرا جیسے "جریر” اور "فرزدق” نے بھی روایتی غزل کے سفر کو جاری رکھا، گو کہ نئے حالات میں ان کی جولان گاہیں بدل چکی تھیں۔
نسیب اور غزل کا لطیف فرق
قدیم عربی قصیدے کے ابتدائی حصے میں بسا اوقات "نسیب” کا عنصر ملتا ہے۔ مشہور نقاد قدامہ بن جعفر (337ھ) نے اپنی تصنیف "نقد الشعر” میں نسیب اور غزل کے درمیان ایک انتہائی باریک اور لطیف فرق واضح کیا ہے:
نسیب کا تعلق عورت کی عادات و خصائل، اس کے حسن و جمال اور عشق کی واردات کے بیان سے ہے، جبکہ غزل صرف اور صرف نفسِ جذبہِ عشق کے نام کو کہتے ہیں۔
(حوالہ: قدامہ بن جعفر، نقد الشعر، باب النسیب، مطبوعہ الجوائب، قسطنطنیہ، 1302ھ، ص 87)
اردو غزل کی شعریات، فنی ہیئت اور اساتذہ کا کردار
اردو ادب میں غزل کو جو بقائے دوام اور مقبولیت حاصل ہوئی ہے، اس کے پیچھے اساتذہِ فن کی کڑی ریاضت اور فنی تربیت کا ہاتھ ہے۔
غزل کی تکنیکی اور ہئیتی تشریح
غزل ہئیت کے لحاظ سے ایک مکمل اور جامع صنفِ سخن ہے جس کے تمام مصرعے ایک ہی بحر اور ایک ہی وزن میں کہے جاتے ہیں۔
- مطلع: غزل کا پہلا شعر جس کے دونوں مصرعے ہم قافیہ (یا ہم قافیہ و ہم ردیف) ہوتے ہیں۔
- قافیہ اور ردیف: مطلع کے بعد ہر شعر کے دوسرے مصرعے (مصرعہ ثانی) میں ہم قافیہ ہونا لازمی ہے۔ ردیف وہ لفظ یا الفاظ ہیں جو قافیے کے بعد ہر شعر کے آخر میں من و عن دہرائے جائیں۔ (جیسے: قافیہ: دوا، ذرا / ردیف: ہے، تھا وغیرہ)۔
- غیر مردف غزل: ایسی غزل جس میں صرف قافیہ ہو اور ردیف نہ ہو۔
- مقطع: غزل کا آخری شعر جس میں شاعر اپنا تخلص (قلمی نام) استعمال کرتا ہے۔ (بعض اوقات درمیانی اشعار میں بھی مقطع لایا جا سکتا ہے)۔
- اکائی اور غزلِ مسلسل: عموماً غزل کا ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل مفہوم اور اکائی رکھتا ہے۔ لیکن اگر کسی غزل کے تمام اشعار یا چند اشعار ایک ہی موضوع یا تسلسل کو بیان کر رہے ہوں تو اسے "غزلِ مسلسل” کہا جاتا ہے۔
اساتذہ کی ریاضت اور طرحی مشاعرے
انیسویں صدی تک شاعر کا نام اس کے استاد کے ساتھ منسوب ہونا فخر کی بات تھی۔ اساتذہ اپنے شاگردوں (تلامذہ) سے "طرحی غزلیں” کہلواتے اور سخت ترین قوافی میں اشعار کہنے کی مشق کرواتے۔ کلام کو عیوب سے پاک کرنے، شستہ، برجستہ، سلیس اور کومل بنانے کے لیے زبان کو سنوارنے کی جو مثالیں اردو غزل میں ملتی ہیں، وہ دنیا کی کسی اور زبان میں ناپید ہیں۔
پروفیسر رشید احمد صدیقی نے جدید غزل کے تناظر میں غزل کی ریاضت کے بارے میں کیا خوب کہا ہے کہ:
"ستارہ می شکنند و آفتاب می سازند” (یعنی وہ ستارے توڑ کر سورج بناتے ہیں) کا عمل شراب سازی سے کہیں زیادہ غزل کے ہر شعر پر کرنا پڑتا ہے۔ یہ محض صنفِ سخن نہیں، بلکہ معیارِ سخن بھی ہے۔
(حوالہ: رشید احمد صدیقی، جدید غزل، سرسید بک ڈپو، جامعہ اردو علی گڑھ، 1990ء، ص 12)
بیسویں صدی کے چیلنجز اور اردو غزل کی بقا کا راز
بیسویں صدی کے آغاز میں اردو غزل کو شدید مخالفت اور کڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑا۔ مولانا الطاف حسین حالی کی اصلاحِ غزل کی تحریک، حلقہ اربابِ ذوق، رومانوی تحریک اور ترقی پسند تحریک جیسی بڑی صفوں نے غزل کے مدمقابل "نظم” کو کھڑا کر دیا۔
ایک وقت آیا جب اسے متروک، فرسودہ اور مردود صنف تک قرار دیا جانے لگا۔ پابند نظم سے لے کر نثری نظم تک کے تجربات کیے گئے، مگر اس سب کے باوجود نظم شاعری کے منصبِ اعلیٰ پر غزل کی جگہ نہ لے سکی۔
غزل کو بچانے اور اسے نیا خون فراہم کرنے میں مولانا الطاف حسین حالی، جوش ملیح آبادی، ظفر علی خان، ن۔ م۔ راشد، مجید امجد اور میراجی جیسے نامور شعرا نے اہم کردار ادا کیا۔
اردو غزل کی اس بقائے دوام کے ضامن بنیادی طور پر تین عناصر ہیں:
- غزل کی ہیئت (فارم): یہی وہ امتیازی خدوخال ہیں جس نے اسے دیگر اصناف سے ممتاز رکھا ہے۔ شعر کے دو مصرعوں کی تنگی میں معانی کا سمندر کوزے میں بند کرنا اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔
- غزل کا علامتی اظہار (سمبلزم): اشعار میں رمز و ایمائیت اسے ابدی بناتی ہے۔
- غزل کے موضوعات: زمانے کے ساتھ بدلنے اور ہر طرح کا مضمون ادا کرنے کی صلاحیت۔
پروفیسر رشید احمد صدیقی نے اسی لیے اسے "اردو شاعری کی آبرو” قرار دیا ہے۔ آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس صنف کو کبھی زوال نہیں آ سکتا۔
علامات، روپک اور موضوعاتی وسعت: ایک کائناتی کینوس
غزل میں عموماً تین اہم کرداروں—عاشق، محبوب اور رقیب—کا احاطہ کیا جاتا ہے۔ شاعر محبوب کے حسن و جمال کی تعریف، اس کے ظلم و ستم کا شکوہ اور رقیب کی برائی کو ایک خاص ترتیب سے بیان کرتا ہے۔ لیکن غزل صرف حسن و عشق کے معاملات تک محدود نہیں۔
یہ غمِ ذات، غمِ دوراں اور غمِ جاناں کو ایک ہی کینوس پر پیش کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تصوف، حقیقت و عرفان، شکایتِ زمانہ اور ہجر و وصال اس کے مستقل موضوعات ہیں۔
غزل کے مخصوص علائم (روپک)
اردو غزل طویل داستانوں یا کسی خاص واقعے کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ چند علامات (روپک) کا سہارا لیتی ہے اور ان کی مدد سے ہزاروں پردرد اور سوز و گداز (کرن رس) سے بھرے اشعار تخلیق کیے جا چکے ہیں۔ ان میں چند نمایاں علامات یہ ہیں:
- پرندے اور قید: گل و بلبل، صیاد، دام (جال)، آشیانہ، بجلی، اسیری، آزادی
- موسم: بہار اور خزاں
- مے خانہ: ساقی، جام، ساغر، صراحی، مستی، نشہ، رند
- روشنی اور پروانہ: شمع اور پروانہ
- سفر اور مسافت: کارواں، منزل، صحرا، ویرانہ
- جغرافیائی علامات: وطن (دیس)، غربت (پردیس)
- کیفیات: ہوش، دیوانگی
- قید و بند: زنداں، زنجیر
- مذہبی استعارے: کعبہ، بت خانہ، ثواب، گناہ
ان علامات کے ذریعے غزل کے عظیم شعرا نے قطرے میں دجلہ دکھایا ہے۔ جیسے مرزا غالب نے گھر کی بربادی کو قفس اور بجلی کے استعارے میں کیا خوب باندھا ہے:
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدم
گری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو
اسی طرح ایک اور نامور شاعر کا یہ کلام ملاحظہ کیجیے جس میں حسرتِ پرواز جھلکتی ہے:
کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نور سا
کچھ فضا، کچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو
جگت موہن لال رواںؔ قید سے رہائی کے بعد کی بے کیفی کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
اب چمن میں بھی کسی صورت سے جی لگتا نہیں
ہاں مگر جب تک قفس میں تھے قفس بدنام تھا
داستانوں کو اشعار میں سمیٹنے کا فن
غزل کسی واقعے کا ذکر کیے بغیر، کم سے کم لفظوں میں بات براہِ راست دل میں اتارتی ہے۔ مثال کے طور پر رامائن جیسی ہزارہا صفحات پر مشتمل کتھا کے درد کو غزل کا شاعر ایک شعر میں سمیٹ لیتا ہے:
ہر لیا ہے کسی نے سیتا کو
زندگی ہے کہ رام کا بن باس
یہاں رام کی آپ بیتی، جگ بیتی بن جاتی ہے۔ اسی طرح سنجوگ اور بیوگ (وصال و ہجر) کے فلسفے کو یوں بیان کیا جاتا ہے:
رام ہوں یا ہوں کرشن، کہ مجنوں یا ہم تم
ملن کے بعد بیوگ، جگ کی ریت یہی
خلوص، معصومیت اور نرمی سے لبریز یہ درد بھری شاعری انسان کو گہرا اطمینان اور حیات و کائنات کے لیے توانائی بخشتی ہے۔
آخری بات: غزل ایک روحانی ریاضت ہے
جب انسانی جذبات، غم اور خوشی، ہجر اور وصال، موت اور زندگی، تمناؤں کا خون ہونا یا ان کا پایہ تکمیل تک پہنچنا ایک روحانی سنجیدگی اختیار کر لیتے ہیں، تو غزل کی شاعری کائنات کا نچوڑ بن جاتی ہے۔
یہاں حسن و عشق محض نفسانی یا شہوانی خواہشات نہیں رہتے، بلکہ محبوب کا تصور کائنات کے ادراک اور فلسفے کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ بھگوت گیتا میں کرشن بھگوان نے جس روحانی مقام کی طرف اشارہ کیا ہے، غزل اسے اپنے الفاظ میں یوں پیش کرتی ہے:
بصیرت، عقل، ہمدردی، صداقت اور خدا ترسی
شجاعت، خوف، ہستی، نیستی، نیکی، ریاکاری
سکونِ قلب، دکھ سکھ، نیک نامی اور بدنامی
مرے ہی نور کی کرنیں ہیں یہ کیفیتیں ساری
اردو غزل دراصل وہ بانسری ہے جو زندگی کی دوڑ دھوپ اور ہلچل میں ہم سے کہیں کھو گئی تھی، اور جسے غزل کے ہنرمند شاعر نے دوبارہ تلاش کر لیا ہے۔ اس کی لے اور ترنم اتنا سچا ہے کہ اسے سن کر کائنات کے خالق کی آنکھوں میں بھی انسان کی محبت میں آنسو آ جائیں۔ لامحدود کو انسانی روپ دینا اور حیات و تہذیب کو معصومیت کے ساتھ پیش کرنا ہی غزل کی اصل معراج ہے
نظر ثانی و تصحیح کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
