مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو فکشن کا ارتقاء

اردو فکشن کا ارتقاء، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

انسانی زندگی خالقِ کائنات کا عطا کردہ ایک انمول اور حسین تحفہ ہے۔ جب کوئی انسان اس دنیا میں آنکھ کھولتا ہے تو قدرت اسے کسی نہ کسی خاص مقصد کے تحت یہاں بھیجتی ہے۔ اس رنگ و بو کی دنیا میں جہاں کچھ لوگ ہدایت کی راہ پا لیتے ہیں، وہیں کچھ کے حصے میں محرومیاں آتی ہیں۔ یہ دنیا تغیر اور تبدل کا نام ہے؛ یہاں نہ تو کسی پہاڑ کو دوام حاصل ہے اور نہ ہی اشرف المخلوقات کو۔ سوائے ذاتِ باری تعالیٰ کے ہر شے فانی ہے۔

بالکل اسی طرح ادب کی دنیا میں بھی تبدیلیاں رونما ہوتی رہتی ہیں۔ اردو ادب کے دامن میں بھی کئی اصناف شامل ہوئیں، جن میں سے کچھ نے بہت کم وقت میں مقبولیت کے آسمان کوچھو لیا اور کچھ صرف خاک چھانتی رہیں۔ ان اصناف میں فکشن (Fiction) کو جو پذیرائی اردو میں ملی، وہ شاید ہی کسی اور صنف کا مقدر بنی ہو۔

فکشن: مفہوم اور اہمیت

اگرچہ اردو زبان، انگریزی یا دیگر قدیم زبانوں کے مقابلے میں ابھی سولہ سنگھار میں مصروف ہے ،ابھی کم سن ہے اور ابھی اس مقام تک مکمل رسائی حاصل نہیں کر سکی جہاں دیگر عالمی زبانیں موجود ہیں، لیکن اردو فکشن نے کم وقت میں اپنا لوہا منوایا ہے۔

فکشن کا براہِ راست تعلق انسانی سماج اور ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔ اردو میں فکشن کے لیے "افسانوی ادب” کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

لفظی تحقیق

لفظ "فکشن” اب کچھ نظر فکشن کے حسب نسب پر بھی ڈالتے ہیں یہ لاطینی زبان کے لفظ "Fingere” سے ماخوذ ہے، جو انگریزی کے راستے اردو میں داخل ہوا۔

  • Fingere کے معنی: کسی چیز کو تشکیل دینا (To Form)۔

فکشن کے دائرہ کار میں وہ تمام تحریریں شامل ہیں جن میں کسی کہانی یا واقعے کا بیان ہو۔ آسان الفاظ میں، اپنے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات اور پیش آنے والے واقعات کو تخلیقی انداز میں بیان کرنا ہی فکشن ہے۔ اس میں قلم کار کے فرضی اور من گھڑت واقعات کا بھی بڑا ہاتھ ہوتا ہے۔قلم کار تقدیر بناتا اور بگاڑتا ہے وہ اپنے کینوس کا خدا ہوتا ہے۔

ماہرین کی نظر میں فکشن کی تعریف

معروف ناقد روبینہ سلطان فکشن کی تعریف ان الفاظ میں کرتی ہیں:

"فکشن ہماری زندگی یعنی حقیقی زندگی کا ترجمان ہوتا ہے۔ جو تجربات، سانحات اور واقعات ہمیں روزمرہ زندگی میں پیش آتے ہیں، فکشن انہی کو لکھتا ہے۔ یوں ہم فکشن کے ذریعے اپنی گزری زندگی کی باز آفرینی کرتے ہیں۔ فکشن ہمارے ماضی اور حال کا آئینہ دار ہوتا ہے۔”

(روبینہ سلطان تین نئے ناول نگار لاہور: دستاویز ۲۰۱۳، ص ۲۵)

اسی طرح ڈی ایچ لارنس (D.H. Lawrence) کے مطابق:

"فکشن کا فریضہ یہ ہے کہ انسان اور اس کے گردو پیش میں پائی جانے والی کائنات کے درمیان جو رابطہ موجود ہے، اس کا ایک زندہ لمحے میں اظہار کرے۔”
( ڈی ای لارنس، بحوالہ ناصر عباس نیر ( ڈاکٹر ) لسانیات و تنقید اسلام آباد یورب اکیڈمی ۲۰۰۹، ص ۲۲۱)

اردو میں داستان گوئی کا آغاز

فکشن کا ابتدائی روپ ہمیں داستانوں کی شکل میں ملتا ہے۔ قدیم دور میں جب لوگ دن بھر کی تھکن کے بعد گھر لوٹتے تھے، تو ان کے پاس تفریح کا بہترین ذریعہ قصہ گوئی ہی تھا۔ طویل کہانیوں اور طلسماتی قصوں نے انسان کو اپنے سحر میں جکڑے رکھا۔ تجسّس انسان کی جبلت کا خاصہ ہے۔

اردو ادب میں داستانوں کے ارتقاء پر نظر ڈالیں تو چند اہم نام اور کتابیں نمایاں نظر آتی ہیں:

  • سب رس: ملا وجہی کی یہ داستان اردو کی ابتدائی داستانوں میں شمار ہوتی ہے۔
  • نو طرزِ مرصع: اٹھارویں صدی کے آخر میں عطا حسین تحسین نے فارسی کے مشہور "قصہ چہار درویش” کا ترجمہ کیا جو داستانوں کے باقاعدہ آغاز کا سبب بنا۔
  • باغ و بہار: فورٹ ولیم کالج کے قیام کے دوران میر امن نے "قصہ چہار درویش” کا سلیس اردو ترجمہ "باغ و بہار” کے نام سے کیا، عطا حسین تحسین کی زبان قدرے مشکل تھی۔

اس کے علاوہ آرائشِ محفل، رانی کیتکی کی کہانی اور بوستانِ خیال جیسی داستانوں نے اردو فکشن کی روایت کو مضبوط کیا۔


ناول نگاری: زندگی کی حقیقی تصویر

اگرچہ فکشن کا اطلاق فلم، ڈرامہ اور داستان سب پر ہوتا ہے، لیکن ادبی اصطلاح میں یہ زیادہ تر ناول اور افسانے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ ناول نے اردو ادب میں مغربی ادب کے توسط سے قدم رکھا اور بہت جلد سماج کی اصلاح اور تہذیب کی عکاسی کا فریضہ سنبھال لیا۔

کلارا ریوز (Clara Reeve) ناول کی تعریف کچھ یوں کرتی ہیں:

"ناول اس زمانے کی حقیقی زندگی اور طور طریقوں کی تصویر ہوتی ہے، جس میں کہ وہ لکھا جائے۔”

(اسلم آزادار, اردو ناول آزادی کے بعد، عفیف پرنٹرز دہلی ۲۰۱۴، ص ۱۱)

موجودہ دور کا انسان جس ذہنی شکست و ریخت کا شکار ہے، اس کے اظہار کے لیے ناول سب سے موزوں صنف ہے۔ یہ قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے اور مصنف کے درد کو قاری تک منتقل کرتا ہے۔

اردو کے اولین ناول نگار

اردو ناول کی تاریخ پر تحقیق کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا باقاعدہ آغاز مولوی نذیر احمد کے ہاتھوں ہوا۔

  1. مراۃ العروس: نذیر احمد نے 1869ء میں یہ ناول لکھ کر اردو ناول نگاری کی بنیاد رکھی۔ اس میں انہوں نے معاشرتی اصلاح کو موضوع بنایا۔
  2. دیگر اہم نام: نذیر احمد کے بعد اس صنف کو بلندیوں تک پہنچانے والوں میں علامہ راشد الخیری، عبدالحلیم شرر، رتن ناتھ سرشار اور مرزا ہادی رسوا شامل ہیں۔

اردو ناول اور خواتین کا کردار

انیسویں صدی کی آخری دہائی میں خواتین نے بھی ناول نگاری کے میدان میں قدم رکھا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلم معاشرے میں خواتین کی حالت ناگفتہ بہ تھی۔ تعلیم کا فقدان تھا اور عورت کو صرف گھر کی چار دیواری اور بنیادی ضروریات تک محدود سمجھا جاتا تھا۔اس کا کام بچے پیدا کرنا شوہر اور خاندان کی سیوا کے علاوہ کچھ نہ تھا۔

اس جبر کے ماحول میں کچھ تعلیم یافتہ خواتین اور مصلحین نے قلم کا سہارا لیا۔ اس مقصد کے لیے کئی خواتین کے رسائل جاری کیے گئے جنہوں نے بیداری کی لہر دوڑائی۔

خواتین کے اہم رسائل اور خدمات

اس دور میں جو رسائل منظرِ عام پر آئے، ان کی خاص بات یہ تھی کہ ان میں لکھنے والوں کی اکثریت خواتین پر مشتمل تھی۔ چند قابلِ ذکر رسائل درج ذیل ہیں:

  • تہذیبِ نسواں: (لاہور، 1898ء) – مدیرہ: محمدی بیگم۔
  • خاتون: (علی گڑھ، 1906ء) – مدیرہ: صالحہ الطاف۔
  • عصمت: (دہلی، 1905ء/1908ء) – مدیر: شیخ محمد اکرام۔

تعلیمی و سماجی تحریکیں

خواتین کی اصلاح کے لیے صرف رسائل ہی نہیں بلکہ عملی اقدامات بھی کیے گئے۔ 1903ء میں علی گڑھ میں "مدرسہ النسوان” کا قیام عمل میں آیا۔ حقوقِ نسواں اور آزادیِ نسواں کی تحریکوں نے زور پکڑا۔ اس دور کی خواتین نے اپنی تحریروں، ناولوں اور مضامین کے ذریعے تقریباً تین دہائیوں تک اصلاحی مقاصد کو فروغ دیا اور معاشرے میں عورت کے مقام کو اجاگر کیا۔

اردو فکشن، داستانوں کی طلسماتی دنیا سے ہوتا ہوا ناول کی حقیقت نگاری تک پہنچا ہے۔ نذیر احمد سے لے کر خواتین لکھاریوں تک، ہر ایک نے اس ادب کو انسانی زندگی کا ترجمان بنانے میں اپنا حصہ ڈالا ہے، جس کی بدولت آج اردو فکشن عالمی ادب کے شانہ بشانہ کھڑا ہونے کی جدوجہد کر رہا ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال، ایم فل اردو

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں