مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو افسانے کا تاریخی پس منظر

اردو افسانے کا تاریخی پس منظر اور ارتقائی سفر، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

(علامتی افسانے سے قبل کا عہد)

اس باب میں اگرچہ ہمارا بنیادی موضوع وہ "علامتی افسانے” ہیں جو جدیدیت کی تحریک کے زیرِ اثر پوری شان و شوکت کے ساتھ منظرِ عام پر آئے اور جنھوں نے کہانی کو نئے مفاہیم عطا کیے، لیکن ان کی تفصیل اگلے باب میں بیان کی جائے گی۔ اس سے قبل یہ انتہائی ضروری ہے کہ ہم اردو افسانے کی تاریخ اور اس کے پس منظر کا ایک طائرانہ جائزہ لے لیں۔

قصہ گوئی: فطرت سے فن تک

انسانی فطرت روزِ اول سے ہی قصے کہانیوں کی شیدائی رہی ہے۔ قدیم دور میں جب انسان کے پاس فراغت تھی تو داستان گوئی اور قصے سننا دل بہلانے کا بہترین ذریعہ تھا۔ اسے ہم موجودہ مختصر افسانے کی "ابتدائی غیر تحریری شکل” کہہ سکتے ہیں، جو بعد میں "داستان” کی صورت میں کاغذ پر منتقل ہوئی۔

تاہم، جیسے جیسے انسان نے ترقی کی منازل طے کیں اور سائنسی شعور بیدار ہوا؛ خیالات میں تبدیلی آگئی۔

  • انسان ہر چیز کو عقل اور سائنس کی کسوٹی پر پرکھنے لگا۔
  • داستانوں کے مافوق الفطرت عناصر (جن، پریاں) پر سے یقین اٹھ گیا۔
  • مصروفیت بڑھ جانے کی وجہ سے طویل داستانیں سننے کا وقت نہ رہا۔

نتیجتاً، کہانی سے فرضی کردار غائب ہو گئے اور ان کی جگہ ہمارے آس پاس کے جیتے جاگتے انسانوں نے لے لی۔ اسی تبدیلی کے نتیجے میں انیسویں صدی میں مولوی نذیر احمد کے ہاتھوں "ناول” کا آغاز ہوا۔

مختصر افسانے کا جنم اور فنی لوازمات

وقت کا پہیہ مزید تیز چلا اور برق رفتار زندگی میں انسان کے پاس ناول کی طوالت پڑھنے کی گنجائش بھی کم رہ گئی۔ اسی مصروفیت نے زندگی کی جھلکیوں کو پیش کرنے والی ایک نئی صنف کو جنم دیا جسے "افسانہ” کہا جاتا ہے۔ اردو میں اس صنف کے بانی کا سہرا منشی پریم چند کے سر ہے۔

ناول اور افسانے کا فرق بیان کرتے ہوئے پروفیسر حامدی کاشمیری لکھتے ہیں:

"ناول زندگی کے وسیع، متنوع اور پھیلے ہوئے منظر نامے کا احاطہ کرتا ہے، جبکہ افسانے کو زندگی کے کسی ایک پہلو یا احساس، کیفیت یا واقعے کی بازیافت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس کے جہتی خدوخال کے تعین کے لیے کم و بیش ان ہی تکنیکی لوازم کو لازمی گردانا گیا، جو ناول کے لیے ملتزم ہیں۔ یعنی راوی، بیانیہ، کردار، واقعہ، منظر، فضا اور منشائے مصنف، افسانے کی تکنیک کے پیش نظر ان لوازم یا ان میں سے بیشتر کو اختصاریت کے ساتھ برتا گیا۔”

کتاب: اردو افسانہ – تجزیہ، مصنف: پروفیسر حامدی کاشمیری، ص ۱۰

اردو افسانے کی مقبولیت

اردو ادب میں افسانے کی عمر بمشکل ایک صدی ہے لیکن اس قلیل مدت میں اس نے جو عروج حاصل کیا وہ کسی اور نثری صنف کے حصے میں نہیں آیا۔
اس حوالے سے پروفیسر قمر رئیس کا کہنا ہے:

"یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ اس مختصر مدت میں اردو افسانے کو جو فروغ اور مقبولیت حاصل ہوئی، وہ نثری ادب کے کسی دوسری فارم میں نظر نہیں آتی۔”

کتاب: اردو میں بیسویں صدی کا افسانوی ادب، مصنف: پروفیسر قمر رئیس، ص ۱۳

پریم چند کا دور: حقیقت نگاری کا آغاز

بیسویں صدی کے آغاز میں اردو افسانے کا باقاعدہ سفر شروع ہوا۔ پریم چند کا پہلا افسانہ "دنیا کا سب سے انمول رتن” (۱۹۰۷ء) میں شائع ہوا اور ان کا پہلا مجموعہ "سوزِ وطن” منظرِ عام پر آیا، جسے برطانوی حکومت نے ضبط کر کے نذرِ آتش کر دیا اور ان پر پابندیاں لگا دیں۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنا اصل نام "دھنپت رائے” چھوڑ کر "پریم چند” کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا۔

پریم چند کے ابتدائی افسانوں میں اگرچہ داستانوی رنگ جھلکتا ہے لیکن ان کا خمیر حب الوطنی اور حقیقت پسندی سے اٹھا تھا۔
پروفیسر سید احتشام حسین اپنے مضمون میں لکھتے ہیں:

"پریم چند کے ابتدائی افسانے داستانی فضا رکھتے ہیں۔ پریم چند کی اس زمانے کی زبان بناوٹی ہے، سرشار کے اثر سے بوجھل ہے۔ اس میں ایک داستانوی فضا ہے، شعریت اور رنگینی ہے۔ ان کے کہنے کا ڈھنگ بھی کم و بیش وہ ہے جو حاتم طائی کے قصوں میں پایا جاتا ہے۔ لیکن ان کا بنیادی تصور حبِ وطن اور ہندوستان کی تمدنی اور آزادی کی جدوجہد کی تصویر کشی ہے جو ابتدائی شکل میں تھی۔”

کتاب: اردو نثر کا فنی ارتقاء، مصنف: ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ص ۲۷

پریم چند کے موضوعات

انھوں نے ادب کو خواص کی بجائے عوام سے جوڑا۔ ان کے افسانوں میں کسان، مزدور، بیوہ عورتیں اور سماج کے ستائے ہوئے لوگ نظر آتے ہیں۔

  • دیہی زندگی: پوس کی رات، دو بیلوں کی کہانی، کفن، سوا سیر گیہوں۔
  • عورتوں کے مسائل: ابھاگن، بد نصیب ماں۔
  • طوائفوں کی زندگی: بازارِ حسن، ویشیا، گھاس والی۔
  • سماجی ناہمواری: دودھ کی قیمت (ہریجنوں کے مسائل)۔

وزیر آغا، پریم چند کے اس رجحان کے بارے میں لکھتے ہیں:

"اردو افسانے کے اس ابتدائی دور میں دوسرا اندازِ نظر حقیقت پسندی کا رجحان تھا، جس کا اہم ترین علمبردار پریم چند ہے۔ پریم چند زمین کی سوندھی ساندھی باس سے بہت قریب تھا، اس نے تخیل کی رفعتوں کی بجائے زندگی کے ارضی پہلو اور سماج کی واضح کروٹوں کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔”

کتاب: اردو نثر کا فنی ارتقاء، مصنف: ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ص ۲۸

ان کے بعد علی عباس حسینی، سدرشن، اعظم کریوی اور اوپندر ناتھ اشک نے اس اصلاحی اور حقیقت پسندانہ مشن کو آگے بڑھایا۔

رومانوی تحریک: سجاد حیدر یلدرم

جہاں ایک طرف حقیقت نگاری عروج پر تھی، وہیں دوسری طرف سجاد حیدر یلدرم نے "رومان پسندی” کی بنیاد رکھی۔ ان کے افسانوں کا محور عورت، محبت اور لطیف جذبات تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ عورت کو سماجی زنجیروں سے آزادی ملے اور مرد و زن قدم سے قدم ملا کر چل سکیں۔

تاہم، ان کا یہ نظریہ زیادہ تر "اعلیٰ اور متوسط طبقے” تک محدود تھا۔
ڈاکٹر فرمان فتح پوری یلدرم کے فن کے بارے میں رقم طراز ہیں:

"انھوں (یلدرم) نے ایک دوسرے مسئلے کو اپنے فن کا مرکز بنایا۔ وہ یہ دیکھتے تھے کہ سماج میں عورتوں کا کیا مقام ہے۔ عورت اور مرد کی محبت سے زندگی کس طرح خوبصورت بن سکتی ہے۔ اس لیے انھوں نے اپنے افسانوں کی بنیاد محبت پر رکھی۔ ان کے "خیالستان” اور "حکایات و احساسات” میں جتنے بھی افسانے ہیں ان کا مرکزِ تصور یا عورت ہے یا محبت۔”

مضمون : اردو افسانے کے تین دور، مصنف: وزیر آغا، کتاب: اردو افسانہ روایت اور مسائل، ص ۲۵

اس رومانوی اسلوب کو نیاز فتح پوری، مجنوں گورکھپوری اور حجاب امتیاز علی نے آگے بڑھایا۔ جبکہ احمد ندیم قاسمی اور کرشن چندر جیسے ادیبوں نے حقیقت اور رومان کا حسین امتزاج پیش کیا۔

انگارے اور ترقی پسند تحریک

بیسویں صدی کی دوسری دہائی میں کارل مارکس کی "داس کیپیٹل" اور ۱۹۱۷ء کے روسی انقلاب نے دنیا بھر کے افکار کو جھنجھوڑ دیا۔ ہندوستان میں بھی فرائڈ کی نفسیات اور مارکس کے سوشلزم کے اثرات پہنچے۔

"انگارے” کا دھماکہ (۱۹۳۲ء)

۱۹۳۲ء میں افسانوی مجموعہ "انگارے” شائع ہوا جسے روایت سے کھلی بغاوت قرار دیا گیا۔ اس میں سجاد ظہیر، احمد علی، رشید جہاں اور محمود الظفر نے سماجی، مذہبی اور جنسی موضوعات پر بے باک قلم اٹھایا۔ اگرچہ فنی لحاظ سے یہ افسانے کمزور تھے اور حکومت نے انہیں ضبط بھی کر لیا لیکن اس مجموعے نے مغرب کی نئی تکنیکوں (شعور کی رو، سررئیلزم) کو اردو میں متعارف کروا دیا۔

افسانے کا عہدِ زریں (۱۹۳۶ء کے بعد)

۱۹۳۵ء میں لندن میں ترقی پسند مصنفین کی انجمن بنی اور ۱۹۳۶ء میں ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ یہ اردو افسانے کا سنہرا دور تھا۔
اس دور میں ایسے قد آور افسانہ نگار پیدا ہوئے جنہوں نے اردو ادب کا دامن شاہکار تخلیقات سے بھر دیا:

  • اہم نام: سعادت حسن منٹو، کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی، غلام عباس۔
  • شاہکار افسانے: آنندی، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نیا قانون، کالو بھنگی، چوتھی کا جوڑا، اپنے دکھ مجھے دے دو۔

پروفیسر قمر رئیس اس دور کی اہمیت بیان کرتے ہیں:

"ترقی پسند تحریک کے دورِ عروج کو اردو افسانے کا بھی عہدِ زریں کہا جا سکتا ہے۔”

، کتاب: اردو نثر کا فنی ارتقاء، مصنف: ڈاکٹر فرمان فتح پوری، ص ۲۸

اس تحریک نے ادب برائے زندگی کا نعرہ لگایا اور اجتماعی مسائل کو موضوع بنایا۔ تاہم، ۱۹۴۷ء میں تقسیمِ ہند کے خونی فسادات، ہجرت اور قتل و غارت نے افسانے کا رخ ایک بار پھر موڑ دیا، جس سے نئے المیوں نے جنم لیا۔

نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ،معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں