مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو افسانے میں تجرید اور علامت نگاری

اردو افسانے میں تجرید اور علامت نگاری، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ادبی دنیا میں تجرید اور علامت نگاری دو ایسے اہم ستون ہیں جن پر اکثر بحث کی جاتی ہے۔ اگر ہم تجرید کی بات کریں تو یہ اپنی اصل میں بے چہرہ اور ہیئت سے عاری ہوتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ تجرید دراصل فنکار کی سوچ کا وہ پہلا خاکہ ہے جو ابھی تک کسی مادی شکل میں نہیں ڈھلا ہوتا۔

تجرید اور مصوری کا تعلق

تجریدی فن میں فنکار وہ نہیں دکھاتا جو اس کی ظاہری آنکھ دیکھتی ہے، بلکہ وہ اس شے کی تصویر کشی کرتا ہے جو اس کے ذہن کے پردے پر ابھرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تجریدی فن پاروں میں ہمیں کوئی جانا پہچانا چہرہ یا واضح شکل نظر نہیں آتی۔

اس کے برعکس، علامت نگاری کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ یہاں ہر چیز کا ایک چہرہ ہوتا ہے، اور اکثر اوقات ایک ہی چیز کے کئی چہرے ہوتے ہیں۔ مختلف اشیاء اور معانی کو ایک ہی سانچے میں ڈھال دینا علامت نگاری کا کمال سمجھا جاتا ہے۔

ادب میں علامت نگاری کی تاریخ

شاعری کے میدان میں علامت نگاری قدیم زمانے سے کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ علامت کے بغیر شاعری بے جان محسوس ہوتی ہے۔ تاہم، جب ہم نثر کی بات کرتے ہیں تو وہاں تاریخی طور پر علامت کا استعمال نسبتاً کم رہا ہے۔ البتہ ترقی پسند تحریک کے بعض بڑے ناموں نے اس ضمن میں اہم کردار ادا کیا۔

نثر میں علامت نگاری کے ابتدائی نمونے ہمیں مندرجہ ذیل افسانہ نگاروں کے ہاں ملتے ہیں:

  • احمد علی
  • کرشن چندر
  • سعادت حسن منٹو

جدیدیت، تجرید اور نقادوں کی غلط فہمی

جدیدیت کے دور میں جب افسانہ نگاروں نے تجریدی رجحان اپنایا تو بعض نقادوں کو ان نئے افسانوں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔ چنانچہ انھوں نے عجلت میں ان افسانوں کو "علامتی اور تجریدی رجحان” کے ایک ہی لیبل کے تحت متعارف کروانا شروع کر دیا۔

تجرید دراصل ایک تکنیک ہے، جبکہ علامت نگاری ایک اسلوب ہے۔

یہ ممکن ہے کہ کوئی افسانہ نگار تجریدی انداز میں لکھ رہا ہو اور اس میں کچھ علامتیں بھی شامل کر لے، لیکن ان دونوں الگ الگ رجحانات کو ایک ہی نام دے دینا انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

طارق چھتاری کا نقطۂ نظر

سریندر پرکاش کی کہانی ’بجوکا‘ خالصتاً ایک علامتی کہانی ہے، لیکن اس کا اسلوب بیانیہ ہے۔

اسی ضمن میں تجریدی افسانوں کی مثالیں:

  • انور سجاد — "مرگی”
  • سریندر پرکاش — "تلقارمس”

(بحوالہ: جدید افسانہ اردو ہندی، صفحہ 206)

جمال آرا نظامی کی رائے

علامتی افسانہ اور تجریدی افسانہ اپنی نوعیت میں بالکل جداگانہ ہیں اور ان کے تکنیکی تقاضے بھی الگ ہیں۔

(اردو میں افسانوی ادب، صفحہ 51)

ترسیل کا مسئلہ: ابہام اور پیچیدگی

جدید علامتوں میں ابہام کی مقدار زیادہ ہونے کے باعث افسانے پیچیدہ ہو گئے ہیں اور بعض اوقات قاری تک مفہوم منتقل نہیں ہو پاتا۔

پیکریت اور تجریدیت کا تقابل

  1. وضاحت: پیکریت میں ہر چیز واضح ہوتی ہے۔
  2. خارجیت: خارجی دنیا کو ترجیح دی جاتی ہے۔
  3. داخلیت: تجرید میں داخلی کیفیت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔

اظہاریت اور سرئیلزم

اظہاریت

اظہاریت میں فنکار اپنے احساسات کے زیرِ اثر تخلیق کرتا ہے، جسے بعض ناقدین Day Dream سے تعبیر کرتے ہیں۔

سرئیلزم (شعور کی رو)

  • سرئیلزم: لاشعور کی علامتوں کا اظہار
  • تجرید: متاثرہ خیالات کی آزادانہ پیشکش

نظر ثانی و تصحیح: محمد عمر ، بی ایس۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں