اردو افسانہ اور جدیدیت کی تحریک : آغاز، ارتقاء اور زوال، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
اردو ادب کی تاریخ میں جدیدیت کی تحریک (Modernism) ایک انتہائی اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس رجحان یا تحریک کا باقاعدہ آغاز ۱۹۵۵ء سے ۱۹۶۰ء کے درمیانی عرصے میں ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب مختلف شعراء اور ادبا نے اپنی تخلیقی قوت سے اس تحریک کو توانائی بخشی اور اسے عروج تک پہنچایا۔
کوئی بھی ادبی تحریک خلا میں پیدا نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے سماجی اور سیاسی عوامل کارفرما ہوتے ہیں۔ جدیدیت کی جڑیں بھی اپنے عہد کے تلخ حقائق اور ناسازگار حالات میں پیوست تھیں۔
جدیدیت کے اسباب اور پس منظر
اس تحریک کے ابھرنے کے پیچھے متعدد وجوہات تھیں، جن میں سب سے نمایاں اس وقت کا "سماجی و سیاسی انتشار” اور "ترقی پسند تحریک کی انتہا پسندی” تھی۔
۱۔ تقسیمِ ہند اور نفسیاتی شکست و ریخت
14 اگست 1947ء کو آزادی تو ملی، لیکن اس کے ساتھ ہی ملک اور انسان مذہب کے نام پر تقسیم ہو گئے۔ اس تقسیم نے بدترین فرقہ وارانہ فسادات کو جنم دیا:
- ہر طرف قتل و غارت اور وحشت کا بازار گرم تھا۔
- عورتوں کی بے حرمتی اور انسانیت کی تذلیل عام تھی۔
ان سانحات نے انسان کو اندر سے توڑ پھوڑ دیا تھا۔ فرد جو پہلے ہی بکھر چکا تھا، آزادی کے بعد صنعتی انقلاب کی یلغار کا شکار ہو گیا۔
۲۔ صنعتی انقلاب اور تنہائی
ملک کی تقسیم کے بعد زندگی تیزی سے مشینی ہونے لگی
۔ انیسویں صدی میں ہونے والی سائنسی ایجادات اور صنعت کاری نے دیہی زندگی کو شہری زندگی میں بدل دیا۔
- مشترکہ خاندانی نظام ٹوٹ کر "واحد خاندان” (Nuclear Family) میں سمٹ گیا۔
- پرانی اقدار ، روایات اور اخلاقیات ماند پڑ گئیں۔
ان حالات میں انسان لوگوں کے ہجوم میں رہتے ہوئے بھی شدید تنہائی اور اجنبیت کا شکار ہو گیا۔ اس کیفیت نے جہاں عام آدمی کو متاثر کیا، وہیں فنکار کی حساسیت کو بھی غمگین کر دیا۔ جیسا کہ نیر مسعود نے اس فضا کی عکاسی کرتے ہوئے کہا:
"تذبذب کی فضا میں جدیدیت ایک رجحان ساز تحریک بن کر سامنے آئی۔”
ترقی پسند تحریک کا ردِ عمل
ناقدین کی ایک بڑی تعداد جدیدیت کو "ترقی پسند تحریک” کا شدید ردِ عمل قرار دیتی ہے۔ ترقی پسند تحریک کے زوال کی بڑی وجہ ان کے اصولوں کی انتہا پسندی تھی:
- اجتماعیت پر زور: وہ صرف کسانوں، مزدوروں اور سماجی مسائل کو ہی ادب کا موضوع سمجھتے تھے۔ جب کہ دوسرے زندگی کے تمام موضوعات ان کے نزدیک بے معنی ہو گے تھے
- ادب برائے اصلاح: پہلے جہاں ادب برائے ادب تھا انہوں نے ادب برائے اصلاح کردیا۔ انہوں نے اعلان کر دیا تھا کہ ادیب کا کام اپنی ذات کا اظہار نہیں بلکہ سماج کی اصلاح اور مسائل کا سادہ بیان ہے۔
- فنی فقدان: نعرے بازی اور مقصدیت کے سبب فن پاروں میں "یکسوئی” اور "سپاٹ پن” آ گیا تھا اور جمالیاتی حسن ختم ہو چکا تھا۔
جدیدیت نے اس کے برعکس "فرد کی انفرادیت” کا نعرہ لگایا۔ جدیدیت کے علمبرداروں نے کہا کہ سماج کا بہت بیان ہو چکا، اب انسان کی ذات، اس کے داخلی کرب اور نفسیاتی مسائل کو موضوع بنایا جانا چاہیے۔
اس حوالے سے مجنوں گورکھپوری کا یہ خیال بہت اہم ہے:
"اگر ہم غور کریں تو یہ (جدیدیت) ایک ردِ عمل ہے۔ زندگی اور مارکسی نظریے نے سماجی شعور اور اقتصادی عوامل پر اتنا زور دیا تھا کہ انسان ایک فرد کی حیثیت سے کچھ کھو کر رہ گیا۔”
جدیدیت نے ادیبوں کو ترقی پسندوں کی سخت گیر پابندیوں سے آزاد کیا تاکہ ادب میں جڑ پکڑتی ہوئی یکسانیت کو ختم کیا جا سکے اور فن کو نئے موضوعات اور جمالیاتی حسن سے مالا مال کیا جائے۔
جدید افسانہ اور علامتی اظہار
اکثر یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ "علامتی افسانہ” ہی جدید افسانہ ہے۔ حالانکہ جدیدیت کے زیرِ اثر لکھے گئے تمام افسانے جدید ہیں، جن میں کئی اسالیب شامل ہیں:
- تجریدی (Abstract)
- داستانوی
- حکایاتی
- تمثیلی
تاہم، یہ سچ ہے کہ علامتی اسلوب (Symbolism) نے جدید افسانے پر سب سے گہرا اثر چھوڑا اور اسے ایک نئی شناخت دی۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر ناقدین دانستہ یا نادانستہ طور پر جدید افسانے اور علامتی افسانے کو ایک ہی سمجھ لیتے ہیں۔
فنی اور تکنیکی خوبیاں
جدید افسانہ نگاروں نے انسان کی ذہنی اور باطنی کیفیات کو بیان کرنے کے لیے نئی تکنیکیں استعمال کیں۔
- انہوں نے ایسی علامتیں تراشیں جو نہ صرف نئی تھیں بلکہ ان میں تہہ داری اور معنوی گہرائی تھی۔
- ترقی پسند دور کے برعکس، جہاں فن ثانوی تھا، جدیدیت نے افسانے کو فنی اور تکنیکی اعتبار سے عروج بخشا۔
- افسانے میں سادگی کی جگہ حسن و جمال اور پیچیدگی نے لے لی۔
تحریک کے منفی پہلو اور زوال
ہر تحریک کی طرح جدیدیت کے بھی کچھ منفی پہلو سامنے آئے جو بالآخر اس کے زوال کا سبب بنے۔ جہاں ایک طرف باکمال افسانہ نگار بہترین علامتی ادب تخلیق کر رہے تھے، وہیں دوسری طرف ایسے افسانے بھی لکھے جانے لگے جو ابہام (Obscurity) کا شکار تھے۔
۱۔ افسانہ یا پہیلی؟
علامتیں اس قدر پیچیدہ اور مبہم ہو گئیں کہ افسانہ ایک "پہیلی” بن کر رہ گیا۔ قاری اور افسانے کے درمیان فاصلہ بڑھ گیا کیونکہ عام قاری ان گتھیوں کو سلجھانے سے قاصر تھا۔
مشہور نقاد اور افسانہ نگار حیات اللہ انصاری نے اس صورتحال پر طنز و تنقید کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ:
"علامتی افسانہ نگاروں کو اپنے مبہم افسانوں کی شرحیں (Explanations) بھی لکھنی چاہئیں تاکہ خاص قاری کے ساتھ ساتھ عام قاری بھی ان سے لطف اندوز ہو سکے۔”
۲۔ صنف کا مٹتا ہوا فرق
فن پر حد سے زیادہ زور دینے کے نتیجے میں نثر اور شاعری کا فرق مٹنے لگا۔
- پلاٹ، کردار اور مکالموں جیسے بنیادی اجزاء کو ترک کر دیا گیا۔
- "اینٹی اسٹوری” (Anti-story) کے نام پر بغیر کہانی کے افسانے لکھے گئے۔
- زمان و مکاں (Time and Space) کی اہمیت ختم کر دی گئی۔
ان تجربات نے افسانے سے "قصہ پن” کی خوبی چھین لی، جو اس صنف کی جان تھی۔
ان تمام خامیوں اور انتہا پسندی کے باوجود، اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ جدیدیت کی تحریک نے اردو افسانے کو ایک نیا رنگ اور آہنگ دیا۔ اس نے:
- نئے اسالیب اور تکنیکوں کو متعارف کرایا۔
- سیاسی، سماجی، جنسی اور انفرادی موضوعات کو منفرد علامتی انداز میں پیش کیا۔
آج بھی اگر اردو افسانہ بلندیوں پر ہے تو اس میں جدیدیت کے ان مثبت تجربات کا بڑا ہاتھ ہے جنہوں نے ادب کے دامن کو وسعت دی۔
نظر ثانی و تصحیح: کشف زمان گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
