اردو ادب میں تدوین کے پچاس سال:تحریر۔ندیم قاصرؔ(اسلامیہ یونی ورسٹی ،بہاول پور)
ادبی روایت کی بحالی
پچھلے پچاس سالوں میں اردو اب کی کلاسیکی تحریروں کی تدوین نے ان کی اہمیت کو بحال کیا۔ بہت سی قدیم کتابیں اور ادبی ورثہ جدید تنقید اور تحقیق کی روشنی میں شائع ہوا ،
جس سے نئی نسل کے ادبیوں اور قارئین کو ان کی وراثت کی قدر سمجھنے کا موقع ملا ۔
تنقیدی نظر کی افزائش
اردو ادب میں تنقیدی نظریات کے استعمال نے ادبی صباحتوں میں نئی جہتیں پیدا کیں ۔ مختلف تنقیدی مکاتب فکر نے اردو شاعری اور نشر کی ساخت اور موضوعات پر گہرائی سے بحث کی ،
جس سے نہ صرف ادب کا معیار بلند ہوا بلکہ ایک تحقیقی کلچر بھی پروان چڑھتا گیا ۔
نئے ادبی تجربات
نئی نسل کے ادبیوں نے روانی موضوعات کو نئے انداز میں پیش کیا۔ جس نے اردو ادب میں تجرباتی لہر کو جنم دیا ۔ جدید ٹیکنالوجی اور سماجی تبدیلیوں کی عکاسی کرتے ہوئے ان ادیبوں نے اردو ادب میں ایک نئے دور کا آغاز کیا ۔
جہاں کہانیاں ، شاعری اور افسانے نئے خیالات کے ساتھ پیش کیے گئے۔
بین الاقوامی شناخت
اردو ادب نے عالمی سطح پر بھی اپنی شناخت کو مستحکم کیا ۔ بین الاقوامی ادبی کانفرنسوں اور ترجموں کی بدولت اردو ادب کو دنیا کے مختلف خطوں میں متعارف کرایا گیا ۔
یہ عمل اردو ادیبوں کو عالمی ادبی حلقوں میں شامل ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔
تعلیمی اصلاحات
اُردو ادب کی تدریس میں ہونے والی اصلاحات نے نصاب کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالا ۔
جدید نصاب نے نہ صرف ادبی مواد کی کثرت کو یقینی بنایا ۔ بلکہ طلبہ میں تنقیدی سوچ کی ترقی میں بھی مدد فراہم کی۔
ادبی رسائل اور تنقیدی مجموعے
ادبی رسائل اور تنقیدی مجموعے سے کی اشاعت نے اردو ادب کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیے کا موقع فراہم کیا ۔
ان رسائل نے نئے ادبیوں اور شاعروں کی تخلیقات کو منظر عام پر لانے کے ساتھ ساتھ اہم ادبی موضوعات پر بحث بھی کی۔
سماجی مسائل کا احاطہ
اردو ادب میں سماجی مسائل کی عکاسی نے اس کو ایک جاندار پلیٹ فارم فراہم کیا ۔ جہاں مختلف مسائل جیسے gender equality سیاسی ، چالاکیاں اور معاشرتی انصاف پر لکھا گیا ہے۔
اس نے ادب کو محض تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ سمائی تبدیلی کا ایک مؤثر آلا بھی بنایا ۔
اردو ادب میں پچاس سال کی تدوین کا نتیجہ ایک متحرک، ترقی پذیر اور عالمی شناخت رکھنے والے ادب کی صورت میں سامنے آیا ۔
اس دور نے اردو زبان و ادب کو نہ صرف تقویت کی بلکہ اس کی روایات اور جدیدیت کے حسین امتزاج کو بھی پیش کیا ۔
آج اردو ادب ایک نئے عہد کی جانب گامزن ہے جو کہ تنوع، تخلیقت اور تنقیدی نظر کی بنیاد پر مستحکم ہو چکا ہے ۔ یہ عہد اردو ادب کی ترقی اور بین الاقوامی شناخت کے لیے ایک شہری دور کی جیت رکھتا ہے ۔
تدوین کا روایت کسی دور سے کہاں سے شروع ہوئے کیسے ہوئی اسے تفصیلی طور دیکھیں گے ۔عباسی نے اردو متن کی تدوین میں اہم کردار ادا کیا ہے جسکی بنیاد سر سید احمد خان نے رکھی ۔
سرسید احمد خاں نے جو ہر تو اختیار کیا اس کو آگے بڑھاتے ہوئے مختلف اہل علم نے اردو متون کی تدوین میں مایاں کردار ادا کیا۔
اردو میں پہلی باضابطہ تدوین علامہ شبلی نعمانی کے ذریعے ہوئی ۔ جنہوں نے 1906 ء میں مرزا علی خان لطف کا مشہور تذکرہ ” گلشن ہند "مرتب کیا ۔ اگر چہ شبلی کے پاس ایک ہی نسخہ تھا۔
انہوں نے اس میں حواشی کے ذریعے مہم عبارتوں کی وضاحت کی اور املاء کو درست کیا۔ اس کے حواشی کی تعداد تقریبا 42 تھی جو اردو تدوین کے ابتدائی مراحل میں اہمیت کی حامل ہے۔
اس طرح اردو کی تدوین میں ایک نیا دور شروع ہوا جو بعد میں دیگر اہل علم کے کارناموں سے مستحکم ہوا۔ جو اور میں دیگر اہل علم کے کرائے گلشن ہند کی کس طرح تدوین کی اس کا تعارف کراتے ہوئے ڈاکٹر محمد الیاس اعظمی لکھتے ہیں :
"گلشن ہند کی تصحیح و تدوین میں علامہ شبلی نعمانی نے کن اصولوں کو پیش نظر رکھا تھا اس کی انہوں نے وضاحت نہیں کی ہے۔ ان کے قلم سے جو حواشی وضاحتی نوٹ ہیں، ان سے طریقہ، تصحیح و تدوین کا اندازہ کس قدر ضروری ہوتا ہے اور ان کی بنیاد پر کہا سکتا ہے کہ علامہ شبلی کے اپنے ہی تحقیقی و تدوینی اصولوں سے بڑی حد تک کام لیا ہے۔
انہوں نے اصل تحقیق و مراجعت بھی کی ہے اور وضاحتی و تشریحی نوٹ بھی لکھے ہیں بعض اضافے بھی کیے ہیں۔ املاء کی تصحیح بھی کی ہے اس کے علاوہ مفید علمی و تنقیدی حواشی بھی لکھے ہیں ۔
ان ہی پانچ بنیادی امور سے تذکرہ گلشن ہند مزین ہو کر طبع واشاعت کی منزل سے گزرا۔”(1)
مولوی عبدالحق اور حافظ محمود شیرانی نے اردو ادب کی تدوین و تحقیق میں نمایاں کردار ادا کیا ۔ مولوی عبدالحق نے قدیم دکنی متون اور نایاب کے تذکروں کو مدون کرکے رب کی بنیاد کو مستحکم کیا ۔ ان کی مرتب کردہ کتابیں جیسے نکات شعراء، مخزن نکات اس دور کے اہم ادبی آثار ہیں۔
حافظ محمود شیرانی نے اس روایت کو مزید آگے بڑھایا اور سائنسی انداز میں تحقیق کی نئی راہیں متعین کیں۔ ان کا سب سے اہم کارنامہ ” مجموعہ نغز” کی تدوین 693 شعراء کا تذکرہ کرتی ہے۔
یہ تذکرہ نہ صرف معلومات کا خزانہ ہے بلکہ اس کی تحقیق اور تدوین کی بنیاد بھی مضبوط ہے کیونکہ انہوں نے مختلف نسخوں کا استعمال کر کے مکمل متن کو مستند بنایا۔
دونوں شخصیات اردو ادب کی ترقی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں اور ان کے کام نے اردو زبان کی علمی و ادبی بنیادوں کو مستحکم کیا۔
حافظ شیرانی نے اردو اور میں تدوین و تحقیق کے میدان میں تمایاں خدمات انجام دیں۔
خاص طور پر مولوی عبد الحق کے بعد ان کی مشہور کتاب ” پنجاب میں اردو ” نے انہیں اردو زبان و ادب میں ایک اہم مقام دیا ۔
یہ کتاب نہ صرف پنجاب کی اردو زبان کی تاریخ کو اجاگر کرتی ہے بلکہ اس میں اردو ادب کی ترقی کے مختلف پہلوؤں کا بھی ذکر ہے
شیرانی کا اہم ترین کا نامہ ” مجموعہ نغز” کی تدوین ہے جو حکیم ابوالقاسم میر قدرت اللہ قاسم کا تذکرہ ہے مکمل طور پر 1221ھ دو میں لکھا گیا ۔ اس میں 693 شعراء کا ذکر ہے۔ اور یہ فارسی زبان میں ہے۔ حافظ شیرانی نے 1933ء میں اس کی شائع کردہ صورت میں ایک تفصیلی مقدمہ بھی شامل کیا ۔
1933 ء میں حافظ شیرانی کے پاس دو مختلف نسخے تھے۔ پہلا نسخہ مولانا محمد حسین آزاد کی ذاتی لائبریری لندن میں موجود تھا ۔
دوسرے نسخے کی مدد سے انہوں نے پہلے نسخے کی کئی خامیوں اور کرم خوردگی کی وجہ سے موجود نا مکمل حروف کو درست کیا ۔
مجموعہ نفز کی تدوین کی بنیاد کس مخطوطے پر ہے اس کی وضاحت خود حافظ شیرانی نے اس طرح کی:
"جس مخطوطہ پر مطبوعہ متن مبنی ہے وہ مجموعہ کتب مولانا محمد حسین آزاد سے تعلق رکھتا ہے۔انہوں نے متن کی تصحیح کے لیے ہر ممکن ذرائعے کا استعمال کیا لیکن کئی مقامات اب بھی واضح نہیں ہوئے۔ اس کے علاوہ کثرت سے کرم خوردگی کے باعث کا کچھ حصہ بھی منائع ہو چکا تھا ۔ ان کی محنت اور تحقیقی کام نے اردو ادب میں ایک نئی راہ متعین کی اور اس کے معیار کو بلند کیا۔حافظ شیرانی نے مجموعہ نغز کی تدوین کے حوالے سے بتایا کہ یہ نسخہ انتہائی خستہ حالت میں ملا ۔ مصنف کی تحریر میں نقاط کا بہت کم استعمال تھا۔ اس کے علاوہ متعدد مقامات پر اوراق میں کچھ حصے بھی ضائع ہو چکے تھے۔ ان کی کوشش اس بات کا ثبوت ہیں کہ انہوں نے اردو ادب کی تدوین کے عمل کو بہت سنجیدگی سے لیا۔”(2)
اس ساری بحث سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ حافظ شہرانی نے یہ کارنامہ کتنی محنت اور لگن سے کیا۔ اس بارے پروفیسر حنیف نقومی اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ
"مرتب کی دوسری خوبیوں سے قطع نظر یہ خصوصت بطور خاص قابل ذکر ہے کہ متن میں حتی الامکان مؤلف کے مخصوص املاء کو برقرار رکھنے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ ایک عالم کو اہل قلم کے خصائص املا و انشا معلوم رہیں اور اردو الفاظ کا مخصوص تلفظ جس طرح وہ بولے جا رہے تھے ہم پر روشن ہو جاتے۔”( 3)
شہرت ، روایت اور تحقیق
تحقیق کا میدان ہمیشہ سے کیا علمی ترقی کا اہم حصہ رہا ہے اور اس میں سخت معیار قابل اعتبار شواہد اور مستند روایات کی اہمیت سے حد زیادہ ہے تاہم کچھ محققین نے آسانی کے نام پر ان معیارات کو نرم کرنے کی کوشش کی ہے ہم اس پر تفصیلی گفتگو کریں گے۔
تحقیق کا مقصد یا تحقیق میں شہرت کا مطلب ہے کہ کوئی خاص علم با روایت اتنی پھیل چکی ہو کہ اسے عمومی طور پر قبولیت حاصل ہو چکی ہوں ، مگر یہ نقطہ نظر بہت احتیاط سے اپنایا جانا چاہیے۔ شہرت کی بنیاد پر کسی روایت کی قبولیت در حقیقت تحقیقی کی معیاری بنیادوں کو کمزور کر سکتی ہے۔
مثال کے طور پر مولوی سید احمد دہلوی کی "فرہنگ آصفیہ” میں پیش کردہ مثال ایک اہم مسئلے کی عکاسی کرتی ہے ۔ انہوں نے "فرہنگ آصفیہ” کی جلد اول کے مقدمے میں لکھا ہے:
” امیر خسرو نے خلیجی بادشاہوں کے زمانے میں یعنی 1300ء سے ہی ایسے لطف و مذاق کے ساتھ فارسی و عربی الفاظ ملانے شروع کر دیئے تھے کہ کسی کو ناگوار نہ گزریں۔ چنانچہ اکثر پہلیاں کہ مکرنیاں، نسبتیں ، دوسخنے ، نیز کہاوتیں اور مثالیں وغیرہ جن کا آگے بیان ہوگا، بھاکا آمیز زبان میں لکھیں تھیں.”(4)
مولوی صاحب کی پہیلوں اور دیگر مواد کا ذکر کرتے ہوئے یہ اہم ہے کہ ان کے ماخذ کا حوالہ نہیں دیا گیا- امیر خسرہ کی وفات 1328ء میں ہوئی اور اس میں کوئی اختلاف نہیں۔
روایتی تحقیق میں مستند حوالوں کی ضرورت ہوتی ہے خاص طور پر جب کوئی روایت خاص شخصیات سے منسوب کی جائے۔ آپ نے میر امن کے حوالے سے ذکر کیا کہ وہ بہت ہی اچھے نثر نگار تھے اور ان کی حیثیت سے کسی کو انکار نہیں کیا انہوں نے باغ و بہار کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ :
” یہ قصہ چار درویش کا ابتداء میں امیر خسرو دہلوی نے اس تقریب سے کہا کہ حضرت نظام الدین اولیا زری بخش جوان پیر تھے۔ ان کی طبیعت ماندی ہوئی۔ تب مرشد کے دل بہلانے کے واسطے امیر خسرو یہ قصہ ہمیشہ کیتے اور بیمار ماری میں حاضر رہتے ۔ اللہ نے چند روز میں شفاء دی تب انہوں نے غسل صحت کے دن یہ دعا دی جو کوئی اس قصے کوسنے گا خدا کے فضل سے تندرست رہے گا۔ یہ قصہ فارسی میں مروج ہوا ” (5)
ادبیات کے حوالے سے بعض اہم نکات پر توجہ دی گئی ہے۔ "باغ و بہار ” کی تخلیق کا وقت اور اس کے نسخوں کی کیفیت کا ذکر بھی ملتا ہے ۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی واضح کی گئی ہے جو امیر خسرو کے ساتھ اس قصے کے تعلق کی کوئی معتبر بنیاد موجود نہیں ۔ باغ و بہار کیا اہم فارسی ادب کا اثر ہے۔ جیلی پہلی روایت مئی 1801ء میں تیار ہوئی۔ اس کی نظر ثانی روایت جون 1802 ء میں مکمل ہوئی۔ جس کے نتیجے میں اسے باغ و بہار کے تاریخی نام سے جانا جانے لگا۔ یہ بات قابل غور ہے کہ یہ کام تقریباً دو سو سال قبل تحریر کیا گیا جو اس کے ادبی و ثقافتی ہیں منظر کی وضاحت کرتا ہے۔
میر امن کی تحریر کو امیر خسرو کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی گئی لیکن اس کا کوئی مضبوط تاریخی ثبوت موجود نہیں۔ دونوں کے درمیان تقریباً سو سال کا فاصلہ ہونے کے باعث یہ استدلال کمزور محسوس ہوتا ہے۔
حیدر آباد اور احمد آباد میں یہ روایت تھی کہ "باغ و بہار "سے مریض صحت یاب ہو جاتے ہیں یہ روایت مقبول تھی اور کئی لوگ اسے سننے کے بعد شفا پانے کا دعوی کرتے تھے حالانکہ یہ دل چسپ ہے ۔
لیکن یہ محض مقامی شہرت پر مبنی ہے اور اس کی تحقیقی حیثیت کمزور ہے۔ شہرت خود بخود کسی چیز کی مستندیت کو ثابت نہیں کرتی ۔ بہت سی باتیں مشہور ہو جاتی ہیں مگر ان کا تحقیقی اعتبار نہ ہونے کی صورت میں انہیں معتبر ماخذ کی حیثیت نہیں دی جا سکتی۔ یہ نقطہ خاص طور پر ادبی تحقیق میں اہم ہے۔ جہاں تاریخ ثقافت اور مصنف کے اصل پیغام کی درستگی کو برقرار رکھنا ضروری ہے ۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیری کا فارسی دیوان بہت عقیدت سے پڑھا جاتا تھا۔ شیرانی صاحب اس بارے میں کہتے ہیں کہ
"یہ دیوان مطبع نور کشور سے سب سے پہلی مرتبہ 1288ء مطابق 1871ء میں طبع ہوا.”(6)
اس کتاب کا ایک نسخہ مردان علی خان رعنا کے ذخیرہ کتب سے ملا۔
” آج تک کسی کو یہ معلوم نہ تھا کہ ضرت خواجہ صاحب قدس سرہ مذاق شعر و شاعری بھی رکھتے تھے ۔ حُسن اتفاق سے ہم کو ایک مختصر دیوان حضرت صاحب کا ، کتب خانہ ، جناب منشی مردان علی خان رعنا سے نصیب ہوا ۔ چونکہ یہ نعمت غیر مرقبہ تھی۔ اسی لیے ہم نے واسطے یادگار حضرت طبع کیا، تاکہ بہ طور تبرک کے لوگ اسے حرز جاں بتائیں اور ہم بھی اس سعادت سے عمرہ خیر پائیں ۔”( 7)
لوگوں نے تبرک کے طور پر اس کو جانا اور پڑھا اس کا حال وہی لوگ جان سکتے ہیں تجارتی نفع اس سے ضرور حاصل ہوتا رہا۔ منقولہ بالا پر گراف میں بھی لکھا گیا ہے کہ
” جناب خان صاحب موصوف سے ہم نے دریافت کیا کہ آپ کو کس جگہ سے یہ نسخہ اکسیر ہاتھ آیا ؟ خان صاحب عدوح نے یہ روایت بیان کہ ایک شب میں نے حضرت خواجہ صاحب کو یہ مقام لکھنو 1865 ء میں دریائے صادقہ میں دیکھا کہ حضرت صاحب میرے مکان پر تشریف لائے ہیں۔ میں نے عرض کیا، ایک نقش ترکاً مجھ کو عنایت ہے ۔ چنانچہ حضرت صاحب نے عنایت فرمایا اس کی تعبیر یہ ہوئی کہ اسی کے قریب ایک دست فروش پر دیوان ۔۔۔۔۔۔ فروخت کر گیا۔” (8)
قبول روایت کے سلسلے میں ایک پریشان کن صورت حال ہے جب اصل ماخذ کی جگہ ثانوی ماخذ کو مل جاتی ہے۔ اس کی ایک مثال کی مدد سے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہیں۔ مثنوی زہر عشق کی تاریخ تصنیف کے سلسلے میں گیان چند جین صاحب نے اپنی کتاب اردو مثنوی شمالی ہند میں لکھا ہے
” زہر عشق کی تاریخ کے بارے میں قطعی طور پر معلوم ہے کہ پر 1277 کی تصنیف ہے ۔ سب سے پہلے سرراس مسعود نے انتخاب زریں میں لکھا کہ زہر عشق کی تاریخ ” غم دل ربا” یعنی 1277 ھ ہے۔” (9)
مثنوی زہر عشق کی اشاعت پر پابندی عائد کی گئی تھی اس کو سب سے پہلے قلمی نسخے میں شامل کیا گیا اس مثنوی کے بارے میں عشرت رحمانی لکھتے ہیں :
” مثنوی زہر عشق کا سال تصنیف 1277 ھ بنایا جاتا ہے جو ذیل کے قطعہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ۔ یہ قطعہ تاریخ ایک قلمی نسخے سے حاصل ہوا ۔ حافظ حکیم مجاہد الدین ذاکر ، بد ایوبی، نواب مرزا شوق کے ایک مخلص دوست تھے. حکیم صاحب اس زمانے میں لکھنؤ میں مطب کرتے تھے ۔ جب یہ مثنوی تصنیف ہوئی۔ شوق نے حکیم صاحب سے تاریخ کی فرمائش کی اور انہوں نے دوست کی تعمیل میں یہ قطعہ کہا جو سب سے پہلے قلمی نسخے میں شامل کیا گیا لیکن حکیم صاحب کا اصرار تھا کہ اسے شائع نہ کیا جائے۔ چناں چہ جب یہ مثنوی پہلی بار طباعت سے آراستہ ہوئی تو یہ قطعہ تحریک اشاعت نہیں کیا گیا ۔ بعد ازاں مثنوی کی طباعت پر پابندی عائد ہوگئی۔”(10)
مثنوی زہر عشق پر پابندی کے بعد اس کو قلمی نسخے میں حاصل کرکے مطبع کروائی اس کے بارے میں عشرت صاحب نے نظامی بد ایونی کا حوالہ کچھ اس طرح دیا :
"جن ارباب ذوق کی مساعی سے اس پابندی کی تنسیح عمل میں آئی ۔ ان میں مولوی نظام الدین صاحب نے حکیم صاحب مرحوم کا ایک قلمی نسخہ حاصل کر کے سب سے پہلے ستمبر 1919 ء میں یہ مثنوی اپنے مطبع میں چھپوا کر شائع کی۔” (11)
عشرت صاحب نے زہر عشق کا آڈیشن اپنے مقدمے کے لیے نکالا – سید محمد حیدر نے اپنے تحقیقی مقالے میں زہر عشق کے سنہ تصنیف پر بحث کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ :
” عشرت رحمانی نے زہر عشق کا ایک آڈیشن اپنے مقدمے کے ساتھ 1953 ء میں لاہور سے نکالا تھا۔ تاریخ تصنیف سے مطابق انتخاب زمین میں جو بات بہت سرسری طور سے لکھی گئی ۔وہ عشرت رحمانی صاحب نے بہت تفصیل سے پیش کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں … عشرت رحمانی صاحب کے حوالے سے وہ قطعہ ہم یہاں نقل کر رہے ہیں۔۔۔۔۔ عشرت رحمانی صاحب نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ یہ قطعہ تاریخ انہیں ایک قدیم نسخے سے حاصل ہوا ۔۔” (12)
زہر عشق کا سن اشاعت کیا ہے؟ مختلف لوگوں کی رائے کیا ہے ۔میں اس بات متفق ہیں کہ مثنوی قدیم مخطوطے میں ملی جس کے بارے میں ڈاکٹر گیان چند جین کہتے ہیں کہ :
” زہر عشق کی تاریخ کے بارے میں قطعی طور پر معلوم ہے کہ یہ 1277 ھ کی تصنیف ہے ۔۔۔۔ سب سے پہلے سرراس مسعود نے انتخاب زریں میں لکھا کہ زہر عشق کی تاریخ "غم دل رہا” یعنی1277 ھ ہے ۔ عشرت رحمانی نے دیباچہ زہر عشق میں پورا قطعہ درج کر دیا ہے جو انہیں مثنوی کے ایک قدیم مخطوطے میں ملا ۔ یہ قطعہ شوق کے دوست حکم مجاہد الدین ذاکر بدایونی نے، شوق کی فرمائش پر لکھا۔”( 13)
شہر روایت اور تحقیق کا آپس میں تعلق ہمارے سماجی اور تفاقی تعلقات تجربات کو سمجھنے کے لیے ایک اہم بنیاد فراہم کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جہاں پر عنصر دوسرے کو متاثر کرتا ہے اور مل کر ایک پیچیدہ مگر باہمی منسلک انسانی تجرے کی تشکیل کرتا ہے۔ اس تعلق کی بہتر تفہیم ہمیں اپنی ثقافت، شناخت اور مستقبل کی تشکیل میں موثر طریقے سے حصہ لینے کی صلاحیت فراہم کرتی ہے۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ ہم ان عناصر کی متحرک نوعیت کو تسلیم کریں اور ان کے تعاملات کو اپنی علمی اور تقافز ترقی کا ایک قیمتی ذریعہ سمجھیں ۔
کلامِ اقبال کی تدوین
علامہ محمد اقبال کی شاعری نہ صرف ادب کی دنیا میں ایک اہم مقام رکھتی ہے بلکہ ان کے کلام کا گہرا اثر فکری، فلسفیانہ اور قومی سطح پر بھی محسوس کیا گیا ہے۔ اقبال کا کلام ان کی شخصیت کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے، جس میں ان کے خیالات، خواب، اور عالمی نظریات شامل ہیں۔ ان کی شاعری کی تدوین ایک پیچیدہ اور محنت طلب عمل تھا جس میں کئی علمی، ادبی اور تنظیمی چیلنجز کا سامنا کیا گیا۔ اس مضمون میں اقبال کے کلام کی تدوین کے مختلف پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالی جائے گی۔
اقبال کی شاعری اُردو اور فارسی دونوں زبانوں میں ایک اہم مقام رکھتی ہے، اور ان کی شاعری کا صحیح اور مستند متن مرتب کرنا ضروری ہے تاکہ ان کے افکار و خیالات کا صحیح ترجمہ اور مفہوم سامنے آ سکے۔اقبال کی شاعری کے متعلق اب تک کوئی ایسا معیاری ایڈیشن مرتب نہیں ہو سکا جسے تحقیق کے اصولوں کے مطابق تسلیم کیا جا سکے۔ اس کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں، جن میں ایک طرف تحقیق اور تدوین کے اصولوں کی کمیابی، اور دوسری طرف آسان پسندی اور احتساب کی کمزوری کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ اقبال کی شاعری کا معیاری ایڈیشن مرتب نہ کرنا نہ صرف ایک علمی غفلت کی علامت ہے، بلکہ یہ ان کی فکری وراثت کی حقیقت کو عوام تک صحیح طور پر پہنچانے میں رکاوٹ بھی ہے۔ اقبال کے افکار و خیالات کی گہرائی اور ان کی شاعری کا فلسفہ کسی بھی معیاری ایڈیشن کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے تاکہ ہم ان کی تخلیقات کو صحیح سیاق و سباق میں سمجھ سکیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقبال کے کلام کا علمی تحقیقی ایڈیشن تیار کرنا نہ صرف محققین کے لیے ایک چیلنج ہے، بلکہ اس کے ذریعے اقبال کی شاعری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کا ایک سنہری موقع بھی ملے گا۔
اقبال کے کلام کے مجموعوں کی تدوین اور ان کی مختلف اشاعتی صورتوں پر تبصرہ کر رہا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ اقبال کے مختلف اُردو اور فارسی مجموعے اُن کی زندگی میں بار بار چھپے اور ان کے بعد بھی چھپتے رہے۔ تاہم، اگر ان متفرق مجموعوں کو یکجا کر کے "کلیات” کے طور پر شائع کیا جائے تو یہ محض پچھلے مجموعوں کی نقل ہوگی، جو اصول تدوین کے تحت مرتب نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے کہ اقبال کے کلام کا جو "کلیات” کے نام سے شائع کیا گیا ہے، وہ دراصل ان مجموعوں کی نقل ہی ہے اور ان میں کچھ اغلاط بھی موجود ہیں۔ یاد رہے کہ "کلیات اقبال” کی مختلف طبعات اور مجموعے بعد میں مرتب ہوئے ہیں، جیسے کہ جاوید اقبال کی ترتیب اور اقبال اکادمی کی اشاعت۔ تاہم، ان مجموعوں میں کچھ مسائل بھی ہیں، جیسے کہ اغلاط یا ترتیب کا مسئلہ، جو تدوین کے اصولوں کے مطابق نہ ہو۔ اقبال کے کلام کا جامع اور اصولی تدوین کا عمل ابھی تک مکمل نہیں ہو سکا، اور یہ مسئلہ ان کے کلام کی معیاری اشاعت کے لیے ضروری ہے۔
کلام اقبال کے تحقیقی اڈیشن کے مرتب کرنے کی ضرورت اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈال رہا ہے۔ اگر ہم اقبال کے کلام کو اصول تدوین کے مطابق مرتب کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے یہ تسلیم کرنا ضروری ہے کہ اقبال کا کوئی تحقیقی اڈیشن اب تک موجود نہیں۔ جب تک ایسا اڈیشن مرتب نہیں کیا جائے گا، تب تک کلام اقبال کے متن سے متعلق اہم سوالات کے جوابات نہیں مل سکیں گے۔ تحقیقی اڈیشن کے بغیر معیاری اڈیشن مرتب کرنے کی ضرورت کا تعین ممکن نہیں ہو پائے گا۔ یعنی، تدوین کے اصولوں کے تحت اقبال کے کلام کا مکمل اور صحیح اڈیشن تیار کرنے کے لیے، پہلے ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ اس وقت تک اقبال کے کلام کا کوئی مکمل اور معیاری اڈیشن موجود نہیں ہے۔کلام اقبال میں اگر کسی ایک لفظ کا استعمال کیا گیا ہے تو ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ وہی لفظ دوسری جگہ پر کہاں موجود ہے اور اسے کس طرح لکھا گیا جس بارے میں پروفیسر رشید کہتے ہیں کہ
” جاوید اقبال والے کلیات میں ایک مصرع ہے : «خرے را اسب تازی گو ، نگویم ” ( ص ۸۹۲ ) ۔ اقبال اکادمی کے کلیات میں بھی یہ مصرع اسی طرح ہے۔ قدیم فارسی اور ہندستانی فارسی میں بہ طور عموم "اسپ” ملتا ہے بہار عجم ، برہان قاطع ] – جدید فارسی میں "اسب” (مع باے موحدہ لکھتے ہیں [ فرهنگ فارسی از ڈاکٹر معین جلد اول – امثال و حکم از دہخدا، جلد اول ] ۔
ایسے الفاظ خاص طور پر وضاحت طلب ہوتے ہیں۔ حواشی میں لازما یہ وضاحت کی جانا چاہیے کہ اس لفظ کی دو صورتیں ہیں اور جس صورت کو اختیار کیا گیا ہے، اس کا احوال کیا ہے۔ اقبال کی اپنی تحریر میں یہ لفظ کس طرح ملتا ہے۔ کیا کلام اقبال میں کہیں اور یہ لفظ آیا ہے۔ اگر آیا ہے تو وہاں اسے کس طرح لکھا گیا ہے۔ وجہ ترجیح کا تعین بھی ہر صورت کرنا ہوگا۔ "(14)
طریقِ نگارش میں یکسانیت اور املا کی پابندی بہت ضروری ہے۔ جب ہم لکھتے ہیں، تو یہ ضروری ہے کہ ایک ہی لفظ یا انداز کو مسلسل ایک ہی طریقے سے لکھا جائے تاکہ مواد میں توازن اور وضاحت ہو۔ آپ کی مثال میں، "خداے برتر” اور "بوے گل” میں اضافت کے لیے آخر میں "لے” کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اگر ایک ہی کتاب میں کہیں اس اضافے کو اسی طرح لکھا جائے اور کہیں کسی اور طریقے سے، تو یہ پڑھنے والے کے لیے الجھن پیدا کر سکتا ہے اور یکسانیت کا فقدان ہو سکتا ہے۔ اس لیے تدوین کے عمل میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ کسی بھی لفظ یا جملے کے املا، اضافت یا انداز میں یکسانیت رکھی جائے تاکہ پورے مواد میں ہم آہنگی اور تسلسل برقرار رہے۔
حوالہ جات
- الیاس اعظمی ،ڈاکٹر، مضمون مشمولہ ، ہماری زبان، نئی دہلی ، انجمن ترقی اردو ہند ، 2005ء
- حافظ شیرانی، مرتبہ ، مجموعہ نغز ، دہلی ، نیشنل اکادمی دریا گنج
- حنیف نقوی ، "شعراء کرام کے تذکرے "، لکھنؤ ، نسیم بک ڈپو ، 1976ء، ص:780
4۔ خلیق انجم ،ڈاکٹر، "شخصیت اور ادبی خدمات”، نئی دہلی ، مکتبہ جامعہ ، 1991ء،ص: 27 - احمد دہلوی ، سید ، مولوی ، "فرہنگ آصفیہ”، نئی دہلی ، ترقی اردو بیورو ، 1990ء، ص:2037
- میر امن ، "باغ و بہار”، کانپور ، مطبع انتظامی ، 1931ء، ص89
7۔ رشید حسن خان ،” تدوین و تحقیق روایت "، نئی دہلی ، اے ایس پرنٹرز ، 1999ء، ص: 14 - مقالات شیرانی ، جلد ششم، ص:175
9.گیان چند ، ڈاکٹر ، "اُردو مثنوی شمالی ہند”، دہلی ، انجمن ترقی اردو ، 1987ء، ص: 117 - رشید حسن خان ، "تدوین تحقیق روایت”، نئی دہلی ، اے ایس پرنٹرز ، 1999ء، ص:19
- ایضا ،ص:20
- محمد حیدر ، سید ، ڈاکٹر ، "حیات شوق "، لکھنؤ ، نظامی پریس ، 1991ء،ص:276
13۔ گیان چند ، ڈاکٹر ، "اردو مثنوی شمالی ہند میں”، دہلی انجمن ترقی اردو ، 1987ء، ص:117 - رشید حسن خاں، "تدوین ۔۔تحقیق و روایت،”، نئی دہلی ، اے ایس پرنٹرز ، 1999ء، ص89
This article was proudly submitted by author Nadeem Qasir to the Professor of Urdu website solely for educational purposes and for the promotion and development of the Urdu language. We sincerely thank him for his valuable contribution.
