تروینی کیا ہے تعارف اور ارتقا اور ارتقا گلزار کی ایک منفرد اور جدید شعری ایجاد،تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب ایک ایسے وسیع سمندر کی مانند ہے جس میں وقت کے ساتھ ساتھ مختلف زبانوں کے چشمے آ کر گرتے رہے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ اردو کی بیشتر نثری و شعری اصناف نے ابتدا میں عربی اور فارسی زبانوں کے راستے اس میں قدم رکھا۔ بعد ازاں، انگریزی اور دیگر مغربی ادبیات کے اثرات نے بھی اردو کو نئی جہتوں سے روشناس کرایا۔
دورِ حاضر میں یہ رجحان مزید وسیع ہو چکا ہے اور اب برصغیر کی مقامی و علاقائی زبانوں کے لوک ادب سے بھی بھرپور استفادہ کیا جا رہا ہے۔ اگرچہ مشرقِ بعید (Far East) کی اصناف سے مستفید ہونے کا رجحان ہمارے ہاں زیادہ عام نہیں رہا لیکن گزشتہ چند دہائیوں میں اس خطے سے بھی بعض شعری ہیئتیں اردو میں کامیابی سے درآمد کی گئی ہیں۔
تین مصرعوں کی شاعری: ہائیکو، ماہیا اور مثلث سے تروینی تک
قدیم اردو نظم میں مختلف ہیئتیں رائج رہی ہیں، جن میں ایک معروف ہیئت ‘مثلث’ کی بھی ہے جس کا ہر بند تین مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ تاہم، جدید دور میں روایتی نظمِ مثلث کا چلن کچھ کم ہو گیا ہے اور اس کی جگہ تین مصرعوں کی دیگر اصناف نے لے لی ہے۔ آج کے جدید شعرا ثلاثی، ہائیکو اور ماہیا جیسی اصناف کی جانب زیادہ راغب نظر آتے ہیں۔
لیکن ان تمام اصناف کے درمیان اردو ادب میں تین مصرعوں کی ایک بالکل نئی اور اچھوتی صنف کا اضافہ ہوا ہے جسے "تروینی” کہا جاتا ہے۔
صنفِ تروینی کے خالق: گلزار جہلمی
اکثر ادبی اصناف کسی مخصوص علاقے یا حالات کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں (جیسے ہائیکو، ماہیا یا سانیٹ) اور ان کی ایجاد کا سہرا کسی ایک فردِ واحد کے سر نہیں باندھا جا سکتا۔ دلچسپ اور حیران کن بات یہ ہے کہ صنفِ تروینی ایک ایسی منفرد ایجاد ہے جس کی تخلیق کا براہِ راست اور تنِ تنہا سہرا مشہور فلمی گیت کار اور شاعر گلزار (گلزار جہلمی) کے سر جاتا ہے۔
گلزار جہلمی کا تعلق بنیادی طور پر پاکستان کی سرزمین (جہلم) سے ہے، جو بعد ازاں ہندوستانی فلم انڈسٹری میں اس قدر مقبول ہوئے کہ آج برصغیر کی فلمی تاریخ ان کے ذکر کے بغیر ادھوری ہے۔ انھوں نے شعری ہیئت کے نئے تجربات کرتے ہوئے اردو کی ذیلی اصناف میں ایک ایسا شاندار کارنامہ انجام دیا ہے جس کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
خالص اردو کی پیداوار: ایک تاریخی حقیقت
یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ اردو شاعری کی محبوب ترین صنف یعنی ‘غزل’ بھی خالص اردو کی نہیں بلکہ فارسی شاعری کی دین ہے۔ اس تناظر میں تحقیق کی جائے تو یہ انکشاف ہوتا ہے کہ اردو کی ذیلی اصنافِ شاعری میں تروینی وہ واحد صنفِ سخن ہے جو کسی دوسری زبان سے نہیں آئی بلکہ یہ خالص اردو زبان کی اپنی پیداوار ہے۔
گلزار کے اپنے الفاظ میں تروینی کا تعارف
اس نئی صنف کے خدوخال واضح کرتے ہوئے خود گلزار صاحب یوں رقم طراز ہیں:
’’میں نے شاعری میں ایک نئی فارم (form) پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس کا نام تروینی رکھا ہے۔ یہ ہائیکو بھی نہیں، ملثت بھی نہیں۔ تیسرا مصرع روشن دان کی طرح کھلتا ہے۔ اس کی روشنی میں پہلے شعر کا تاثر بدل جاتا ہے۔ تیسرا مصرع common بھی ہوسکتا ہے، اضافہ بھی۔ تروینی میں ایک شوخی اور Surprise کارنگ ہے۔‘‘
ادبی دنیا میں پذیرائی اور تروینی کی ساخت
تین مصرعوں کی دیگر رائج اصناف کے مقابلے میں، اردو تروینی میں بات کہنے کی وسعت اور گنجائش کہیں زیادہ ہے۔ اس میں قاری کے لیے جو تجسس اور دلچسپی کا عنصر پنہاں ہے، اس نے بڑے بڑے نقادوں کو متاثر کیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہندی زبان کے صفِ اول کے شاعر ہر ونش رائے بچن اور اردو کے مایہ ناز ادیب و شاعر احمد ندیم قاسمی نے گلزار کی اس شاندار ایجاد کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
تروینی کے تکنیکی خدوخال
تروینی کے بغور مطالعے سے اس کی جو تکنیکی خصوصیات سامنے آتی ہیں، وہ درج ذیل ہیں:
- پہلے دو مصرعے: یہ دونوں مصرعے مل کر ایک مکمل شعر بناتے ہیں۔ مفہوم اور خیال کے اعتبار سے یہ بالکل مکمل ہوتے ہیں، بعینہٖ جیسے غزل یا دوہے کا شعر اپنے اندر پوری بات سمیٹے ہوتا ہے۔
- تیسرا مصرع (روشن دان): یہ مصرع ایک تبصرے، رائے یا خیال کے نئے موڑ کا کام کرتا ہے۔ اس سے پوری بات کا تاثر اچانک بدل جاتا ہے۔
- قافیہ اور ردیف کی آزادی: تروینی میں روایتی قافیہ اور ردیف کی سخت پابندی نہیں کی جاتی، البتہ اس میں غضب کا آہنگ اور موسیقیت پائی جاتی ہے۔
- جملوں کی ساخت: اس کا ہر مصرع عموماً دو یا تین ٹکڑوں (چھوٹی بحر کے حصوں) میں بٹا ہوتا ہے، جو پڑھنے میں انتہائی دلکش لگتا ہے۔
تروینی کے شاہکار نمونے
اس صنف کی گہرائی اور اس میں موجود ‘سرپرائز’ کے عنصر کو سمجھنے کے لیے گلزار کی تروینیوں کے یہ چند نمونے ملاحظہ فرمائیں:
موت انصاف کی علامت ہے
سب پہ آتی ہے سب کی باری ہے
زندگی سب پہ کیوں نہیں آتی؟
ایک اور تروینی جس میں زندگی کا فلسفہ بیان کیا گیا ہے:
کیا پتا کب کہاں سے مارے گی
بس کہ میں زندگی سے ڈرتا ہوں
موت کا کیا ہے ایک بار مارے گی
معاشرتی المیے کی عکاسی کرتی ایک اور تروینی:
اُف! یہ بھیگا ہوا اخبار
پیپر والے کو کل سے چینج کرو
پانچ سو گاؤں بہہ گئے اس سال
اسی طرح انسانی فطرت پر ایک گہرا طنز ملاحظہ کریں:
سانپ جتنا بھی خوبصورت ہو
اپنی فطرت نہیں بدل سکتا
اس لیے کینچلی بدلتا ہے
موضوعاتی تنوع اور تلخ حقائق کی عکاسی
تروینی کی ایک اور بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں غزل کی سی خوشبو موجود ہونے کے باوجود مضامین کی کوئی قید نہیں۔ گو کہ غزل کی طرح اس میں بھی عشقیہ الفاظ کا استعمال ہوتا ہے لیکن اس میں زندگی کے ہر شعبے سے متعلق بات کی جا سکتی ہے۔
حیران کن امر یہ ہے کہ گلزار صاحب، جو کہ ایک رومانوی فلمی گیت کار کے طور پر مشہور ہیں، ان کی تروینیوں میں خالص روایتی حسن و عشق کے تذکرے کم نظر آتے ہیں۔ اس کے برعکس، ان کی تروینیوں کے موضوعات روزمرہ کے سنجیدہ مسائل اور انسانی زندگی کے تلخ حقائق سے جڑے ہوئے ہیں۔
مختصر یہ کہ، گلزار کی تخلیق کردہ صنفِ تروینی جدید اردو شاعری کا ایک ایسا انمول اثاثہ ہے جو اختصار، موسیقیت اور فکری گہرائی کے سبب قارئین کے دلوں پر براہِ راست اثر کرتی ہے۔ یہ اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ ایک تابندہ باب کے طور پر جانی جائے گی۔
نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ،معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
