اردو شاعری میں فرانسیسی صنفِ سخن ترائیلےکی تعریف ، ہیت اور ارتقا، تحریر از احمد سیال (قلمی نام ) ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
عالمی ادب کے تبادلے نے اردو شاعری کو بہت سی نئی جہتوں سے روشناس کرایا ہے۔ انہی میں سے ایک نہایت قدیم اور مقبول ترین فرانسیسی صنفِ سخن ترائیلے (Triolet) ہے۔
فرانسیسی زبان میں اس صنف کو ایک مخصوص وزن ‘Imbic Tetra Metre’ میں لکھا جاتا ہے۔ یہ ایک انتہائی خوبصورت اور پابند نظم ہے، جس نے اپنے منفرد انداز کی بدولت اردو ادب میں بھی ایک خاص مقام حاصل کر لیا ہے۔
ترائیلے کی ہیت اور بنیادی اصول
یہ صنف اپنے اندر کچھ مخصوص تکنیکی اصول رکھتی ہے، جن کی پابندی کرنا ہر شاعر کے لیے لازمی ہے۔ اگر ہم اس کی ساخت پر غور کریں تو درج ذیل خصوصیات سامنے آتی ہیں:
- مصرعوں کی تعداد: یہ نظم ہمیشہ صرف آٹھ (8) ہم وزن مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔
- مصرعوں کی تکرار: اس نظم کا پہلا، چوتھا اور ساتواں مصرع بالکل ایک جیسا (ہو بہو) ہوتا ہے۔ اسی طرح دوسرا اور آٹھواں مصرع بھی من و عن دہرایا جاتا ہے۔
- قافیہ اور ردیف کا نظام: تیسرا اور پانچواں مصرع، پہلے مصرعے کا ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے۔ جبکہ چھٹا مصرع دوسرے مصرعے کے ہم قافیہ اور ہم ردیف ہوتا ہے۔
- عنوان کی شرط: اس نظم کا ایک مخصوص عنوان ہونا لازمی ہے۔
- موضوعاتی وسعت: ترائیلے کا کوئی ایک مخصوص موضوع نہیں ہوتا۔ اسے اخلاقی، سماجی، سیاسی، فلسفیانہ، تاریخی اور ثقافتی غرض کہ ہر طرح کے موضوعات پر با خوبی لکھا جا سکتا ہے۔
ماہرین کی نظر میں ترائیلے کی تعریف
مختلف ادبی دانش وروں اور نقادوں نے اس صنف کی اپنے اپنے انداز میں تشریح کی ہے۔ اس حوالے سے ایک مستند اور جامع تعریف ذیل میں پیش کی جا رہی ہے:
"غیر ملکی اصناف میں سب سے پہلی صنف ترائیلی ہے جو فرانسیسی شاعری کی بہت مقبول صنفِ سخن ہے۔ اس نظم میں آٹھ مصرعے اور دو قافیوں کا التزام کیا جاتا ہے لیکن اس میں اصل 5 مصرعے ہی ہوتے ہیں، تین تکراری مصرعے ہیں جس میں پہلے مصرعے کی تکرار چوتھے اور ساتویں مصرعے کی جگہ اور دوسرے مصرعے کی تکرار آٹھویں مصرعے کی جگہ کی جاتی ہے۔ تیسرا اور پانچواں مصرع پہلے مصرعے کے اور چھٹا مصرع دوسرے مصرعے کے قافیہ میں لکھا جاتا ہے۔”
(حوالہ: ساحل احمد، اصنافِ نظم، کلاسک آرٹ پرنٹرز، دہلی، 2007، ص: 52)
اردو ادب میں ترائیلے کا سفر
مذکورہ بالا حقائق سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اردو شعراء نے جب اس فرانسیسی صنف کو اپنایا، تو اپنی زبان کی شیرینی، چاشنی اور نزاکت سے اسے ایک نیا اور دل کش روپ عطا کیا۔
اردو میں کئی مایہ ناز ترائیلے نگار گزرے ہیں جنہوں نے اس صنف کو بامِ عروج تک پہنچایا۔ اس صنف کو اردو کے ادبی حلقوں میں متعارف کرانے کا سب سے پہلا اور اہم سہرا عطا محمد شعلہ کے سر ہے۔ ان کے بعد کئی نامور شعراء مثلاً فرحت کیفی اور نریش کمار شاد نے اس میدان میں اپنے قلم کے جوہر دکھائے اور اردو ترائیلے کی راہوں کو ہموار کیا۔
صنفِ ترائیلے کی منظوم تعریف (ایک مثال)
ترائیلے کو سمجھنے کا بہترین طریقہ خود اسی صنف میں لکھی گئی ایک نظم کا مطالعہ ہے۔ ذیل میں ایک ایسا ترائیلے پیش کیا جا رہا ہے جس میں شاعر نے بڑی خوبصورتی سے اس صنف کی تعریف اور اس کے اصول بیان کر دیے ہیں:
فرانسیسی صنفِ سخن ترائیلی
صنفِ سخن ترائیلے، اک تحفہء فرانس
تعداد پوری نظم میں مصرعوں کی صرف آٹھ
ہوتا ہے پہلے مصرعے کا ایک روپ تین ڈانس
صنفِ سخن ترائیلے، اک تحفہء فرانس
سطرِ دوم کے واسطے ایسے ہیں دو ہی چانس
چھ، پانچ، تین مصرعے پڑھیں قافیہ کا پاٹھ
صنفِ سخن ترائیلے، اک تحفہء فرانس
تعداد پوری نظم میں مصرعوں کی صرف آٹھ
اس نظم کو پڑھ کر بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ آٹھ مصرعوں کی فرانسیسی صنف ہے اور اس کی بُنت (ہیت) کس قدر نپی تلی ہے۔
فرانسیسی تہذیب کی جھلک اور تکرار کا حُسن
یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ترائیلے میں فرانسیسی لوک گیتوں کی روایت کا رنگ بھی نمایاں طور پر جھلکتا ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے جاپانی صنف ہائیکو میں جاپانی تہذیب کی عکاسی ہوتی ہے، ترائیلے کے تراجم پڑھ کر فرانسیسی تہذیب و تمدن کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔
اس صنف کی سب سے بڑی خوبی مصرعوں کی ‘تکرار’ ہے۔ عام طور پر اردو شاعری میں الفاظ یا مصرعوں کی تکرار کو معیوب سمجھا جاتا ہے اور اس سے کلام کا حسن ماند پڑ جاتا ہے، لیکن ترائیلے میں یہی تکرار ایک خاص قسم کی موسیقیت اور کشش پیدا کرتی ہے جو قاری کو سحر زدہ کر دیتی ہے۔
بحر اور صوتی نظام کا فرق
اگرچہ فرانسیسی زبان میں ترائیلے کے لیے ایک مخصوص بحر موجود ہے، لیکن اردو والوں نے من و عن اس فرانسیسی بحر کی تقلید نہیں کی۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ فرانسیسی اور اردو زبانوں کا صوتی نظام (Phonetic System) ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہے۔
فرانسیسی بحر کو اردو میں زبردستی نافذ کرنا ممکن نہیں تھا۔ لہٰذا اردو شعراء نے اس کی ظاہری شکل (فارم) کو تو برقرار رکھا، لیکن اسے اپنی زبان کی ‘رواں بحروں’ میں ڈھال لیا۔ یہی وجہ ہے کہ بار بار مصرعوں کی تکرار کے باوجود اردو ترائیلے میں ایک غضب کی روانی اور تسلسل پایا جاتا ہے۔ (یہ اصول سانٹ اور ہائیکو جیسی دیگر درآمد شدہ اصناف پر بھی لاگو ہوتا ہے)۔
نریش کمار شاد کا ایک خوبصورت ترائیلے
اس روانی اور تسلسل کی ایک بہترین مثال مشہور شاعر نریش کمار شاد کی درج ذیل نظم ہے، جس کا عنوان "انتقاماً” ہے:
انتقاماً
میسر تو نہیں ہے شادمانی
مگر دل انتقاماً شادماں ہے
بہت پر درد ہے میری کہانی
میسر تو نہیں ہے شادمانی
نہیں مجھ پر کسی کی مہربانی
خدائی کیا خدا نا مہرباں ہے
میسر تو نہیں ہے شادمانی
مگر دل انتقاماً شادماں ہے
مختصراً یہ کہ ترائیلے فرانسیسی ادب سے اردو میں آئی اور اردو سخن وروں نے اسے مقامی سانچے میں ڈھال کر اس کا اجنبی پن ختم کر دیا۔
آج کل اردو ترائیلے معیاری رسالوں اور جدید مشاعروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ غزلوں، نظموں اور غیر ملکی اصناف کے امتزاج کو نئی نسل پسند کر رہی ہے، جو اردو ادب کے روشن مستقبل کی نشاندہی ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی۔ایس اُردو،میقات پنجم(گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد)
