نظم: تیری آنکھوں میں عجب جمال ہے کمال ہے

تیری آنکھوں میں عجب جمال ہے کمال ہے
دیکھوں تیرا حسن ہی بے مثال ہے کمال ہے

تو نے دیکھی ہوگی چاندنی راتوں میں چاند کو
مگر آنکھیں تیری چاند کے لئے مثال ہے کمال ہے

دنیا فانی ہے نا راجہ نا ہی کوئی رانی ہے
پھر بھی انسان کے یہ اعمال ہے کمال ہے

تیرے سجدوں میں کبھی رب نا آیا نا کبھی تجھے آزمایا
تو نےکھویا بہت کچھ ہے پھر بھی نا کوئی ملال ہے
کمال ہے
مہنگائی اتنی بڑھ گئی ہے کہ غریب کا کھانا حرام ہے
تو کہتا پھر رہا ہے تیرے نام پہ کتنے کنال ہے کمال ہے
یہ آرزو کی آرزوئیں تو دیکھوں ۔
زندگی میں بس وہی ایک تجھے حلال ہے کمال ہے

از قلم (سدرہ میر اکبر)

وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں