مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ترنم ریاض کی حالات زندگی

ترنم ریاض کی حالات زندگی اور ادبی خدمات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کی تاریخ خواتین قلمکاروں کے تذکرے کے بغیر ادھوری ہے، اور جب ہم جموں و کشمیر کی ادبی فضا کا ذکر کرتے ہیں تو ترنم ریاض کا نام ایک روشن ستارے کی طرح جگمگاتا نظر آتا ہے۔ ان کو نظر انداز کرنا درحقیقت ادب کی توہین کے مترادف ہوگا۔

ترنم ریاض کا شمار ان منتخب تخلیق کاروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی اردو زبان و ادب کی آبیاری کے لیے وقف کر دی۔ وہ نثر اور نظم دونوں میدانوں میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب رہیں۔

ادبی سفر کا آغاز

مصنفہ کے ادبی سفر کے نقوش 1973ء سے ملتے ہیں، جب انہوں نے لکھنے کی دنیا میں قدم رکھا۔ تاہم، ان کی باقاعدہ اشاعت کا سلسلہ 1975ء میں شروع ہوا جب ان کی پہلی کہانی مشہور روزنامہ آفتاب کی زینت بنی۔

یہاں سے شروع ہونے والا یہ سفر رکا نہیں، بلکہ انہوں نے افسانہ، ناول، شاعری اور تنقیدی مضامین سمیت ہر صنف میں طبع آزمائی کی اور اپنے فن کا لوہا منوایا۔

مشہور ناول اور افسانوی مجموعے

ترنم ریاض کے قلم سے نکلنے والی تحریریں اردو فکشن کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ انہوں نے کئی یادگار ناول اور افسانے تحریر کیے جن کی تفصیل درج ذیل ہے:

ناول نگاری

  • مورتی: یہ ناول 2004ء میں منظر عام پر آیا۔
  • فریبِ خطِ گل (چارنا ویلا): یہ تخلیق 2009ء میں شائع ہوئی۔
  • برف آشنا پرندے: یہ ناول 2010ء میں قارئین کے ہاتھوں تک پہنچا۔

افسانوی مجموعے

مصنفہ نے افسانوں کے ذریعے بھی اپنے مشاہدات کو بیان کیا۔ ان کے اہم مجموعے یہ ہیں:

  • یہ تنگ زمین (1998ء)
  • ابابیلیں لوٹ آئیں گی (2000ء)
  • یمبرزل (2004ء)
  • میرا رختِ سفر (2008ء)

موضوعات اور وابستگی

ترنم ریاض کی شخصیت کا ایک اہم پہلو ان کی آل انڈیا ریڈیو سے وابستگی بھی رہی ہے۔ میڈیا سے جڑے رہنے اور سماجی شعور رکھنے کی وجہ سے ان کی تحریروں میں زندگی کے کئی اہم مسائل اجاگر ہوئے ہیں۔

ان کے پسندیدہ موضوعات میں خواتین کے مسائل، شہری اور دیہی زندگی کا تفاوت، کشمیر کی تہذیبی عکاسی اور سماجی اقدار کی پامالی شامل ہیں۔ ان کی تحریریں معاشرے کا آئینہ سمجھی جاتی ہیں۔

اعزازات اور پذیرائی

ادب کے لیے ان کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر کئی باوقار اعزازات سے نوازا گیا۔ چند اہم ایوارڈز درج ذیل ہیں:

  • اتر پردیش اردو اکادمی انعام: (برائے سال 1999ء)
  • سارک لٹریچر ایوارڈ (SAARC Literature Award): (برائے سال 2014ء)
  • رسا جاودانی میموریل ایوارڈ
  • ساحر لدھیانوی ادیب انٹرنیشنل ایوارڈ
  • جموں و کشمیر کلچر اکیڈمی بیسٹ بُک ایوارڈ (Best Book Award)
  • امن کی آشا ایوارڈ (کراچی، پاکستان)

وفات

افسوس کہ وقت کا پہیہ کسی کے لیے نہیں رکتا۔ اگر زندگی وفا کرتی تو شاید ان کا فن مزید نکھر کر سامنے آتا۔ 20 مئی 2021ء، بروز جمعرات، موت نے انہیں اپنی آغوش میں لے لیا۔

ترنم ریاض جیسی مایہ ناز ادیبہ کا بچھڑ جانا اردو ادب کے لیے ایک ایسا عظیم خسارہ ہے جس کی تلافی شاید کبھی ممکن نہ ہو سکے۔ ان کی تحریریں ہمیشہ ان کی یاد دلاتی رہیں گی۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں