ترقی پسند تحریک اور اردو غزل: 10 اہم پہلو، فنی بدلاؤ اور فکری اثرات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل: ایک تعارفی منظرنامہ
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے باہمی ربط کو پرکھنے کے لیے سب سے پہلے غزل کی فنی اور تہذیبی روایت کی طرف متوجہ ہونا لازمی ہے۔ اردو غزل اپنی انوکھی شعری فضا، محبوب و عاشق کے ابدی کلاسیکی کردار، رقیب کی سائے دار موجودگی، اور داخلی کرب و جذبات کی لطیف ترجمانی کے لیے تشبیہ، استعارہ، رمز، کنایہ، مجاز، تمثیل، ایجاز اور اختصار جیسے فنکارانہ ہتھیاروں پر کامل انحصار کرتی ہے۔
یہی روایت غزل کو ایک ایسی لازوال صنف کی حیثیت عطا کرتی ہے جس سے مکمل طور پر الگ ہٹ کر کوئی شعر تخلیق کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔
البتہ، موضوعات میں رنگارنگی، تنوع اور معنی کی وسعت کا سلسلہ جاری رہا، جو اسے ہر دور کی آواز بناتا رہا۔
جدید سے جدید خیال کی پیش کش بھی ہمیشہ انہی فنی وسائل کے ذریعے زیادہ مؤثر رہی ہے۔ جب ادبی منظرنامہ بدلتا ہے تو استعارے کی معنویت بھی بدلتی ہے۔ اسی وجہ سے ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے تعلق میں علامتی اظہار ایک اہم نکتہ بن کر سامنے آتا ہے۔ ترقی پسند غزل میں علامت کا استعمال روایتی روایت کی توسیع نہیں بلکہ ایک نئی جہت، ایک نئی ضد اور ایک نئے تنوع کی صورت میں نظر آتا ہے۔
ترقی پسند تحریک اردو ادب کی ایک فعال احتجاجی تحریک سمجھی جاتی ہے۔ ترقی پسند اہلِ قلم غزل کو عیش پرستی اور زوال پذیر جاگیردارانہ نظام کی شاعری قرار دیتے تھے۔ سید سبط حسن نے غزل کو محض تفریحی صنف سمجھتے ہوئے اسے مقصدی اور تعلیمی استعمال کے لیے ناکافی قرار دیا اور لکھا:
"میں تو سمجھتا ہوں کہ غزل ایک تفریحی صنف ہے، مقصدی اور تعلیمی اغراض کے لیے شعرا کو ہمیشہ غزل کو ترک کرنا پڑا ہے۔ جب کوئی بڑا فلسفہ حیات یا مسئلہ حیات پیش کرنا ہو تو نظم کہی جاتی ہے۔”(سبط حسن ، سید ، اردو غزل کا مستقبل سمپوزیم مطبوعہ: نقوش ( غزل نمبر ) طبع ثانی ، فروری ۱۹۵۶ء ۔)
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل میں مقصدیت کا غلبہ
اسی فکری فضا میں ترقی پسند شعرا نے ذاتی اور انفرادی جذبات کو پس منظر میں ڈال کر اجتماعی مسائل کو اپنی شاعری کا مرکزی موضوع بنایا۔ انہوں نے فن سے زیادہ مقصد کو اہمیت دی، جس کے نتیجے میں غزل کو وہ طلسمی اور مثالی فضا نہ مل سکی جو کلاسیکی غزل کے لیے لازم سمجھی جاتی ہے۔
ڈاکٹر بشیر بدر ترقی پسند غزل کے بارے میں سخت رائے دیتے ہیں اور اسے غزل کے منصب سے بھی کم درجے پر رکھتے ہیں: "ترقی پسند غزل اپنے طے شدہ نتائج کو منظوم کرنے کی وجہ سے اُس انفرادیت اور طلسمی فضا آفرینی سے محروم رہتی ہے جس کی اچھی شاعری کو اکثر ضرورت رہتی ہے۔ پھر ترقی پسند غزل کے کچھ ایسے مطالبات ہیں جن میں فن کی ثانوی اور مقصد کو پہلی حیثیت حاصل ہو جاتی ہے۔
اس لیے یہ کہنا کہ غزل ترقی پسند بھی ہو اور غزل بھی ہو، ناممکن ہے۔”(بشیر بدر، ڈاکٹر ، آزادی کے بعد کی غزل کا تنقیدی مطالعہ نئی دہلی ؛ انجمن ترقی اردو ہند ؛ ۱۹۸۱ء ص ۴۷)
یہی وجہ ہے کہ کئی ترقی پسند شعرا، جنہوں نے شاعری کا آغاز غزل سے کیا تھا، بعد میں غزل سے تقریباً کنارہ کش ہو گئے۔ بعض نے تو دوسروں کو بھی غزل ترک کرنے کا مشورہ دیا، کیوں کہ ان کے نزدیک غزل زیادہ تر داخلی اور انفرادی جذبات کی صنف تھی، جبکہ ترقی پسند فکر اجتماعی شعور، طبقاتی سوالات اور عملی تبدیلی پر زور دیتی تھی۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے موضوعات میں وسعت
اگر ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے موضوعات کا جائزہ لیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ اس دور کی غزل نظم کی طرح غلامی کے جبر، آزادی کی آرزو، امن کے خواب، طبقاتی کشمکش، عدم مساوات، رواداری کے فقدان اور افلاس جیسے مسائل تک پھیل گئی۔ اس نئے رجحان میں غزل مقصدی شاعری بن گئی۔
ترقی پسند غزل گو شاعر رمز و کنایہ اور ابہام کے مقابلے میں بات کو صاف، کھلے اور واضح انداز میں پیش کرنے کے قائل تھے تاکہ شعر سنتے ہی مفہوم ذہن میں آ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں خطابیہ اور بیانیہ لہجہ نمایاں نظر آتا ہے۔ ڈاکٹر ارشد محمود ناشاد اس صورتِ حال کو یوں بیان کرتے ہیں:
تاہم شعرا کی ان کوششوں میں تخلیقی وفور اور فنی ریاضت کی جھلک کم کم دکھائی دیتی ہے۔
ترقی پسند غزل پر صحافت اور خطابت کا اثر زیادہ نظر آتا ہے۔ تحریک سے وابستہ شعرا نے غزل میں نعرہ بازی اور پروپیگنڈہ کو رواج دیا۔ یہ عصر مسلکی نظریات کے فروغ میں تو شاید معاون ثابت ہوا ہو مگر اس کے باعث غزل حسن تغزل اور تخلیقی کیف سے محروم ہوگئی ۔(ارشد محمود ناشاد، ڈاکٹر ، اُردو غزل کا تکنیکی ہیئتی اور عروضی سفر مجلس ترقی ادب، لاہور ، ۲۰۰۸، ص۲۰۰۔)
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل: مثبت اور منفی دونوں اثرات
ترقی پسند شعرا نے اگرچہ اپنے نظریات کے فروغ کی خاطر غزل کے ظاہری اور داخلی حسن کو متاثر کیا، مگر اسی کے ساتھ غزل کو عصری شعور، سماجی آگہی اور نئے موضوعات کی دولت بھی عطا کی۔ اس تحریک کے باعث غزل کی لفظیات بھی پھیلیں اور موضوعات بھی۔
پرانے استعارے نئے معنی پہننے لگے اور نئے استعارے سامنے آنے لگے۔ یوں غزل، جو عمومی طور پر قنوطی سمجھی جاتی تھی، رجائی لہجے کی طرف بھی مائل ہونے لگی۔
اس تبدیلی نے ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کو ایک ایسے مرحلے میں داخل کیا جہاں روایت اور بغاوت ایک دوسرے کے ساتھ موجود تھے۔ غزل کی کلاسیکی بنیادیں پوری طرح منہدم نہیں ہوئیں، مگر ان کی سمت ضرور بدل گئی۔
ترقی پسند تحریک کا تاریخی پس منظر
ترقی پسند تحریک اردو ادب کی نہایت اہم تحریکوں میں شمار ہوتی ہے۔ اس کی بنیاد لندن میں رکھی گئی۔ 1930ء میں لندن میں مقیم چند ہندوستانی طالب علموں نے اپنے وطن کے سیاسی اور سماجی حالات کے پیشِ نظر انسانیت کی خدمت کا خواب دیکھا۔ انہوں نے انفرادی کوشش کی بجائے اجتماعی جدوجہد کو ترجیح دی اور تمام زبانوں کے تخلیق کاروں کو ساتھ لے کر ہندوستانیوں کو پستی، غلامی، مظلومی اور استحصال سے نجات دلانے کا عزم کیا۔
اس تحریک کے پس منظر میں 1917ء کے روسی انقلاب کا اثر بھی شامل تھا، جو لیفن کی تحریک سے شروع ہوا اور کارل مارکس کے نظریات سے متاثر تھا۔ رفتہ رفتہ یہ تحریک عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے لگی۔ اسی دوران سجاد ظہیر اور کچھ دیگر ہندوستانی طلبا تعلیم کے لیے لندن میں موجود تھے۔
وہ اس تحریک سے متاثر ہوئے اور ہندوستان میں اس کے قیام کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے تجاویز تیار کرکے مختلف ادیبوں کوبھیجیں، جن میں منشی پریم چند اور اختر حسین رائے پوری کے نام قابلِ ذکر ہیں۔
ان حضرات نے اس تحریک کا خیرمقدم کیا۔ چنانچہ 1936ء میں لکھنو میں تحریک کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔ ان کے خطبے "ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہو گا” کو بڑی شہرت ملی۔
اس اجلاس کے بعد بڑی تعداد میں شعر و ادب سے وابستہ افراد اس تحریک سے جڑ گئے، اور عوام، ان کے دکھ درد اور مسائل ادب کے مرکزی موضوع بن گئے۔ اب محبوب کے ساتھ ساتھ مزدور اور کسان بھی غزل و نظم میں نمایاں ہونے لگے۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل میں ادیب کا سماجی کردار
شاعر اور ادیب معاشرے کے حساس افراد ہوتے ہیں۔ وہ سماجی ناانصافیوں، ظلم اور استحصال سے متاثر ہو کر اپنے احساسات تحریر کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔ ترقی پسند تحریک کے پیغام کو عام کرنے میں انہی اہلِ قلم نے بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کے زیرِ اثر ادب میں سماجی انصاف، مساوات اور محروم طبقات کی حمایت کا رجحان مضبوط ہوا۔
یہ اثر نظم اور نثر دونوں میں دیکھا جا سکتا ہے، لیکن ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے دائرے میں یہ تبدیلی خاص طور پر اہم رہی، کیونکہ غزل جیسی روایتی صنف میں اجتماعی شعور کی شمولیت ایک بڑا ادبی تجربہ تھی۔
ترقی پسند شعرا میں فیض احمد فیض، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی، مجاز لکھنوی، معین احسن جذبی، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، مخدوم محی الدین اور جاں نثار اختر قابلِ ذکر نام ہیں۔ ان سب نے مختلف انداز میں اردو غزل کو ترقی پسند فکر سے جوڑا۔
ترقی پسند ادب کے بنیادی اصول
ترقی پسند ادب کے تخلیقی ضابطے چند واضح اصولوں پر قائم تھے۔ ان اصولوں کو سمجھنا ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے فکری پس منظر کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
- ادب ایک آلہ کار ہے
ترقی پسندوں نے واضح کیا کہ ادب معاشرے کی خدمت کرے اور انسانی زندگی کو بہتر بنانے میں مدد دے۔
- ادب عوام کے لیے ہے
ان کے نزدیک ادب کا اصل مقصد زیادہ سے زیادہ لوگوں، خصوصاً عوام تک فائدہ پہنچانا تھا۔ اسی لیے وہ اپنے ادب کو "عوامی ادب” کہتے تھے۔
- ادیب جانبدار ہوتا ہے
ان کے مطابق ادیب ظلم، ناانصافی اور استحصال کے مقابلے میں غیر جانب دار نہیں رہ سکتا۔ وہ ایک حساس اور دردمند انسان ہوتا ہے، اس لیے محنت کشوں کے ساتھ کھڑا ہونا اس کی فطری ذمہ داری ہے۔
- ترقی پسندی اور اشتراکیت
ترقی پسند تحریک نے کبھی اپنی اشتراکی وابستگی چھپائی نہیں۔ سجاد ظہیر کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو ختم کرنے کا راستہ اشتراکیت ہی ہے۔
- سیاست میں عملی حصہ
یہ بھی کہا گیا کہ محض قلمی خدمت کافی نہیں۔ ادیب کو مزدوروں اور کسانوں کے درمیان رہ کر ان کی جدوجہد میں عملی طور پر شریک ہونا چاہیے۔
ان اصولوں نے ادب کو مواد اور موضوعات کی سطح پر نئی سمت دی۔ شاعری، افسانہ، ناول اور ڈرامہ سب پر اس تحریک کے اثرات گہرے ہوئے۔ غزل بھی اس تبدیلی سے محفوظ نہ رہ سکی۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل میں سیاسی و سماجی مضامین
ترقی پسند شعرا نے اردو غزل کے لطیف جھروکے میں سیاسی شعور کی لہریں، مزدوروں کی جدوجہد کی حمایت، اجتماعی کرب و الم کی گہرائیوں، اور جبر کے خلاف بے باک احتجاج کی آوازوں کو سمو دیا۔ یہی وہ وجہ تھی جس نے ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے درمیان محض نظریاتی رشتے کو عملی اور زندہ دل ہم آہنگی میں بدل دیا۔
فیض احمد فیض، مجروح سلطان پوری، ساحر لدھیانوی، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور معین احسن جذبی جیسے شعرا نے غزل کو ایسے لہجے میں ڈھالا جس میں احساس بھی تھا، احتجاج بھی، اور امید بھی۔
فیض احمد فیض: ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کا نمایاں نام
ترقی پسند غزل گو شعرا میں فیض احمد فیض کی حیثیت غیر معمولی ہے۔ اگرچہ وہ بنیادی طور پر رومانوی شاعر تھے، لیکن انقلاب سے بھی گہرا اثر قبول کیا۔ ان کی غزلوں میں جذبات کی شدت، معنی کی تہہ داری اور علامتی معنویت کا امتزاج ملتا ہے۔
فیض کے یہاں غزل کا ارتقائی روپ بہت نمایاں ہے۔ انہوں نے پرانی علامتوں کو نئے مفاہیم دیے۔ ان کے ہاں محبوب اکثر وطن یا قوم کی علامت بن جاتا ہے، جب کہ رقیب دشمنِ ملک و قوم کی علامت اختیار کر لیتا ہے۔ ان کے چند اشعار اس فکری و فنی تبدیلی کی بہترین مثال ہیں:
صبا نے پھر در زنداں پہ آکے دی دستک
دی سحر قریب ہے دل سے کہو نہ گھبرائے
متاع لوح و قلم چھن گئی تو کیا غم ہے
که خون جگر میں ڈبولی ہیں انگلیاں میں نے
چمن میں غارت گلچیں سے جانے کیا گزری
قفس سے آج صبا سو گوار گزری ہے
فیض کی غزل میں ترقی پسند تحریک اور اردو غزل نہ صرف نظری سطح پر ملتے ہیں بلکہ جمالیاتی سطح پر بھی ایک نئے شعری آہنگ میں ڈھل جاتے ہیں۔
مجروح سلطان پوری اور ترقی پسند تحریک اور اردو غزل
مجروح سلطان پوری ان شعرا میں شامل ہیں جنہوں نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی اور مظلوم طبقات کا دفاع کیا۔ ان کی غزلوں نے اردو غزل کو ایک نیا سیاسی اور سماجی رنگ عطا کیا۔ مجروح کا سب سے بڑا کارنامہ ان کی وہ شاعری ہے جس کا موضوع خالص سیاست ہے۔
وہ کمیونسٹ پارٹی سے وابستہ تھے، مزدوروں اور عوام کے مسائل سے باخوبی واقف تھے، اور متعدد بار جیل بھی گئے۔ اس تجربے کی جھلک ان کی غزلیہ شاعری میں جابجا ملتی ہے۔ ان کے اشعار میں احتجاج، جرات اور بیداری کی کیفیت نمایاں ہے:
دیکھ زنداں سے پرے رنگ چمن جوش بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاؤس کی زنجیر نہ دیکھ
پار کا دل ہے وطن کی سرز میں مشکل
یہ ہے شہر کو ویراں کہیں یا دل کو ویراں نہ کہیں
ان اشعار میں ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کا انقلابی رنگ صاف جھلکتا ہے۔
مجاز لکھنوی: رومان اور انقلاب کا امتزاج
اس تحریک سے متاثر ہونے والے اور غزل کی بیداری میں حصہ ڈالنے والے شعرا میں اسرار الحق مجاز بھی شامل ہیں۔ مجاز کی غزلوں میں رومانیت موجود ہے، مگر وہ رومانیت کو انقلابی رنگ بھی دے دیتے ہیں۔ وہ انسانی جذبات، احساسات اور اپنے عہد کے حالات کو بڑی مہارت سے بیان کرتے ہیں۔
ان کے بعض اشعار اس امتزاج کی صورت کو واضح کرتے ہیں:
یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی محفل
تو تری سوئی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے
سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے
سب کے تو گریباں بھی ڈالے اپنا ہی گر یہاں بھول گئے
مجاز کی شاعری میں ترقی پسند تحریک اور اردو غزل ایک ایسے انداز میں سامنے آتی ہے جہاں ذاتی کیفیتیں اجتماعی اضطراب سے جڑ جاتی ہیں۔
معین احسن جذبی: اعتدال، عوامی درد اور شعری تہذیب
معین احسن جذبی بھی ترقی پسند غزل گو شعرا میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ ان کا مزاج نسبتاً معتدل تھا، مگر ان کی غزلوں میں مزدوروں، محنت کشوں، غریبوں اور کسانوں کی آواز بھرپور انداز میں سنائی دیتی ہے۔ ان کے یہاں میر، فانی اور اصغر گونڈوی کا اثر بھی محسوس ہوتا ہے۔
ان کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:
اے موج بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھیڑے
ہلکے سے کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
تمہارے جلووس کی رنگینیوں کا کیا کہنا
ہمارے اجڑے ہوئے دل میں ایک بہار تو ہے
جذبی کے یہاں ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کی صورت اعتدال، تہذیب اور سماجی شعور کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
دیگر اہم ترقی پسند غزل گو شعرا
علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، جاں نثار اختر اور مخدوم محی الدین جیسے شعرا نے بھی ترقی پسند دور میں اردو غزل کی روایت کو زندہ رکھا۔ انہوں نے اپنے عہد کے مسائل کو مختلف سطحوں پر موضوع بنایا اور غزل کو نئے سماجی اور فکری مفاہیم سے جوڑا۔
ان شعرا کے اثر سے برصغیر ہند و پاک کے کئی اچھے شعرا نے بھی ترقی پسند لب و لہجہ اختیار کیا، کیوں کہ اس وقت یہی ضرورت تھی کہ غریبوں اور مظلوموں پر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کی جائے۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل میں روایت اور جدت کا امتزاج
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ترقی پسند شعرا میں بعض ایسے بھی تھے جنہوں نے اپنی ترقی پسند غزل میں کلاسیکی غزل کی بعض قدروں کو برقرار رکھا اور جدید افکار سے اسے سجایا۔ اختر سعید خان، تاج بھوپالی، فیض احمد فیض اور معین احسن جذبی جیسے شعرا اس سلسلے میں نمایاں ہیں۔
یوں ترقی پسند شعرا نے مقصدیت کے باوجود غزل کی غزلیت اور کلاسیکی نزاکت کو مکمل طور پر ختم نہیں ہونے دیا۔ انہوں نے اس صنف کو نئی معنوی وسعت دی، اس کی لفظیات کو پھیلایا، اس کے موضوعات میں تنوع پیدا کیا اور اس کی روایت کو جدید سماجی شعور کے ساتھ ہم آہنگ کیا۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل: مجموعی ادبی اہمیت
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ترقی پسند تحریک اور اردو غزل کے رشتے نے اردو شاعری کو دو بڑے تحفے دیے: ایک طرف غزل کو سیاسی، سماجی اور عوامی موضوعات سے جوڑا گیا، اور دوسری طرف اسے جدید حسیت، سماجی شعور اور رجائی لہجے سے آشنا کیا گیا۔
اگرچہ ترقی پسند غزل پر مقصدیت، نعرہ بازی اور خطابت کے غلبے کی تنقید بھی کی گئی، لیکن یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اسی تحریک نے غزل کو نئے عہد کی زبان دی۔ اس نے پرانی علامتوں کو نیا شعور عطا کیا، نئے استعاروں کو جنم دیا اور غزل کے دائرۂ اثر کو وسیع تر بنایا۔
ترقی پسند تحریک اور اردو غزل ایک دوسرے کی راہ میں رکاوٹ تو بنتے ہیں، مگر بالآخر ایک دوسرے کی روح کی تکمیل کا سب سے خوبصورت ذریعہ بھی ثابت ہوتے ہیں۔ یہی اس ادبی ہم آہنگی کی لازوال اہمیت اور دل کش کشش ہے، جو زبان و ادب کی تاریخ میں ایک ابدی باب رقم کرتی ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی۔ایس اُردو
