تحقیقی مقالے کی تدوین اور پیشکش: چند بنیادی اصول اور ہدایات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
تحقیق کا عمل صرف مواد جمع کرنے کا نام نہیں، بلکہ اسے ایک بہترین ترتیب اور خوبصورت انداز میں پیش کرنا بھی اتنا ہی اہم ہے۔ ذیل میں تحقیق کے طریقہ کار، ظاہری خوبصورتی اور حوالہ جات (References) کے حوالے سے کچھ ایسی ہدایات بیان کی جا رہی ہیں جو آپ کے تحقیقی کام کو ایک شاہکار بنانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
ان ہدایات پر عمل کرنے سے نہ صرف مقالے کی ترتیب و تنظیم بہتر ہوگی بلکہ قارئین کے لیے استفادہ کرنا بھی آسان ہو گا۔
1. عنوان کا انتخاب: مختصر ہو یا جامع کسی بھی تحقیقی کاوش کی کامیابی اس کے نام سے شروع ہوتی ہے۔
- مرکزی عنوان: اپنی تحقیق کے لیے ایسا نام منتخب کریں جو مختصر ہو لیکن پورے موضوع کا عکاس ہو (یعنی "بولتا ہوا” عنوان ہو)۔
- ذیلی سرخیاں (Subheadings): مقالے کے اندرونی عناوین اور ذیلی سرخیاں بھی مختصر رکھیں۔ کوشش کریں کہ سرخیاں لمبے جملوں کی صورت میں نہ ہوں بلکہ چند جامع الفاظ پر مشتمل ہوں۔
2. ابواب اور فصول میں توازن (Balance)
مقالے کی تقسیم کرتے وقت اعتدال کا خیال رکھنا بے حد ضروری ہے۔
- افراط و تفریط سے گریز: نہ تو بہت زیادہ فصلیں قائم کریں اور نہ ہی بہت کم۔ تقسیم کا انحصار آپ کے تحریری مواد کے حجم پر ہونا چاہیے۔
- اسٹینڈ کی مثال: ابواب اور فصول کی مثال "گاڑیوں کے اسٹینڈ” جیسی ہونی چاہیے۔ یعنی نہ تو ایک دوسرے سے بہت زیادہ فاصلے پر ہوں اور نہ ہی اتنے قریب کہ فرق کرنا مشکل ہو جائے۔ ایک مناسب وقفہ تحریر کے بہاؤ کو برقرار رکھتا ہے۔
3. اقتباسات میں علمی دیانت داری
تحقیق میں دوسروں کے کام کو نقل کرتے وقت انتہائی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
- من و عن نقل: اگر آپ کسی کا قول یا عبارت ہو بہو نقل کر رہے ہیں تو اس میں ایک لفظ کی بھی تبدیلی یا ہیر پھیر مناسب نہیں ہے۔
- تغیر و تبدل کا اظہار: اگر عبارت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی گئی ہے تو دیانت داری کا تقاضا ہے کہ اس کا واضح اعلان کیا جائے۔ مثلاً قوسین (Brackets) میں لکھ دیں کہ یہ:
- تلخیص (Summary) ہے،
- آزاد ترجمہ ہے،
- مفہوم اخذ کیا گیا ہے،
- یا الفاظ میں کچھ ترمیم کی گئی ہے۔
یہ وضاحت اس لیے ضروری ہے تاکہ پڑھنے والا آپ پر تحریف یا خیانت کا الزام نہ لگا سکے۔
4. مشکل متون اور تراجم کا استعمال
اگر آپ عربی یا فارسی کے کسی قدیم اور دقیق (مشکل) متن کا ترجمہ نقل کر رہے ہیں اور اس کے لیے آپ نے خود ترجمہ کرنے کے بجائے کسی خاص مترجم کی کاوش سے فائدہ اٹھایا ہے، تو اخلاقی طور پر ضروری ہے کہ اس کا ذکر کیا جائے۔ ایسا کرنے سے دوسرے مصنفین اور مترجمین کے حقوق تلف نہیں ہوں گے۔
5. حوالہ جات کی درستگی اور طباعت
مآخذ (Sources) کا حوالہ دیتے وقت درج ذیل باریکیوں کا خیال رکھیں:
- حاشیہ اور متن: اگر کسی کتاب کا کوئی مطلب حاشیے میں درج ہے اور وہ اگلے صفحے تک جا رہا ہے، تو حوالہ دیتے وقت کتاب کا نام، مصنف، جلد اور صفحہ نمبر بالکل صاف لکھیں۔
- مختلف اشاعتیں (Editions): اگر آپ جس کتاب کا حوالہ دے رہے ہیں وہ کئی بار چھپ چکی ہے اور ہر ایڈیشن میں صفحات مختلف ہیں، تو یہ واضح کرنا لازمی ہے کہ آپ نے کون سا ایڈیشن یا سنِ اشاعت استعمال کیا ہے۔
6. حوالہ دینے کا معیاری اور مختصر طریقہ (Citation Style)
تحقیق کا حسن اس میں ہے کہ حوالہ جات دینے کے لیے لمبے چوڑے جملوں کی بجائے مختصر علامات اور کوڈز کا استعمال کیا جائے۔
روایتی اور طویل جملوں سے پرہیز کریں، جیسے:
"اس سلسلے میں آپ کتاب ‘تحقیق کا فن’، جس کے مصنف ڈاکٹر گیان چند جین ہیں، کی جلد اول کے صفحہ نمبر ۲۵ کی طرف رجوع کریں جو ایجوکیشنل پبلیشنگ ہاؤس دہلی سے شائع ہوئی ہے۔”
اس کے برعکس، بہترین اور معیاری طریقہ یہ ہے:
تحقیق کا فن، گیان چند جین، ج ۱، ص ۲۵، دہلی۔
یہ انداز جگہ بچاتا. ہے اور تحریر کو سلجھا و علمی بناتا ہے ۔
