عصمت چغتائی: تانیثیت کی پہلی آواز | PDF
عصمت چغتائی: تانیثیت کی پہلی آواز | Ismat Chughtai: The First Voice of Feminism Visit Professor of Urdu
عصمت چغتائی: تانیثیت کی پہلی آواز | Ismat Chughtai: The First Voice of Feminism Visit Professor of Urdu
ٹیڑھی لکیر | Teerhi Lakeer by Ismat Chughtai (Rekhta Edition) Visit Professor of Urdu
عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ | Ismat Chughtai ki afsana nigari ka tanqeedi jaiza عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کا تنقیدی جائزہ عصمت چغتائی اُردو کی تاریخ میں وہ پہلی خاتون ہیں جنہوں نے مردانہ سماج و معاشرے کو بڑی بے باکی اور جوانمردی کے ساتھ اپنی تنقید کا ہدف بنایا ۔
ناول ٹیڑی لکیر کا تنقیدی جائزہ | A Critical Analysis of the Novel Tehri Lakeer تحریر پروفیسر برکت علی ضدی کے بعد عصمت کا اہم ناول ” ٹیڑھی لکیر ( ۱۹۴۵ء) شائع ہوا ۔ آج بھی یہ ناول جدید اردو ناول نگاری میں ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ جس میں ایک کردار مرکزی حیثیت رکھتا
عصمت چغتائی کے ناول ضدی کا تنقیدی جائزہ (تحریر پروفیسر برکت علی) عصمت چغتائی نے ناول نگاری کا آغاز ایک ناولٹ ” ضدی (۱۹۴۰ء) سے کیا۔ یہ ایک رومانی انداز کی کہانی ہے جس میں روایتی داستان محبت کو پیش کیا گیا ہے۔ ناولٹ کا ہیرو پورن ایک امیر گھرانے سے تعلق رکھتا ہے اور
عصمت چغتائی کی ناول نگاری | Ismat Chughtai’s Novel Writing عصمت چغتائی اردو ناول نگاری کا ایک اہم نام ہے۔ انھوں نے اپنا تخلیقی سفر اس وقت شروع کیا جب ترقی پسند تحریک اپنے عروج پر تھی اور اس تحریک کے زیر اثر اردو ادب میں نمایاں اور دور رس سماجی و ثقافتی تبدیلیوں کا
عصمت چغتائی کے ناولوں میں عورت کا تصور نام :عصمت خانم چغتائی قلمی نام: عصمت چغتائی پیدائش: ۲۱ اگست ۱۹۱۵ء ( بمقام بدایوں ، انڈیا ) متوفی: ۲۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء ناول: ضدی: چوہدری اکیڈمی، لاہور (س ن ) ٹیڑھی لکیر: مکتبہ اردو، لاہور، ۱۹۷۵ء معصومه: روہتاس بکس، لاہور ، ۱۹۹۲ء سودائی:چوہدری اکیڈمی، لاہور (سن
بڑے شرم کی بات ہے افسانے عصمت چغتائی Visit Professor of Urdu مزید یہ بھی پڑھیں: ایک شوہر کی خاطر افسانے از عصمت چغتائی | pdf
ایک شوہر کی خاطر افسانے از عصمت چغتائی Visit Professor of Urdu مزید یہ بھی پڑھیں: عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری
عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری عصمت چغتائی کا تعارف عصمت چغتائی ۲۱ اگست ۱۹۱۵ء کو بدایوں (بھارت) میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد مرزا قسیم بیگ چغتائی سرکاری ملازم تھے۔ عصمت چغتائی کی ابتدائی تعلیم روایتی اور گھریلو انداز سے شروع ہوئی لیکن عصمت مزا جا باغی خاتون تھیں۔ اس لیے کسی مولوی سے