سر ریلزم کیا ہے خواب ، لاشعور اور ماوراء حقیقت کا فنی سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
ادب اور فنونِ لطیفہ کی تاریخ میں کچھ تحریکیں ایسی ہیں جنہوں نے انسانی سوچ کا دھارا بدل کر رکھ دیا۔ بیسویں صدی میں جب انسانی عقل اور منطق (Logic) پہلی جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کو روکنے میں ناکام رہی، تو فنکاروں نے "شعور” سے بغاوت کرتے ہوئے "لاشعور” (Unconscious) کی پناہ لی۔ اسی بغاوت اور نئی دریافت کا نام سر ریلزم (Surrealism) ہے۔
اردو ادب میں اسے "ماوراء حقیقت” یا "برتر حقیقت” کہا جاتا ہے، لیکن ادبی حلقوں میں یہ اپنے انگریزی نام "سر ریلزم” ہی سے زیادہ معروف ہے۔ یہ محض ایک لکھنے کا ڈھنگ نہیں، بلکہ انسانی نفسیات کی گہرائیوں میں اتر کر سچائی تلاش کرنے کا ایک فلسفہ ہے۔
تاریخی پس منظر: 1920ء کا انقلاب
سر ریلزم کا باقاعدہ آغاز 1920ء کی دہائی میں فرانس سے ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب دادا ازم (Dadaism) جیسی تحریکیں دم توڑ رہی تھیں اور ایک نئے مثبت لیکن حیران کن فلسفے کی ضرورت تھی۔ آندرے بریٹن (André Breton) اور اس کے ساتھیوں نے اس تحریک کی بنیاد رکھی۔ فرانس سے شروع ہونے والی یہ لہر جلد ہی پوری دنیا میں پھیل گئی اور بعد میں اسے امریکہ میں بھی کافی پذیرائی اور ترقی ملی۔
اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ انسان کے اندر چھپی ہوئی اس دنیا کو باہر لایا جائے جسے سماجی پابندیوں اور عقل نے دبا رکھا ہے۔
سر ریلزم کیا ہے؟ (لاشعور کی حکمرانی)
سر ریلزم کی پوری عمارت لاشعور (The Unconscious) کی بنیاد پر کھڑی ہے۔ عام زندگی میں ہم جو کچھ کرتے ہیں، وہ ہمارے شعور (Conscious mind) کے تابع ہوتا ہے۔ ہم سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں، منطق کا خیال رکھتے ہیں۔ لیکن سر ریلسٹ فنکار کا ماننا ہے کہ اصل حقیقت شعور میں نہیں، بلکہ لاشعور میں ہے۔
جب ایک فنکار اپنے لاشعور کی بنیاد پر ادب تخلیق کرتا ہے، تو وہ ان تمام خیالات کو کاغذ پر منتقل کرتا ہے جو اس کے دماغ کے اندھیرے کونوں میں چھپے ہوتے ہیں۔ چونکہ لاشعور میں منطق نہیں ہوتی، اس لیے وہاں خیالات اور تصویریں آپس میں گڈمڈ ہوتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سر ریلزم میں:
- کئی عجیب و غریب علامتیں (Symbols) آجاتی ہیں۔
- ان علامتوں میں ایک الجھاؤ یا پیچیدہ پن ہوتا ہے۔
- بظاہر بے جوڑ چیزیں آپس میں جڑ جاتی ہیں۔
مختصر الفاظ میں کہا جائے تو "الجھے ہوئے اسلوب کا نام سر ریلزم ہے”۔ یہ الجھاؤ بے مقصد نہیں ہوتا بلکہ یہ انسانی نفسیات کی وہ پیچیدگی ہے جسے عام زبان میں بیان کرنا ناممکن ہے۔
خواب اور حقیقت کا سنگم: مرزا حامد بیگ کا نظریہ
سر ریلزم صرف خواب دیکھنے کا نام نہیں، بلکہ خواب کو حقیقت کے برابر، بلکہ اس سے برتر درجہ دینے کا نام ہے۔ معروف نقاد مرزا حامد بیگ نے اس نازک عمل کی بہت خوبصورت وضاحت کی ہے۔
وہ لکھتے ہیں:
"سر ریلزم کو خواب اور حقیقت کا سنگم کہہ لیجئے، جس کا جنم تحت الشعور سے ہے، یعنی شعور اور لاشعور کا مقامِ اتصال۔ اس سرحد (تحت الشعور) پر تخلیق کار لاشعور کی گہرائیوں سے تخلیق کا مواد اخذ کرتا ہے۔"
تخلیقی عمل کی نزاکت
مرزا حامد بیگ مزید بتاتے ہیں کہ یہ ایک نہایت نازک مرحلہ ہے۔ اس میں فنکار کو ایک بہت باریک لکیر پر چلنا پڑتا ہے۔
- اسے کوشش کرنی ہوتی ہے کہ خارجی دنیا سے تشکیلِ شعور کا عکس نہ پڑنے پائے۔ (یعنی وہ باہر کی منطق سے متاثر نہ ہو)۔
- سر ریلسٹ فن کار ایک تو سامنے کی دنیا کی تصویر بناتا ہے اور ساتھ ہی دوسری دنیا کی تصویر بھی جو ظاہر حقیقت سے بالا تر ہے۔
(حوالہ: افسانے کا منظر نامہ، ص 175)
اس کا مطلب یہ ہے کہ سر ریلسٹ فنکار بیک وقت دو کشتیوں کا سوار ہوتا ہے۔ وہ ہمیں وہ دنیا بھی دکھاتا ہے جو ہم آنکھ سے دیکھتے ہیں، اور ساتھ ہی وہ دنیا بھی دکھاتا ہے جو ہم صرف خواب میں یا وجدان میں محسوس کرتے ہیں۔ وہ خارجی حقیقت کے ساتھ ساتھ اس باطنی حقیقت کا بیان کرتا ہے جو لاشعور میں چھپی رہتی ہے۔
آزاد تلازمہ خیالات: انور سدید کا تجزیہ
سر ریلزم میں خیالات کو روک ٹوک کے بغیر بہنے دیا جاتا ہے۔ اسے نفسیات کی زبان میں "آزاد تلازمہ خیالات” (Free Association of Ideas) کہتے ہیں۔ ڈاکٹر انور سدید نے اس نفسیاتی عمل کو ادب کے تناظر میں بہت عمدگی سے بیان کیا ہے۔
ان کے مطابق:
"سر ریلزم کی تحریک آزاد تلازمہ خیالات کی رو کو ایک ایسی برتر صورت میں پیش کرنے کا دعویٰ کرتی ہے جس میں ذہنی تمثال (Mental Images) حقیقت کے مماثل نہیں بلکہ خود ہی عین حقیقت ہے۔"
(حوالہ: اردو ادب کی تحریکیں، ص 108)
یہاں ایک بہت بڑا دعویٰ کیا گیا ہے۔ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ہمارے ذہن میں بننے والی تصویریں حقیقت کی "نقل” ہوتی ہیں، لیکن سر ریلزم کا دعویٰ ہے کہ یہ ذہنی تصویریں ہی "عین حقیقت” ہیں۔ یہ وہ سچائی ہے جو سماجی منافقت سے پاک ہے۔
تخلیق کا طریقہ کار: شعوری پابندی سے آزادی
سر ریلزم کی تکنیک "نفسیاتی خود کار عمل” (Psychic Automatism) پر مبنی ہے۔ اس کا طریقہ کار روایتی ادب سے بالکل مختلف ہے:
- بغیر منصوبہ بندی: فنکار تخلیق سے پہلے نہ کچھ سوچتا ہے اور نہ سمجھتا ہے۔
- منصوبے کا فقدان: وہ کسی بھی طرح کا کوئی خاکہ یا پلاٹ (Plot) نہیں بناتا۔
- شعوری پابندی کا خاتمہ: کسی بھی خیال پر اخلاقی، مذہبی یا منطقی پابندی نہیں لگائی جاتی۔
قلم اٹھایا جاتا ہے اور جو کچھ ذہن میں آتا ہے (چاہے وہ کتنا ہی بے ربط، شرمناک یا عجیب کیوں نہ ہو) اسے اسی طرح لکھ دیا جاتا ہے۔ مقصد یہ ہوتا ہے کہ ذہن کی اصل لہروں کو گرفت میں لیا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ آزادانہ طور پر نفسیاتی عمل کا اظہار ہی سر ریلزم ہے۔
اردو ادب میں سر ریلزم کے اثرات
اگرچہ سر ریلزم ایک مغربی تحریک تھی، لیکن اردو کے جدید تخلیق کاروں نے اس کے اثرات کو بہت گہرائی سے قبول کیا، کیونکہ اردو کا جدید ادیب نفسیاتی گھٹن اور داخلیت کا شکار تھا۔
(الف) شاعری اور سر ریلزم
اردو شاعری میں اس رجحان کو اپنانے والوں میں سب سے بڑا نام میرا جی (Meeraji) کا ہے۔ میرا جی کی نظمیں جنسی گھٹن، نفسیاتی گرہوں اور مبہم علامتوں سے بھری ہوئی ہیں۔ ان کا ابہام دراصل سر ریلزم ہی کی دین ہے۔ انہوں نے شعوری کوشش کے بجائے لاشعوری کیفیات کو نظم کیا۔
ان کے علاوہ احمد ہمیش نے بھی اس رجحان کو اپنی شاعری میں نمایاں جگہ دی ہے اور ایسے امیجز تخلیق کیے جو خوابوں کی طرح حیران کن ہیں۔
(ب) نثر اور سر ریلزم
نثر، خاص طور پر فکشن میں سر ریلزم کی تکنیک "شعور کی رو” (Stream of Consciousness) کی شکل میں سامنے آئی۔ اردو نثر میں اس رجحان کو فنی بلندیوں پر پہنچانے والوں میں قرۃ العین حیدر کا نام سرِفہرست ہے۔
ان کے ناولوں (جیسے آگ کا دریا) میں وقت کا سفر اور خیالات کا بہاؤ منطقی ترتیب کے بجائے لاشعوری تلازموں کے تحت چلتا ہے۔ اس کے علاوہ انور سجاد اور بلراج مین را جیسے افسانہ نگاروں کے ہاں بھی تجرید اور سر ریلزم کا گہرا اثر ملتا ہے۔
سر ریلزم محض "عجیب و غریب” باتیں لکھنے کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کی مکمل سچائی کو دریافت کرنے کا نام ہے۔ وہ سچائی جو ہمارے خوابوں، ہمارے وہموں اور ہمارے لاشعور میں قید ہے۔ مرزا حامد بیگ اور انور سدید کی آراء کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سر ریلزم "حقیقت سے فرار نہیں، بلکہ ایک برتر حقیقت (Super-Reality) کی تلاش” ہے۔
اردو ادب میں اس تحریک نے تخلیق کاروں کو یہ حوصلہ دیا کہ وہ بنے بنائے راستوں سے ہٹ کر اپنے اندر کی دنیا کو، چاہے وہ کتنی ہی الجھی ہوئی کیوں نہ ہو، فن کا حصہ بنائیں۔
پروف ریڈنگ: فہد عظیم علی طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
