سانٹ سے کیا مراد ہے؟ اردو شاعری میں سانٹ تعریف، تاریخ اور فنی خصوصیات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
لفظ ’سانٹ‘ کی بنیاد اطالوی زبان کے لفظ ’سانیٹو‘ (Sonetto) سے جڑی ہے۔ لغوی اعتبار سے اس کے معنی "ایک مختصر راگ” یا "چھوٹی سی آواز” کے ہیں۔ ادبی اصطلاح میں، سانٹ ایک ایسی مخصوص چودہ مصرعوں پر مشتمل نظم کو کہا جاتا ہے، جسے کسی خاص احساس، جذبے یا انفرادی خیال کو بیان کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
غنائی شاعری (Lyrical Poetry) کی اس منفرد صنف کی اپنی ایک الگ قافیہ بندی (Rhyme Scheme) اور مخصوص ہیئت ہوتی ہے۔ سانٹ کی سب سے بڑی خوبی اس کا ‘وحدتِ خیال’ اور ‘شدتِ احساس’ ہے۔ چونکہ یہ بھی ایک نظم کی شکل ہے، اس لیے اس کے تمام مصرعوں میں ایک تسلسل، روانی اور بہاؤ پایا جاتا ہے جو قاری کی توجہ فوراً اپنی جانب کھینچ لیتا ہے۔
اوکسفورڈ ڈکشنری میں سانٹ کا مفہوم
اگر ہم انگریزی لغت کے حوالے سے سانٹ کی تعریف دیکھیں تو اوکسفورڈ ڈکشنری اس کی تشریح کچھ اس طرح کرتی ہے:
"A poem with 14 lines, each of 10 syllables, and a fixed pattern of rhyme. "(1)
(AS Hornby, Oxford Advanced Learner’s Dictionary, Fifth Edition, Oxford: 1 University Press, 1995-1998, p1133.)
پروفیسر سید احتشام حسین کی نظر میں سانٹ کی ہیئت
اردو ادب کے معروف نقاد پروفیسر سید احتشام حسین نے اس صنف کی ہئیت اور ساخت پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ جامع تعریف پیش کی ہے:
"سانت چودہ مصرعوں کی ایک ایسی نظم هے جس ميں ايك بنيادى جذبه یا خیال دو ٹکروں میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس کا هئیتی تصور مختلف اوقات میں تبدیل بهی هوتا رها هے ، لیکن کسی نہ کسی شکل میں اس کی یه بنیادی خصوصیت بر قرار رهی هے که اس میں محض داخلي جذبه ايك مكمل خيال بنا کر پیش کیا جائے اور چودہ مصرعوں کو ایسے دو بندوں میں تقسیم کیا جائے کہ اس کے پھلے آٹھ مصرعوں میں خیال کا پھیلائو ہو اور بعد کے چھ مصرعوں میں اس کی تكميل ہو۔ سانیٹ کا رواج پندرھویں صدی سے فرانس او را نگلستان سے ھوا۔” (2)
(ڈاکٹر فرمان فتحپوری، اردو شاعری کا فنی ارتقا، ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی ، 2012، ص : 508)
پروفیسر احتشام حسین کی بیان کردہ ساخت سے متعلق بات کافی حد تک مبنی بر حقیقت ہے۔ جب سانٹ کا تفصیلی اور گہرا مطالعہ کیا جائے تو ان کی رائے سے اتفاق کرنا پڑتا ہے۔
اردو میں سانٹ کی ایک خوبصورت مثال
اردو کے مشہور۔ شاعر ” مجید امجد ” کی نظم "بندا” سانٹ کی ایک بہترین مثال ہے جو مذکورہ بالا ساخت کی تائید کرتی ہے:
کاش میں تیرے بن گوش میں بندا ہوتا
رات کو بے خبری میں جو مچل جاتا میں
تو ترے کان سے چپ چاپ نکل جاتا میں
صبح کو گرتے تری زلفوں سے جب باسی پھول
میرے کھو جانے یہ ہوتا ترا دل کتنا ملول
تو مجھے ڈھونڈتی کا شوق سے گھبراہٹ میں
اپنے مہکے ہوئے بستر کی ہر اک سلوٹ میں
جونہی کرتی تری نرم انگلیاں محسوس مجھے
ملتا اس گوش کا پھر گوشہ مانوس مجھے
کان سے تو مجھے ہر گز نہ اتارا کرتی
تو کبھی میری جدائی نہ گوارہ کرتی
یوں تری قربت رنگیں کے نشے میں مدہوش
عمر بھر رہتا میری جاں میں ترا حلقہ بگوش
کاش میں ترے بن گوش میں بندا ہوتا #
سانٹ کی ابتدا اور تاریخ: ایک تحقیقی جائزہ
جہاں تک احتشام حسین صاحب کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ سانٹ کی ابتدا فرانس اور انگلستان سے ہوئی، جدید ادبی تحقیق اس نظریے سے اختلاف کرتی ہے۔ تاریخی شواہد سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ سانٹ کی جائے پیدائش دراصل اٹلی ہے۔
- سسلیئن اسکول (Sicilian School): سب سے پہلے اس صنف کو متعارف کرانے کا سہرا سسلیئن اسکول کے سر جاتا ہے، جس کے صدر مشہور شاعر Giacomo da Lentini تھے۔
- تاریخی دور: یہ وہ دور تھا جب اٹلی میں فریڈرک دوم (Frederick 2nd) کی حکمرانی تھی، گو کہ اس وقت سانٹ نے کوئی بڑی ادبی حیثیت اختیار نہیں کی تھی۔
- صدی کا تعین: تاریخ بتاتی ہے کہ اس بادشاہ کی پیدائش 26 دسمبر 1194ء کو ہوئی اور وفات 1250ء میں ہوئی۔ اس لحاظ سے یہ تیرہویں (13th) صدی کا دور بنتا ہے۔ لہٰذا یہ کہنا کہ سانٹ پندرہویں صدی میں رائج ہوا، اس پر مزید تحقیق اور نظرِ ثانی کی ضرورت ہے۔
اردو سانٹ کی فنی تقسیم (Structure of Urdu Sonnet)
اردو زبان میں لکھے جانے والے سانٹ کو عمومی طور پر دو بنیادی حصوں یا بندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے:
- مثمن (Octave): یہ نظم کا پہلا حصہ ہوتا ہے جو آٹھ (8) مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ مزید تکنیکی لحاظ سے یہ چار چار مصرعوں کے دو بندوں میں بٹا ہوتا ہے۔ شاعر اپنا بنیادی خیال یا جذبہ اسی حصے میں پیش کرتا ہے۔
- مسدس (Sestet): یہ نظم کا دوسرا حصہ ہے جو چھ (6) مصرعوں پر مبنی ہوتا ہے۔ عموماً یہ تین تین مصرعوں کے دو بندوں (مثلث) میں تقسیم ہوتا ہے۔
گریز (Volta / Turn) کی اہمیت
مثمن (پہلے 8 مصرعے) مکمل ہونے کے بعد شاعر اپنے خیال کو ایک نیا زاویہ یا موڑ دیتا ہے، جسے ادبی اصطلاح میں "گریز” کہا جاتا ہے۔
گو کہ پہلے حصے میں خیال کی وضاحت ہو چکی ہوتی ہے، لیکن دوسرے حصے (مسدس) میں اس جذبے کو انتہا، شدت اور بھرپور صداقت کے ساتھ اپنے انجام تک پہنچایا جاتا ہے۔ سانٹ میں گریز کا مقام سب سے پیچیدہ اور کٹھن ہوتا ہے۔ یہیں ایک شاعر کے اصل فنی کمال کا امتحان ہوتا ہے کیونکہ اسے خیال کو اس طرح موڑنا ہوتا ہے کہ نظم کا بنیادی تاثر اور قاری کی دلچسپی ذرا بھی مجروح نہ ہو۔
سانٹ: شاعر کی داخلی زندگی کا عکاس
سانٹ کی ایک اور نمایاں ترین خوبی اس کا ذاتی نوعیت کا ہونا ہے۔ یہ صنف بڑی حد تک شاعر کی اپنی داخلی کیفیت اور باطنی زندگی کا آئینہ ہوتی ہے۔ اس بات کی تائید میں ایک ممتاز مغربی نقاد کا یہ اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
"It is generally agreed that the Sonnets provide us with the most personal information about the poet himself. It will be remembered that Caroline Spurgeon and tha Freudians believed that the auther’s personality,temperament and quality of mind was to be found in the poems, which are held to read like ‘entries in a diary’ where written form himself alone, with no thought of a public.” (3)
(A. W.L.Saunders, The Master of Shakespeare, Volume-1, The Sonnet, MoS: 3 Publishing Ltd, BVL, 2007, P-120)
مختصراً یہ کہ سانٹ (Sonnet) اطالوی شاعری کی کوکھ سے جنم لینے والی ایک انتہائی معتبر صنف ہے، جس کی پہچان اس کے چودہ مصرعے اور دس سلے بلز (Syllables) ہیں۔ اٹلی سے شروع ہونے والا یہ سفر انگریزی ادب سے ہوتا ہوا اردو تک پہنچا ہے۔ آج یہ کہنا قطعی غلط نہ ہوگا کہ سانٹ نے اردو زبان کی شاعری میں اپنا ایک مضبوط اور مستحکم مقام بنا لیا ہے اور اب یہ اردو ادب کا ایک انمول سرمایہ ہے جس کی اہمیت سے کسی صورت انکار ممکن نہیں۔
نظر ثانی و تصحیح کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
