مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

شعر سے کیا مراد ہے؟

شعر سے کیا مراد ہے؟ تاریخ، تعریف اور تنقید کے 7 اہم پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

انسانی جذبات، احساسات اور تخیلات کو جب لفظوں کا ایک خوبصورت اور مرتب لباس پہنایا جاتا ہے، تو وہ فنِ شاعری کا روپ دھار لیتا ہے۔ لیکن ادبی دنیا میں اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ تکنیکی اور جذباتی سطح پر شعر سے کیا مراد ہے؟

یہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ صدیوں پر محیط ایک ایسی صنفِ سخن ہے جس نے انسانی تاریخ، نفسیات اور تہذیب کو گہرے اثرات سے نوازا ہے۔ اس تفصیلی مضمون میں ہم اردو، عربی اور فارسی لغات، نامور مشرقی و مغربی مفکرین کے نظریات، اور علم عروض و منطق کی روشنی میں اس موضوع کا عمیق (گہرا )جائزہ لیں گے۔

1. شعر سے کیا مراد ہے؟ لغوی اور تاریخی پس منظر

لفظ ”شعر“ (ش۔ع۔ر) دراصل عربی زبان کے ثلاثی مجرد باب سے مشتق ایک اسم ہے۔ اردو ادب میں بھی اسے بطور اسم ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ تاریخی شواہد کے مطابق، اردو زبان میں اس لفظ کا اولین تحریری استعمال 1564ء میں ”دیوانِ حسن شوقی“ کے اندر دیکھنے کو ملتا ہے۔

آسان الفاظ میں، دو ہم وزن اور متوازن مصرعوں پر مشتمل ایسا بامعنی کلام جسے جان بوجھ کر (ارادتاً) موزوں کیا گیا ہو، جس کا ایک مخصوص قافیہ ہو اور جو کسی مستند بحر کے پیمانے پر پورا اترتا ہو، شعر کہلاتا ہے۔

2. مستند لغات اور ماہرین کی نظر میں شعر کی تعریف

اردو کے نامور لغت نویسوں اور محققین نے شعر سے کیا مراد ہے کے سوال کو مختلف زاویوں سے واضح کیا ہے۔ ذیل میں چند اہم ترین حوالوں کا ذکر کیا جا رہا ہے:

فرہنگِ آصفیہ (مولوی سید احمد دہلوی):
سال 1987ء میں اردو سائنس بورڈ لاہور سے دوسری بار شائع ہونے والی ”فرہنگ آصفیہ“ (جلد سوم و چہارم، صفحہ 180) کے مطابق، شعر ایک عربی اسم مذکر ہے۔ اس کے لغوی معنی ’جاننا‘، ’دریافت کرنا‘ یا ’کسی باریک اور پوشیدہ شے سے واقفیت حاصل کرنا‘ ہیں۔ اصطلاحی مفہوم میں یہ ایک ایسا مقفیٰ اور موزوں سخن ہے جو بالقصد ادا کیا گیا ہو۔ البتہ کچھ ماہرین کے نزدیک مقفیٰ (قافیہ دار) ہونے کی شرط لازمی نہیں ہے۔
اسی لغت میں یہ تاریخی حوالہ بھی موجود ہے کہ عربی زبان میں سب سے پہلا شعر ”یعرب ابن قحطان“ نے کہا، جبکہ فارسی شاعری کی ابتدا ”بہرام گور“ کے ذریعے ہوئی۔ شعر کے متبادل الفاظ میں نظم، گیت، چھند، پد، اشلوک، دوہا، بیت اور دو مصرع شامل ہیں۔ مولوی سید احمد دہلوی اس حوالے سے ایک خوبصورت مثال پیش کرتے ہیں:

سراپا کھنچ گیا نقشہ قلم سے روئے جاناں کا
مشابہ ہو گیا تصویر سے ہر شعر دیواں کا

نور اللغات (مولوی نور الحسن نیّر):
سنگِ میل پبلی کیشنز لاہور سے 1989ء میں شائع ہونے والی اس لغت (صفحہ 442) میں بیان کیا گیا ہے کہ شعر کے لغوی معانی کسی باریک بات سے آگاہی لینا ہے۔ جبکہ اصطلاح میں یہ وہ باقافیہ اور موزوں کلام ہے جو ارادے کے ساتھ کہا جائے۔ یہاں بھی بعض ناقدین قافیے کی پابندی کو حتمی قرار نہیں دیتے۔

فنِ شعر و شاعری اور بلاغت (پروفیسر حمید اللہ شاہ ہاشمی):
اعجاز پبلشنگ ہاؤس نئی دہلی سے 2006ء میں چھپنے والی کتاب (صفحہ 11) میں پروفیسر ہاشمی رقم طراز ہیں کہ لفظ شعر دراصل ”شعور“ سے نکلا ہے۔ اصطلاح میں یہ ایسا بامعنی، تخیلی اور مقفیٰ کلام ہے جو دانستہ کہا جائے اور جس کے ذریعے متکلم کی دلی کیفیات (جیسے حیرت یا خوشی) کا اس طرح اظہار ہو کہ سننے والے کے نفس پر ایک گہرا اور محسوس اثر مرتب ہو۔

3. علامہ شبلی نعمانی کا نظریہ اور ”شعر العجم“

شعر کی حقیقت اور ماہیت کے حوالے سے شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ سے 2004ء میں شائع ہونے والی تصنیف ”شعر العجم“ (جلد اول، صفحہ 8، 9) میں مولانا شبلی نعمانی نے نہایت سیر حاصل بحث کی ہے۔ ان کے مطابق، روایتی ادبی کتابوں میں شعر کی جو تعریف (کہ کلام موزوں ہو اور متکلم نے ارادہ کیا ہو) کی جاتی ہے، وہ انتہائی عامیانہ ہے۔

شبلی نعمانی کے مطابق، عرب شعراء کے ہاں شاعری محض وزن یا قافیے کا نام نہیں، بلکہ یہ شاندار استعارات اور تشبیہات کے استعمال کا نام ہے۔ اسی طرح فارسی شعراء کے نزدیک شاعری دراصل قوتِ تخیل کو کہتے ہیں۔ شبلی، مشہور فارسی عروضی نظامی سمرقندی کی کتاب ”چہار مقالہ“ کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ شاعری وہ فن ہے جس میں موہوم مقدمات کو اس طرح ترتیب دیا جائے کہ بری چیز خوشنما اور اچھی چیز بدنما لگنے لگے، تاکہ انسان کے اندر غصے یا محبت کی قوتیں مشتعل ہو جائیں۔

مغربی مفکر جان اسٹوارٹ مل کی تعریف پر تنقید کرتے ہوئے شبلی نعمانی فرماتے ہیں کہ مل نے شاعری کا دائرہ حد سے زیادہ تنگ کر دیا ہے، جبکہ ہمارے مقامی علمائے ادب نے اسے ضرورت سے زیادہ پھیلا دیا ہے۔ حقیقت ان دونوں کے درمیان ہے۔

4. شعر سے کیا مراد ہے؟ نفسیات اور جذبات کا گہرا تعلق

کائنات میں نظر آنے والی تمام تر رعنائیاں اور خوبصورتیاں براہِ راست ہمارے انسانی جذبات سے جڑی ہیں۔ محبت، نفرت، خوشی، غمی اور ہمدردی جیسے جذبات ہی دنیا کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ اگر یہ جذبات ختم ہو جائیں، تو دنیا محض ایک بے حس سناٹا بن کر رہ جائے۔ ماں کی محبت یا بھائی کی ہمدردی کے بغیر معاشرے کا تصور محال ہے۔

مولانا صفی لکھنوی کے الفاظ میں، شاعری دراصل انہی دلی جذبات کے باقاعدہ اظہار کا نام ہے۔ اگر انسان کا دل ہی بے کار ہو جائے، تو اس کی شاعری بھی بے معنی ہو جاتی ہے۔

چارلس ڈارون اور ولیم جیمس کا نفسیاتی نظریہ:
مشہور سائنسدان چارلس ڈارون (Charles Darwin) کو اپنی زندگی کے ابتدائی دور میں شعر و سخن سے بے پناہ لگاؤ تھا۔ تاہم، سائنسی اور دنیاوی مصروفیات نے اسے ایسا جکڑا کہ اس کا دھیان شاعری سے مکمل ہٹ گیا۔ ڈارون کا اپنا اعتراف ہے کہ عمر کے آخری حصے میں اس کے اندر کے جذبات بالکل مردہ ہو چکے تھے۔
اسی پہلو پر بات کرتے ہوئے معروف امریکی ماہر نفسیات ولیم جیمس (William James) سختی سے تلقین کرتے ہیں کہ ہر انسان کو اپنے روزمرہ معمولات میں سے کم از کم دس منٹ شعر و شاعری کے لیے لازمی نکالنے چاہئیں تاکہ اس کے اندر کے احساسات زندہ رہیں۔

فطرت نے ہمیں شاعری سے لطف اندوز ہونے والی دل کی صلاحیت بخشی ہے۔ جو لوگ اس کی ناقدری کرتے ہیں، ان پر روحانی مسرتوں کے چشمے خشک ہو جاتے ہیں۔ شاعری سوئے ہوئے احساسات کو جگاتی ہے، گرے ہوئے حوصلوں کو اڑان دیتی ہے اور مصیبت میں ڈھارس بندھاتی ہے۔ البتہ، محض حسرت و یاس کے دفتر کھولنے کے بجائے، ہمیں ایسی شاعری کی بھی اشد ضرورت ہے جو قوم میں جانبازی، ہمدردی، حب الوطنی اور مسکراہٹیں بکھیرنے کا سبب بنے۔

5. علمِ عروض اور منطق کے پیمانے پر شعر کی کسوٹی

جب ہم تکنیکی اعتبار سے پوچھتے ہیں کہ شعر سے کیا مراد ہے، تو اس کے دو بڑے پہلو سامنے آتے ہیں: علمِ عروض اور علمِ منطق۔

  • علم عروض کے مطابق: کلامِ موزوں کو شعر کہا جاتا ہے، جس میں بحر، ردیف اور قافیے کی پابندی لازمی ہے اور یہ دو مصرعوں پر استوار ہو۔
  • علم منطق کے مطابق: شعر اس کلام کا نام ہے جو انسانی نفس کے اندر انبساط (خوشی/پھیلاؤ) یا انقباض (غمی/سکڑاؤ) کی کیفیت پیدا کرے۔ یعنی اس میں اثر آفرینی شرط ہے۔

کامل شعر کی پہچان:
اگر کوئی کلام وزن میں تو ہو لیکن اس میں تاثیر صفر ہو، تو عروض اسے شعر مانے گا مگر منطق اسے مسترد کر دے گی۔ اس کے برعکس، اگر کلام میں بے پناہ اثر ہو لیکن وہ عروضی وزن سے خارج ہو، تو منطق اسے تسلیم کرے گی مگر عروض اسے شعر نہیں مانے گا۔ لہٰذا ایک ”کامل شعر“ وہی ہے جو بیک وقت موزونیت اور تاثیریت (بامقصد موضوع) کا حسین سنگم ہو۔

موزونیت کیا ہے؟
الفاظ کو ایسے ٹکڑوں میں تقسیم کرنا جسے ادا کرتے ہوئے آواز میں ایک دلکش ترنم اور تسلسل پیدا ہو، موزونیت کہلاتا ہے۔ عروض کی زبان میں یہ حروف کی حرکات و سکنات کی ایک ایسی ترتیب اور مقدار کا نام ہے جس کے ادراک سے انسانی نفس لذت محسوس کرے۔
ایسے الفاظ کا مجموعہ جو موزوں ہو، ’مصرع‘ کہلاتا ہے، اور جب ان مصرعوں میں فکری و معنوی ربط پیدا کر دیا جائے تو وہ ’نظم‘ بن جاتی ہے۔

انسانی جذبات فطری طور پر موسیقیت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ کسی ماں کا اپنے بچھڑے ہوئے بچے کے لیے بین کرنا، یا کسی شعلہ بیان مقرر کی تقریر—یہ سب جذبات کی روانی ہیں۔ سیدھی سادی نثر کے مقابلے میں جب الفاظ کو ایک خاص وزن (نظم) میں ڈھالا جاتا ہے، تو ان کی دلنشینی اور یادداشت میں محفوظ رہنے کی صلاحیت کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔ کامل کلام کے لیے الفاظ کی عمدہ بندش (علم بدیع) اور خیال کی گہرائی دونوں ناگزیر ہیں۔

6. مغربی مفکرین کی نگاہ میں شعر سے کیا مراد ہے؟

مغربی تنقید نگاروں اور ادیبوں نے اپنے اپنے قیاس اور فکری وابستگی کے مطابق شاعری کی مختلف تعریفیں وضع کی ہیں۔ 6 اہم ترین مغربی نظریات درج ذیل ہیں:

  1. ڈاکٹر جانسن: یہ ایک ایسا فن ہے جو انسان کے تخیل اور تعقل کی معاونت سے مسرت (انبساط) کو صداقت کے ساتھ یکجا کر دیتا ہے۔
  2. کالرج (Coleridge): شاعری علمِ سائنس کی عین ضد ہے۔ یہ انشا کی وہ قسم ہے جس کا حتمی مقصد سچائی کی تلاش نہیں، بلکہ محض انبساط فراہم کرنا ہے۔
  3. میکالے (Macaulay): جس طرح ایک مصور رنگوں سے کھیلتا ہے، بالکل اسی طرح شاعر الفاظ کے ذریعے تخیل کو دھوکہ دینے کی صنعت کا نام شاعری رکھتا ہے۔
  4. شیلے (Shelley): شاعری بنیادی طور پر انسانی تخیل کی اپنی زبان ہے۔
  5. میتھیو آرنلڈ: شاعرانہ حسن اور شاعرانہ صداقت کے مقرر کردہ اصولوں کے زیرِ سایہ، شاعری دراصل ”تنقیدِ حیات“ (Life Criticism) کا نام ہے۔
  6. تھامس کارلائل: ان کے نزدیک شعر محض ایک ”مترنم خیال“ ہے۔

7. مشرقی اور عربی ناقدین کے حیرت انگیز نظریات

مشرق میں شعری تنقید کے ارتقائی مراحل اگرچہ مغرب سے مختلف رہے، لیکن عربی اور فارسی عالموں نے شعر سے کیا مراد ہے کی بحث میں نہایت گراں قدر اضافے کیے ہیں۔ زیادہ تر عربی علماء متفق ہیں کہ شعر ارادے کے بغیر کہا جانے والا متقفیٰ اور موزوں کلام ہے۔

عربی ناقدین کی آراء:

  1. ابنِ سینا: ان کے مطابق شعر علمِ منطق کی وہ شاخ ہے جہاں سچائی (تصدیق) کی جگہ تخیل لے لیتا ہے، اور یہ انسانی نفس پر پھیلاؤ یا سکڑاؤ کی کیفیت طاری کرتا ہے۔
  2. قاضی عبدالعزیز جرجانی: وہ شاعری کو ایک ایسا فن مانتے ہیں جو جذبات (طبیعت)، نقالی (روایت) اور تخیل (ذکاوت) کے امتزاج سے جنم لیتا ہے۔
  3. محمد بن سلام الجمحٰی: انہیں عربی ادب کا پہلا باقاعدہ نقاد مانا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنی کتاب ”طبقات الشعراء“ میں شاعری کو باقاعدہ ایک ’صنعت گری‘ قرار دیا ہے۔
  4. ابنِ قتیبہ: اپنی مشہور تصنیف ”الشعر والشعراء“ میں وہ کلام کو اچھے اور برے کی بنیاد پر 4 حصوں میں بانٹتے ہیں۔ بہترین شعر وہ ہے جس کے الفاظ اور معانی دونوں اعلیٰ ہوں۔ دوسرے درجے میں وہ جہاں صرف الفاظ اچھے ہوں یا صرف معانی۔ اور سب سے نچلا درجہ وہ ہے جہاں الفاظ اور معانی دونوں ناقص ہوں۔
  5. قدامہ ابن جعفر: اپنی کتاب ”نقد الشعر“ میں وہ ایک حیران کن دعویٰ کرتے ہیں کہ سب سے بہترین شعر وہ ہے جو سب سے بڑا جھوٹ ہو۔ وہ جھوٹ کو شاعری کی جان سمجھتے ہیں۔
  6. عبدالقاہر جرجانی: ان کا بھی یہی ماننا ہے کہ حسین ترین شاعری جھوٹ کی بنیاد پر کھڑی ہوتی ہے، جبکہ اخلاقیات سے بھری سچی شاعری کو وہ ایک ایسی حسینہ قرار دیتے ہیں جو بانجھ ہو۔

فارسی ناقدین کی آراء:

  • نظامی عروضی سمرقندی: انہوں نے سب سے زیادہ علمی تعریف پیش کی ہے۔ ان کے نزدیک شاعری موہومات کی ایسی ترتیب ہے جو بڑی شے کو چھوٹا، چھوٹی کو بڑا، بری کو خوشنما اور اچھی کو بدنما دکھاتی ہے، تاکہ انسانی جذبات کو برانگیختہ کیا جا سکے۔
  • رشید الدین وطواط: وہ شعر کے اندر لفظی اور معنوی صنعتوں کے استعمال پر حد سے زیادہ زور دیتے ہیں۔
  • شمس الدین محمد بن قیس: ان کا استدلال ہے کہ شعر کی زبان اتنی سہل اور رواں ہونی چاہیے کہ سنتے یا پڑھتے ہی فوراً مفہوم ذہن نشین ہو جائے۔

مندرجہ بالا تمام تعریفیں واضح کرتی ہیں کہ شعر کی حد بندی ممکن نہیں۔ کسی مفکر نے سچ ہی کہا تھا کہ ”اگر مجھ سے نہ پوچھو تو میں شاعری کے بارے میں سب کچھ جانتا ہوں، مگر پوچھ لو تو کچھ بھی نہیں جانتا۔“ ہر شخص کے دل پر شعر کے اثرات مختلف ہوتے ہیں۔

8. شعری اصطلاحات، اجزاء اور اقسام

شاعری کو سمجھنے کے لیے اس کی صنفی تقسیم اور بنیادی اجزاء کا علم ہونا نہایت ضروری ہے۔

صنفی لحاظ سے شعر کی اقسام:

  • غزل: یہ عربی کا لفظ ہے جس کا محور ہجر و وصال، حسن و عشق اور گہرے فلسفیانہ مضامین پر مبنی اشعار ہوتے ہیں۔
  • نظم: اس میں شروع سے آخر تک کسی ایک مخصوص موضوع پر مسلسل اور مربوط خیال پیش کیا جاتا ہے۔
  • قصیدہ: وہ طویل نظم جس میں کسی کی شان میں مبالغہ آمیز تعریف (مدح) یا پھر کھلی برائی (ہجو) کی جائے۔
  • فرد: یہ ایک ایسا اکیلا اور واحد شعر ہوتا ہے جو کسی غزل یا نظم کا حصہ نہ ہو بلکہ اپنی ذات میں مکمل ہو۔

بنیادی اجزاء اور چیدہ خصوصیات:

  • مصرعے: ایک مکمل شعر ہمیشہ دو لائنوں (Lines) پر استوار ہوتا ہے۔ پہلی قطار کو ’مصرعِ اولیٰ‘ اور دوسری قطار کو ’مصرعِ ثانی‘ کہا جاتا ہے۔
  • اوزان و بحور: میٹر (Meter) یا بحر کے بغیر الفاظ کا مجموعہ محض تک بندی کہلاتا ہے۔ وزن کی پابندی شعر کو شعر بناتی ہے۔
  • معنی آفرینی: شاعری کی سب سے بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں الفاظ کا استعمال کم سے کم، جبکہ معانی کی وسعت اور گہرائی لامحدود ہوتی ہے۔
  • غزل کی انفرادیت: نظم کے برعکس، غزل کا ہر شعر اپنے موضوع اور مفہوم کے اعتبار سے مکمل طور پر جداگانہ اور آزاد حیثیت رکھتا ہے۔
  • بیت الغزل: کسی بھی غزل کے اندر موجود سب سے شاندار، اثر انگیز اور نمایاں شعر کو ادبی اصطلاح میں ’بیت الغزل‘ کا نام دیا جاتا ہے۔
  • روبینہ خوشحال ایم فل اردو نمل یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں