ساقی فاروقی کی نظم نگاری: جدید اردو ادب کی 7 منفرد داستانیں اور نفسیاتی حقائق تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کے جدید منظر نامے میں ساقی فاروقی کی نظم نگاری کو ایک انتہائی منفرد اور لاثانی حیثیت حاصل ہے۔ ان کے ہاں عصری حقائق، نت نئے تجربات اور فنی پختگی کا ایسا حسین امتزاج ملتا ہے جو قاری کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔
معروف نقاد شمس الرحمن فاروقی نے ان کے کلام کی وسعت کا اعتراف ان الفاظ میں کیا ہے:
"ساقی فاروقی ساقی کا کلام لا زمان ہے، کیوں کہ اس میں معاصر حقیقت اور جدید تجربے کو فن کا پورا شعور اور پورے فن کا شعور مل گیا ہے۔”
(ص: 20، دیباچہ، شمس الرحمن فاروقی، سرخ گلاب اور بدر منیر، ساقی فاروقی، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور ، 2005۔)
ساقی فاروقی کی نظم نگاری میں نفسیات اور جانوروں کا علامتی استعمال
ساقی کی نظموں کو اگر انسانی نفسیات کی عکاس کہا جائے تو یہ ہرگز بے جا نہ ہوگا۔ انہوں نے اپنی شاعری میں ایک بالکل اچھوتا راستہ اختیار کیا اور جانوروں کی حرکات و سکنات کے پردے میں گہری معنویت تخلیق کی۔
یہ ایک ایسی انوکھی رمزیت ہے جس کی مثال ان سے پیشتر اردو ادب میں ناپید تھی۔ ان کا کلام نئے دور کے انتشار، انسانی مزاج کی پیچیدگیوں اور الجھنوں کا جیتا جاگتا مرقع ہے۔
اپنے پیش رو شعراء کے برعکس، ساقی شاعری کو محض معاشرتی اصلاح کا آلہ نہیں سمجھتے۔ وہ نون میم راشد اور میراجی کی طرح اسے ذات کے اظہار کا بہترین ذریعہ گردانتے ہیں۔ اگرچہ ان کے ہاں فیض احمد فیض کی طرح عشقیہ جذبات اور اندرونی اداسی کا بیانیہ بھی موجود ہے، لیکن ساقی فاروقی کی نظم نگاری اس وقت ایک قدم آگے بڑھ جاتی ہے جب وہ زندگی کے تلخ ذاتی تجربات کو اپنے فن میں گوندھ دیتے ہیں۔
معمولی اشیاء کا عظیم المیہ اور شاہکار نظمیں
ساقی کے کلام کا ایک بڑا حصہ ان کی ذات کے کرب اور اردگرد پھیلے المیوں پر مبنی ہے۔ ان کا شعری کلیات "سرخ گلاب اور بدر منیر” ایسی متعدد شاہکار نظموں کا امین ہے۔
ان کی مشہور زمانہ نظم "خالی بورے میں زخمی بلا” ایک ایسے شخص کی تلاش کا استعارہ ہے جو حیات کے رازوں سے پردہ اٹھانے کے لیے بے چین ہو۔ اس کے علاوہ ان کی درج ذیل نظمیں خاص اہمیت کی حامل ہیں:
- میں اور میں
- قیدی
- ایک سنسان دو پہر
- برف باری
- کالی آندھی
- باکرہ اور سائے کا سفر
- ایک کتا نظم
- مجھے جزیرہ ملے
- مکڑا اور مستانہ ہجڑا
- بندہ مومن کا ہاتھ اور بد گمانی
ساقی کی شاعرانہ خردبین ان حقیر چیزوں تک بھی پہنچتی ہے جنہیں عام انسان نظر انداز کر دیتا ہے۔ انہوں نے صرف کتا، بلی، سور، مینڈک یا کچھوے ہی کو موضوع نہیں بنایا، بلکہ مکڑا، تتلی، پوسٹر، مٹی، باجوا اور خرگوش کو بھی اپنے منفرد بیانیے کا حصہ بنایا ہے۔
جدید عہد کا داستان گو: صنفِ مثنوی کی نئی جہت
اردو غزل اور نظم کے علاوہ ساقی فاروقی کی شاعری میں ایک طلسماتی داستانوی فضا موجود ہے۔ آج کی تیز رفتار زندگی میں، انہوں نے قدیم صنفِ ‘مثنوی’ کو ایک جدید اور دلکش روپ بخشا ہے۔
ان کی نظموں میں افسانہ نگاری، منظوم کہانی اور داستان گوئی کے تمام عناصر پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہیں۔ جب وہ انسان کو اپنے ہی ماحول کا قاتل ثابت کرتے ہیں، تو صفحہ قرطاس پر "شیر امداد علی کا مینڈک” جیسی حیرت انگیز ڈرامائی کہانی جنم لیتی ہے:
"شیر امداد علی پانی کی امانت غصب کئے
اپنے گھر میں زنجیر ہوئے بیٹھے ہیں”
مغربی ادب کے اثرات اور منظر نگاری کا کمال
انگریزی ادب اور عالمی تاریخ کا گہرا مطالعہ ساقی کی شاعری کا ایک اہم ماخذ ہے۔ انہیں اعتراف ہے کہ ان کا فن ازرا پاؤنڈ (Ezra Pound) کی منظر نگاری سے بہت حد تک متاثر ہے۔
ان کی نظموں میں منظر کشی اتنی جاندار ہوتی ہے کہ پڑھنے والا خود کو اس کہانی کا ایک زندہ کردار محسوس کرنے لگتا ہے۔
ساقی فاروقی کی نظم نگاری کا ارتقاء اور شعری مجموعے
انہوں نے ہمیشہ معاشرے کے ان موضوعات پر قلم اٹھایا جنہیں ‘شجرِ ممنوعہ’ سمجھ کر دبا دیا جاتا ہے۔ جنسی گھٹن سے لے کر بچوں کے استحصال تک، ہر تلخ حقیقت پر انہوں نے بے باکی سے بات کی ہے۔
اپنی کتاب کے دیباچے میں وہ اپنے اسلوب کی وضاحت کچھ یوں کرتے ہیں:
"میں اپنی ناکامی یا کامیابی کی بات نہیں کروں گا مگر میری کوشش رہی ہے کہ دوسرے نظم نگاروں سے ذرا مختلف چلوں۔ احساس، خیال اور الفاظ کے کلیشوں سے جنگ کرتا رہوں اور صرف اپنے اندر کی موسیقی اور اپنی ذات کے اسلوب میں لکھوں۔”
(ص: 24، ہمیش نظمیں: انتخاب کے آئینہ میں، سلیم شہزاد، تشکیل پبلیشرز، کراچی، 2005۔)
ساقی فاروقی کا 1955ء سے 2004ء تک محیط طویل شعری سفر ان پانچ مجموعوں کی صورت میں "سرخ گلاب اور بدر منیر” میں محفوظ ہے:
- پیاس کا صحر (1966)
- رادار (1977)
- بہرام کی واپسی (1984)
- حاجی بھائی پانی والا (2001)
- نئی غزلیں نئی نظمیں (2004)
کلام کی دو خوبصورت مثالیں
ان کے اندرونی کرب اور تنہائی کا اندازہ ان کی مشہور نظموں سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
پہلے بھی ہم تنہا تھے
اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں
ان زخموں سے
ان داغوں سے
اب اپنی باتیں ہوتی ہیں
جو زخم کہ سُرخ گلاب ہوئے
جو داغ کہ بدرِ مُنیر ہوئے
اس طرح سے کب تک جینا ہے
میں ہار گیا اس جینے سے
کوئی ابر اٹھے کسی قلزم سے
رس برسے میرے ویرانے پر
کوئی جاگتا ہو، کوئی کُڑھتا ہو
میرے دیر سے واپس آنے پہ
کوئی سانس بھرے میرے پہلو میں
اور ہاتھ دھرے میرے شانے پر
اور دبے دبے لہجے میں کہے
تم نے اب تک بڑے درد سہے
تم تنہا تنہا چلتے رہے
تم تنہا تنہا جلتے رہے
سنو! تنہا چلنا کھیل نہیں
چلو آؤ میرے ہمراہ چلو
چلو نئے سفر پر چلتے ہیں
چلو مُجھ کو بنا کے گواہ چلو
(ساقی فاروقی)
نظم: بیساکھی
مری نظروں میں
آئندہ کے افسوس کے سائے لرزاں ہیں
مجھے قید خوف سے رہا کرو
میں اپنے درد کی ننگی دھوپ سے
گھنی تسلی مانگ مانگ کے ہار گیا
اے درد مرا فیصلہ کرو
مری خالی آنکھیں
منظر منظر بھٹک رہی
لڑکھڑا رہی ہیں
دیا کرو
مجھے خوابوں کی بیساکھی دو
معاشرتی جبر، ایٹمی خوف اور ساقی فاروقی کی نظم نگاری
ساقی دورِ حاضر کا وہ داستان گو ہے جو میراجی، نون میم راشد، گلزار اور ستیہ پال آنند کا ہم پلہ نظر آتا ہے۔ اس عہد کے سلگتے مسائل اس کی نظموں کی بنیاد ہیں۔
وہ شدت پسندی اور جوہری تابکاری کے بڑھتے ہوئے خطرات سے شدید خوفزدہ دکھائی دیتے ہیں۔ مشینیں جب اس دور کے انسان کو اپنا غلام بناتی ہیں، تو وہ پام کے درخت سے یوں مخاطب ہوتے ہیں:
ذرا پنکھے ہلادو
مجھے اپنے دامن کی ٹھنڈی ہوادو
بہت تھک گیا ہوں
’شیر امداد علی کا مینڈک‘ کا استعارہ اور کلائمکس
ماحول پر مسلط انسانی جبر کے خلاف ان کی نظم "شیر امداد علی کا مینڈک” ایک زبردست احتجاج ہے۔ کہانی کے آخر میں تالاب کے مینڈک اس ظالم انسان کا گھیراؤ کر لیتے ہیں تاکہ وہ ان کا ننھا ساتھی واپس کرے:
باہر پانی کھڑا ہے
اور پانی میں
پیپل کے پتوں کی طرح
سالے
خشمگیں آنکھوں والے
پیلے پیلے مینڈک
اپنا گھیرا ڈالے
پڑے ہوئے ہیں
صنفِ نازک اور معصوم بچوں کے استحصال کا نوحہ
ساقی فاروقی کی نظم نگاری کا سب سے نمایاں اور دردناک پہلو معاشرے کے کمزور اور پسے ہوئے طبقات پر ہونے والے مظالم کی نشاندہی ہے۔ وہ شاہ دولہ کے چوہوں، کبڑے فقیروں اور مظلوم عورتوں کی آواز بن کر ابھرتے ہیں۔
چاہے ترقی یافتہ معاشرہ ہو یا پسماندہ، عورت کا استحصال ہر جگہ موجود ہے۔ ساقی نے اس درد کو مختلف زاویوں سے پیش کیا ہے۔
شہناز بانو، حمل سرا اور نامحرم کی تلخ حقیقتیں
نظم "شہناز بانو دختر شہباز حسین” جنسی زیادتی کی شکار ایک ایسی لڑکی کی چیخ ہے جو اپنے ہی باپ کے ہاتھوں پامال ہوئی:
دھیان کے دھندلے بائسکوپ میں
رات کی خونیں تصویر یں متحر ک تھیں:
وہ دزدانہ کمرے میں آئے تھے
بتی اجال کے۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اسی طرح "حمل سرا” میں اس مشرقی بیوی کا کرب ہے جو ساری زندگی محض بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھی گئی، مگر خاوند یا بچوں کا پیار نہ پا سکی:
بے قدری کے سخی حسن میں دفن رہیں
آج نئے آفاق مانگتی ہیں
دادی اماں طلاق مانگتی ہیں
جسمانی قرب اور ذہنی دوری کا المیہ ان کی نظم "نامحرم” میں عروج پر پہنچتا ہے:
میں تو اپنے دھیان کے
ملگجے غبار میں
دوسرے کے ساتھ تھا
الکبڑے اور شاہ دولہ کا چوہا: معاشرے کے ناسور کی نقاب کشائی
ساقی کی داستانوں میں کچھ کہانیاں جگ بیتی کا درجہ رکھتی ہیں۔ نظم "الکبڑے” میں ایک سنگدل باپ کا ذکر ہے جو پیشہ ورانہ گداگری کے لیے اپنے تین سالہ بچے کے ہاتھ توڑ دیتا ہے:
باپ کی مستقل اندیشی نے
تین برس کی
لنج منج سی
چیز کے دونوں ہات
چٹ چٹ توڑ کے
ایک ایک کہنی اور بنادی تھی
اس سے بھی زیادہ لرزہ خیز حقیقت "شاہ دولہ کا چوہا” میں بیان ہوئی ہے۔ ایک فقیر خانقاہ سے اپاہج بچہ خریدنے جاتا ہے، جہاں بچوں کو فروخت کے لیے معذور بنایا جاتا ہے:
پانچ ہزار کی پوٹلی
خشخی داڑھی والے
سجادہ نشین کے حوالے کردی تھی
اس نظم کا اختتامیہ قاری کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا ہے:
دیدوں پر پٹی ہے، ہونٹوں پرٹانکے ہیں…
اس کی جلتی ہوئی منتقم آنکھوں میں
صدیوں کے سوگ
جگر جگر مسکرارہے تھے
ساقی کی داستان گوئی پلاٹ، کردار، منظر نگاری اور غیر متوقع انجام (Climax) جیسے تمام تکنیکی لوازمات سے لیس ہے۔
مشرق و مغرب کا امتزاج: لندن اور کراچی کی دوہری شہریت
عملی زندگی میں ساقی فاروقی کا وجود دو مختلف ثقافتوں میں بٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ ایک طرف کراچی کا البیلا نوجوان ہے جو اردو اوڑھتا بچھاتا ہے، تو دوسری طرف وہ لندن کا ایک بالغ نظر باسی ہے جس کی سوچ کا کینوس انگریزی تہذیب سے جڑا ہے۔
انہوں نے اپنی ذات کے ان دونوں حصوں کو ملا کر اردو نظم کو ایک نیا مغربی لہجہ دیا۔ یہ فیصلہ تاریخ کرے گی کہ وہ دو مختلف تہذیبوں کی خلیج پاٹنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے، یا اردو ادب ان کی جدید سوچ سے پیچھے رہ گیا، لیکن ان کی مایوسی کا عالم ان کے اس آخری شعر سے بخوبی جھلکتا ہے:
اے ہو ا ئے خوش خبر ا ب نوید سنگ د ے
میری جیب وآ ستیں میرے ہی خوں سے رنگ دے
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی ڈجکوٹ فیصل آباد فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات) متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
