مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

سنگِ مرمر کے دِل اور کَٹی کلیاں

لائبہ خلیل الرحمٰن

(کاغان کالونی ایبٹ آباد کا ایک دل خراش سانحہ ، جہاں سگے والد نے اپنے تین معصوم بچوں کو قتل کیا۔)

آسمان کے کنارے جہاں وَقت تھم جاتا ہے اور کائنات کی ساری وسعتیں ایک سکوتِ مسلسل میں ڈھل جاتی ہیں، وہاں آج تین ننھے سائے ایستادہ تھے۔ ان کے چہروں پر وہ معصومیت ابھی منجمد تھی جو زمین کی گرد و پیش سے ناآشنا ہوتی ہے۔

اُن کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں زندگی کی کوئی لکیر باقی نہ تھی، بس ایک نیلاہٹ تھی جو زَہر کی کڑواہٹ نے ان کے رَگ و پے میں اُتار دی تھی۔وہ فاطرِ ہستی کی عالی بارگاہ میں حاضر تھے۔

وہاں جہاں عدل کے ترازو میں ستارے تولے جاتے ہیں، وہاں آج اِن تین کلیوں نے اپنا مقدمہ پیش کرنا تھا۔

’’اے خالقِ کائنات! ہمیں جس دنیا میں بھیجا گیا، وہاں سورج تو روز نکلتا تھا پر کسی کے دل کا اندھیرا دور نہ ہوتا تھا۔ ہم نے دیکھا کہ انسانوں کے ہجوم میں انسان ہی مفقود تھا۔ وہاں سنگِ مرمر کے مکانوں میں رہنے والوں کے دِل برف سے زیادہ سرد تھے۔ وہاں تماشائیوں کی بستی تھی، جہاں کسی کا دُکھ بانٹا نہیں جاتا، بلکہ اُس کی نمائش کی جاتی تھی۔‘‘

’’خلاق عالم! ہم تو اُس بازو پر سر رکھ کر سوتے تھے جسے ہماری ڈھال ہونا تھا۔ مگر وہ ہاتھ جو ہمیں لوریاں دیتا تھا، اُسی نے زَہر کا پیالہ ہمارے ہونٹوں سے لگا دیا۔ ہم نے خون کے رشتوں میں وہ بے اِعتباری دیکھی کہ محافظ ہی مسیحائی کے لبادے میں قضا بن گیا۔

جس شفقت کو ہم اپنی پناہ گاہ سمجھتے تھے، وہ مالی تنگی کے بوجھ تلے اتنی بکھر گئی کہ اُسے اپنی اولاد کے گلے کاٹنے میں ہی عافیت نظر آئی۔ کیا زمین پر محبت اتنی سستی اور انا اتنی مہنگی ہو گئی ہے؟‘‘

’’ ہم نے دیکھا کہ ایک انسان کی تلخ کلامی اور کسی کا ناروا رویہ کیسے ایک ہنستے بستے گھر کو قبرستان میں بدل دیتا ہے۔ وہاں لوگ لفظوں سے قتل کرتے تھے۔ ہم اس دنیا میں تنہا تھے، اتنے تنہا کہ موت ہمیں زندگی سے زیادہ مہربان لگی۔‘‘

’’اے ربِ جلیل! تیری دنیا میں روشنیاں تو بہت تھیں، پر اُجالا کہیں نہ تھا۔ وہاں کی زندگی بے رونق اور بے رنگ ہو چکی ہے۔ وہاں ضمیر کی نیلامی اور خود غرضی کا میلہ ہے۔ وہاں کا انسان دوسرے کے آنسوؤں پر اپنی خوشیوں کی بنیاد رکھتا ہے۔ ہم اُس دنیا کی رنگینیوں سے اُکتا کر تیرے پاس آ گئے ہیں، کیوں کہ وہاں سانس لینا سسکنے سے زیادہ دُشوار تھا۔‘‘

عدلِ الٰہی کے حضور یہ مقدمہ درج ہو چکا تھا۔ زمین پر شاید چند کالموں کی خبر چھپے اور پھر لوگ بھول جائیں، مگر اِن تین معصوموں کی آہ نے عصرِ حاضر کے انسان کے چہرے سے وہ نقاب نوچ لیا تھا جسے عہدِجدید کے انسان کی بے حسی اور خودغرضی کہا جاتا ہے۔

جب ان معصوم روحوں کا نوحہ تمام ہوا، تو کائنات کے اس گوشے میں ایک ایسی خاموشی چھا گئی جس میں لاکھوں ہم کلامیاں پنہاں تھیں۔ زمین کے منصف، جو ضابطوں کی کتابوں میں اُلجھے رہتے ہیں اور جن کے انصاف کے پیمانے محض مادی گواہیوں اور دنیاوی مفادات کے محتاج ہیں۔شاید اِن معصوموں کے لہو کی پکار سننے سے قاصر رہیں۔ وہاں، جہاں غریب کی آہ پر مصلحتوں کے پہرے بٹھا دیے جاتے ہیں، انصاف کا حصول محض ایک خوابِ پریشاں ہے۔

مگر اُس عالی بارگاہ میں، جہاں ذرّے کی جنبش بھی بے معنی نہیں، ایک صدائے دل نواز اُبھری۔منصفِ اعظم نے اُن مرجھائے ہوئے پھولوں کی معصومیت پر اپنی رحمت کی چادر تانی اور انہیں اُس معین دن کا یقین دلایا جس کا وعدہ اٹل ہے۔

ان ننھے ستاروں کو یقین دہانی کروائی گئی کہ وہ دن دُور نہیں جب زمین اپنے سارے بوجھ اُگل دے گی۔جب لفظوں کے زہر اور رویوں کی تلخی کا حساب ہو گا اور ہر اُس ہاتھ کی پکڑ ہو گی جس نے سنگ دلی سے کسی کا نوالہ یا جینے کا حق چھینا۔ اس عظیم عدالت میں کوئی سفارش چلے گی نہ کوئی جھوٹا عذر۔ وہاں صرف اور صرف حق بولے گا۔

اُن ننھے پھولوں کو بتایا گیا کہ اگرچہ دنیا کی بے رونق بستی میں ان کے لیے کوئی جگہ نہ تھی، مگر یہاں وہ اس وقت تک ابدی سکون اور خوشیوں کے باغوں میں رہیں گے جب تک عدل کا وہ عظیم ترازو نہیں لگ جاتا، جو ہر ظالم کو اس کے انجام تک پہنچا کر مظلوم کی تشفی کر دے گا۔

معصوم روحیں مطمئن ہو گئیں، کیوں کہ انھوں نے جان لیا تھا کہ اِنسان کا انصاف اَدھورا ہو سکتا ہے، مگر کائنات کے مالک کا فیصلہ کبھی رائیگاں نہیں جاتا۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں