سعید الدین کی شاعری کی 7 اہم فکری زاویے اور وجودی کشمکش کا گہرا مطالعہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
جدید اردو ادب کے منظر نامے میں سعید الدین کی شاعری ایک ایسا منفرد باب ہے، جو قاری کو سوچ کے نئے دریچوں سے متعارف کرواتا ہے۔ ان کا تعلق تخلیق کاروں کی اسی قد آور نسل سے ہے جس میں نسرین انجم بھٹی جیسی توانا آوازیں شامل ہیں۔ دونوں ہم عصروں کے ہاں خیالات کی اتھاہ گہرائی اور علامت نگاری کا ایک خاص انداز مشترک پایا جاتا ہے۔
تاہم، سعید الدین کا تخلیقی کمال اور انفرادیت اس بات میں پوشیدہ ہے کہ وہ کسی بھی عام واقعے کے نتائج کو بالکل الٹ کر پیش کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ اگر آپ کسی سیدھے سادے واقعے سے کوئی عام اور فہم کے قریب نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کریں گے، تو سعید الدین کی شاعری میں آپ کو اس کے برعکس ایک بالکل ہی مختلف اور چونکا دینے والی دنیا نظر آئے گی۔
ان کے شعری کینوس پر حیرت میں مبتلا کر دینے والے نتائج اکثر انتہائی سادہ اور عام فہم تصورات کا روپ دھار لیتے ہیں۔ بعض مقامات پر تو وہ اپنے منطقی استدلال کو اس قدر غیر روایتی اور مبہم بنا دیتے ہیں کہ قاری کے لیے کسی حتمی نتیجے تک پہنچنا ایک کٹھن مرحلہ بن جاتا ہے۔
سعید الدین کی شاعری میں وجود اور عدم کا فلسفہ
ان کی تخلیقات میں سب سے نمایاں پہلو انسان کی وجودی کشمکش اور فلسفیانہ الجھنیں ہیں۔ وہ بے شمار مواقع پر اپنی ذات کی حقیقت اور اپنے اردگرد موجود کائنات کے ہونے پر گہرے سوالیہ نشان ثبت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ان کے فکری رجحانات میں زندگی یا "ہونے” سے زیادہ موت یا "نہ ہونے” (عدم) کی طرف ایک فطری لگاؤ محسوس ہوتا ہے۔ لیکن یہ ایک عجیب المیہ ہے کہ وہ معاشرے میں بکھری ہوئی وجود کی مختلف علامتوں اور مادی حقیقتوں میں اس قدر گھرے ہوئے ہیں کہ اپنے عدم کا مکمل دعویٰ کرنا ان کے لیے ناممکن ہو جاتا ہے۔
اپنی کئی نظموں میں انہوں نے برملا اس بات کا اظہار کیا ہے کہ نہ تو ان کا اپنا کوئی مادی وجود ہے اور نہ ہی ان کے اطراف میں پھیلی ہوئی اس دنیا کی کوئی حقیقت ہے۔ مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے اس باطنی کرب کو جن استعاروں اور کنایوں کی مدد سے بیان کرتے ہیں، وہ خود ان کی ذات کے ہونے کی گواہی دے رہے ہوتے ہیں۔ جب وہ اپنے ہی بیان کردہ اس تضاد کو محسوس کرتے ہیں، تو ایک شدید ذہنی الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔
نظم "یہ سب تو” میں ذات کا بحران
اس کشمکش اور باطنی تضاد کو سمجھنے کے لیے ان کی مشہور نظم "یہ سب تو” کے یہ چند مصرعے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں:
میرا کوئی نام نہیں
نہ کوئی وطن
نہ مذہب
نہ باپ نہ ماں
یوں میرا ہونا
مشکوک ہو گیا
پھر ہر طرف سے تھو تھو ہونے لگی
(نظم: یہ سب تو)
اس نظم کا آخری مصرع شاعر کی اس گہری الجھن کا بہترین عکاس ہے جس کا وہ شکار ہیں۔ وہ اس حقیقت کا ادراک رکھتے ہیں کہ جس مادی دنیا میں وہ سانس لے رہے ہیں، وہ بنیادی طور پر غیر حقیقی ہونے کے باوجود ایک ایسی سچائی کا روپ دھار چکی ہے جسے جھٹلایا نہیں جا سکتا۔
یہ وہی حقیقت ہے جسے وہ اپنی شاعری میں نت نئی علامتوں کے ذریعے بے نقاب کرتے ہیں۔ ان کے باطن میں کوئی ایسی مخفی قوت موجود ہے جو انہیں مسلسل ان کے "نہ ہونے” کا یقین دلاتی ہے۔ لیکن وہ اس سچائی کا کھلے عام اعتراف کرنے سے کتراتے ہیں، کیونکہ وہ بخوبی آگاہ ہیں کہ عدم کا یہ تصور صرف ان کے ذہن کی حد تک تو ممکن ہے، مگر عملی دنیا میں اس کا نفاذ ناممکن ہے۔
نفسیاتی کرب اور جدید دور کا المیہ
سعید الدین کے دل میں اٹھنے والی یہ کسک دراصل جدید طرزِ حیات کی دین ہے۔ آج کے اس دور میں، جہاں مادی روشنیوں اور چکا چوند نے انسان کی نفسیاتی حالت کو بدل دیا ہے، انسان کو اپنے ہی وجود کا بوجھ ستانے لگا ہے۔ اسی تھکن کے باعث وہ اپنے "نہ ہونے” کے تصور سے ایک عجیب سا لطف اور سکون حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
اپنے اسی فکری میلان کی وجہ سے وہ عدم (Non-existence) کی وادیوں کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں، لیکن دوسری جانب وجود کے تقاضے انہیں فرار کی اجازت نہیں دیتے۔ اس نوعیت کی پیچیدہ کشمکش ان کی ایک اور نظم میں بھی پوری شدت کے ساتھ جلوہ گر ہوتی ہے۔
اپنی معروف نظم "آواز کا شور” میں وہ آواز پیدا کرنے والے عوامل سے اس قدر بیزار نظر آتے ہیں کہ وہ خود اپنی سماعتوں سے ہی شکوہ کرنے لگتے ہیں۔ ان کا مزاج کبھی تو زندگی کی انتہائی باریک اور لطیف سچائیوں میں مکمل طور پر جذب ہو جاتا ہے، اور کبھی وہ ان سچائیوں کو خود سے کوسوں دور دھکیلنے پر بضد نظر آتے ہیں۔
پیچیدہ خیالات اور نمائندہ نظموں کا تعارف
اسی ذہنی کیفیت کی وجہ سے سعید الدین کی شاعری میں ایک دیوانہ وار اور مجذوبانہ کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ یہ کیفیت ان کے خیالات کو اس قدر منتشر کر دیتی ہے کہ ان کا شعری بیانیہ عام سطح سے بلند ہو کر انتہائی پرپیچ، گہرا اور تہہ دار بن جاتا ہے۔
ان کے اس مخصوص اسلوب کی حامل چند بہترین اور قابلِ ذکر نظمیں درج ذیل ہیں:
- الگ الگ اکائیاں
- ایک درخت کی دہشت
- اندھا اور دور بین
- گاتا ہوا پتھر
- چرواہے کا خواب
- معصومیت
نظم "چرواہے کا خواب”: سعید الدین کی شاعری کا فنی کمال
ان کی فنی مہارت کو سمجھنے کے لیے ان کی شاہکار نظم "چرواہے کا خواب” کا مطالعہ بے حد ضروری ہے۔ اس نظم کے مصرعے ملاحظہ کریں:
چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی ایک بھیڑ گم ہو گئی
صرف انچاس بھیڑیں باقی ہیں
چرواہا خواب دیکھتا ہے
اس کی تین بھیڑیں زخمی ہیں
صرف چھیالس باقی ہیں
(نظم چرواہے کا خواب)
یہ نظم ان کے تخلیقی سفر کا ایک روشن ستارہ ہے۔ اس میں انہوں نے خواب کی ایک ایسی انوکھی کیفیت کو قلم بند کیا ہے جس کی اصل حقیقت کو وہ اپنے فنی اظہار کے ذریعے مکمل طور پر الٹ دیتے ہیں۔
یہاں قاری کو شاعر کے قلب اور اس کے تصورات کا اصل رخ دکھائی دیتا ہے۔ بظاہر شاعر جن نقصانات پر افسردہ ہے اور آنسو بہا رہا ہے، گہری نظر سے دیکھا جائے تو وہی واقعہ طنزیہ قہقہے لگانے کے قابل محسوس ہوتا ہے۔
خواب کی روایتی علامت اور نیا تصورِ حیات
اردو ادب کی تاریخ میں روایتی تشبیہات اور استعاروں کے بغیر، محض ایک سادہ داستانی زبان استعمال کر کے اتنی اچھوتی اور جدید نظم تخلیق کرنا نئی نظم کے بہت کم تخلیق کاروں کے حصے میں آیا ہے۔
خواب کا عنصر اردو شاعری میں صدیوں سے ایک خاص روایتی معنوں میں استعمال ہوتا آ رہا ہے۔ مگر سعید الدین نے اس پرانے استعارے کو زندگی کے ایک بالکل نئے اور جدید تصور کے ساتھ ہم آہنگ کر دیا ہے۔ انہوں نے سوچ کا ایک ایسا نیا نظام وضع کیا ہے جس میں ہم خواب کو حقیقت کی ضد بھی سمجھتے ہیں اور حقیقت کا ہم معنی بھی۔
اس نظم کے ذریعے انہوں نے جدید انسانی زندگی کے چھپے ہوئے المیوں کو بھی اجاگر کیا ہے، اور ساتھ ہی انسانی مزاج کی اس سادگی کو بھی بے نقاب کیا ہے جو حالات پر قہقہے لگاتی ہے۔ وہ محض ایک سادہ سا واقعہ بیان کرتے ہیں، مگر اس واقعے کی کوکھ سے معانی کی اتنی پرتیں نکلتی ہیں جو پورے متن کو ایک نئی جہت بخش دیتی ہیں۔ یہی سعید الدین کی شاعری کا اصل حسن اور ان کا سب سے بڑا فنی کمال ہے۔
سعید الدین کی تصانیف اور ادبی خدمات کی تفصیل
سعید الدین نے نہ صرف بہترین شاعری تخلیق کی، بلکہ انہوں نے تاریخ، مذہب، حیاتیات اور ادب کے مختلف موضوعات پر اہم کتابیں بھی تحریر اور مرتب کیں۔ ان کی علمی اور ادبی خدمات کا دائرہ کافی وسیع ہے۔
ان کی تصنیف کردہ 6 اہم کتابوں کی فہرست درج ذیل ہے:
- رات (اشاعت: 1997)
- شمع مناقب دستگیر
- پذیرائی قطب ربانی
- منظرۂ طریقت
- امت مسلمہ کا مخصوص طرز زندگی
- مبادی حیاتیات (حیاتیاتی علوم پر مبنی ایک اہم کاوش)
- سیلاب دکن
مدون کردہ کتابیں اور رسائل
تصنیف و تالیف کے علاوہ انہوں نے تدوین کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی مرتب کردہ 4 اہم کتابیں اور شمارے مندرجہ ذیل ہیں:
- شمارہ نمبر-008
- شمارہ نمبر-011 (بدایوں)
- شمارہ نمبر ـ 007 (اشاعت: 1992)
- شمارہ نمبر-009
مختصر یہ کہ، سعید الدین کا کام اردو ادب میں ایک ایسے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے جو قاری کو مروجہ سوچ کے دائروں سے باہر نکل کر زندگی کی حقیقتوں کو ایک بالکل نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔
نظرِ ثانی و تصحیح: احمد جمال،ایم – فل اردو
منہاج یونیورسٹی لاہور
