مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

صادقہ نواب سحر کی حالات زندگی

صادقہ نواب سحر: اردو فکشن اور شاعری کا ایک معتبر حوالہ، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو ادب کے افق پر بانو قدسیہ جیسی عظیم شخصیات کے عہد میں جن خواتین قلم کاروں نے اپنی الگ اور توانا شناخت بنائی، ان میں صادقہ نواب سحر کا نام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

صادقہ نواب کی ادبی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو ان کی ہمہ جہتی ہے۔ وہ محض ایک صنفِ سخن تک محدود نہیں رہیں بلکہ نثر اور نظم دونوں میدانوں میں اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ ان کا قلم جس روانی سے افسانہ لکھتا ہے، اسی مہارت سے شاعری بھی کرتا ہے۔

ادبی سفر کا آغاز

صادقہ نواب سحر کے باقاعدہ ادبی سفر کی شروعات 1980ء میں ہوئی۔ یہ وہ سال تھا جب انہوں نے اپنا پہلا افسانہ ”خلشِ بے نام سی“ تحریر کیا۔ اس پہلی ہی کاوش نے ادبی حلقوں کو اپنی جانب متوجہ کر لیا۔ اس کے بعد ان کے قلم کی رفتار میں تیزی اور روانی آتی گئی اور بہت ہی کم عرصے میں انہوں نے اردو ادب کی بے لوث قابلِ قدر خدمت کی۔

ناول نگاری میں کامیابی کے جھنڈے

افسانہ نگاری کے بعد جب مصنفہ نے ناول کے میدان میں قدم رکھا تو وہاں بھی کامیابی نے ان کے قدم چومے۔ ان کی ناول نگاری کا سفر کچھ یوں ترتیب پاتا ہے:

  • کہانی کوئی سناؤ نتاشا (2008ء): یہ ان کا پہلا ناول تھا جس نے اردو فکشن میں دھوم مچا دی۔ اس ناول کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے متعدد ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں اور کئی دیگر زبانوں میں اس کا ترجمہ بھی کیا جا چکا ہے۔ اس ایک ناول نے صادقہ نواب سحر کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا۔
  • جس دن سے (2016ء): اپنے فنی سفر کو جاری رکھتے ہوئے مصنفہ نے 2016ء میں یہ دوسرا ناول پیش کیا، جس نے ان کے قارئین کے حلقے میں مزید اضافہ کیا۔
  • راجدیو کی امرائی (2019ء): حال ہی میں شائع ہونے والا یہ ناول مصنفہ کی فنی پختگی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تخلیق کے ذریعے وہ اردو فکشن کے میدان میں مکمل طور پر چھا گئیں۔

افسانوی مجموعے

صادقہ نواب سحر نے جہاں ناولوں کے ذریعے اردو ادب کے دامن کو وسیع کیا، وہیں ان کے افسانوی مجموعے بھی وقتاً فوقتاً منظرِ عام پر آ کر داد و تحسین وصول کرتے رہے ہیں۔ ان کے اہم افسانوی مجموعوں میں مندرجہ ذیل شامل ہیں:

  1. خلشِ بے نام سی
  2. بیچ ندی کا مچھیرا

ان مجموعوں میں شامل کہانیاں زندگی کی تلخ حقیقتوں اور انسانی نفسیات کی بہترین عکاس ہیں۔

اعزازات اور پذیرائی

صادقہ نواب سحر کی ادبی خدمات اور خداداد صلاحیتوں کے اعتراف میں انہیں ملک کے کئی باوقار اداروں کی جانب سے اہم ایوارڈز سے نوازا گیا ۔ ان کی کامیابیوں کی فہرست میں درج ذیل اعزازات شامل ہیں:

  • بہار اردو اکادمی ایوارڈ
  • شکیلہ اختر ایوارڈ
  • اتر پردیش اردو اکادمی کا کُل ہند ایوارڈ
  • *مغربی بنگال اردو اکادمی کا مولانا ابوالکلام آزاد ایوارڈ
    مختصراًصادقہ نواب سحر نے اپنی لاجواب تخلیقات سے اردو ادب کو مالا مال کیا، جن پر قارئین ہمیشہ فخر کریں گے۔

نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی ایس اردو میقات پنجم کی طالبہ۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں