مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

رمضان اور ہم مسلمان

رمضان اور ہم مسلمان

از۔۔۔۔۔۔۔ضیاترک

رمضان ہجری سال کا نواں مہینہ جو مسلمانوں کے نزدیک دیگر ہجری مہینوں کی بہ نسبت بہت خصوصیت اور مقام ومرتبہ والا مہینہ ہے۔اس مہینے میں اللہ کی رضا کے لیے روزہ رکھا جاتا ہے۔رمضان میں فجر سے لے کر غروب آفتاب تک کھانا پینا منع ہوتا ہے۔اسی ماہ میں مسلمانوں کی مقدس کتاب قرآن مجید نازل ہوئی۔رمضان کے مہینے میں مسلم ممالک میں نماز تراویح اور آخری عشرہ میں اعتکاف کا خصوصی اہتمام کیاجاتا ہے۔رمضان میں افطار کے دسترخوان کا انتظام اور دوسروں کو افطار کی دعوت کا بھی خاص طور پر اہتمام کیا جاتا ہے۔عبادات کا معمول بنایا جاتا ہے۔اس کے ساتھ ہمارے ہاں کچھ خرافات بھی عام ہو گئی ہیں جن میں سرِفہرست نمود و نمائش کے لیے اندھادھند پیسہ خرچ کرنا۔رمضان عبادات کے بجائے کھانے پینے کا ذریعہ بنادیا گیا ہے دن میں روزہ رکھنا ہے تو وہ کمی سحروافطار میں پوری کرلی جاتی ہے۔افطاری کے دسترخوان پر طرح طرح کی dishes سجانا اور پھر تصویر بنا کر فیس بک پر share کرنا کیا ان غریب لوگوں کے جذبات مجروع کرنا نہیں ہے جن کو یہ کھابے میسر نہیں ہیں؟ زیادہ مقدار میں کھانے بنانا اور نا کھا سکنے کی بنا پر کھانے کا ضائع ہونا کیا کفرانِ نعمت نہیں ہے؟ رمضان کے آخری عشرے میں بازاروں میں رش بے انتہا بڑھ جاتا ہے وجہ صاحبِ ثروت طبقے کا ضرورت سے کہیں زیادہ شاپنگ کرنا ہے۔ رمضان اور عید کی خوشی لازم ہے مگر اعتدال کے ساتھ۔ ایسا نا ہو کہ غریب رشتہ دار یا پڑوسی کی دل آزاری ہو۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا”وہ مومن نہیں ہو سکتا جس نے پیٹ بھر کر کھانا کھایا اور اس کا پڑوسی بھوکا سویا“ اس لیے رمضان میں ہر مسلمان کو اپنے اردگرد مجبور و نادار لوگوں کا خیال رکھنا چاہئیے۔ایسا نا ہو کہ رمضان جو عبادت کا مہینہ ہے کا مقصد صرف بہترین سحری و افطاری، دعوتیں اور رنگ برنگے لباس خریدنا ہی رہ جائے۔ایک اور بڑا عجیب رواج جو ہمارے ہاں عام ہورہا ہے کہ عموماً ہمارے ملک میں رمضان میں زکوہ ادا کی جاتی ہے۔ملکی بنک بھی زکوہ کی کٹوتی یکم رمضان کو کرلیتے ہیں۔بہت سے لوگ زکوہ کی کٹوتی سے بچنے کے لیے رقم رمضان سے پہلے بنک سے نکلوا لیتے ہیں۔زکوہ ایک لازمی رکن ہے جس کا ادا نا کرنا بڑا گناہ ہے اور یہ شرط بھی ضروری نہیں کہ رمضان میں ہی ادائیگی کرنی ہے بلکہ جب سال پورا ہو جائے تو ادائیگی فرض ہوجاتی ہے۔ہمیں چاہئیے کہ اگر رمضان میں مطلوبہ رقم پر سال ہوگیا ہے تو اپنے حلال پیسے سے ضرور اڑھائی فیصد حصہ نکال کر حقدار لوگوں تک پہنچائیں۔کچھ لوگ رمضان میں بہت زیادہ غصے کا اظہار کررہے ہوتے ہیں جیسےکہ روزہ رکھ کر انہوں نے کسی پر احسان کیا ہوا ہے یا زبردستی ان سے روزہ رکھوایا ہوا ہے۔ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے کہ اللہ کے ہر حکم پر خوشی خوشی سے عمل کرنا ہے۔روزہ دار تو ہر برائی سے بچتا ہے تو پھر کیوں رمضان میں بداخلاقی، گالی گلوچ اور لڑائی؟ رمضان میں نوجوان طبقہ مختلف فضول مصروفیات میں لگ جاتے تاکہ افطاری تک وقت گزر جائے۔یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ یہ بابرکت ساعتیں عبادات کے لیے ہیں نا کہ ”لڈو“ کھیلنے میں دن گزارے کے لیے۔ایک اہم پہلو کہ پاکستانی انتہائی سخی لوگ ہیں اور خاص طور پر رمضان میں صدقات وخیرات کے کوموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں جس کا ناجائز فائدہ پیشہ ور بھکاری مافیا اٹھاتا ہے۔ رمضان شروع ہوتے ہیں ان پیشہ ور بھکاریوں کی بڑی تعداد ہر گھر، گلی، محلہ، شہر اور مساجد کا رخ کرتی ہے۔ان بھکاریوں کو صدقات و خیرات دینے سے اصل ضرورت مندوں تک امداد نہیں پہنچ پاتی۔ ہمیں ان پیشہ ور بھکاریوں کی ہرممکن حوصلہ شکنی کرنی چاہئیے اور انتظامیہ کو ان مافیاز کے خلاف سخت سے سخت ایکشن لینا چاہئیے تا کہ صدقات و خیرات ان پیشہ ور بھکاریوں کے بجائے مستحق لوگوں تک پہنچ سکیں۔رمضان میں پاکستانی عوام خیرات کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔اکثر صاحبِ ثروت لوگ اور فلاحی تنظمیں غریب لوگوں میں رمضان پیکج تقسیم کرتے ہیں لیکن ہمارے ہاں بڑھتے ہوئے سیلفی کلچر سے یہ نیک عمل نا صرف خودنمائی کا سبب بنتا ہے بلکہ غریب لوگوں کی تذلیل کا بھی باعث ہوتا ہے۔ اگر اللہ کی رضا کے لیے کسی کو ایک مہینے کا سودا سلف دیا جاتا ہے تو تصویر بنا کر سوشل میڈیا کی زینت بنانا کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے۔اسلام کی تعلیمات تو یہ ہیں کہ ایک ہاتھ سے خیرات دیں تو دوسرے ہاتھ کو خبر نا ہو۔اس معاملے کا ایک منفی پہلو یہ بھی ہے کہ جب مفت راشن مل رہا ہوتا ہے تو بڑی تعداد میں ایسے لوگ میں قطار میں کھڑے ہو جاتے ہیں جن کے مالی حالات اتنے بھی برے نہیں ہوتے مگر وہ مفت راشن حاصل کرتے ہیں اور حقیقت میں مستحق لوگوں کا حق مارتے ہیں۔سوچنا چاہئیے کہ گیارہ مہینے جو اللہ ہمیں رزق دیتا ہےوہ برکتوں والے مہینے(رمضان المبارک) میں بھی لازمی رزق دے گا پھر کیوں لوگ رمضان پیکج کے لیے تگ ودو شروع کر دیتے ہیں۔ہمارا ایمان کیوں اتنا کمزور ہو گیا ہے کہ اس بابرکت مہینے میں برکتیں سمیٹنے کے بجائے لوگوں کے آگے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔رمضان میں ہمارا کاروباری طبقہ رمضان کو پیسہ کمانے کا بہترین موقع سمجھ کر جان بوجھ کر بنیادی ضرورت کی اشیا بھی مہنگے داموں بیچتے ہیں۔مہنگائی ایک بڑا مسئلہ ہے جس کی وجہ سے پھل،سبزیاں اور دیگر ضروری اشیاء کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں حالانکہ مذہبی تہواروں میں قیمتیں کم ہونی چاہئیں۔کسی نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ ”مسلمانوں کا مقدس مہینہ رمضان شروع ہونے کو ہے جس میں مسلمانوں کی کھجور دوگنا قیمت پر ملے گی مگر یہودیوں کی Pepsi پر ڈسکاؤنٹ ملے گا“۔ مسلمانوں کو سوچنا چاہئیے کہ اللہ کی رضا کے لیے روزہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کریں۔ہمارے ہاں سرکاری قیمتوں سے کہیں زیادہ دام وصول کیے جا رہے ہوتے ہیں اور یہ بڑھتی ہوئی قیمتیں رمضان میں عام لوگوں کے لیے مشکلات پیدا کرتی ہیں۔ مہنگائی کی وجوہات میں اگرچہ ایک طلب میں اضافہ بھی ہے چونکہ رمضان میں افطاری اور سحری کے لیے خاص اشیاء کی طلب بڑھ جاتی ہے جس کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے دکاندار قیمتیں بڑھا دیتے ہیں۔کچھ تاجر منافع کمانے کی غرض سے اشیاء کا ذخیرہ کر لیتے ہیں جس سے سپلائی کم ہو جاتی ہے اور قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔تاجر حضرات مذہبی جذبات کا فائدہ اٹھا کر من مانی قیمتیں وصول کرتے ہیں۔اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ عام شہری خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ سحری اور افطاری کا ضروری سامان خریدنے میں دشواری کا شکار ہو جاتے ہیں.لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوتی ہے اور مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ حکومت کو قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف مؤثر کارروائی کرنی چاہئیے۔عوام کو بھی خیال کرنا چاہیے:مہنگائی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے اور ایسی دکانوں کا بائیکاٹ کرنا چاہیے جو ناجائز منافع خوری کریں.عوام کو حکومتی سستے بازاروں سے خریداری کرنی چاہیے اور مہنگائی کی شکایت پر متعلقہ حکام کو اطلاع دینی چاہیے۔عجیب بات ہے کہ ہمارے ملک کی اکثریتی آبادی مسلمانوں کی ہے پھر بھی رمضان میں مسلمانوں کے لیے مہنگائی کی مصیبت۔دنیا بھر میں جب کسی قوم کا مذہبی تہوار آتا ہے تو اشیاء کی قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں، ڈسکاؤنٹ اور سیل لگا دی جاتی ہیں مگر ہمارے مسلمان ملک میں ایسا نہیں ہوتا۔ جو چیز پورا سال نا بِک سکے اسے رمضان میں بیچا جاتا ہے۔کپڑے، جوتے کے ساتھ ساتھ اشیاء خوردونوش کی قیمتوں ہیں ہوشربا اضافہ ہو جاتا ہے۔رمضان المبارک کے آخری عشرے میں تو مہنگائی اپنے عروج پر ہوتی ہے۔جہاں روزے دار چینی،چکن، پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میں اضافے سے پریشان ہوتے ہیں وہیں بچوں کے لیے نئے کپڑے، جوتے خریدنے سے قاصر ہوتے ہیں۔صاحبِ حیثیت لوگوں کو بھی خیال رکھنا چاہئیے کہ جب وہ اپنے بچوں کے لیے چارچار،پانچ پانچ جوڑے کپڑے خریدیں تو اپنے کسی نادار رشتہ دار یا پڑوسی کے بچے کے لیے بھی ایک جوڑا کپڑے، جوتے لے لیں۔اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اس ماہ میں غریبوں، یتیموں، بیواؤں اور مسکینوں کے ساتھ ایثار اور ہمدردی کامعاملہ کیا جائے۔ہمیں ذہن میں رکھنا چاہئیے کہ صدقہ وخیرات کرنے سے ممکن ہے کہ اللہ کے کسی بندے کا دل خوش ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اس کو قبول فرمائے اور ہمارا مقصد پورا ہوجائے۔یہ بھی ہو سکتا ہےکہ ہماری نماز، ہمارے روزے،ہماری تلاوت اور ہماری دیگر عبادات میں کوئی کمی رہ گئی ہو یا اس قابل نہ ہوں کہ وہ قبولیت کامقام حاصل کرسکیں تو اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ انہیں قبول فرمالیں۔اس لیے اس ماہ میں ہمیں پوری طرح خیرات و صدقات کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ماہِ رمضان کی عظمتوں ، برکتوں اور خصوصیتوں کا تقاضا یہ ہے کہ ہر مسلمان اس کی حرمت کا پورا لحاظ رکھے کہ رمضان رحمتیں اور برکتیں لےکر آتا ہے اس لیے اسلامی شریعت کے منافی کوئی کام نا کریں۔ہمارے معاشرہ میں ہر سطح پر ایک اور عجیب و غریب وبا پھیل چکی ہے کہ جہاں رمضان المبارک قریب آیا وہاں عام ضرورت کی اشیاء بہت مہنگی ہو جاتی ہیں یا بنیادی ضرورت کی چیزوں کی قلت پیدا کردی جاتی ہے اور پھر منہ مانگے دام وصول کیے جاتے ہیں۔اشیائے ضرورت کا اس لیے ذخیرہ کر لینا تا کہ مصنوعی قلت پیدا کرکے منہ مانگے دام وصول کئے جائیں جس سے مصنوعی قلت پیدا کی جاتی ہے اور نتیجتاً مہنگائی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ذخیرہ اندوزی سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص غلہ یا کوئی اور جنس بڑی مقدار میں اس لیے اکٹھی کرلے یا دوسرے سے خرید کر اس لیے جمع کرلے کہ بازار میں اس کی کمی واقع ہو اور مہنگائی ہوجائے اور تمام خریدار و ضرورت مند اسی کی طرف رجوع کریں اور خریدار مجبور ہو کر ذخیرہ اندوزی کرنے والے کو اس کی مقررکردہ قیمت ادا کرے۔
”حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نفع کمانے والے کو رزق دیا جاتا ہے اور ذخیرہ اندوزی کرنے والے پر لعنت ہوتی ہے۔“ تعلیماتِ اسلامی سے یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ ذخیرہ اندوزی کتنا گھناؤنا فعل وہ بھی رمضان المبارک کے بابرکت مہینہ میں! بطورمسلمان ہم زیادہ سے زیادہ منافع کمانے کے چکر میں ذخیرہ اندوزی اور خودساختہ مہنگائی کا سبب بنتے ہیں جو انتہائی شرمناک عمل ہے۔ان مبارک ساعتوں کا تقاضا تو یہ ہے کہ انسان زیادہ سے زیادہ ثواب کمائے:صدقہ و خیرات کرے،روزہ داروں کی افطاری کروائے، پڑوسی کا خاص خیال رکھے، غریب و نادار لوگوں کی مالی معاونت کرے تاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں،روزہ داروں کے لیے آسانیاں پیدا کرے اور اپنے گنا ہوں سے معافی مانگے اور اپنی مغفرت کے لیے زیادہ سے زیادہ عبادات کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جبرئیل ؑ کی اس بددعا پر آمین بھی فرمائی کہ ”برباد ہو وہ شخص جس نے رمضان کا مہینہ پایا اور پھر بھی اس کی مغفرت نہ ہوئی۔“اس لیے ہمیں اس بات کا خیال رکھنا چاہئیے یہ بابرکت مہینہ نیکیاں کمانے کا ہے نا کہ دولت۔یہ بابرکت مہینہ اپنے گناہوں کی بخشش کا موقع ہے نا کہ مال بنانے کا۔یہ بابرکت مہینہ جنت کے حصول کا ذریعہ ہے نا کہ دنیاوی عیش و عِشرت کا۔اللہ پاک ہمیں حقیقی معنوں میں رمضان کی اہمیت و فضیلت سمجھتے ہوئے نیک اعمال کرنے اور گناہوں کی بخشش طلب کرنے والا بنائے۔ آمین

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں