قیوم نظر کی نظم نگاری کے 5 اہم پہلو، سوانحی خاکہ اور ادبی خدمات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں قیوم نظر کا نام ایک ایسے درخشاں ستارے کی مانند ہے جس نے جدید نظم کو وہ عروج بخشا جس کا ایک زمانے میں محض تصور ہی کیا جاتا تھا۔ جب غزل کی شاندار روایت اپنے عروج پر تھی، تو ناقدین یہ سمجھتے تھے کہ برصغیر کے مخصوص مزاج میں نظم کبھی مقبولیت حاصل نہیں کر سکے گی۔
تاہم، اردو نظم نے تمام تر قیاس آرائیوں کو غلط ثابت کرتے ہوئے زبردست ترقی کی۔ اس ارتقائی سفر میں شعراء جب زندگی کے تلخ حقائق، سماجی مسائل اور معاشرتی پیچیدگیوں کو بیان کرنے لگے، تو شاعری میں مبلغانہ انداز غالب آ گیا۔
اس دور میں مادیت اور خارجیت کو ہی نظم کی اصل روح سمجھ لیا گیا، جس کے نتیجے میں شاعری کا سب سے اہم جزو یعنی داخلیت پس منظر میں جانے لگی۔ ناقدین اس بات پر متفق ہیں کہ شاعری میں داخلی احساسات کی وہی اہمیت ہے جو انسانی جسم میں روح کی ہوتی ہے۔
قیوم نظر اور ترقی پسند دور میں داخلیت کی واپسی
تخیل کی بلند پروازی اور سچے جذبات کے بغیر کوئی بھی نظم محض ایک صحافتی تحریر یا وعظ بن کر رہ جاتی ہے۔ جب ترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر شاعری سے داخلی جوہر چھن رہا تھا، اس وقت قیوم نظر نے اردو نظم کو اپنے گہرے داخلی احساسات کے قیمتی زیور سے آراستہ کیا۔
انہوں نے اپنی شاعری کو انسانی زندگی کے درد، کرب اور موروثی تکالیف سے ہم آہنگ کیا۔ ان کے کلام میں چھائی ہوئی مایوسی، افسردگی اور انسانی مسرتوں پر منڈلاتے ہوئے غم کے بادلوں کی تصویر کشی انتہائی مہارت سے کی گئی ہے۔
اگرچہ ان کا اندازِ بیاں سراسر ان کی ذاتی اور داخلی کیفیات کا عکاس ہے، لیکن قاری جب ان کی نظموں کے سمندر میں اترتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ یہ پوری انسانیت کے اجتماعی دکھوں کا نوحہ ہے۔
غم اور بے بسی کی شعری لذت
قیوم نظر دراصل معاشرے کے ہر اس فرد کے ترجمان بن کر ابھرے جو زندگی کی تکالیف میں مبتلا ہے۔ ان کا قاری ان کی شاعری میں اپنے ہی دکھوں کا عکس دیکھتا ہے۔ وہ روایتی انداز میں غم سے لڑنے یا اسے ختم کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔
اس کے برعکس، وہ اپنے درد سے ایک عجیب سی لذت کشید کرتے ہیں اور ان تلخ حقیقتوں کے ساتھ جینا سیکھ لیتے ہیں۔ زندگی کا ہر پہلو انہیں ایک نئے غم سے روشناس کراتا ہے، یہاں تک کہ وہ خود کو بے بس تسلیم کر لیتے ہیں۔
اپنی مشہور نظم ”بے بسی“ میں انہوں نے اسی کیفیت کو اپنی معراج قرار دیا ہے۔ انہوں نے جوانی کی بھرپور توانائی کے دور میں بھی نئے اور روایتی موضوعات کے بجائے اسی درد و کرب کو اپنا شعری شعار بنائے رکھا، جو بعد میں ان کی پہچان بن گیا۔
اپنی تصنیف ’پون جھکولے‘ کے ابتدائیے میں وہ اپنے کلام کے بارے میں لکھتے ہیں:
"اس مجموعے کے متعدد گیت میری زندگی کے اتنے قریب اور اس کے بعض واقعات سے اس قدر وابستہ ہیں کہ مجھے ان کو منظر عام پر لانے میں تامل تھا۔ چنانچہ میں ان کو ابھی (یا شاید کبھی) شائع نہ کرنا چاہتا تھا لیکن ناشر کے ساتھ میرے مراسم نے میرے ارادوں کو کامیاب نہ ہونے دیا۔”
اس اقتباس سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس طرح اپنے ذاتی دکھوں کو شاعری کا لباس پہنایا۔ ان کے مجموعہ کلام ’قندیل‘ کی مختلف نظموں میں یہ رنگ نمایاں ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ ان کی نظموں میں اس کیفیت کا گہراؤ بڑھتا گیا، جسے ان کے شعری مجموعے ’سویدا‘ میں واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ عمر کے بڑھنے اور یادوں کے ہجوم نے ان کے غم میں اضافہ کیا، اور وہ شعوری طور پر اس درد سے محظوظ ہونے لگے۔
قیوم نظر کی فطرت نگاری کا منفرد انداز
اردو ادب میں فطرت نگاری ہمیشہ سے ایک مقبول موضوع رہا ہے، جس کا باقاعدہ آغاز انجمن پنجاب کی تحریک سے ہوا۔ ہر شاعر نے اپنے مخصوص انداز میں مناظرِ قدرت کی عکاسی کی ہے۔
قیوم نظر کی شاعری میں بھی مناظرِ فطرت کی خوبصورت جھلکیاں ملتی ہیں، لیکن ان کا طرزِ بیان دیگر شعراء سے یکسر مختلف اور نرالا ہے۔ ان کے ہاں قدرت کی خوبصورتی بھی ان کے داخلی غم کو مہمیز کرتی ہے۔
اس منفرد انداز کا مشاہدہ ان کی مشہور نظموں ”برسات کی ایک رات“ اور ”یہ ہوا“ میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کی ایک نظم کے اشعار کچھ یوں ہیں:
اب بندھ گیا تار آنسوؤں کا
روتی ہے عجب سادگی سے
پر ہول مہیب دل شکستگی سے
نمناک ہوتے ہیں خار و خاشاک
دل چاک ہوا کلی کلی کا
بڑھنے لگا درد زندگی کا
(برسات کی ایک رات)
حلقہ ارباب ذوق میں قیوم نظر کی 3 شاندار خدمات
قیوم نظر نے اردو نظم کو مادیت کی جکڑ بندیوں سے آزاد کر کے ایک نئی جہت متعارف کرائی۔ وہ حلقہ ارباب ذوق کے صفِ اول کے اور متحرک رہنماؤں میں شمار ہوتے تھے۔
معروف محقق عزیز احمد، حلقہ ارباب ذوق کے حوالے سے ان کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اپنی کتاب (ترقی پسند ادب، ص ۱۶۲) میں لکھتے ہیں:
"قیوم نظر حلقہ ارباب ذوق کی فعال اور متحرک شخصیت رہے اور انہوں نے حلقے کی تحریک کو فنی لحاظ سے توانا بنانے میں شاید سب سے زیادہ خدمات سرانجام دیں۔ یوسف ظفر کی عطا یہ ہے کہ انہوں نے جلسے کے اختتام پر پڑھی جانے والی نظموں اور غزلوں کے تفریحی پہلو کو ختم کیا اور مضامین کی طرح شاعری پر بھی تنقیدی بحث کی ابتداء کی۔”
قیوم نظر کی سوانح عمری اور ادبی سفر
ممتاز جدیدیت پسند شاعر، نقاد اور ڈرامہ نویس قیوم نظر (جن کا اصل نام عبدالقیوم تھا) 7 مارچ 1914 کو تاریخی شہر لاہور میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام خواجہ رحیم بخش تھا۔
وہ اردو کے ان مایہ ناز ادیبوں میں شامل ہیں جنہوں نے حلقہ ارباب ذوق کی بنیاد رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے دیگر ہم عصر ساتھیوں میں میرا جی، ن۔ م راشد، حفیظ ہوشیار پوری، سید نصیر احمد جامعی، اور حمید نظامی جیسے بڑے نام شامل تھے۔
ابتدائی حالات، تدریس اور وفات
وہ حلقہ ارباب ذوق کے پہلے معتمد عمومی (جنرل سیکرٹری) منتخب ہوئے اور 1944 سے لے کر 1951 تک اس عہدے پر فائز رہے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج میں اردو اور پنجابی زبان کے شعبوں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے۔
ان کا انتقال جون 1989 میں کراچی میں ہوا، جس کے بعد انہیں لاہور کے مشہور قبرستان میانی صاحب میں سپردِ خاک کیا گیا۔
مشہور تصانیف اور ادبی کارنامے
ان کی پہلی غزل 1933 میں شائع ہوئی۔ وہ کلاسیکی شعراء خصوصاً میر تقی میر اور فانی بدایونی کی روایات سے بے حد متاثر تھے۔ انہوں نے اردو غزل کو ایک نیا اور جدید لب و لہجہ دیا۔
سیاحت کے شوقین ہونے کے ناطے، ان کے ہاں فطرت کے تجربات بالکل اچھوتے ہیں۔ انہوں نے اپنی اردو غزلوں اور نعتوں کا پنجابی میں شاندار ترجمہ بھی کیا۔ ان کی مشہور تصانیف میں شامل ہیں:
- پون جھکولے
- قندیل
- سویدا
- واسوخت
- زندہ ہے لاہور
- اردو نثر انیسویں صدی میں
- امانت
- قلب و نظر کے سلسلے (کلیات)
اس کے علاوہ انہوں نے بچوں کے ادب میں بھی حصہ لیا اور "بلبل کا بچہ” کے نام سے ایک مقبول کتاب تحریر کی۔ احمد سہیل کے ایک مضمون بعنوان "قیوم نظر: اردو شاعری کے روایتی لہجے اور جدید شعری حسیات کا حسین امتزاج” میں ان کے اس ادبی سفر کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا ہے۔
قیوم نظر کی مشہور نظمیں (فہرست)
ان کی کل 61 مشہور نظمیں ہیں جن میں سے چند معروف درج ذیل ہیں:
- بلبل کا بچہ
- بے بسی (ایک بے کیف شام کے بس میں)
- جوانی (تو نے دیکھا ہے اسے)
- ایک نظم (رات کے خوابوں کا اک طرفہ سماں ہوتا ہے)
- جہاں میں ہوں
- خواب کار (میں نے خوابوں کے حسیں جال بنے)
- ترغیب (مسلسل ہوا نے)
- عشق گریزاں (سرد ہو چکی محفل)
- چاند چمکنے لگتا ہے (اونچے اونچے پیڑ کھڑے ہیں چیلوں کے)
- خلش تاثر (خاموش ہوا بھیڑوں کا گلہ چلتے چلتے ممیا کر)
- داشتہ… وغیرہ
بچوں کے لیے ان کی خوبصورت نظم:
"بھولی چِڑیا”
سُن ری چِڑیا بھولی بھالی
تُو پھرتی ہے ڈالی ڈالی
تیرے پیچھے تیرے بچے
ننھی ننھی چونچیں کھولے
تُجھ کو بُلائیں چُوں چُوں کر کے
کالا کوا ہر دَم بُھوکا
اُن کو دیکھے چُھپ کر بیٹھا
تُو جلدی سے گھر واپس جا
قومی و صوفیانہ کلام (ریڈیو پاکستان لاہور کی پیشکش)
نگری داتا کی۔۔۔جگ جگ جی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
جگ جگ جی۔۔۔جگ جگ جی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
تیرے گلی کوچوں، بازاروں ،گلزاروں میں چمکا
ذکرِ حقیقت کا حق کی عظمت کا سکّہ دمکا
تو نے دی اپنے متوالوں کو جرأت بے باکی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
جگ جگ جی۔۔۔جگ جگ جی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
تیری فضاؤں میں گونجے ہیں نغمے آزادوں کے
تیرے آگے ہیچ ہوئے ہیں حیلے صیادوں کے
تیرے فرزانوں سے عریاں دشمن کی چالاکی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
جگ جگ جی۔۔۔جگ جگ جی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
تیرے جواں مردوں کی تاب کہاں لاسکتا کوئی
تجھ سے الجھ کر دشمن کی ہے قسمت پھوٹ کے روئی
تیرے نوری دامن تک کب پہنچے ہندی خاکی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
جگ جگ جی۔۔۔جگ جگ جی
نگری داتاؒ کی جگ جگ جی
(گلوکاران: سلیم رضا، سائیں اختر حسین، منیر حسین و کورس | موسیقی: سلیم حسین)
ایک مشہور غزل کے اشعار
آپ کیوں چھیڑتے ہیں دیپک راگ
شہر میں لگ رہی ہے خود ہی آگ
اٹھ رہا ہے حریم دل سے دھواں
لٹ رہا ہے سہاگنوں کا سہاگ
شعلہ ساماں ہوئی ہے تاریکی
کیسے جاگے ہیں روشنی کے بھاگ
جانے کس کس ہوس کو دیں گے جنم
بوتلوں کے اڑا چکے جو کاگ
لاگ میں تھی کبھی لگاؤ کی شان
اب لبوں میں لگاؤ کی ہے لاگ
کف دریا کا دیکھیے انجام
بے سبب لائیے نہ منہ جھاگ
جاتے لمحے دہائی دیتے ہیں
نئے اطوار کے طریق پہ جاگ
مسکراتا ہے کھیت سرسوں کا
توڑتی ہیں جو گاؤں والیاں ساگ
سرکنڈوں میں ہے کینچلی اٹکی
کہیں لہرا کے چھپ گیا ہے ناگ
چاند پر جو کمند ڈالتے ہیں
مجھ سے کہتے ہیں زندگی بھی تیاگ
قیوم نظر پر لکھے گئے مقالات اور کِتابیات
ایم فل مقالہ:
- قیوم نظر:احوال و آثار ، تسنیم کوثر قریشی، نگران ڈاکٹر روبینہ ترین، علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، اسلام آباد، 1999ء
حوالہ جات و کِتابیات:
- میری بہترین نظم ، مرتبہ: محمد حسن عسکری ،الہ آباد، کتابستان 1942ء ، ص 108+175
- جناب ،محمد طفیل ، لاہور، ادارہ فروغِ اُردو، فروری 1961ء ، ص 179
- اُردو تھیٹر حصہ سوم ، ڈاکٹر عبدالعلیم نامی ، کراچی، انجمن ترقی اُردو پاکستان 1962ء ، ص 281
- 1962ء کی بہترین شاعری ،مرتبہ: ناصر کاظمی، لاہور، مکتبۂ جدید 1963ء ، ص 42
- ادبی اشارے ،ڈاکٹر سلام سندیلوی ،لاہور، عشرت پبلشنگ ہاؤس 1965ء ، ص 347
- رنگِ غزل ،مُرتّب: شہزاد احمد ،لاہور، پیکیجز لمٹیڈ 1989ء ، ص 308- 309
- پاکستانی اہلِ قلم کی ڈائریکٹری ،مرتبین: فرید احمد، حسن عباس رضا، اسلام آباد، اکادمی ادبیات پاکستان 1979ء ، ص 355
- "اچھے ادب کی تعریف ” (ادبی مذاکرہ) ، مولانا صلاح الدین احمد، مولانا حامد علی خان، ڈاکٹر محمد صادق، پروفیسر قیوم نظر۔ مرتبہ: شیما مجید ، لاہور، سنگ میل پبلی کیشنز ، 1989ء ، ص 98 – 93
- پاکستانی اہلِ قلم کی ڈائریکٹری ، نگہت سلیم ، اسلام آباد ، اکادمی ادبیات پاکستان ، ت ن ، ص 285
- شعرائے امرتسر کی نعتیہ شاعری ،محمد سلیم چودھری ، لاہور، مغربی پاکستان اُردو اکیڈمی 1996ء ، ص 256 – 255
- سُرورِ رفتہ، امیر چند بہار،پٹنہ، خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری 1998ء ، ص 304
- پاکستانی پنجابی شاعری ،شریف کُنجاہی ، لاہور، محکمہ اطلاعات، ثقافت و امورِ نوجوانان ، حکومتِ پنجاب 1999ء ، ص 152 – 151
- وفیات ناموران پاکستان ،ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ ،لاہور، اردو سائنس بورڈ 2006ء ، ص 652
- لاہور کا دبستان شاعری ، ڈاکٹر علی محمد خاں ،لاہور،نشریات 2008ء ، ص 507
رسائل:
- ماہنامہ "ہم قلم” کراچی سالگرہ نمبر شمارہ 1961ء ، ص 234
- غزل، قیوم نظر ، ” اَدبی دنیا” لاہور خاص نمبر 10 شمارہ دہم ، ص 71
نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
