قتیل شفائی کی غزل گوئی کے 10 ناقابل فراموش پہلو تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
قتیل شفائی کی غزل گوئی کا شمار اردو ادب کے ان روشن ابواب میں ہوتا ہے جہاں رومان اور ترقی پسندی ایک ساتھ پروان چڑھتے ہیں۔ پاکستان کے صفِ اول کے ترقی پسند شعرا میں ان کا نام نہایت عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔ بنیادی طور پر ان کی پہچان ایک رومانوی شاعر کی حیثیت سے ہے، لیکن اپنے عہد کی ترقی پسند تحریک کے اثرات نے ان کے قلم کو ایک نئی اور توانا جہت عطا کی۔
انہوں نے اپنی شاعری میں صرف حسن و عشق کی دل فریب داستانیں ہی بیان نہیں کیں، بلکہ معاشرے کے سیاسی اور ثقافتی مسائل کو بھی نہایت منفرد اور بانکے انداز میں پیش کیا ہے۔ نظموں، غزلوں اور فلمی نغمات کی دنیا میں ان کا فن ہر جگہ اپنی انفرادیت کا لوہا منواتا ہے۔
غزلوں میں فلمی گیتوں کی چاشنی اور جمالیاتی احساس
قتیل کی طبیعت گیت نگاری کے لیے انتہائی موزوں تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے گیتوں کا ایک مشہور مجموعہ ’ہریالی‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کی غزلوں اور نظموں میں بھی گیتوں کی مخصوص مٹھاس اور فضا محسوس کی جا سکتی ہے۔
جب وہ عورت کے روایتی زیورات مثلاً پازیب، کنگن اور جھومر کو اپنی غزل کا حصہ بناتے ہیں، تو قاری کو اس میں گیتوں کا خوبصورت رنگ نمایاں طور پر نظر آتا ہے۔ ان کی درج ذیل غزل اس طرزِ احساس کی بہترین عکاس ہے:
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
وہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہےدیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پر
یہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہےمیں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کو
تو مرے دل کے دھڑکنے کا گلا کرتا ہےرات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاں
جیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہےجب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزول
صرف اک پھول کواڑوں میں کھلا کرتا ہےکون کافر تجھے الزام تغافل دے گا
جو بھی کرتا ہے محبت سے گلا کرتا ہےلوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیلؔ
شب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے
قتیل شفائی کی غزل گوئی اور مشہور شعری مجموعے
ان کی ادبی خدمات کے نتیجے میں ان کے کل چودہ شعری مجموعے شائع ہوئے، جن میں سے آٹھ خالصتاً غزلوں پر مبنی ہیں۔ ان کے مشہور غزلیہ مجموعوں میں گجر، جلترنگ، روزن، پیراہن، گفتگو، آموختہ، برگد اور ابابیل وغیرہ شامل ہیں۔
بعد ازاں، ان تمام غزلیہ مجموعوں کو یکجا کر کے ’رنگ، خوشبو، روشنی‘ کے نام سے ایک کلیاتِ غزل کی صورت میں بھی شائع کیا گیا۔
کٹھن حالات میں حقیقت پسندی کا پرچار
جس دور میں انہوں نے شاعری کی، وہ سیاسی ابتری کے ساتھ ساتھ معاشی اور ادبی سطح پر بھی ایک مشکل ترین عہد تھا۔ ترقی پسند قلم کاروں نے ادب کو زندگی کے تلخ حقائق کے قریب تر کر دیا تھا۔ قتیل شفائی کی غزل گوئی میں بھی اپنے وقت کے انسانوں کی محرومیوں اور مایوسیوں کا عکس بڑی گہرائی سے جھلکتا ہے۔
ترقی پسندی کی اصل بنیاد چونکہ حقیقت پسندی پر استوار ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے جھوٹ کی نفی کی اور سچ بولنے کا حوصلہ بخشا۔ ذیل کا شعر ان کی اسی سوچ کا غماز ہے:
اے مرے محتسب مجھے، کیسے کرے گا تو پسند
میں ہوں صداقتوں کا جام، تلخ ہے ذائقہ مرا
ان کی ایک اور معرکہ الآرا غزل سماجی تلخیوں کو یوں بیان کرتی ہے:
نہ کوئی خواب ہمارے ہیں نہ تعبیریں ہیں
ہم تو پانی پہ بنائی ہوئی تصویریں ہیںکیا خبر کب کسی انسان پہ چھت آن گرے
قریۂ سنگ ہے اور کانچ کی تعمیریں ہیںلٹ گئے مفت میں دونوں، تری دولت مرا دل
اے سخی! تیری مری ایک سی تقدیریں ہیںہم جو نا خواندہ نہیں ہیں تو چلو آؤ پڑھیں
وہ جو دیوار پہ لکھی ہوئی تحریریں ہیںہو نہ ہو یہ کوئی سچ بولنے والا ہے قتیلؔ
جس کے ہاتھوں میں قلم پاؤں میں زنجیریں ہیں
زبان کی سادگی اور ترقی پسند نظریہ
ترقی پسند تحریک کا ایک بنیادی اصول یہ تھا کہ عوامی مسائل کو بیان کرنے کے لیے مشکل استعاروں اور پیچیدہ تشبیہات سے گریز کیا جائے اور بات کو سادہ، عام فہم انداز میں عوام تک پہنچایا جائے۔ قتیل شفائی اس نظریے کے سچے پیروکار تھے۔ ان کے اشعار میں سادگی اور برجستگی کا عنصر غالب رہتا ہے۔
علی سردار جعفری کی تنقیدی نگاہ
ان کے ادبی مرتبے اور اسلوب کے حوالے سے ممتاز نقاد اور شاعر علی سردار جعفری نے اپنی رائے کا اظہار کچھ یوں کیا ہے:
"قتیل عشق کے قبیلے کا نہایت بانکا شاعر ہے جس کے اشعار میں معشوق کے بدن کی خوشبو ہے لیکن یہ عشق و محبت کی دنیا مسائل کا ئنات سے بے نیاز نہیں ہے۔ اس کے الفاظ ، نرم، سبک اور نازک ہیں ۔ اس کی بحریں مترنم ہیں اور لہجہ مہذب اور شاداب ۔ شاعری میں کلاسیکی لطافتیں عصر حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہیں۔ ان تمام خوبیوں کے باوجود سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کا احساس خالصتا قتیل شفائی کا احساس ہے جو انسانیت کا درد آشنا ہے ۔”
(حوالہ: رنگ، خوشبو روشنی (کلیات) قتیل شفائی – ص ۷۳)
ذات کے کرب سے غمِ کائنات تک کا سفر
اپنے ادبی سفر کے آغاز میں انہیں ایک شدید اضطرابی اور بے چین ادبی ماحول ملا۔ ترقی پسند مفکرین سماج میں انسان دوستی، مساوات اور امن کے قیام کے لیے کوشاں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ قتیل شفائی کی غزل گوئی صرف غمِ جاناں یا ذاتی دکھوں تک محدود نہ رہی، بلکہ اس نے کائنات کے آفاقی دکھوں کو بھی سمیٹ لیا۔
یہی دل فریب تجلیاں مجھے دو جہاں سے عزیز ہوں
مگر اے جمال سحر نما مرا گھر جو تیرہ و تار ہےغم ذات سے مری زندگی غم کائنات میں ڈھل گئی
کسی بزم ناز میں کھو کے بھی مجھے کائنات سے پیار ہے
انہوں نے اپنی غزل کو ہر طرح کے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ سرمایہ دارانہ نظام کے استحصال پر طنز ہو، محبوب کی شوخیاں ہوں یا زمانے کے کٹھن حالات، سب ان کے اشعار میں بخوبی ڈھل گئے۔ ان کے کلام میں غنائیت، ندرتِ خیال اور رچاؤ کی وہ چاشنی اور جمالیاتی توانائی موجود ہے جس کی نظیر اردو ادب میں کم ہی ملتی ہے۔
ابتدائی زندگی، خاندانی پس منظر اور تعلیم
1919ء میں ہزارہ ڈویژن کے معروف شہر ہری پور میں آنکھ کھولنے والے اس عظیم شاعر کا اصل نام محمد اورنگ زیب تھا۔ بچپن میں ہی والد کی شفقت سے محروم ہو گئے۔
اپنی آپ بیتی میں اپنے خاندانی ماحول کا ذکر کرتے ہوئے وہ بتاتے ہیں کہ ان کا آبائی علاقہ قدرتی مناظر سے تو مالامال تھا لیکن علم و ادب کے لحاظ سے ایک بنجر خطہ تھا۔ ان کا خاندان، جو کہ تاجر پیشہ اور لکھ پتی تھا، فقط دولت کے حصول یا انگریز حکومت کے درباروں تک رسائی کی دوڑ میں شامل تھا۔ تعلیم نہ ہونے کے باعث وہ سرکاری عہدوں تک تو نہ پہنچ سکے، البتہ ان کے خاندان کے لوگ مقامی میونسپلٹی کے پریذیڈنٹ ضرور بنے۔
ادبی شعور کی بیداری
اس غیر ادبی ماحول میں، باہر سے آنے والے پرچوں نے ان میں شعور کی شمع روشن کی۔ مولانا ظفر علی خاں کی نظمیں جو اخبار ’زمیندار‘ میں چھپتی تھیں اور علامہ اقبال کے احوال نے انہیں متاثر کیا۔ بعد ازاں اختر شیرانی کی رومانوی شاعری نے پورے علاقے کے نوجوانوں کو اپنی گرفت میں لے لیا۔
اپنے قلمی نام کے بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ ’قتیل‘ ان کا تخلص تھا جبکہ ’شفائی‘ کی نسبت انہوں نے اپنے استاد حکیم محمد یحییٰ شفا کانپوری کے احترام میں اختیار کی، اور اسی نام سے دنیا بھر میں شہرت پائی۔
والد کی دوسری شادی اور قتیل کی پیدائش
اپنی سوانح حیات میں وہ لکھتے ہیں کہ ان کے والد کی پہلی شادی سے طویل عرصے تک کوئی اولاد نہ ہوئی۔ بالآخر خاندانی دباؤ پر انہیں دوسری شادی کرنی پڑی۔ اس دوسری بیوی کے بطن سے محمد اورنگ زیب (قتیل) پیدا ہوئے۔ چونکہ وہ والد کی پہلی اولاد تھے، اس لیے ان کی پیدائش پر گھر میں زبردست جشن منایا گیا۔ ان کے بعد ایک بہن پیدا ہوئی اور بعد میں قدرت کا کرشمہ ایسا ہوا کہ پہلی بیوی سے بھی ایک بچہ پیدا ہوا جو اس گھر کی آخری اولاد تھا۔
شعر و سخن کا باقاعدہ آغاز اور پہلا مشاعرہ
اسکول کے دور میں ہی ان کے اندر چھپا ہوا شاعر بیدار ہونے لگا تھا۔ بزمِ ادب میں بطور سیکرٹری ان کا انتخاب ہوا۔ مقابلوں میں ملنے والی داد نے انہیں احساس دلایا کہ ان کے اندر کوئی ایسی تخلیقی قوت موجود ہے جو باہر آنا چاہتی ہے۔
ان کے لیے یہ امر ہمیشہ قابلِ فخر رہا کہ اپنے علاقے کا سب سے پہلا مشاعرہ 1939ء میں انہوں نے ہی منعقد کروایا تھا، جو علامہ اقبال کی پہلی برسی کے موقع پر ترتیب دیا گیا تھا۔ آج وہ علاقہ بہترین شعرا پیدا کر رہا ہے۔
فلمی نغمہ نگار کے طور پر لافانی سفر
اگرچہ ان کا فلمی کیریئر نصف صدی پر محیط رہا اور انہیں بے پناہ مقبولیت بخشی، لیکن انہوں نے ہمیشہ یہ موقف اپنایا کہ فلمی گیت لکھنا محض روزگار کا ذریعہ ہے، جبکہ ان کا اصل اور حقیقی میدان شعر و ادب ہے۔
انہوں نے اپنی زندگی میں بیس سے زائد شعری مجموعے دیے جن میں مطربہ، چھتنار، اور جھومر بھی شامل ہیں۔ کتاب ’مطربہ‘ پر انہیں باوقار آدم جی ادبی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
پاکستانی اور بھارتی سینما میں خدمات
پاکستان کی سب سے پہلی فلم ’تیری یاد‘ کے گیت قتیل شفائی کے ہی قلم کا شاہکار تھے۔ انہوں نے فلموں کے لیے 2000 سے زیادہ نغمات تخلیق کیے۔ ان کے چند سدا بہار گیت یہ ہیں:
- صدا ہوں اپنے پیار کی
- اے دل کسی کی یاد میں ہوتا ہے بے قرار کیوں
- یوں زندگی کی راہ سے ٹکرا گیا کوئی
- دل دیتا ہے رو رو دہائی، کسی سے کوئی پیار نہ کرے
- حسن کو چاند، جوانی کو کنول کہتے ہیں
ان کی فنی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان نے انہیں 1994ء میں تمغائے حسنِ کارکردگی عطا کیا۔
ان کے لکھے ہوئے نغمات کو سرحد پار بھی بے پناہ پسند کیا گیا۔ اپنے آخری دور میں انہوں نے بھارتی فلموں کے لیے بھی شہرہ آفاق گیت لکھے، جن میں "تیرے در پر صنم چلے آئے” اور "سنبھالا ہے مَیں نے بہت اپنے دل کو” آج بھی زبان زدِ عام ہیں۔
وفات اور آخری آرام گاہ
اردو ادب اور فلمی صنعت کا قیمتی سرمایہ اور دمکتا ہوا ستارہ 11 جولائی 2001ء کو لاہور میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔ انہیں لاہور کے علامہ اقبال ٹاؤن کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔
ان کی غزل کے چند ایسے اشعار جو آج بھی دلوں پر راج کرتے ہیں، اور عوام میں بے حد مقبول بھی ہیں ، ملاحظہ کیجیے:
یہ معجزہ بھی محبت کبھی دکھائے مجھے
کہ سنگ تجھ پہ گرے اور زخم آئے مجھے
اور ان کی یہ مشہورِ زمانہ غزل بھی قتیل شفائی کی غزل گوئی کی بے مثال روانی کی گواہ ہے:
گرمیٔ حسرت ناکام سے جل جاتے ہیں
ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیںشمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لیے
ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیںبچ نکلتے ہیں اگر آتش سیال سے ہم
شعلۂ عارض گلفام سے جل جاتے ہیںخود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ وفا
جن کو جلنا ہو وہ آرام سے جل جاتے ہیںربطِ باہم پہ ہمیں کیا نہ کہیں گے دشمن
آشنا جب ترے پیغام سے جل جاتے ہیںجب بھی آتا ہے مرا نام ترے نام کے ساتھ
جانے کیوں لوگ مرے نام سے جل جاتے ہیں
نظر ثانی و تصحیح: کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
