پنڈت برج نارائن چکبست کی نظم نگاری، حب الوطنی اور مشترکہ تہذیب کا درخشاں ستارہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو شاعری کی تاریخ کا جب بھی مطالعہ کیا جائے گا، اس میں روایتی لب و لہجے سے ہٹ کر مقصدی شاعری کی طرف سفر ایک انتہائی اہم باب تصور ہوگا۔ مولانا الطاف حسین حالی اور محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کے پلیٹ فارم سے جدید اور بامقصد نظم نگاری کی جو بنیاد رکھی تھی، اسے بعد میں آنے والے باکمال فنکاروں نے اپنے خونِ جگر سے سینچا۔ انہی معماروں میں ایک انتہائی معتبر اور قد آور نام پنڈت برج نارائن چکبست کا ہے، جنہوں نے مبالغہ آرائی اور لفاظی کے بجائے حالاتِ حاضرہ، قومی بیداری اور حب الوطنی کو اپنی شاعری کا مرکز بنایا۔
وحید الدین سلیم، صفی لکھنوی، نظم طباطبائی اور سرور جہان آبادی کے ہمراہ چکبست نے اردو نظم کو ایک نئی فکری جہت عطا کی۔ ان کا لکھنوی اندازِ بیاں اور اردو زبان پر کامل دسترس انہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتی ہے۔
سوانحی خاکہ اور ابتدائی حالاتِ زندگی
برج نارائن چکبست کا تعلق ایک انتہائی پڑھے لکھے اور خوشحال کشمیری برہمن گھرانے سے تھا۔ ان کی پیدائش اور خاندانی پس منظر کے حقائق کچھ یوں ہیں:
- اصلی نام: پنڈت برج نارائن
- قلمی نام و تخلص: برج نرائن چکبست / چکبست
- تاریخ و مقامِ پیدائش: 19 جنوری 1882ء، فیض آباد (بعد ازاں خاندان لکھنؤ منتقل ہو گیا)
- تاریخ و مقامِ وفات: 12 فروری 1926ء، رائے بریلی اسٹیشن (فالج کے حملے کے باعث)
- پہلی شادی: 1905ء میں پرتھوی ناتھ ناگو کی صاحبزادی سے ہوئی۔
- دوسری شادی: 1907ء میں پنڈت سورج ناتھ آنا کی دختر کھیما دیوی سے ہوئی۔
خاندانی پس منظر اور تعلیم
چکبست کے والد کا نام پنڈت ادت نارائن شیو پوری تھا، جو پٹنہ میں ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر فائز تھے۔ وہ خود بھی ایک مشاق شاعر تھے اور ’یقین‘ تخلص کیا کرتے تھے۔ معروف محقق کالی داس گپتا رضا کو ان کے والد کے بائیس (22) اشعار ملے ہیں، جو ’کلیاتِ چکبست‘ میں شامل کیے گئے ہیں۔ ان کے والد ترن ناتھ بخشی دریا لکھنوی سے اپنی شاعری پر اصلاح لیا کرتے تھے۔ ان کا ایک خوبصورت شعر درج ذیل ہے:
نگاہِ لطف سے اے جاں اگر نظر کرتے
تمہارے تیروں سے سینہ کو ہم سپر کرتے
بدقسمتی سے جب چکبست محض پانچ برس کے تھے تو 1887ء میں ان کے والد کا سایہ سر سے اٹھ گیا۔ ان کی پرورش اور تعلیم کی ذمہ داری ان کے بڑے بھائی پنڈت مہاراج نارائن چکبست نے اٹھائی۔ چکبست نے انتہائی محنت سے تعلیم حاصل کی اور 1908ء میں قانون (Law) کی ڈگری حاصل کر کے لکھنؤ میں وکالت کا آغاز کیا، جہاں ان کا شمار صفِ اول کے وکلا میں ہونے لگا۔
ادبی سفر کا آغاز اور شعری پختگی
چکبست نے محض نو (9) برس کی عمر میں شعر کہنا شروع کر دیا تھا اور پہلی صنف جس میں طبع آزمائی کی وہ غزل تھی۔ صرف بارہ سال کی عمر (1894ء) میں انہوں نے کشمیری پنڈتوں کی ایک کانفرنس (اجلاس) میں اپنی پہلی باقاعدہ نظم ’حبِ قومی‘ پیش کر کے زبردست داد وصول کی۔ اس وقت تک ان کے کلام میں حیرت انگیز پختگی آچکی تھی۔
انہوں نے شاعری میں افضل علی خاں افضل کی شاگردی اختیار کی۔ ادبی دنیا میں ان کی قابلیت کا لوہا اس وقت مانا گیا جب انہوں نے پنڈت دیا شنکر نسیم کی مشہور مثنوی ’گلزارِ نسیم‘ کے دفاع میں مولانا عبدالحلیم شرر لکھنوی سے ایک طویل اور تاریخی ادبی مباحثہ کیا۔ اس علمی معرکے میں چکبست کے دلائل اس قدر مضبوط تھے کہ ادبی حلقوں میں ان کا پلہ بھاری تصور کیا گیا۔
اساتذہ میں وہ خواجہ حیدر علی آتش، مرزا غالب، اور میر انیس کے کلام کے بے حد شیدائی تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی غزلوں پر آتش کا رنگ اور ان کی مسدس نگاری پر میر انیس کے اسلوب کا گہرا اثر نظر آتا ہے۔ معروف نقاد فراق گورکھپوری نے بجا طور پر کہا ہے کہ چکبست کی شاعری دراصل میر انیس کی انسان دوست (Humanistic) شاعری ہی کی توسیع ہے۔
تصنیفات و تالیفات کا جائزہ
چکبست نے اپنی مختصر لیکن بھرپور ادبی زندگی میں کئی اہم کتب اور مضامین یادگار چھوڑے۔ ان کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں:
- مرقع عبرت و خاکِ ہند (1909ء)
- کملا (ایک ناٹک / ڈرامہ – 1915ء)
- گوکھلے کی تقریریں (1917ء)
- صبح وطن (1927ء – یہ شعری مجموعہ ان کی وفات کے بعد شائع ہوا، جو پانچ حصوں پر مشتمل ہے)
- مضامینِ چکبست (1936ء – ان کی نثری قابلیت، تنقیدی شعور اور تاریخی نظر کا شاہکار)
- انتخاب آتش و غالب (1980ء)
- کلیاتِ چکبست (جسے 1981ء میں کالی داس گپتا رضا نے مرتب کیا)
- انتخاب مضامین چکبست (1984ء)
- روحِ چکبست (سیاسی نظموں اور غزلوں کا انتخاب – 1988ء)
- انتخاب منظومات برج نرائن چکبست (1989ء)
چکبست کی شاعری کے مرکزی موضوعات
1. حب الوطنی اور قومی بیداری
چکبست کی شاعری کا سب سے روشن پہلو ان کا جذبہ حب الوطنی ہے۔ انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے اوائل میں جب ہندوستان انگریزوں کے جبر و استبداد کا شکار تھا، اس وقت چکبست نے اپنی شاعری کو قوم کی بیداری کا ہتھیار بنایا۔ ان کی نظموں میں ملک کا درد، غلامی کا احساس اور آزادی کی تڑپ نمایاں ہے۔
انہوں نے اپنی نظموں کے ذریعے قوم کو جھنجھوڑا اور مایوسی کے اندھیروں میں امید کے چراغ روشن کیے۔ وطن کی محبت کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں:
اور ہی رنگ پہ ہے پیار گلشن
سیر کے واسطے آتے ہیں عزیزان وطن
فرش آنکھیں لیے بیٹھے ہیں جوانان چمن
دل میں طوفان طرب لب پہ محبت کے سخن
وہ وطن کے نوجوانوں کو بیدار کرتے ہوئے پیغام دیتے ہیں:
مادرِ قوم کا ہے اپنے سپوتوں سے پیام
خطّہ ہند کا اس جنگ میں روشن رہے نام
ان کی مشہور نظم ’خاکِ ہند‘ ان کی وطن پرستی کا سب سے عظیم شاہکار ہے، جس کے یہ بند ہندوستان کے درخشاں ماضی اور اس کی عظمت کی گواہی دیتے ہیں:
اے خاکِ ہند تیری عظمت میں کیا گماں ہے
دریائے فیضِ قدرت تیرے لیے رواں ہے
تیری جبیں سے نورِ حُسنِ ازل عیاں ہے
اللہ رے زیب و زینت، کیا اَوجِ عزّ و شاں ہے
ہر صبح ہے یہ خدمت خورشید پُر ضیا کی
کرنوں سے گوندھتا ہے چوٹی ہمالیہ کیاس خاکِ دلنشیں سے چشمے ہوئے وہ جاری
چین و عرَب میں جن سے ہوتی تھی آبیاری
سارے جہاں پہ جب تھا وحشت کا ابر طاری
چشم و چراغِ عالَم تھی سر زمیں ہماری
شمعِ ادب نہ تھی جب یوناں کی انجمن میں
تاباں تھا مہرِ دانش اس وادیِ کُہن میں
اور ہندوستان کی مشترکہ روایات کی منظر کشی یوں کرتے ہیں:
اب تک اثر میں ڈوبی ناقوس کی فغاں ہے
فردوسِ گوش اب تک کیفیّتِ اذاں ہے
چکبست خاکِ وطن سے اس قدر عشق کرتے تھے کہ انہیں اپنے ملک کا ہر ذرہ دیوتا معلوم ہوتا تھا۔ وہ کہتے ہیں:
شیدائے بوستاں کو سَر و سَمن مبارک
رنگیں طبیعتوں کو رنگِ سخن مبارک
بلبل کو گُل مبارک، گُل کو چمن مبارک
ہم بے کسوں کو اپنا پیارا وطن مبارک
غنچے ہمارے دل کے اِس باغ میں کھلیں گے
اِس خاک سے اُٹھے ہیں اِس خاک میں ملیں گے
وطن سے اس اٹوٹ محبت کا اظہار اس شعر میں بھی نمایاں ہے:
گرد و غبار یاں کا خلعت ہے اپنے تن کو
مرکر بھی چاہتے ہیں خاکِ وطن کفن کو
2. سیاسی مرثیے اور قومی لیڈروں کو خراجِ تحسین
چکبست نے اپنی شاعری کے ذریعے سماجی و سیاسی مسائل پر بھی کھل کر بات کی۔ سیاست میں شعور بیدار کرنے کے لیے انہوں نے بال گنگادھر تلک، گوپال کرشن گوکھلے، اور گنگا پرساد ورما جیسے عظیم سیاسی رہنماؤں کی وفات پر انتہائی درد انگیز اور پُر اثر مرثیے لکھے۔ ان مرثیوں کا مقصد محض رونا دھونا نہیں تھا بلکہ نوجوان نسل میں اخلاقی اقدار اور خدمتِ خلق کا جذبہ پیدا کرنا تھا۔
3. قومی یکجہتی، رواداری اور انسانیت کا وسیع تصور
اردو زبان ہمیشہ سے ہندوستانی مشترکہ تہذیب اور گنگا جمنی ثقافت کی امین رہی ہے۔ ممتاز محقق علی جواد زیدی اردو کی اس رواداری کے حوالے سے لکھتے ہیں:
"یہ کہنا ایک حقیقت کو دُہرانا ہے کہ خود زبان اردو یک جہتی کی پیداوار ہے۔ ابتدا سے اس میں ہماری رنگا رنگ تہذیب کی گنگا جمنی خصوصیات جھلکتی رہی ہیں۔ اس میں سنسکرت نے اپنا رس گھولا ہے، برج بھاشا، کھڑی، اودھی، مراٹھی… نے اپنا بانکپن سمویا ہے۔ ان معنوں میں اردو کی تاریخ یک جہتی کی تحریک کی تاریخ بھی ہے۔”
اسی روشن روایت کو نظیر اکبر آبادی کے بعد چکبست نے آگے بڑھایا۔ چکبست کا نقطہ نظر انتہائی وسیع تھا۔ وہ تنگ نظری، فرقہ واریت اور مذہبی تعصب کے سخت خلاف تھے۔ ان کے نزدیک کعبہ اور بت خانہ دونوں محترم ہیں بشرطیکہ دل میں وفا کا جذبہ موجود ہو۔ ان کے یہ اشعار ان کی وسیع المشربی کا ثبوت ہیں:
ہر ذرّۂ خاکی ہے مرا مونس و ہمدم
دنیا جسے کہتے ہیں وہ کاشانہ ہے میرا
جس جا ہو خوشی، ہے وہ مجھے منزلِ راحت
جس گھر میں ہو ماتم وہ عزاخانہ ہے میرا
جس گوشۂ دنیا میں پرستش ہو وفا کی
کعبہ ہے وہی اور وہی بت خانہ ہے میرا
فطرت اور انسان کی ہم آہنگی کا درس وہ ان الفاظ میں دیتے ہیں:
شرابِ اُنس حقیقی سے تھا ہر اِک سرشار
شجر تھا، کوہ تھا، چشمہ تھا یا یہ مشتِ غبار
درخت و کوہ ہیں کیا، ذاتِ پاک انساں کیا
طیور کیا ہیں، ہوا کیا ہے، ابرِ باراں کیا
یہ موجِ ہستیِ بیدار کے عناصر ہیں
سب ایک قافلۂ شوق کے مسافر ہیں
اسی حوالے سے یہ فلسفہ بھی قابلِ غور ہے کہ انسانی فلاح امن اور محبت میں ہے:
شکتی بھی شانتی بھی بھکتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مُکتی پریت میں ہے
4. مذہبی حقائق اور فطرت نگاری
چکبست نے ہندو مذہب کے تاریخی حقائق اور دیومالائی واقعات کو بھی نہایت خوبصورتی سے اردو نظم کا حصہ بنایا۔ اس کی سب سے بڑی اور شاندار مثال ان کی نظم ’رامائن کا ایک سین‘ ہے (جسے وہ مکمل نہ کر سکے مگر جتنا لکھا وہ شاہکار کہلایا)۔ جب شری رام جی بن باس کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو اس وقت کی منظر کشی اور جذبات کی عکاسی چکبست نے کمال مہارت سے کی ہے:
رخصت ہوا وہ باپ سے لے کر خدا کا نام
راہِ وفا کی منزلِ اول ہوئی تمام
منظور تھا جو ماں کی زیارت کا انتظام
دامن سے اشک پونچھ کے دل سے کیا کلام
اظہارِ بے کسی سے ستم ہو گا اور بھی
دیکھا ہمیں اداس تو غم ہو گا اور بھی
اس کے علاوہ انہوں نے مناظرِ فطرت پر بھی بہترین نظمیں لکھیں، جن میں ’برسات‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہے، جس میں قدرت کی کاریگری کو نہایت سادہ اور پرکشش انداز میں پیش کیا گیا ہے۔
چکبست کے شعری کارنامے اور اہم نظمیں (ایک نظر میں)
چکبست کے کل شعری ذخیرے میں 45 نظمیں اور 58 غزلیں شامل ہیں، جن کے مجموعی اشعار کی تعداد 2025 بنتی ہے۔ ان 45 نظموں میں سے 12 کا براہ راست تعلق حب الوطنی سے ہے۔
ان کی چند مشہور ترین نظمیں یہ ہیں:
- حب قومی (1894ء)
- رامائن کا ایک سین
- مرقع عبرت (1898ء)
- دردِ دل
- پھول مالا (یہ نظم خاص طور پر اپنی برادری کی لڑکیوں کی نصیحت کے لیے لکھی گئی)
- وطن کا راگ (1918ء)
- فریاد قوم (1914ء)
- جلوۂ صبح
- ہماری قوم (1917ء)
- برقِ اصلاح (1917ء)
- فریبِ شاعرانہ
- جلوۂ معرفت
- امید
- خاکِ ہند
- ایک جواں مرگ دوست
پنڈت برج نارائن چکبست کی مشہور غزلیں اور متفرق اشعار
چکبست کی غزلوں میں فلسفۂ حیات، اخلاقیات اور دردِ مندی کا شاندار امتزاج ملتا ہے۔ ان کی غزلوں کے چند بہترین انتخاب درج ذیل ہیں:
دردِ دل پاسِ وفا جذبۂ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
نو گرفتارِ بلا طرزِ وفا کیا جانیں
کوئی نا شاد سکھا دے انہیں نالاں ہونا
روکے دنیا میں ہے یوں ترکِ ہوس کی کوشش
جس طرح اپنے ہی سائے سے گریزاں ہونا
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا
دفترِ حسن پہ مہرِ یدِ قدرت سمجھو
پھول کا خاک کے تودے سے نمایاں ہونا
دلِ اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا
ولولوں کے لیے ممکن نہیں زنداں ہونا
گل کو پامال نہ کر لعل و گہر کے مالک
ہے اسے طرۂ دستارِ غریباں ہونا
ہے مرا ضبطِ جنوں جوشِ جنوں سے بڑھ کر
ننگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا
قید یوسف کو زلیخا نے کیا کچھ نہ کیا
دل یوسف کے لیے شرط تھا زنداں ہونا
چند دیگر لاجواب متفرق اشعار:
جس کی قفس میں آنکھ کھلی ہو مری طرح
اس کے لیے چمن کی خزاں کیا، بہار کیا؟بلائے جاں ہیں یہ تسبیح اور زُنّار کے جھگڑے
دلِ حق بیں کو ہم اِس قید سے آزاد کرتے ہیںتھکے ماندے مسافر ظلمتِ شامِ غریباں میں
بہارِ جلوۂ صبحِ وطن کو یاد کرتے ہیںیہ مانا بے حجابانہ نگاہیں قہر کرتی ہیں
مگر حُسنِ حیا پرور کا عالَم اور ہوتا ہےاگر دردِ محبت سے نہ انساں آشنا ہوتا
نہ کچھ مرنے کا غم ہوتا نہ جینے کا مزا ہوتاادب تعلیم کا جوہر ہے زیور ہے جوانی کا
وہی شاگرد ہیں جو خدمت استاد کرتے ہیںاک سلسلہ ہوس کا ہے انساں کی زندگی
اس ایک مشتِ خاک کو غم دو جہاں کے ہیںوطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے
مزا دامانِ مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میںگنہگاروں میں شامل ہیں گناہوں سے نہیں واقف
سزا کو جانتے ہیں ہم خدا جانے خطا کیا ہےمزا ہے عہدِ جوانی میں سر پٹکنے کا
لہو میں پھر یہ روانی رہے رہے نہ رہےنیا بسمل ہوں میں واقف نہیں رسمِ شہادت سے
بتا دے تو ہی اے ظالم تڑپنے کی ادا کیا ہےایک ساغر بھی عنایت نہ ہوا یاد رہے
ساقیا جاتے ہیں محفل تری آباد رہےجو تو کہے تو شکایت کا ذکر کم کر دیں
مگر یقیں ترے وعدوں پہ لا نہیں سکتےخدا نے علم بخشا ہے ادب احباب کرتے ہیں
یہی دولت ہے میری اور یہی جاہ و حشم میرااس کو ناقدریٔ عالم کا صلہ کہتے ہیں
مر چکے ہم تو زمانے نے بہت یاد کیامنزلِ عبرت ہے دنیا اہل دنیا شاد ہیں
ایسی دلجمعی سے ہوتی ہے پریشانی مجھےزبانِ حال سے یہ لکھنؤ کی خاک کہتی ہے
مٹایا گردشِ افلاک نے جاہ و حشم میرایہ کیسی بزم ہے اور کیسے اس کے ساقی ہیں
شراب ہاتھ میں ہے اور پلا نہیں سکتےکیا ہے فاش پردہ کفر و دیں کا اس قدر میں نے
کہ دشمن ہے برہمن اور عدو شیخِ حرم میراچراغِ قوم کا روشن ہے عرش پر دل کے
اسے ہوا کے فرشتے بجھا نہیں سکتےلکھنؤ میں پھر ہوئی آراستہ بزمِ سخن
بعد مدت پھر ہوا ذوقِ غزل خوانی مجھےعزیزانِ وطن کو غنچہ و برگ و ثمر جانا
خدا کو باغباں اور قوم کو ہم نے شجر جاناکون ہے آج جو اس بزم میں مسرور نہیں
روم سرشار بھی کھینچ آئے تو کوئی دور نہیں
پنڈت برج نارائن چکبست کی مختصر لیکن بھرپور زندگی نے اردو ادب کو وہ بیش بہا خزانہ دیا ہے جس کی چمک وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑھتی جا رہی ہے۔ ان کی شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ قومیت، بیداری، حب الوطنی، اور انسانی دوستی کا ایک ایسا روشن باب ہے جو آنے والی نسلوں کے لیے ہمیشہ مشعلِ راہ رہے گا۔ ان کا کلام آج بھی مٹی کی محبت اور گنگا جمنی تہذیب کی اسی خوشبو سے معطر ہے جو ان کی زندگی کا اثاثہ تھی۔
نظر ثانی و تصحیح: احمد جمال،ایم – فل اردو منہاج یونیورسٹی لاہور
