مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

اردو ادب میں ناول نگاری کی تاریخ، ارتقاء اور اہمیت

اردو ادب میں ناول نگاری: تاریخ، ارتقاء اور اہمیت تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025



اردو ادب میں ناول کا آغاز

صنفِ ناول انگریزی ادب کے زیر اثر اردو ادب میں متعارف ہوئی اور دیکھتے دیکھتے سارے ادب پر غالب ہوگئی۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے یہاں اردو میں قصے کہانیوں کا وجود نہیں تھا یا داستان سرائی رائج نہیں تھی۔ ایسا کہنا تاریخ سے انکار ہوگا۔

داستان اور ناول کا موازنہ

الف لیلہ، طلسم ہوش ربا، بوستان خیال، باغ و بہار اور فسانہ عجائب، یہ سب قصے کہانیاں ہی تو ہیں۔ ان میں تخیل کی بلندی، حق و ناحق کا تصادم، حسن و عشق کی آویزش، کردار نگاری کے نمونے اور اسلوب کی خوبصورتی سب کچھ موجود ہے۔

ان کو پڑھنے والا طلسمی دنیا میں پہنچ جاتا ہے، جہاں عجیب و غریب ماحول اسے مسحور کر لیتا ہے اور عجیب و غریب کارنامے حیرت میں ڈال دیتے ہیں۔ وہ ایسی ایسی باتیں سنتا اور دیکھتا ہے جنہیں ہماری مادی زندگی سے دور دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

طلسمی دنیا اور حقیقت

ان داستانوں کو پڑھ کر آدمی مبہوت ہو سکتا ہے لیکن ذہنی طور پر قائل نہیں ہو سکتا۔ اس کا وقت اچھی طرح گزر سکتا ہے، وہ اس طلسمی دنیا میں تو کھو سکتا ہے لیکن کچھ پا نہیں سکتا۔ وہ تھوڑی دیر کے لیے زندگی اور اس کے مسائل کو بھول سکتا ہے مگر زندگی وہی ہوگی۔

ان روایتی قصوں میں اور ناولوں میں بہت بڑا فرق ہے۔ ناول اور زندگی کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ اس میں زندگی کس طرح پیش کی گئی ہے، یہ دوسری بات ہے۔

ناول: زندگی کی حقیقی تصویر

ناول ایک مسلسل حقیقی قصے کا دوسرا نام ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ وہ تاریخی نقطہ نظر سے ہمیشہ صحیح ہو مگر ایسا ہوسکتا ہے۔ ناول سے بہت کام لیے گئے ہیں، جس طرح شاعری سے لیے گئے ہیں۔

اس کے ذریعے سے طنز کے تیر، وعظ و نصیحت، سیاسی مسائل، مذہبی عقیدوں کو سلجھایا گیا اور علمی مباحث بھی بیان کئے گئے ہیں مگر یہ سب ضمنی باتیں ہیں۔

ناول کا بنیادی مقصد

ناول کا اصل مقصد تفریح ہے اور دلچسپی قائم رکھنا اس کے لیے ضروری ہے۔ چاہے وہ "تصویرِ بتاں” اور "حسینوں کے خطوط” کے ذریعے سے ہی کیوں نہ ہو، یا تصوف اور اخلاق کے مسائل کی موشگافیاں ہوں۔

پورب میں ناول کو اٹھارویں صدی میں جگہ ملی اور انیسویں صدی میں یہ صنف اول میں آگئی۔ اب اس سے جو کام لیا جاتا ہے وہ کسی اور طرح ممکن نہیں۔

ناول، ڈرامہ اور مضمون کا فرق

یہ زندگی کی تصاویر بھی ہے اور تفسیر بھی۔ خوابِ جوانی کی تعبیر ہے اور سب سے بڑھ کر تنقید بھی۔ یہ ڈرامہ یا مضمون سے زیادہ مکمل اور باوقار ہے۔

مضمون نگار زندگی کے متعلق اظہار خیال کرتا ہے لیکن سپاٹ انداز میں۔ ڈرامہ زندگی کو شعلے کی لپک اور لہو کی دھارا بنا کر پیش کرتا ہے مگر زیادہ تخیلی انداز میں۔ مگر ناول نگار زندگی کے چہرے سے نقاب اٹھاتا ہے۔ زندگی کو دیکھنے کے بعد اسے دوسروں کو دکھانا بھی ناول نگار کا فرض ہے۔

ناول کے اجزائے ترکیبی

ناول میں زندگی کے مختلف تجربات و مشاہدات کیے جاتے ہیں۔ اس میں واقعات کا ایک مسلسل سلسلہ ہوتا ہے۔ پلاٹ، کردار، مکالمہ، منظر نگاری اور فلسفہ زندگی کی جھلک بھی ہوتی ہے۔ ہر ناول سے ایک ذہنی سفر کا آغاز ہوتا ہے اور مختلف چیزوں سے نقاب اٹھانے کی ایک کوشش ہوتی ہے۔

بہترین ناول لکھنے کے لیے بڑی پختگی اور اعلیٰ درجے کے شعور کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے تو ناول نگاری ایک نقاد کے نزدیک حکیمانہ اور فلسفیانہ کام ہے۔

قصہ گوئی کی تاریخ انسانیت کی ابتداء سے ملتی ہے، مگر ناول بعد کے مہذب انسانوں کی ایجاد ہے۔ سرمایہ داروں نے افراد میں دلچسپی پیدا کی اور دلچسپی نے ناول کو جنم دیا۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں