مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

ناول لفظی تحقیق، تاریخ اور تنقیدی نظریات

ناول لفظی تحقیق، تاریخ اور تنقیدی نظریات تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

ناول: لفظی و لغوی مباحث

"ناول” کا لفظ بنیادی طور پر اطالوی زبان کا لفظ ہے۔ لاطینی زبان میں ناول لفظ "نئے” کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔ "Novella” اس لفظ سے "Novel” لفظ انگریزی میں آیا اور انگریزی سے ہوتے ہوئے پھر یہ لفظ اس صنفِ ادب کے ساتھ اردو میں آیا۔

تاریخی پس منظر اور "ناویلا” (Novella)

تاریخی روشنی میں عام زندگی میں پیش آنے والے حادثات کو ربط و تسلسل کے ساتھ بیان کرنے کو اٹلی کے لوگ "ناویلا” (Novella) کہتے تھے۔

روز مرہ کے حادثات مزدور شام کو ایک دوسرے کو بتاتے تھے، نوکر پیشہ لوگ آپس میں یا گھر والے کھانے کے دسترخوان پر، جبکہ مصنف تحریری شکل میں کاغذ پر۔

قدیم روم اور قانونی حیثیت

Novella کو "Novus” بھی کہا گیا ہے، جس کے معنی ہیں "نئی شے”۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ روم کے قدیم زمانے کے بادشاہ ہیڈرین (Hadrian) اور جسٹینین (Justinian) کے زمانے میں جو فرمان بادشاہ کی جانب سے جاری ہوتے، اور جو قانون کا درجہ رکھتے، انہیں "ناولس” کہتے تھے۔ یہ تو تھی لفظ ناول کی بحث مختصر الفاظ میں۔

یہ بھی پڑھیں: اردو ادب میں ناول نگاری کی تاریخ، ارتقاء اور اہمیت

ناول کی پیدائش کے متعلق نظریات

ناول کی پیدائش کے متعلق ادب کے دو نظریات سامنے آتے ہیں۔

پہلا نظریہ: ناول بطورِ علیحدہ فن

پہلے گروپ کا ماننا ہے کہ ناول ایک علیحدہ ہی فن ہے، جس کا قدیم افسانوں یا داستانوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا موقف یہ ہے کہ یہ افسانوں اور داستانوں سے بالکل جدا فن ہے۔

اس سلسلے میں جی۔ ایچ۔ میئر کہتے ہیں:

"قصہ گوئی انسانوں کا قدیم ترین مشغلہ رہا ہے، اس کے باوجود (ناول) جو کہ قصہ گوئی کا معراجِ کمال سمجھا جاتا ہے، یہ سب میں دیر سے نمودار ہوا۔” (1)

دوسرا نظریہ: ارتقائی شکل

دوسرے نظریے والے لوگوں کا ماننا ہے کہ ناول درحقیقت افسانے یا داستان سے الگ کوئی ایک چیز یا فن نہیں ہے، بلکہ قصہ گوئی کے فن کا آغاز جو داستان گوئی سے ہوا تھا، مختلف زمانوں میں مختلف خصوصیات اختیار کرتا ہوا، ردوبدل اور زمانے کے ساتھ ناول کی صورت میں عروجِ کمال کو پہنچا۔

اس سلسلے میں جارج سینٹی (George Saintsbury) اپنی کتاب "The English Novel” کے شروع میں لکھتے ہیں کہ:

"جو لوگ ناول کو علیحدہ فن مانتے ہیں دراصل وہ افسانے کے اصول سے ناواقف ہیں، اور اس مغالطے میں ہیں کہ افسانے اور ناول دو علیحدہ فن ہیں۔” (2)

اردو ناقدین کی رائے

ناول کو علیحدہ فن ماننے والوں میں اردو کے مشہور ناقد ڈاکٹر گیان چند بھی شامل ہیں۔ وہ بھی اس فن کو ایک الگ اور نیا فن مانتے ہیں۔ وہ ناول کو ادب کی ایک نئی صنف تسلیم کرتے ہیں۔

پروف ریڈنگ: فہد عظیم علی طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال

حواشی

1۔ دنیائے افسانہ، عبد القادر سروری ص ۴۹ ناشر، حیدر آباد دکن ، ۱۹۳۵ء

2۔ The English Novel جارج سینٹس بحوالہ دنیائے افسانہ ، ص ۵۱

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں