تم نے کئے تھے اک دور میں مجھ سے محبت کے دعوے
سچ تھا نہیں مگر سچ ہی لگا مجھے جیسے اجالے
تھا اک خواب خوبصورت سا اور تم بھی
برے نہیں تھے مگر بن گئے تھے سہارے
پھر کچھ دوست کے روپ میں آگئے وہ لوگ
اور سہا نا گیا جب ،میرے بھی خواب سارے اچھالے
یوں دھیرے دھیرے مجھے لگا ختم ہو جاؤں گی میں
پھر رب نے محسوس کرایا مجھے کہ والدین بھی ہیں میرے پالے
!آرزو۔
چند گھڑیاں خاموش ہی گزرے مگر
پھر آرزو کو کر دیا میں نے رب کے حوالے
(از قلم( سدرہ میر اکبر)
وٹسپ پر اس فائل کا پی ڈی ایف یہاں سے حاصل کریں