10 اہم پہلوؤں کی روشنی میں میراجی کی نظم سمندر کا بلاوا کا تنقیدی جائزہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
سمندر کا بلاوا
میراجی
یہ سرگوشیاں کہہ رہی ہیں اب آؤ کہ برسوں سے تم کو بلاتے بلاتے مرے
دل پہ گہری تھکن چھا رہی ہے
کبھی ایک پل کو کبھی ایک عرصہ صدائیں سنی ہیں مگر یہ انوکھی ندا آ رہی ہے
بلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ آئندہ شاید تھکے گا
مرے پیارے بچے مجھے تم سے کتنی محبت ہے دیکھو اگر
یوں کیا تو
برا مجھ سے بڑھ کر نہ کوئی بھی ہوگا خدایا خدایا
کبھی ایک سسکی کبھی اک تبسم کبھی صرف تیوری
مگر یہ صدائیں تو آتی رہی ہیں
انہی سے حیات دو روزہ ابد سے ملی ہے
مگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھا رہی ہے
یہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دئیے جا رہی ہے
اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوری
فقط کان سنتے چلے جا رہے ہیں
یہ اک گلستاں ہے ہوا لہلہاتی ہے کلیاں چٹکتی ہیں
غنچے مہکتے ہیں اور پھول کھلتے ہیں کھل کھل کے مرجھا کے
گرتے ہیں اک فرش مخمل بناتے ہیں جس پر
مری آرزوؤں کی پریاں عجب آن سے یوں رواں ہیں
کہ جیسے گلستاں ہی اک آئینہ ہے
اسی آئینے سے ہر اک شکل نکھری سنور کر مٹی اور مٹ ہی گئی پھر نہ ابھری
یہ پربت ہے خاموش ساکن
کبھی کوئی چشمہ ابلتے ہوئے پوچھتا ہے کہ اس کی چٹانوں کے اس پار کیا ہے
مگر مجھ کو پربت کا دامن ہی کافی ہے دامن میں وادی ہے وادی میں ندی
ہے ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہی آئینہ ہے
اسی آئینے میں ہر اک شکل نکھری مگر ایک پل میں جو مٹنے لگی ہے تو
پھر نہ ابھری
یہ صحرا ہے پھیلا ہوا خشک بے برگ صحرا
بگولے یہاں تند بھوتوں کا عکس مجسم بنے ہیں
مگر میں تو دور ایک پیڑوں کے جھرمٹ پہ اپنی نگاہیں جمائے ہوئے ہوں
نہ اب کوئی صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں
اب آنکھوں میں جنبش نہ چہرے پہ کوئی تبسم نہ تیوری
فقط ایک انوکھی صدا کہہ رہی ہے کہ تم کو بلاتے بلاتے مرے دل پہ
گہری تھکن چھا رہی ہے
بلاتے بلاتے تو کوئی نہ اب تک تھکا ہے نہ شاید تھکے گا
تو پھر یہ ندا آئینہ ہے فقط میں تھکا ہوں
نہ صحرا نہ پربت نہ کوئی گلستاں فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی سمندر میں جا کر ملے گی
اردو ادب میں جب بھی علامتی اور نفسیاتی شاعری کا ذکر آتا ہے، تو میراجی کا نام سب سے نمایاں ہوتا ہے۔ اگر ہم سمندر کا بلاوا کا تنقیدی جائزہ لیں، تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض ایک نظم نہیں بلکہ انسانی نفسیات، رشتوں کی ڈور اور کائنات کے سربستہ رازوں کا ایک گہرا مطالعہ ہے۔
میراجی کی یہ شاہکار تخلیق 37 مصرعوں پر مشتمل ہے جو کہ آزاد نظم کی ہیت میں لکھی گئی ہے۔ اس کے مطالعے سے قاری پر حیات و کائنات کے وہ انوکھے اسرار کھلتے ہیں جو عام آنکھ سے اوجھل رہتے ہیں۔
اس تفصیلی مضمون میں ہم اس نظم کے ہر پہلو، اس میں موجود استعاروں اور تخیلاتی رنگوں کا گہرائی سے جائزہ لیں گے۔
سمندر کا بلاوا کا تنقیدی جائزہ: لغوی معنی اور فکری پس منظر
میراجی نے اپنی اس نظم میں نسبتاً سادہ مگر انتہائی پراثر الفاظ کا چناؤ کیا ہے۔ نظم کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے چند کلیدی الفاظ کے معانی پر غور کرنا ضروری ہے:
- سرگوشیاں: کان میں کی جانے والی دھیمی بات یا دور سے ابھرتی ہوئی مبہم آوازیں۔
- ندا اور صدا: پکار یا آواز، جس میں ایک خاص قسم کا درد یا پیغام پوشیدہ ہو۔
- تبسم اور تیوری: مسکراہٹ اور ماتھے پر پڑنے والے غصے کے بل۔
- ابد: وہ لا محدود وقت جس کی کوئی انتہا نہ ہو۔
- جنبش: کسی بھی قسم کی حرکت یا ارتعاش۔
یہ نظم ان کے مشہور مجموعہ کلام "تین رنگ” کی زینت ہے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس نظم میں میراجی کی اس نام نہاد "بیمار ذہنیت” کا کوئی نشان نہیں ملتا جس کا الزام اکثر ناقدین ان پر لگاتے رہے ہیں۔
ممتا کا سمندر اور انسانی بے بسی کا اظہار
اس نظم کا ایک بہت بڑا اور جذباتی حصہ ماں اور بچے کے رشتے پر محیط ہے۔ شاعر ایک ایسی پراسرار آواز کا ذکر کرتا ہے جو اسے مسلسل پکار رہی ہے۔
یہ پکار کسی اور کی نہیں بلکہ اس کی ماں کی ہے۔ وہ ماں جو اپنے بچے سے بے پناہ محبت کرتی ہے اور اسے اپنے پاس بلانا چاہتی ہے۔
بڑھاپے کی نفسیات اور حسیات کا زوال
نظم میں ایک مقام پر شاعر اپنی بے بسی کا ذکر کرتا ہے۔ وہ بتاتا ہے کہ اب اس کے چہرے پر نہ کوئی مسکراہٹ (تبسم) باقی ہے اور نہ ہی غصہ (تیوری)۔ اس کی آنکھوں کی حرکت (جنبش) بھی ختم ہو چکی ہے۔
سائنسی اور طبعی لحاظ سے بھی انسانی بڑھاپے (Human Aging) میں انسان کے اعضاء کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، مگر اس کی سماعت (سننے کی حس) دیر تک قائم رہتی ہے۔ شاعر کے فقط کان ہیں جو اس انوکھی ندا کو مسلسل سن رہے ہیں۔
میراجی کی نجی زندگی کا المیہ یہ تھا کہ وہ اپنی والدہ سے ملنے لاہور (Lahore) جانا چاہتے تھے مگر حالات کی مجبوریوں کے سبب ایسا نہ کر سکے، اور یہی کسک اس نظم کے ہر مصرعے میں دھڑکتی محسوس ہوتی ہے۔
کائنات کے تین عظیم الشان روپ: باغ، پہاڑ اور صحرا
اگر ہم مزید گہرائی میں جا کر سمندر کا بلاوا کا تنقیدی جائزہ لیں، تو میراجی کائنات کی بے ثباتی کو تین مختلف استعاروں کے ذریعے پیش کرتے ہیں:
1. گلستان (دنیا کی خوبصورتی اور زوال)
شاعر دنیا کو ایک باغ سے تشبیہ دیتا ہے۔ جہاں کلیاں چٹکتی ہیں، پھول کھلتے ہیں، اپنی خوشبو بکھیرتے ہیں اور بالآخر مرجھا کر زمین پر گر جاتے ہیں۔
یہ مخمل کا فرش بننے والے پھول دراصل انسانی خواہشات اور آرزوؤں کا آئینہ ہیں۔ انسان اس دنیا میں آتا ہے، سنورتا ہے اور پھر مٹ کر عدم کی وادی میں کھو جاتا ہے۔
2. پربت (خاموشی اور سکوت کا استعارہ)
دوسرا منظر ایک دیوہیکل پہاڑ (Mountain) کا ہے۔ پہاڑ خاموش اور ساکن ہے۔ اس کے دامن میں وادیاں اور ندیاں بہہ رہی ہیں۔
ندی میں چلتی ہوئی کشتی اس دنیاوی سفر کی علامت ہے۔ اس آئینے میں بھی شکلیں بنتی اور بگڑتی رہتی ہیں، جو ظاہر کرتا ہے کہ ٹھہراؤ کے باوجود کائنات میں تغیر مسلسل جاری ہے۔
3. صحرا (محرومی اور اداسی کا منظر)
تیسرا رنگ ایک خشک اور بے برگ صحرا (Desert) کا ہے۔ جہاں مٹی کے بگولے بھوتوں کی مانند ناچتے ہیں۔
یہ زندگی کی اس کٹھن اور بے سروسامان حقیقت کی عکاسی ہے جہاں خوشیوں کے سراب انسان کو دھوکہ دیتے ہیں۔ لیکن شاعر کی نگاہیں ان سب سے دور ایک درختوں کے جھرمٹ پر ٹکی ہیں۔
ہر شے کی ابتدا اور انجام: سمندر کی جانب واپسی
نظم کا نقطہ عروج وہ لمحہ ہے جب شاعر کو احساس ہوتا ہے کہ باغ، پہاڑ اور صحرا سب عارضی ہیں۔ اصل بلاوا تو سمندر کی جانب سے آ رہا ہے۔
قرآنی فلسفے اور جدید حیاتیاتی سائنس دونوں کے مطابق زندگی کا آغاز پانی یا سمندر (Origin of water on Earth) سے ہوا ہے۔ ہر ذی روح کو بالآخر فنا ہونا ہے اور اپنے خالقِ حقیقی کی طرف لوٹ جانا ہے۔
جیسا کہ قرآن پاک میں ارشاد ہوتا ہے
” ہم نے ہر ذندہ چیز کو پانی سے پیدا کیا "
"کہ ہر شے سمندر سے آئی، سمندر میں جا کر ملے گی” کا مصرع دراصل "انا للہ وانا الیہ راجعون” کے آفاقی سچ کی شاندار شعری تشریح ہے۔
مجموعہ کلام "تین رنگ” کے 24 مختلف شعری و فکری شیڈز
اس نظم کا سب سے دلچسپ اور تکنیکی پہلو اس میں موجود "تین رنگوں” کی تکون ہے۔ میراجی نے غیر شعوری یا وجدانی طور پر پوری نظم کو تین کے ہندسے اور تکونی تصورات پر کھڑا کیا ہے۔
آئیے ان 24 مختلف رنگوں اور شیڈز کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں جو اس کلام کو شاہکار بناتے ہیں:
صوتی اور زمانی تکون
- آواز کے تین رنگ: سرگوشی (رازداری)، صدا (عام پکار)، اور ندا (ایک خاص اور دور کی آواز)۔
- وقت کے تین ہالے: ایک پل (مختصر وقت)، ایک عرصہ (طویل دور)، اور بلانے والے کا وہ وقت جو نامعلوم ہے۔
- پکارنے والے کے انداز: انوکھا بلانے والا، انوکھی ندا، اور پکارنے والے پر طاری ہونے والی گہری تھکن۔
ممتا، جذبات اور حیات کی تکون
- ماں کی محبت کے تین روپ: پیار بھرے الفاظ، ڈرانے کا انداز، اور پھر خود ہی پچھتانا (خدایا، خدایا)۔
- عمر کے تین ادوار: بے فکر بچپن، خوابوں بھری جوانی، اور مجبوریوں کا مارا بڑھاپا۔
- زندگی کے تین رویے: سسکی (رونا اور دکھ)، تبسم (خوشی اور مسکراہٹ)، اور تیوری (غصہ اور ناراضگی)۔
زوال اور کائنات کی تکون
- بڑھاپے کی بے بسی: آنکھوں کی ساکن پتلیاں، چہرے کے تاثرات کا خاتمہ، اور فقط کانوں کا سنتے رہنا۔
- دنیا کے تین چہرے: گلستاں (خوشی)، پربت (سکون)، اور صحرا (آزمائش)۔
- پھول کی زندگی کے تین مراحل: کلی بننا، غنچہ بن کر چٹکنا، اور پھول بن کر مہکنا۔
عروج و زوال کے فلسفیانہ رنگ
- آئینہ حیات: نکھرنا، سنورنا، اور پھر ہمیشہ کے لیے بکھر جانا۔
- مٹ جانے کے مراحل: شکل کا دھندلانا، مکمل مٹ جانا، اور دوبارہ کبھی نہ ابھرنا۔
- پہاڑ کی کائنات: خاموشی، سکوت، اور اس میں سے پھوٹتا ہوا چشمہ۔
- دامنِ پربت کی زندگی: وادی، اس میں بہتی ندی، اور ندی میں چلتی ناؤ۔
ویرانی، امید اور ابدیت کی تکون
- صحرا کے تین شیڈز: پھیلا ہوا، بے حد خشک، اور پودوں کے بغیر (بے برگ)۔
- ویرانی کی علامات: بگولے، بھوتوں کے عکس، اور مٹی کے طوفان۔
- امید کی کرنیں: خود شاعر کی ذات، درختوں کا سایہ دار جھرمٹ، اور ٹکٹکی باندھے نگاہیں۔
- سمندر کی ہیت: نقطہ (آغاز)، خط (راستہ)، اور سطح (مکمل سمندر یا ابدیت)۔
مختصر یہ کہ اگر ہم غیر جانبداری سے سمندر کا بلاوا کا تنقیدی جائزہ پیش کریں، تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ میراجی کے فنی کمال کی معراج ہے۔
اس نظم میں کائنات کے مرئی اور غیر مرئی خدوخال، چیزوں کی ایک حالت سے دوسری حالت میں منتقلی، اور انسان کا اپنی اصل (پانی/مٹی/خالق) کی طرف سفر انتہائی ساحرانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
میراجی کے الفاظ کے پردے میں چھپے یہ رنگ آج بھی ادب کے طالب علموں کو حیران کرتے ہیں۔ یہ نظم بتاتی ہے کہ کثرت میں وحدت کیسے تلاش کی جاتی ہے اور کیسے زندگی کا سارا شور بالآخر سمندر کی اتھاہ گہرائی اور خاموشی میں گم ہو جاتا ہے۔
نظر ثانی و تصحیح۔ کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد
