نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری: اردو کے پہلے عوامی شاعر کی فکری و فنی جہتوں کا تفصیلی جائزہ،تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں نظیر اکبر آبادی کی شاعری ایک ایسے چمکتے ستارے کی مانند ہے جس نے اشرافیہ کے بجائے عام انسان کی زندگی، اس کے دکھ درد اور خوشیوں کو اپنے لفظوں کا پیرہن بخشا۔ ان کی شاعری حیاتِ انسانی کے مختلف نقوش کو ایک زندہ پیکر عطا کرتی ہے۔ جب اردو غزل اپنے روایتی اور خیالی محبوب کے گرد گھوم رہی تھی، تب نظیر نے زندگی کے حقیقی مسائل، غربت، موت اور تہواروں کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔
نظیر اکبر آبادی: خاندانی پس منظر اور حالاتِ زندگی
۔نظیر اکبر آبادی کا اصل نام شیخ ولی محمد تھا، جبکہ ان کے والد کا نام سید محمد فاروق تھا جن کا شمار عظیم آباد کے نواب کے قریبی مصاحبین میں ہوتا تھا۔ نظیر کی پیدائش 1735ء کے لگ بھگ دہلی کے ایک شریف گھرانے میں ہوئی۔
تعلیم اور روزگار
نظیر نے اس دور کے مروجہ رجحانات کے مطابق کسی باقاعدہ ادارے سے نہیں بلکہ نجی سطح پر عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ ان زبانوں کے علاوہ انہیں ہندی، پنجابی اور سنسکرت پر بھی مکمل عبور حاصل تھا۔ انہوں نے عمر بھر کوئی سرکاری ملازمت نہیں کی بلکہ محلے کے بچوں کو تعلیم دے کر اپنی گزر بسر کرتے رہے۔ کچھ عرصہ متھرا میں مرہٹہ قلعہ دار کے استاد رہے اور پھر آگرہ واپس آکر محمد علی خاں اور رائے کھتری کے بچوں کی اتالیقی کی۔ اپنی زندگی کے آخری ایام میں ان کا تعلق راجہ بلوان سنگھ کی سرکار سے بھی رہا۔
یہ بھی پڑھیں: نظیر اکبر آبادی کی نظم نگاری کا خصوصی مطالعہ
تاریخی پس منظر اور آگرہ کی جانب ہجرت
یہ وہ پرآشوب دور تھا جب ہندوستان پر نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے حملے عروج پر تھے۔ ہر طرف قتل و غارت گری کا بازار گرم تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے قدم جما رہی تھی۔ ان تباہ کن حالات اور ابدالی کے حملوں کے باعث نظیر کا خاندان دہلی چھوڑ کر آگرہ (اکبر آباد) منتقل ہو گیا۔ اگرچہ آگرہ بھی جاٹوں کی لوٹ مار سے محفوظ نہ تھا، لیکن نظیر کی شاعری میں اس پرآشوب دور کی ناامیدی کے ساتھ ساتھ بھرپور زندہ دلی بھی جھلکتی ہے۔
عقائد اور آخری ایام
نظیر ایک قلندر مزاج اور آزاد منش انسان تھے۔ اگرچہ ان کے والد سنی العقیدہ تھے، لیکن نظیر امامیہ روایات کے بھی قائل تھے اور تعزیہ داری کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ ادھیڑ عمری میں ان کی شادی ظہورالنساء بیگم سے ہوئی۔ 1827ء میں انہیں فالج کا حملہ ہوا اور بالآخر 98 سال کی طویل عمر پا کر 16 اگست 1830ء (25 صفر 1246ھ) کو آگرہ میں انتقال کر گئے۔ ان کی تجہیز و تکفین ان کی وصیت کے مطابق عمل میں آئی۔
اردو کا پہلا عوامی شاعر: مقام اور مرتبہ
اردو میں نظم نگاری کے ابتدائی آثار دکن میں محمد قلی قطب شاہ کے ہاں ملتے ہیں، لیکن وہ محض ناصحانہ حد تک محدود تھے۔ نظیر اکبر آبادی کو بجا طور پر اردو کا پہلا باقاعدہ عوامی شاعر تسلیم کیا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے نظم کو عوام کے روز و شب اور حقیقی جذبوں سے روشناس کرایا۔
اس وقت غزل کو "معراجِ سخن” سمجھا جاتا تھا اور شعراء مخصوص "ٹکسالی زبان” کے اسیر تھے۔ نظیر نے اس فرسودہ روایت سے بغاوت کی جس کی وجہ سے ان کے ہم عصروں اور ناقدین نے ابتداً انہیں شاعر ماننے سے ہی انکار کر دیا۔ لیکن بعد ازاں یہی بغاوت انجمنِ پنجاب کی تحریک کی روح بنی اور جدید اردو نظم کا پیش خیمہ ثابت ہوئی۔
اردو کے نامور ناقدین نے ان کے مرتبے کو یوں خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
- ڈاکٹر انور سدید اپنی کتاب ‘اردو کی تحریکیں’ میں لکھتے ہیں: "نظیر کی عطا یہ ہے کہ اس نے عوامی زبان کو عوام میں پھیلایا اور اس کا دائرہ اثر وسیع کیا۔”
- ڈاکٹر رام بابو سکسینہ ‘تاریخ ادب اردو’ میں رقم طراز ہیں: "نظیر کی سب سے بڑی صفت یہ ہے کہ وہ معمولی چیزوں کے بیان میں ایسی دل چسپی پیدا کر دیتا ہے جو دوسروں کے اعلیٰ مضامین میں نہیں پائی جاتی۔” وہ مزید کہتے ہیں کہ "موجودہ دور کی فطری اور قومی شاعری جس کی ابتدا مولانا آزاد اور حالی سے کہی جاتی ہے اس کے پیش رو نظیر اکبرآبادی تھے۔”
- احتشام حسین کے مطابق: "نظیر اکبرآبادی نے عوامی جذبات کی ترجمانی کی اور عوام نے ہی انہیں زندہ رکھا۔”
کلامِ نظیر کے بنیادی موضوعات اور فکری وسعت
نظیر کی شاعری میں ایک جہان آباد ہے۔ انہوں نے فلسفہ اور پیچیدہ گہرائیوں کے بجائے انتہائی سادہ، آسان اور عام فہم انداز میں زندگی کو پیش کیا۔ ان کے کلام کے چند نمایاں موضوعات درج ذیل ہیں:
1. افلاس، معاشی بدحالی اور انسانی نفسیات
نظیر نے امیر اور غریب کے فرق کو نہایت قریب سے دیکھا۔ ان کی نظمیں ‘مفلسی’، ‘آٹے دال’ اور ‘کوڑی نامہ’ معاشی جبر کی بہترین عکاسی کرتی ہیں۔ بھوک انسان سے کیا کیا کرواتی ہے، اس کا نقشہ وہ یوں کھینچتے ہیں:
پوچھا کسی نے یہ کسی کامل فقیر سے
یہ مہر و ماہ حق نے بنائے ہیں کس لئے
وہ سن کے بولا بابا خدا تجھ کو خیر دے
ہم تو نہ چاند سمجھے نہ سورج ہی جانتے
بابا ہمیں تو سب نظر آتی ہیں روٹیاں
اسی طرح نظم ‘آٹے دال’ میں زندگی کی تلخ حقیقت کو یوں بیان کیا:
گر نہ آٹے دال کا ہوتا قدم یاں درمیاں
منشی و میر و وزیر و بخشی و نواب و خاں
جاگتے دربار میں کیوں آدھی آدھی رات یاں
کیا عجب نقشہ پڑا ہے آن کر کہئے میاں
سب کے دل کو فکر ہے دن رات آٹے دال کی
2. مناظرِ قدرت اور ہندوستانی موسموں کی عکاسی
نظیر کی شاعری فطرت نگاری کا شاہکار ہے۔ ان کے ہاں ہندوستان کے موسم، چرند پرند، کیڑے مکوڑے، پھل (جیسے تربوز) اور مٹھائیاں (تل کے لڈو) تک موضوعِ سخن بنے ہیں۔ نظمیں جیسے ‘برسات کی بہاریں’، ‘جاڑا’، ‘آندھی’ اور ‘اومس’ ان کے گہرے مشاہدے کی گواہ ہیں۔ وہ قدرت کے مناظر کو لفظوں کی تصویر بنا کر قاری کے سامنے پیش کرتے ہیں۔
3. مقامی تہوار، کلچر اور قومی یکجہتی
نظیر کو ہندوستانی تہذیب سے بے پناہ عشق تھا۔ ان کی شاعری میں ہولی، دیوالی، راکھی، بسنت، شبِ برات، عید الفطر اور عرس کے مناظر کثرت سے ملتے ہیں۔ وہ مذہبی تعصب سے پاک تھے اور انہوں نے رام کرشن اور مہادیو جیسی شخصیات پر بھی عقیدت مندی سے نظمیں لکھیں۔
اپنی نظم ‘عید’ میں خوشی کے لمحات کے ساتھ غریبوں کے درد کو بھی سمویا ہے:
یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ
کرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہ
ہم عید کے بھی دن رہے امید وار آہ
ہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کام
خوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کام
دل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عام
4. فلسفہ حیات، موت اور انسان دوستی
نظیر نے بچپن، جوانی، بڑھاپا اور تندرستی جیسے مراحل کو نہایت خوبصورتی سے پیش کیا۔ نظم ‘بنجارہ نامہ’ میں موت اور دنیا کی بے ثباتی کا درس ملتا ہے، جبکہ ‘آدمی نامہ’ انسان کے اچھے اور برے دونوں روپ دکھاتی ہے:
کل آدمی کا حسن و فتح میں ہے یاں ظہور
شیطاں بھی آدمی ہے جو کرتا ہے مکرو زور
نظیر کی نظم نگاری کا فنی و اسلوبیاتی جائزہ
اگرچہ نظیر کا انداز کھلنڈرا اور عوامی تھا، لیکن فنی اعتبار سے وہ اپنے دور کے کسی بڑے شاعر سے کم نہیں تھے۔ ان کے اسلوب کی چند اہم خصوصیات یہ ہیں:
- جزئیات نگاری اور محاکات: نظیر جس موضوع کو چنتے، اس کی باریک ترین تفصیلات بیان کر دیتے۔ ان کی نظمیں پڑھ کر محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی مصور کینوس پر رنگ بکھیر رہا ہو۔
- عوامی لغت اور زبان کا استعمال: انہوں نے روزمرہ کی بول چال، متروک اور مقامی الفاظ کو بے تکلفی سے استعمال کیا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اردو زبان میں سب سے زیادہ مختلف الفاظ استعمال کرنے کا اعزاز نظیر کو ہی حاصل ہے۔
- ہیئت اور اوزان: نظیر نے اپنی نظموں کے لیے عموماً مخمس (پانچ مصرعوں کا بند) اور مسدس کو منتخب کیا۔ ان کی بحریں عام قاری کی زبان پر باآسانی چڑھ جانے والی تھیں۔ وزن پورا کرنے کے لیے بعض اوقات وہ اضافی الفاظ (جیسے ‘آہ’) کا استعمال بڑی ہنرمندی سے کرتے تھے:
ان کے تو جہاں عجب عالم ہیں نظیر عجب آہ
- تمثیل نگاری: نظیر نے اپنی بات کو پراثر بنانے کے لیے پرندوں اور جانوروں کی کہانیوں کا سہارا لیا، جس کی بہترین مثالیں ان کی نظمیں ‘ہنس نامہ’ اور ‘بنجارہ نامہ’ ہیں۔
- غزل گوئی اور پابندیِ فن: گو کہ ان کی پہچان نظم سے ہے، لیکن انہوں نے پابندِ عروض غزلیں بھی کہیں، جس کا ثبوت ان کا یہ کلام ہے:
جدا کسی سے کسی کا غرض حبیب نہ ہو
یہ داغ وہ ہے کہ دشمن کو بھی نصیب نہ ہو
علاج کیا کریں حکماء تپ جدائی کا
سوائے وصل کے اس کا کوئی طبیب نہ ہو
نظیرؔ اپنا تو معشوق خوب صورت ہے
جو حسن اس میں ہے ایسا کوئی عجیب نہ ہو
نظیر اکبر آبادی کی شاہکار نظموں کا تفصیلی تجزیہ
نظیر کی سینکڑوں نظموں میں سے چند ایسی ہیں جنہوں نے اردو ادب میں کلاسک کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ ان نظموں کا تجزیہ ان کی فکری گہرائی کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔
1. نظم "دنیا کی نیکی بدی” (مکافاتِ عمل کا بیان)
یہ نظم اس کائنات کے اٹل اصول کی عکاس ہے کہ انسان جیسا بوتا ہے، ویسا ہی کاٹتا ہے۔ اس دنیا میں ہر عمل کی جزا اور سزا موجود ہے۔ یہ ناصحانہ انداز کی ایک انتہائی دل آویز نظم ہے:
ہے دنیا جس کا نانْو یاں یہ اور طرح کی بستی ہے
جو مہنگوں کو تو مہنگی ہے اور سستوں کو سستی ہے
یاں ہر دم جھگڑے اٹھتے ہیں، ہر آن عدالت بستی ہے
گر مست کرے تو مستی ہے اور پست کرے تو پستی ہے
کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہےجو پار اتار دے اوروں کو اس کی بھی نائو اترتی ہے
جو غرق کرے، پھر اس کی بھی یاں، ڈبکوں ڈبکوں کرتی ہے
شمشیر ،تبر، بندوق سناں اور نشتر تیر نہرتی ہے
یاں جیسی جیسی کرتی ہے پھر ویسی ویسی بھرتی ہے
کچھ دیر نہیں، اندھیر نہیں، انصاف اور عدل پرستی ہے
اس ہاتھ کرو، اس ہاتھ ملے، یاں سودا دست بدستی ہے
ایک اور نظم ‘کل جگ’ میں بھی اسی حقیقت کو یوں بیان کیا:
نیکی کا بدلہ نیک ہے بد کر بدی کا ساتھ لے
کانٹا لگا کانٹا پھلیں، پھل پات بو پھل پات لے
کل جگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے
کیا خوب سودا نقد ہے ، اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے
2. نظم "ہولی” (رنگ، موسیقی اور ثقافت کا امتزاج)
یہ نظم ہندوستان کے سب سے رنگین تہوار کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ چھ بند پر مشتمل یہ مخمس ترکیب بند نظم، ہولی کے تہوار کی ہر کیفیت کو موسیقی کے سازوں اور رنگوں کی بوچھاڑ کے ساتھ پیش کرتی ہے۔
نظم میں طبلے کی تھاپ، ڈھولک، مردنگ، رباب، سارنگی کی آواز اور گھنگھروؤں کی چھنکار سنائی دیتی ہے۔ گلاب، عبیر اور پچکاریوں کے ذریعے کھیلی جانے والی دھینگا مشتی کا منظر نہایت جاندار ہے:
گل زار کھلے ہوں پریوں کے اور مجلس کی تیاری ہو
کپڑوں پر رنگ کے چھینٹوں سے خوش رنگ عجب گل کاری ہو
منہ لال ، گلابی آنکھیں ہوں، اور ہاتھوں میں پچکاری ہو
اس رنگ بھری پچکاری کو انگیا پر تک کر ماری ہو
سینوں سے رنگ ڈھلکتے ہوں تب دیکھ بہاریں ہولی کی
نظیر اس خوشی کے تہوار کے اجتماعی تاثر کو یوں سمیٹتے ہیں:
آ جھمکے عیش و طرب کیا کیا، جب حسن دکھایا ہولی نے
ہر آن خوشی کی دھوم ہوئی، یوں لطف جتایا ہولی نے
ہر خاطر کو خورسند کیا، ہر دل کو لبھایا ہولی نے
دفِ رنگین نقش سنہری کا، جس وقت بجایا ہولی نے
بازار، گلی اور کوچوں میں، غل شور مچایا ہولی کا
3. نظم "مفلسی” (سماجی حقیقت کی تلخ تصویر)
نظیر کی سماجی بصیرت کا سب سے بڑا ثبوت ان کی 19 بندوں پر مشتمل مخمس نظم ‘مفلسی’ ہے۔ اس نظم میں وہ بتاتے ہیں کہ غربت کس طرح انسان کی عزت، وقار، علم اور شرافت کو خاک میں ملا دیتی ہے۔ روزمرہ کی اشیاء (چولہا، توا، رکابی، دروازے کی زنجیر) کا استعمال کر کے وہ غربت کا ایسا المناک خاکہ کھینچتے ہیں جو سیدھا دل پر اثر کرتا ہے۔
وہ بتاتے ہیں کہ مفلسی بڑے بڑے حکیموں اور عالموں کو بھی بے وقعت کر دیتی ہے:
کہیے تو اب حکیم کی سب سے بڑی ہے شان
تعظیم جس کی کرتے ہیں نواب اور خان
مفلس ہوئے تو حضرت لقمان کیا ہیں یاں
عیسیٰ بھی ہو تو کوئی نہیں پوچھتا میاں
حکمت حکیم کی بھی ڈوباتی ہے مفلسیجو اہل فضل عالم و فاضل کہاتے ہیں
مفلس ہوئے تو کلمہ تلک بھول جاتے ہیں
پوچھے کوئی الف تو اسے بے بتاتے ہیں
وہ جو غریب غربا کے لڑکے پڑھاتے ہیں
ان کی تو عمر بھر نہیں جاتی ہے مفلسی
روٹی کی مجبوری انسان کو کس حد تک گرا دیتی ہے، اس پر ان کا مشاہدہ انتہائی گہرا ہے:
مفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر
دیتا ہے اپنی جان وہ ایک ایک نان پر
ہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پر
جس طرح کتے پڑتے ہیں ایک استخوان پر
ویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسی
نظم کے اختتام پر وہ دعا گو ہیں کہ خدا کسی کو اس ذلت میں مبتلا نہ کرے:
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی
یہ دکھ وہ جانے کہ جس پہ آتی ہے مفلسی
نظیر اکبر آبادی کی شاعری اس تناور درخت کی مانند ہے جس کی جڑیں ہندوستان کی ثقافتی اور زمینی حقیقتوں میں پیوست ہیں۔ ادب کے ایوانوں میں اگرچہ انہیں دیر سے تسلیم کیا گیا، لیکن عوام کے دلوں میں ان کا مقام ہمیشہ سے مسلم رہا ہے۔ ان کی نظم نگاری مقصدیت، انسان دوستی اور فن کے ایسے بہترین ملاپ کا نام ہے جس نے اردو ادب کے دامن کو ہمیشہ کے لیے وسیع کر دیا۔ آج بھی انہیں جدید اردو نظم کا پیش رو اور بانی تسلیم کیا جاتا ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
