نسرین انجم بھٹی کی شاعری کے 5 اہم پہلو، سوانح حیات اور ادبی خدمات کی مکمل تفصیل تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
پاکستانی ادب کی تاریخ میں جب بھی جدید نظم کا ذکر آتا ہے، تو نسرین انجم بھٹی کی شاعری کو ایک انتہائی منفرد اور نمایاں مقام حاصل ہوتا ہے۔ اگرچہ طویل عرصے تک ان کا کوئی باقاعدہ شعری مجموعہ شائع نہیں ہوا، تاہم گزشتہ تیس برسوں سے زائد عرصے کے دوران ان کی تخلیقات تسطیر، دنیازاد، آج، اثبات، مجلہ دستاویز، فنون اور ادبی کارواں جیسے صفِ اول کے ادبی جرائد کی زینت بنتی رہی ہیں۔
ان کی تخلیقات میں زندگی کے گہرے حقائق، رشتوں کا المیہ، نامعلوم دکھ، ایک عجیب سی کسک، معاشرتی تبدیلیوں کا نوحہ اور زندگی کے اثبات جیسے موضوعات بہت گہرائی سے بیان کیے گئے ہیں۔
نسرین انجم بھٹی کی شاعری میں جدیدیت اور منفرد اسلوب
نسرین انجم بھٹی کے کلام کا اگر بغور مطالعہ کیا جائے تو ان کی نظموں میں ایک خاص قسم کا طلسماتی آہنگ محسوس ہوتا ہے۔ ان کی چند مشہور ترین اور نمایاں نظموں میں ’بارش دیکھتی ہے‘، ’وہ بازی جن کے ہاتھ رہی‘، ’محبت کی آخری نظم‘، ’ایک موقع‘، ’بالآخر‘، ’بھرم‘، ’آگہی‘، ’بعد کے بعد‘ اور ’ابھی وہ ایک دن کا بھی نہیں‘ شامل ہیں۔
یہ نظمیں اس بات کی گواہ ہیں کہ شاعرہ اپنے اردگرد بکھرے مسائل کا کس قدر باریک بینی سے مشاہدہ کرتی ہیں۔ وہ واقعات کی کڑیوں کو ایک خاص مہارت سے جوڑ کر ایک مکمل تصویر پیش کرنے کا ہنر جانتی ہیں۔
ان کے فنی اظہار کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ انسانی جذبوں کی چھوٹی چھوٹی جزیات کو نظر انداز نہیں کرتیں۔ ان کی نظم کا بیانیہ اتنا جاندار ہوتا ہے کہ قاری کے ذہن پر واقعے کا تاثر مکمل طور پر نقش ہو جاتا ہے۔ جدید نظم کی ایک اہم صنف ’کنایہ‘ کا استعمال ان کے ہاں کثرت سے ملتا ہے، جس میں وہ ایسے معانی بھر دیتی ہیں کہ پڑھنے والا الفاظ کے سحر میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
بطور مثال ان کی نظم ”بھرم“ کے چند ابتدائی مصرعے ملاحظہ کریں:
سڑک صاف سیدھی ہے اور دھوپ ہے
دو پہر کا سفر
اک اکیلی سڑک پیر تسمہ بپا یوں چلی جارہی ہے
ان چند مصرعوں سے ہی یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس خوبصورتی سے ایک سادہ منظر کو نئی معنوی وسعتیں عطا کر دیتی ہیں۔ جدید نظم دراصل معانی کو ابھارنے والی صنف ہے، اور اس حوالے سے ساحل احمد اپنی کتاب (صریر خامہ ڈاکٹر فہیم اعظمی، کراچی، اپریل 1997، ص: 49) میں لکھتے ہیں:
"اردو نظم اردو شاعری کی ایک ایسی قسم ہے جو تسلسل و تفکر کے ارتکازی اوصاف کے باعث بے پناہ معنوی وسعت کی حامل صنف سخن بن گئی ہے۔ ہیئتی اور موضوعی اعتبار سے اس کا دامن شعری بے حد وسیع ہے۔”
مذہبی کلامیے سے آغاز پانے والی اس نظم میں شاعرہ نے اشیاء کی ظاہری ماہیت کے بجائے ان کی عادات کو نئے زاویوں سے پیش کیا ہے۔ بعض مقامات پر مادی اور غیر مادی اشیاء اس قدر آپس میں گندھ جاتی ہیں کہ ذہن میں ایک بالکل انوکھی تصویر جنم لیتی ہے۔
ان کے اسی شعری تجربے اور جدید صنف کی پیچیدگی کے حوالے سے حامدی کاشمیری بیان کرتے ہیں:
"نظم ایک جدید صنف ہے، جو کسی اور صنف کی طرح تخلیقی تجربے کی مخصوص ہیئت میں تجسیم کرتی ہے، لازما اس کے تجربے کی شناخت کا عمل جدید تنقید کے تجزیاتی مطالعہ کی ضرورت کا جواز مہیا کرتا ہے۔ شعری تجربے میں متضاد عناصر کے ترکیبی عمل میں جو لسانی پیچیدگی اور رمزیت پیدا ہوتی ہے وہ لا محال تفہیم و تحسین کے مسائل کھڑے کرتی ہے جن سے ایک نکتہ شناس نقاد ہی نپٹ سکتا ہے، اور قاری کی مشکل آسان ہو سکتی ہے۔” (- ص: 7 اردو نظم اور اس کی قسمیں، ساحل احمد، مطبع، ار دور انٹرس، گلڈ الہ آباد، 1997)
ابتدائی زندگی اور تعلیمی سفر
نسرین انجم بھٹی 26 جنوری 1943ء کو بنیامین بھٹی کے گھر کوئٹہ میں پیدا ہوئیں۔ گو کہ ان کی جائے پیدائش بلوچستان تھی، لیکن ان کے بچپن کا بیشتر حصہ سندھ کے مشہور شہر جیکب آباد میں گزرا۔
انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم کوئٹہ کے ایک ایسے اسکول سے حاصل کی جہاں ہزارہ برادری کی طالبات فارسی زبان بولا کرتی تھیں۔ ان کی پرورش ایک ایسے گھرانے میں ہوئی جہاں فنونِ لطیفہ کو خاص اہمیت دی جاتی تھی۔
اپنے تعلیمی سفر کو آگے بڑھاتے ہوئے انھوں نے درج ذیل اسناد حاصل کیں:
- نیشنل کالج آف آرٹس (NCA) سے دو سال تک آرٹ کی تعلیم حاصل کی (تاہم ڈپلوما مکمل نہ ہو سکا)۔
- 1968ء میں لاہور کالج فار ویمن سے فائن آرٹس میں بیچلر (BA) کی ڈگری لی۔
- 1969ء میں اورینٹل کالج، پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم اے کیا۔
- ملازمت کے دوران 1994ء میں پنجاب یونیورسٹی لاہور سے ہی پنجابی زبان میں بھی ماسٹرز مکمل کیا۔
- 2001ء میں علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی اسلام آباد سے ویمن اسٹڈیز میں پوسٹ گریجویٹ ڈپلوما حاصل کیا۔
پیشہ ورانہ زندگی اور ادبی حلقوں سے وابستگی
نسرین انجم بھٹی کی شاعری کا آغاز بہت کم عمری میں ہی ہو گیا تھا۔ محض نو سال کی عمر میں انھوں نے نظمیں لکھنا شروع کر دیں جو بچوں کے مقبول رسالے ’تعلیم و تربیت‘ میں شائع ہوتی تھیں۔
کالج کے دور میں وہ میگزین کی ایڈیٹر رہیں اور ابتدا میں انھوں نے انگریزی، اردو، سندھی اور پنجابی، چاروں زبانوں میں طبع آزمائی کی، مگر بعد ازاں ان کی توجہ اردو اور پنجابی شاعری پر مرکوز ہو گئی۔
1970 کی دہائی میں وہ لاہور کے معروف ادبی حلقوں کی ایک سرگرم رکن بن گئیں۔ ان مطالعاتی نشستوں میں فہیم جوزی، سرمد صہبائی، کنول مشتاق اور شاہد محمود ندیم جیسی شخصیات شرکت کرتی تھیں۔ وہ نامور دانشور نجم حسین سید کے افکار سے بے حد متاثر تھیں اور ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والی ہفتہ وار پنجابی ادبی بیٹھکوں کا باقاعدہ حصہ رہیں۔
ریڈیو پاکستان سے وابستگی
ایک ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام کے ذریعے وہ 1971ء میں ریڈیو پاکستان سے منسلک ہو گئیں۔ یہاں وہ طلبہ کے پروگرامز ترتیب دیتی تھیں اور ادبی شوز میں اپنے مضامین اور کلام پیش کرتی تھیں۔
انھوں نے ریڈیو پاکستان میں بطور پروڈیوسر، براڈکاسٹر اور ڈپٹی کنٹرولر شاندار خدمات انجام دیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے شاکر علی میوزیم کی ریذیڈنٹ ڈائریکٹر کی حیثیت سے بھی فرائض نبھائے۔
ایک معروف انگریزی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں انھوں نے انکشاف کیا کہ انتظار حسین، انیس ناگی، عبداللہ حسین، کشور ناہید اور عزیز الحق جیسے قدآور ادبی ناموں کی قربت نے ان کی فنی صلاحیتوں کو نکھارنے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح ظہیر کشمیری، منیر نیازی، امانت علی خان، ناصر کاظمی، جی اے چشتی، صوفی تبسم اور وزیر افضل جیسی شخصیات کے ساتھ کام کر کے وہ ایک پختہ فنکار بن کر ابھریں۔
ازدواجی زندگی
ریڈیو پاکستان میں شمولیت کے چند سال بعد، 1977ء میں ان کی شادی بائیں بازو کے نظریات رکھنے والے مشہور صحافی اور مصنف زبیر رانا سے ہوئی۔
یہ محض ایک روایتی رشتہ نہیں تھا بلکہ دونوں کے درمیان ایک انقلابی سوچ کا مضبوط تعلق بھی موجود تھا۔ یہی وجہ تھی کہ انھوں نے زندگی کی کٹھن ترین مشکلات کے باوجود ایک ہی چھت کے نیچے پوری زندگی گزار دی۔
نسرین انجم بھٹی کی شاعری کے نمایاں موضوعات: مزاحمت اور نسائیت
نسرین انجم بھٹی کی شاعری کو اردو اور پنجابی مزاحمتی ادب کے آخری اور مضبوط ترین ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
ایک باشعور اور حقوقِ نسواں کی علمبردار شاعرہ ہونے کی حیثیت سے، انھوں نے اپنی قلمی طاقت کے ذریعے استحصالی طبقاتی نظام، جاگیردارانہ سوچ اور سیاسی و معاشی عدم مساوات کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔
ان کے ہاں نسائی شعور بہت بیدار تھا۔ انھوں نے بڑی دلیری سے اس بات کو بے نقاب کیا کہ کس طرح پدر شاہی معاشرے، فرسودہ روایات، اور ثقافتی اقدار نے عورت کو محض ایک جنس بنا کر رکھ دیا ہے۔ ان کا کلام سیاسی جبر اور معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف ایک توانا آواز ہے۔
تصانیف اور تراجم
انھوں نے چار زبانوں میں اہم کتابوں اور ناولز کے شاندار تراجم کیے، جبکہ ان کی اپنی تصانیف میں اردو اور پنجابی کی مندرجہ ذیل کتابیں شامل ہیں:
- نیل کرائیاں نیلکاں (پنجابی شاعری – 1979ء)
- اٹھے پہر تراہ (پنجابی شاعری – 2009ء)
- شاملاٹ (پنجابی شاعری)
- بن باس (اردو شاعری)
- تیرا لہجہ بدلنے تک
ملنے والے اہم ایوارڈز اور اعزازات
حقوقِ نسواں اور مزاحمتی ادب کے فروغ کے لیے ان کی خدمات کو ریاستی اور ثقافتی سطح پر بھرپور پذیرائی ملی۔ انھیں درج ذیل اعزازات سے نوازا گیا:
- 1991ء: بیگم نصرت بھٹو کی جانب سے ’جمہوریت ایوارڈ‘ دیا گیا۔
- 1993ء: بیگم شہناز وزیر علی نے ’قومی ادبی ایوارڈ‘ سے نوازا۔
- 2006ء: بھارت کے شہر جالندھر میں انھیں ’ہنس راج مہیلا مہا ایوارڈ‘ دیا گیا، نیز پنجابی یونیورسٹی پٹیالہ نے کلچرل ایوارڈ سے نوازا۔
- 2009ء: بے نظیر بھٹو شہید کی زندگی پر مبنی دستاویزی فلم کا اسکرپٹ لکھنے پر پی این سی اے (PNCA) کی جانب سے پذیرائی اور سید ممتاز عالم کی طرف سے ’بے نظیر میڈل‘ ملا۔
- 2010ء: ’مسعود کھدر پوش ایوارڈ‘ ان کے نام رہا۔
- 2011ء: حکومتِ پاکستان کی جانب سے گراں قدر خدمات کے اعتراف میں ’تمغہ امتیاز‘ عطا کیا گیا۔
- ان کے علاوہ پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن کا مزاحمتی شاعری ایوارڈ، شاہ حسین ایوارڈ، امیر خسرو ایوارڈ اور استاد عشق لہر ایوارڈ بھی ان کے کریڈٹ پر ہیں۔
بیماری کے ایام اور وفات کا دکھ
سال 2015 میں نسرین انجم بھٹی کو کینسر جیسے موذی مرض کی تشخیص ہوئی۔ ابتدائی طور پر سی ایم ایچ (CMH) لاہور میں ان کی کیموتھراپی کی گئی۔
ان کی زندگی کا ایک بڑا المیہ یہ رہا کہ جس شہرِ لاہور کے ادبی اور نظریاتی حلقوں کو انھوں نے اپنی پوری زندگی وقف کر دی، مشکل وقت میں وہاں انھیں سنبھالنے والا کوئی نہ تھا۔ گڑھی شاہو کی یہ رہائشی ہمیشہ لاہور کی مٹی میں دفن ہونے کی خواہش رکھتی تھیں۔
مگر مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کے سبب، ان کے دو ضعیف بہن بھائی انھیں مجبوراََ کراچی لے گئے۔ وہاں پی این ایس (PNS) اسپتال اور بعد ازاں بیت السکون اسپتال میں ان کا علاج جاری رہا، جہاں انھوں نے اپنی زندگی کی آخری سانسیں لیں۔
ان کا ایک بیٹا ہے جو بیرونِ ملک مقیم ہے۔ بالآخر، مزاحمت کی یہ توانا آواز 28 جنوری 2016ء کو ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئی۔
نسرین انجم بھٹی کی شاعری کا ایک شاہکار: محبت کی آخری نظم
ان کے اسلوب کی گہرائی اور جذبوں کی شدت کو سمجھنے کے لیے ان کی یہ مشہور نظم پیشِ خدمت ہے:
عنون: محبت کی آخری نظم
دم رخصت
تپے ہوئے لہجے میں خاموش رہنے والا
آنکھوں تک سلگ اٹھا ہوگا
اس کی سانسوں سے میرا دم رک گیا
اور میری ہتھیلیاں دھڑکنے لگیں
میرا مرد پورے چاند کی طرح مجھ پر چھا گیا
وہ آگ سے مرتب ہے
میرے انگ انگ میں پگھلنے کی آرزو ہے
اس کے لمس میں میرے خمیر کی خوشبو کہاں سے سما گئی
کہ میں اپنی تلاش میں اس تک آ پہنچی
اس کی آنکھوں میں میری آنکھیں تھیں
جب اسے مجھ سے جدا کیا گیا
وہ دروازے سے باہر بھی دروازے کے اندر تھا
اور میں دروازے کے اندر بھی دروازے سے باہر تھی
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی ڈجکوٹ فیصل آباد فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات) متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
