نصیر احمد ناصر کی شاعری کی 7 حیرت انگیز فکری جہتیں اور جدید نظم کا کمال تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی جدید تاریخ میں نصیر احمد ناصر کی شاعری ایک ایسا منفرد اور توانا باب ہے، جس نے روایتی اسلوب سے ہٹ کر نئے فکری دریچے کھولے ہیں۔ یکم اپریل 1954ء کو صوبہ پنجاب کے مشہور شہر گجرات میں پیدا ہونے والے نصیر احمد ناصر بیک وقت ایک نامور صحافی اور جدید اردو نظم کے انتہائی اہم اور معتبر تخلیق کار مانے جاتے ہیں۔
ان کے تخلیقی سفر کے دوران اب تک ان کے پانچ مایہ ناز شعری مجموعے اشاعت کے مراحل طے کر چکے ہیں۔ تاہم، قارئین اور ناقدین کے حلقوں میں ان کی کتاب "پانی میں گم خواب” اور 1990ء سے 2000ء کے درمیانی عرصے کی تخلیقات پر مبنی مجموعے "عرابچی سو گیا ہے” کو غیر معمولی اور بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔
نصیر احمد ناصر کی شاعری میں حیات اور کائنات کا فلسفہ
جب ہم نصیر احمد ناصر کی شاعری کا گہرائی سے مطالعہ کرتے ہیں، تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ ان کا قلم ہمیشہ انسان کے ان تجسس بھرے رویوں کی عکاسی کرتا ہے جو کائنات، انسانی ذات، اور خالقِ دو جہاں کی پوشیدہ صفات کو سمجھنے کے لیے بے تاب رہتے ہیں۔
ان کے کلام میں زندگی محض ایک سیدھا راستہ نہیں، بلکہ انسانی تہذیب اور تاریخ کے ساتھ ساتھ نسل در نسل منتقل ہونے والے کرب، دکھ اور ٹوٹے ہوئے خوابوں کا ایک وسیع کینوس ہے۔
وہ اپنی تخلیقات میں خواب اور ادھوری خواہشات کی وادیوں سے گزرتے ہوئے ایک انتہائی روشن اور تابناک مستقبل کی امید لگاتے ہیں۔ ان کی دلی تمنا یہ نظر آتی ہے کہ کسی طرح بنی نوع انسان کے دکھوں کا مداوا ہو سکے، اور ایک ایسا وقت آئے جب بہار کی طاقت کے سامنے خزاں ہمیشہ کے لیے مصلوب ہو جائے۔
خواب اور تنہائی: فکری تانے بانے کے اہم ستون
ان کی نظموں کا بنیادی ڈھانچہ تنہائی اور خوابوں کے دھاگوں سے بُنا گیا ہے۔ ان کے ہاں ‘خواب’ محض ایک لفظ نہیں بلکہ ایک انتہائی گہری اور کثیر الجہتی علامت (Metaphor) کے طور پر ابھرتا ہے۔
ان کی نظموں کے عنوانات پر غور کریں تو "خواب اور محبت کی کوئی عمر نہیں ہوتی”، "بے چہرہ خواب”، "سارے خواب کلیشے ہیں”، اور "ایک عورت کی خواب گاہ میں” جیسی نظمیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ لفظ ‘خواب’ ان کی سوچ پر کس قدر حاوی ہے۔
وہ خواب کو محض نیند کا حصہ نہیں سمجھتے، بلکہ یہ ان کی نظر میں موجودہ نسل کا آشوب اور ادھوری خواہشات کا نوحہ ہے۔ اس کیفیت کو سمجھنے کے لیے ان کی نظم "بے خوابی کی آکاس بیل پر کھلی خواہش” کے یہ مصرعے ملاحظہ کریں:
مجھ کو سونے دو
صدیوں جیسی گہری لمبی نیند
جس میں کوئی خواب نہ ہو
مجھ کو سونے دو
اس لڑکی کی نیند
جو اپنی آنکھیں
میری آنکھوں میں رکھ کر
بھول گئی ہے!
مجھ کو سونے دو
خواب کی کائناتی وسعت اور ناقدین کی آراء
ان کا خواب کائنات کی لامحدود وسعتوں تک پھیلا ہوا ہے۔ اس حوالے سے ممتاز نقاد احمد ہمیش کا نظریہ بہت اہمیت کا حامل ہے، جسے ظہیر غازی پوری نے اپنے مضمون (ستیہ پال آنند کی نظم۔ ایک جائزہ) میں بیان کیا ہے:
"نصیر احمد کے خوابِ مسلسل کو معمولی استعارہ سمجھ لینا اس عہد کی سب سے بڑی شعری نارسائی اور ادبی بددیانتی ہو گی۔ ناصر کے خواب کی تعبیر و تفہیم کے لیے محض اس خاکی کرے پر ارتقائے حیات ہی کا نہیں بلکہ بساطِ کائنات کی لامتناہیت میں وجودِ آدم کی بے بساطی کا شعور و لاشعور رکھنا بھی ضروری ہے۔”
(حوالہ: صفحہ 38، ستیہ پال آنند کی نظم نگاری، پبلشر: زیڈ اینڈ ایڈورٹائزر، نئی دہلی، اشاعت: 2008)
سائنسی شعور اور جدید ٹیکنالوجی کے خلاف مزاحمت
نصیر احمد ناصر کی شاعری کی ایک اور بے حد نمایاں خوبی ان کا گہرا سائنسی شعور ہے۔ انہوں نے اپنی نظموں کے لیے ایک ایسا منفرد ڈکشن ترتیب دیا ہے جس میں سائنسی اصطلاحات اور تراکیب انتہائی خوبصورتی سے استعمال ہوئی ہیں۔
وہ جدید ٹیکنالوجی کی افادیت کے تو قائل ہیں، لیکن جہاں یہ ٹیکنالوجی انسانیت کے لیے خطرہ بنتی ہے، وہاں ان کا لہجہ شدید احتجاجی ہو جاتا ہے۔ جبر، ناانصافی اور انسانی حقوق کی پامالی انہیں آگ بگولہ کر دیتی ہے۔
ان کی مشہور نظم "پانی میں گم خواب” میں جدید ایٹمی دور کے خلاف یہ مزاحمت دیکھی جا سکتی ہے:
خواب اور خواہش میں
فاصلہ نہیں ہوتا
عکس اور پانی کے
درمیان آنکھوں میں
آئینہ نہیں ہوتا
سوچ کی لکیروں سے
شکل کیا بناؤ گے
درد کی مثلث میں
زاویہ نہیں ہوتا
بے شمار نسلوں کے
خواب ایک سے لیکن
نیند اور جگراتا
ایک سا نہیں ہوتا
جوہری نظاموں میں
نام بھول جاتے ہیں
کوڈ یاد رہتے ہیں
ایٹمی دھماکوں سے
تابکار نسلوں کے
خواب ٹوٹ جاتے ہیں
ان کے اسی سائنسی مزاج کے بارے میں رفیق احمد سندیلوی لکھتے ہیں:
"نصیر احمد ناصر رمز آشنا شاعر ہیں۔ ان کا میدان خاصا وسیع ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اس آگہی کو بھی ایک موزونی کے ساتھ نظم کے دھاگوں میں حرکت کرنے دیتے ہیں جو انہیں سائنسی اکتشافات سے مہیا ہوتی ہے۔”
(حوالہ: صفحہ 216، اردو شاعری کا تنقیدی مطالعہ، مصنفہ: سنبل نگار، ایجوکیشنل بک ہاؤس: علی گڑھ، 1995)
اسلوب، نثری نظمیں اور مذہبی و تاریخی استعارے
ان کا اسلوب انتہائی رواں، سادہ اور بیانیہ ہے۔ وہ آزاد اور نثری نظموں کے ذریعے اپنی بات قاری تک پہنچاتے ہیں۔ انہیں خاص طور پر چھوٹے اور بظاہر عام سے موضوعات پر مختصر نظمیں تخلیق کرنے میں کمال حاصل ہے۔
ان کے کردار ہماری روزمرہ زندگی اور زمین سے جڑے ہوتے ہیں۔ ان کی نمائندہ اور مشہور نظموں میں چندھا، لائٹ ہاؤس، عرابچی سو گیا، لال پلکا، امیگریشن، دیکھ سکتے ہو تو دیکھو، بارش کیسے لائیں، اور میرے ہاتھ میری آنکھیں شامل ہیں۔
ان تمام نظموں میں جو فکری جہت مشترک ہے، وہ ہر موضوع کے اندر چھپے نئے مفاہیم کی تلاش ہے۔ اس کے علاوہ، وہ تاریخی واقعات اور مذہبی استعاروں کو اتنی مہارت سے ادبی روپ دیتے ہیں کہ قاری ایک نیا تاثر لے کر اٹھتا ہے۔ ان کی آزاد نظمیں بھی ساخت کے اعتبار سے پابند نظموں جیسی چاشنی رکھتی ہیں۔
نصیر احمد ناصر کی تصانیف کا تفصیلی جائزہ
انہوں نے شاعری کے علاوہ مختلف موضوعات پر گراں قدر کتب تحریر کیں اور کئی اہم ادبی شمارے بھی مرتب کیے۔ ان کی کاوشوں کی تفصیل مندرجہ ذیل ہے:
تصنیف کردہ 13 کتابیں:
- عرابچی سو گیا ہے
- سرمئی نیند کی بازگشت (2017)
- تیسرے قدم کا خمیازہ (2013)
- ملبے سے ملی چیزیں (2013)
- پانی میں گم خواب (2002)
- پیغمبر اعظم و آخر
- تاریخ جمالیات (جلد اول – 1962)
- زرد پتوں کی شال (ہائیکو کا مجموعہ)
- اسلامی ثقافت
- اقبال اور جمالیات (1978)
- تمام
مرتب کردہ شمارے اور کتابیں (24 کے قریب):
انہوں نے مشہور ادبی جریدے "تسطیر” کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیے، جن کی تفصیل یہ ہے:
- تسطیر: شمارہ نمبر 007، 008 (1999)
- تسطیر: شمارہ نمبر 003 (1997)
- دیگر شمارے: 011, 012, 013, 014, 017, 018 اور 000 کی سیریز شامل ہیں۔
مشہور نظم: "تم نے اسے کہاں دیکھا ہے”
ان کی یہ نظم ان کے فکری عروج کی ایک اور بہترین مثال ہے:
کبھی تم نے دیکھا ہے
خوابوں سے آگے کا منظر
جہاں چاند تاروں سے روٹھی ہوئی
رات اپنے برہنہ بدن پر
سیہ راکھ مل کر
الاؤ کے چاروں طرف ناچتی ہے!
کبھی تم نے جھانکا ہے
پلکوں کے پیچھے
تھکی نیلی آنکھوں کے اندر
جہاں آسمانوں کی ساری اداسی
خلا در خلا تیرتی ہے
کبھی تم نے اک دن گزارا ہے
رستوں کے دونوں طرف ایستادہ
گھنے سبز پیڑوں کے نیچے
جہاں دھوپ اپنے لیے
راستہ ڈھونڈھتی ہے!
کبھی تم نے پوچھا ہے
چلتے ہوئے راستے میں
کسی اجنبی سے
پتا اس کے گھر کا
ہوا جس کے قدموں کے مٹتے نشاں چومتی ہے
نگر در نگر گھومتی ہے!!
نصیر احمد ناصر کی مشہور غزل
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی
جاگتی آنکھوں میں خوابوں کی تھکن باقی رہی
پانیوں کا جسم سہلاتی رہی پروا مگر
ٹوٹتے بنتے حبابوں کی تھکن باقی رہی
دید کی آسودگی میں کون کیسے دیکھتا
درمیاں کتنے حجابوں کی تھکن باقی رہی
فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
بارشیں ہوتی رہیں ناصرؔ سمندر کی طرف
ریگزاروں میں سرابوں کی تھکن باقی رہی
متفرق اور منتخب اشعار کا خزانہ
ان کی غزلوں اور نظموں سے اخذ کیے گئے چند شاہکار اشعار جو انسانی نفسیات اور معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتے ہیں:
موضوع: آنکھ اور خواب
ابھی وہ آنکھ بھی سوئی نہیں ہے
ابھی وہ خواب بھی جاگا ہوا ہے
موضوع: استاد اور نظامِ تعلیم
فلسفے سارے کتابوں میں الجھ کر رہ گئے
درس گاہوں میں نصابوں کی تھکن باقی رہی
موضوع: بدن کی لا مکانی
محبت کے ٹھکانے ڈھونڈھتی ہے
بدن کی لا مکانی موسموں میں
دیگر مشہور اشعار:
خموشی جھانکتی ہے کھڑکیوں سے
گلی میں شور سا پھیلا ہوا ہے
رات بھر خواب دیکھنے والے
دن کی سچائیوں میں چیخ اٹھے
ہوا گم صم کھڑی ہے راستے میں
مسافر سوچ میں ڈوبا ہوا ہے
لوگ پھرتے ہیں بھرے شہر کی تنہائی میں
سرد جسموں کی صلیبوں پہ اٹھا کر چہرے
جب پکارا کسی مسافر نے
راستے کھائیوں میں چیخ اٹھے
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی ڈجکوٹ فیصل آباد فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات) متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
