مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

نیر مسعود کی ترجمہ نگاری

نیر مسعود کی ترجمہ نگاری: اردو ادب میں 5 شاندار اور ناقابلِ فراموش اضافے تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

کسی بھی زبان کے ادب، ثقافت اور افکار کو سمجھنے کے لیے ترجمے کا عمل ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اردو ادب کے مایہ ناز محقق اور افسانہ نگار نیر مسعود کی ترجمہ نگاری پر تفصیلی گفتگو کرنے سے قبل، یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ ترجمہ نگاری کا اصل فن کیا ہے اور اس کے کیا ثمرات مرتب ہوتے ہیں۔

بنیادی طور پر، کسی ایک زبان کے ادبی پارے، تحریر یا متن کو دوسری زبان کے قالب میں ڈھالنے کا نام ترجمہ ہے۔ اس عمل کا سب سے بڑا اور بنیادی فائدہ یہ ہے کہ جغرافیائی، علاقائی، اور مذہبی اختلافات کے باوجود، ہم دنیا کے مختلف خطوں کی تہذیب و تمدن، طرزِ زندگی، اور فکری رجحانات سے بخوبی واقف ہو جاتے ہیں۔

ترجمہ نگاری کے بنیادی اصول اور فکشن کی نزاکتیں

ایک کامیاب مترجم کے لیے اولین شرط یہ ہے کہ وہ متن کی اصل زبان اور جس زبان میں ترجمہ کیا جا رہا ہے، ان دونوں پر مکمل اور غیر معمولی عبور رکھتا ہو۔ محض لغوی معنی جان لینا کافی نہیں؛ مترجم کو اصل متن کے زمان و مکان، سماجی پس منظر، اسلوب، اور مصنف کی ذہنی و جذباتی کیفیت کا بھی گہرا ادراک ہونا چاہیے۔ اگر یہ عناصر غائب ہوں، تو ترجمہ محض لفظی اور بے جان ہو کر رہ جاتا ہے۔

جب بات فکشن (افسانے یا ناول) کے ترجمے کی ہو، تو یہ شرائط مزید کڑی ہو جاتی ہیں۔ ہر فکشن ایک مخصوص تہذیبی اور لسانی پس منظر کی پیداوار ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر، اگر کوئی شخص نیر مسعود کی اپنی کسی تخلیق کا کسی دوسری زبان میں ترجمہ کرنا چاہے، تو اس کے لیے اودھ کی تہذیب، اور خاص طور پر لکھنؤ کے تاریخی عروج و زوال سے مکمل آگہی ناگزیر ہے۔ اس پس منظر کو سمجھے بغیر، ترجمے میں وہ مخصوص اشارے اور گہرے مفاہیم کبھی منتقل نہیں ہو سکتے جو مصنف نے اصل تحریر میں سموئے ہیں۔

خلاصہ کلام یہ کہ کسی بھی تخلیقی ادب کو دوسری زبان کا لباس پہنانے کے لیے مترجم کو تخلیق کار کے عہد اور اس کی فکری سطح سے گزرنا پڑتا ہے، تبھی ایک شاہکار ترجمہ وجود میں آتا ہے۔

نیر مسعود کی ترجمہ نگاری اور لسانی عبور

جب ہم نیر مسعود کی ترجمہ نگاری کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ وہ اس فن کے تمام کڑے معیارات پر پورے اترتے تھے۔ وہ لکھنؤ یونیورسٹی میں فارسی زبان کے استاد کے فرائض انجام دیتے رہے۔ جس طرح انہیں اردو زبان کی نزاکتوں پر عبور حاصل تھا، بعینہٖ وہ فارسی زبان کے بھی ماہر تھے۔

پہلا شاہکار: ڈرامہ "موسیو ژورداں” کا ترجمہ

ان کے ترجمے کے سفر کا ایک شاندار نمونہ ترکی زبان کا مشہور ڈرامہ "موسیو ژورداں” ہے۔ اس ڈرامے کے اصل خالق ترکی کے نامور مصنف مرزا فتح علی اخون زادہ تھے۔

اس شاہکار کو 1850ء میں مرزا جعفر قراجہ داغی نے فارسی زبان میں منتقل کیا۔ نیر مسعود نے اس ڈرامے کی ادبی کشش اور طلباء کی تعلیمی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے، اسے فارسی سے اردو کے قالب میں ڈھالا۔

یہ ترجمہ 1967ء میں ادارہ فروغِ اردو، لکھنؤ کے زیرِ اہتمام ‘سرفراز برقی پریس’ سے شائع ہوا۔ اس ڈرامے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اسے ہندوستان کے تعلیمی نصاب کا حصہ بھی بنایا گیا۔ کل 43 صفحات، 9 کرداروں اور ایک منظر پر مشتمل یہ ڈرامہ ان کی فنی مہارت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

فرانز کافکا کی تحریروں کے اردو تراجم

مشرقی ادب کے ساتھ ساتھ، نیر مسعود نے مغربی ادب کا بھی انتہائی عمیق مطالعہ کر رکھا تھا۔ وہ شہرۂ آفاق جرمن ادیب فرانز کافکا (Franz Kafka) کے اسلوب سے بے حد متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اپنے افسانوں پر بھی کافکا کی فضا کا گہرا رنگ محسوس ہوتا ہے، اگرچہ نیر مسعود کی کہانیاں کافکا کی طرح حد سے زیادہ مبہم اور الجھی ہوئی نہیں ہیں۔

اپنی اسی عقیدت کے پیشِ نظر، انہوں نے کافکا کے 20 افسانوں کو اردو کا روپ دیا۔ یہ مجموعہ 1978ء میں اتر پردیش کے ‘الواعظ صفدر پریس’ لکھنؤ سے "کافکا کے افسانے” کے عنوان سے زیورِ طبع سے آراستہ ہوا۔

اس مجموعے میں شامل کافکا کے افسانوں کی فہرست درج ذیل ہے:

  • شکاری گریکس
  • گیلری میں
  • ایک قدیم مخطوطہ
  • پاس سے گزرنے والے
  • خانہ دار کی پریشانیاں
  • بے خیالی میں کھڑکی سے دیکھنا
  • حویلی کے پھاٹک پر دستک
  • پل
  • بالٹی سوار
  • ایک عام خلفشار
  • ایک چھوٹی سی کہانی
  • دوغلا
  • لباس
  • قصبے کا ڈاکٹر
  • درخت
  • نیا وکیل
  • اگلا گاؤں
  • گیدڑ اور عرب
  • ریڈ انڈین ہونے کی خواہش
  • فیصلہ

کافکا کے تراجم کی اشاعت کا صبر آزما سفر

اس مجموعے کی اشاعت کے حوالے سے نیر مسعود نے خود کتاب میں ایک تفصیلی نوٹ تحریر کیا ہے۔ وہ بتاتے ہیں کہ ابتدائی طور پر انہوں نے 1971ء میں کافکا کی 5 مختصر تحریروں کا ترجمہ کیا جو مشہور رسالے ‘شب خون’ میں شائع ہوئیں۔

اس کے بعد ان کے قریبی دوست شمس الرحمن فاروقی نے ان سے گزارش کی کہ وہ مزید تحریروں کا ترجمہ کر کے اسے ایک باقاعدہ کتابی شکل دیں۔ نیر مسعود نے فروری 1974ء تک یہ تمام تراجم مکمل کر لیے، تاہم اشاعت کے کٹھن مراحل طے کرنے کی ہمت نہ پا کر مسودے کو طاقِ نسیاں کی زینت بنا دیا۔

1974ء کے اواخر میں نامور نقاد ڈاکٹر مسیح الزماں کی نظر اس مسودے پر پڑی، تو وہ اسے اپنے ہمراہ الہٰ آباد لے گئے۔ محض دس دن کے اندر انہوں نے کتابت شدہ کاپیاں واپس بھجوا دیں اور مقدمہ طلب کیا۔ بدقسمتی سے، فروری 1975ء میں ڈاکٹر مسیح الزماں کا اچانک انتقال ہو گیا، جس کی وجہ سے نیر مسعود دلبرداشتہ ہو گئے اور کتاب کی اشاعت رک گئی۔

بالآخر طویل عرصے بعد، ان کے نوجوان ادیب دوستوں—قمر احسن، انیس اشفاق، محمد مسعود، شہنشاہ مرزا، اور شاہ نواز—کی بھرپور دلچسپی کے باعث یہ مجموعہ منظرِ عام پر آ سکا۔ مصنف نے یہ کتاب انہی دوستوں کے نام معنون کی ہے۔

جدید فارسی افسانوں کا اردو روپ: ‘ایرانی کہانیاں’

نیر مسعود کی ترجمہ نگاری کا ایک اور سنہرا باب ان کی جانب سے جدید فارسی فکشن کا اردو ترجمہ ہے۔ انہوں نے فارسی کے 10 نہایت معتبر افسانہ نگاروں کی 15 کہانیوں کو اردو میں منتقل کیا۔

136 صفحات پر محیط یہ شاندار مجموعہ پہلی مرتبہ 2002ء میں کراچی کے اشاعتی ادارے ‘آج کی کتابیں’ کی طرف سے "ایرانی کہانیاں” کے نام سے شائع کیا گیا۔

اس مجموعے میں شامل فارسی مصنفین اور ان کی کہانیوں کی تفصیل کچھ یوں ہے:

  1. اسماعیل فصیح: (خواب، ولادت)
  2. بابا مقدم: (بارش اور آنسو، پنجرے، مردہ سانپ)
  3. جمال میر صادق: (کنکریٹ کے انبار کے اُدھر، ہوا کی ہوک)
  4. شین پرتو: (بہاے عشق)
  5. صادق ہدایت: (فرانسیسی قیدی)
  6. غلام حسین ساعدی: (بھکاری، رونے والی)
  7. فریدون تنکابنی: (چمگادڑ)
  8. فریدہ رازی: (بلی کا خون)
  9. محسن دامادی: (آقاے ماضی کے عجائب خواب)
  10. منوہر خسرو شاہی: (مرگ)

مشرق اور مغرب کا سنگم: فارسی فکشن کا تعارف

اس کتاب کے آخر میں، نیر مسعود نے "فارسی کہانی: ایک مختصر تعارف” کے عنوان سے ایک انتہائی پرمغز اور جامع مضمون شامل کیا ہے۔ اس مضمون میں انہوں نے ایرانی ادب اور ادیبوں پر تفصیلی روشنی ڈالی ہے اور اردو و فارسی فکشن کے درمیان موجود مماثلتوں اور اختلافات کا گہرا تجزیہ کیا ہے۔

ان کے مطابق، اردو اور فارسی کا فکشن ایک دوسرے سے زیادہ مختلف نہیں رہا، کیونکہ دونوں زبانوں کے ادب پر فکشن کا مغربی ماڈل نمایاں اثر ڈال چکا تھا۔ اسی مغربی اثر کے باعث دونوں زبانوں کے افسانوی ادب نے حیرت انگیز اور غیر معمولی ترقی کا سفر طے کیا۔

فارسی کہانیوں کے تراجم کا پس منظر اور مقاصد

نیر مسعود نے ان تراجم کی ضرورت اور وجوہات بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اردو زبان میں فارسی افسانوں کے تراجم کی تعداد قطعی طور پر تسلی بخش نہیں تھی۔ اگرچہ صادق ہدایت کی کہانیوں کے کچھ تراجم ہوئے (جن کا مجموعہ ‘سنگ آوارہ’ کے نام سے چھپا)، اور سید حامد حسن قادری نے بھی کچھ تراجم شائع کیے، لیکن مجموعی طور پر فارسی ادب کی بھرپور نمائندگی اردو میں نہیں ہو سکی تھی۔

ان تراجم کا آغاز 1969ء میں ہوا، جب عابد سہیل کی فرمائش پر انہوں نے رسالہ ‘کتاب’ کے لیے شین پرتو کے افسانے "بہاے عشق” کا ترجمہ کیا۔ (اسے پڑھ کر سعادت حسن منٹو کا افسانہ "سرکنڈوں کے پیچھے” یاد آ جاتا ہے)۔

1971ء میں انہوں نے بابا مقدم کے افسانے کا ترجمہ (پنجرے) کیا، جس نے کراچی کے نامور مترجمین آصف فرخی اور اجمل کمال کی بھرپور توجہ حاصل کی۔ جب اجمل کمال نے اپنا مشہور جریدہ ‘آج’ باقاعدگی سے نکالنا شروع کیا، تو انہوں نے نیر مسعود سے جدید فارسی افسانوں کی فرمائش کی۔

ستمبر 1990ء کے شمارے میں تین کہانیاں شائع ہوئیں۔ بعد ازاں، اجمل کمال ایران سے بے شمار فارسی کتابیں لائے اور نیر مسعود کو ارسال کیں، جن میں سے مزید نو (9) کہانیوں کا انتخاب کر کے ترجمہ کیا گیا۔ غلام حسین ساعدی کی کہانی "بھکاری” (جو مصنف کے بقول ایک خاموش ڈرامہ/Mime ہے، مگر صیغہ حال کا افسانہ بھی معلوم ہوتا ہے) کو ملا کر کل پندرہ کہانیاں اس مجموعے کا حصہ بن گئیں۔

انتخاب کی بصیرت اور فنی کمال

مندرجہ بالا حقائق اور کہانیوں کے انتخاب پر غور کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ نیر مسعود نے کس قدر باریک بینی سے کام لیتے ہوئے اردو ادب کے دامن میں ایک بیش قیمت خزانے کا اضافہ کیا ہے۔

انہوں نے جن ایرانی مصنفین کا انتخاب کیا، وہ سب ایک ہی دور سے تعلق رکھتے تھے اور ان سب کی تحریروں میں حقیقت نگاری کا عنصر غالب تھا۔ چونکہ نیر مسعود خود ہندوستان میں پھیلی ہوئی بھوک، افلاس، سرمایہ دارانہ استحصال، جبر، اور لالچ جیسی سماجی برائیوں کو شدت سے محسوس کرتے تھے، اس لیے انہوں نے ایسے فارسی افسانوں کا انتخاب کیا جو معاشرتی اصلاح کا پیغام دیتے تھے۔

اس مجموعے میں "لکھنے والوں کا تعارف” کے عنوان سے ایک حصہ بھی شامل کیا گیا ہے، جس میں تمام دس ایرانی مصنفین کی زندگی اور فن پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالی گئی ہے۔

حرفِ آخر

جب ہم غیر جانبدارانہ نگاہ سے نیر مسعود کی ترجمہ نگاری کا جائزہ لیتے ہیں، تو یہ حقیقت تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا کہ انہیں ترجمے کے فن پر مکمل اور غیر معمولی دسترس حاصل تھی۔

ان کے تراجم کی سب سے بڑی خوبی ان کی سادگی، روانی، اور شائستگی ہے۔ ان کا ترجمہ پڑھتے ہوئے قاری کو کہیں بھی کسی بوجھل پن، اجنبیت، یا ترسیل و ابلاغ کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ وہ اصل متن کی روح سے مکمل انصاف کرتے ہیں۔

اس فنی کمال کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ نیر مسعود محض ایک مترجم نہیں تھے، بلکہ وہ خود ایک انتہائی پختہ کار افسانہ نگار تھے۔ وہ کہانی بُننے کے فن اور اس کی اندرونی باریکیوں سے بخوبی واقف تھے، اور اسی فنکارانہ مشاقی کے سبب ان کے کیے گئے تراجم اردو ادب کا لازوال اور سنہرا حصہ بن چکے ہیں۔

نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی ڈجکوٹ فیصل آباد فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات) متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں