مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

نیر مسعود کا تعارف: زندگی

نیر مسعود کا تعارف: زندگی، ادبی خدمات اور 10 اہم تاریخی حقائق تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

اردو زبان و ادب کے سچے شیدائیوں کے لیے نیر مسعود کا تعارف کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ وہ اردو کے صفِ اول کے افسانہ نگار، نامور محقق، مترجم اور ماہرِ تعلیم تھے۔

ان کی تحریروں نے نہ صرف برصغیر بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ ایک علمی گھرانے سے تعلق رکھنے والے نیر مسعود نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں ادب کی خدمت میں گزار دیں۔

اس تفصیلی مضمون میں ہم ان کی خاندانی تاریخ، تعلیمی سفر، ادبی کارناموں اور ان کی زندگی کے ان چھپے ہوئے پہلوؤں کا جائزہ لیں گے جو انہیں ایک عظیم دانشور بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: اردو افسانہ اور جدیدیت کی تحریک

نیر مسعود کا تعارف اور ان کا شاندار خاندانی پس منظر

ان کے آباء و اجداد کا اصل وطن ایران کا تاریخی شہر نیشاپور تھا۔ جب یہ خاندان ہندوستان منتقل ہوا تو انہوں نے ضلع اناؤ کے ایک مشہور قصبے "نیوتنی” کو اپنا مسکن بنایا۔

نیر مسعود کے دادا، سید مرتضیٰ حسین، اپنے دور کے ایک مایہ ناز طبیب (حکیم) تھے۔ علم کی پیاس انہیں لکھنؤ کھینچ لائی اور تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ روزگار کے سلسلے میں بہرائچ جا بسے۔

ان کی شریکِ حیات، بیگم ہاشمی، ایک انتہائی باہمت، نیک اور ہنرمند خاتون تھیں۔ 29 جولائی 1893 کو اس جوڑے کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام محمد مسعود رکھا گیا (جو بعد میں پروفیسر مسعود حسن رضوی ادیب کے نام سے مشہور ہوئے)۔

سید مرتضیٰ حسین انتہائی سخی انسان تھے اور ضرورت مندوں کو گھر کا سامان تک دے دیا کرتے تھے۔ تاہم، ان کی زندگی کا اختتام ایک المناک حادثے پر ہوا۔ جب محمد مسعود کی عمر محض دس سال تھی، تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ وفات سے قبل وہ ذہنی توازن کھو بیٹھے تھے۔

اس واقعے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے نیر مسعود فرماتے ہیں:

"ایک دوا انھوں نے کسی کے لیے بنائی تھی جو غلطی سے خود کھالی ، اور وہ بہت تیز دوا تھی ۔(ساگرسین گپتا، نیر مسعود سے انٹرویو شب خون شماره نمبر ۲۲۶، ص ۴۵ جون)”

والدہ کی لازوال قربانیاں اور مسعود حسن رضوی کا تعلیمی سفر

والد کے سائے سے محروم ہونے کے بعد، مسعود حسن رضوی کی پرورش کی پوری ذمہ داری ان کی باہمت والدہ بیگم ہاشمی کے کندھوں پر آ گئی۔ انہوں نے بے پناہ مصائب برداشت کیے مگر بیٹے کی تعلیم میں کوئی رکاوٹ نہیں آنے دی۔

اس حوالے سے خود مسعود حسن رضوی لکھتے ہیں:

"تحصیل علم کے شوق کی آگ جو میرے دل میں دبی ہوئی تھی ، وہ اس افسردگی کے عالم میں ضرور بجھ کر رہ جاتی اگر میری والدہ مرحومہ کی مردانہ ہمت اسے بھڑ کاتی نہ رہتی.(سید مسعود حسن رضوی ادیب اور کارنامے غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی ہی ۲۷ مارچ)”

مسعود حسن رضوی کی نانی، جو میر انیس کے شاگردِ خاص میر سلامت علی کی بیٹی تھیں، زبان و بیان کے معاملے میں بہت حساس تھیں۔ وہ اکثر نوجوان مسعود کو غیر فصیح زبان استعمال کرنے پر ٹوکتی تھیں۔

نام کی تبدیلی اور عملی زندگی کا آغاز

مزید تعلیم کے لیے وہ 1908 میں لکھنؤ آ گئے اور حسین آباد ہائی اسکول میں داخلہ لیا، جہاں جوش ملیح آبادی اور مولوی مہدی حسین ناصر ان کے ہم جماعت تھے۔

میٹرک (1913) کے فارم بھرتے وقت انہوں نے اپنے اندرونی مذہبی اور فکری میلان کے باعث اپنا نام ‘محمد مسعود’ سے تبدیل کر کے ‘مسعود حسن’ رکھ لیا۔ غربت کے باعث انہوں نے گرمیوں کی چھٹیوں میں محکمہ افیون میں محض پچاس پیسے روزانہ کی اجرت پر کام کیا، اور بعد ازاں لکھنؤ کورٹ میں نقل نویس (کاپی رائٹر) کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

1915 سے 1917 تک وہ کیننگ کالج (موجودہ لکھنؤ یونیورسٹی) کے طالبعلم رہے۔ بی اے کے بعد ایم اے انگریزی میں داخلہ لیا لیکن شدید بیماری کے باعث امتحان نہ دے سکے۔

ان کی ازدواجی زندگی کا آغاز 1926 میں ہوا، جب ان کا نکاح کانپور کے مشہور حکیم سید اصغر جعفری کی صاحبزادی حسن جہاں بیگم سے ہوا۔ حسن جہاں بیگم انگریزی جانتی تھیں، شعر کہتی تھیں، اور انہیں میر انیس کی پوری کلیات زبانی یاد تھی۔

اس جوڑے کے ہاں چار بیٹے (اختر مسعود، نیر مسعود، انور مسعود، اظہر مسعود) اور تین بیٹیاں (ارجمند بانو، برجیس بانو، انیس بانو) پیدا ہوئیں۔

نیر مسعود کا تعارف: خاندانی ماحول اور لڑکپن کی شرارتیں

نیر مسعود اپنے بہن بھائیوں میں منجھلے تھے۔ ان کا خاندانی ماحول انتہائی شریفانہ اور مہذب تھا، لیکن اسکول کی دنیا اس سے بالکل مختلف تھی۔

گھر میں عام گالیاں (جیسے ‘سالا’) بولنے پر بھی سخت پابندی تھی، جبکہ اسکول میں طالب علم آزادی سے گالیاں بکتے تھے۔ نیر مسعود کا شمار اسکول کے شریر ترین لڑکوں میں ہوتا تھا۔ وہ اکثر کلاس بنک کر کے پرانے لکھنؤ کی گلیوں میں آوارہ گردی کرتے تھے۔

اپنے لڑکپن کے حوالے سے وہ خود بتاتے ہیں:

"… جب مجھے اسکول میں داخلہ ملا تو وہاں بالکل دوسری دنیا تھی۔ وہاں جا کر بہت آزادیاں دکھائیں۔ مثلاً گالیاں بکنے کا یہاں گھر پر کوئی سوال ہی نہیں تھا۔ بالکل عام گالیاں بھی جیسے "سالا” کا لفظ ہے، جو لوگ بہت بولتے ہیں، ہمارے یہاں یہ بھی نہیں بولا جاتا تھا۔ تو اسکول میں پہنچے تو وہاں آپس کی بات چیت میں خوب گالیاں بکیں ۔ اسکول میں اس طرح کی بڑی آزادی حاصل ہوئی۔ اور میری صحبت بڑی خراب تھی وہاں ۔ یعنی اچھے شریف لڑکوں سے دوستی نہیں تھی۔ لیکن اس کا برابر احساس رہا کہ ہم بہت شریف اور مشہور آدمی کے لڑکے ہیں، تو ان لڑکوں میں جس قسم کی عادتیں اور مشغلے تھے وہ تو نہیں اختیار کیے، لیکن ان کے ساتھ گھومتے تھے۔(ساگرسین گپتا، نیر مسعود سے انٹرویو شبخون ، شمارہ نمبر ۲۲۶، ص ۴۵ جون)”

1944 سے 1949 تک کا عرصہ اسی شرارتوں میں گزرا۔ تاہم 1951 میں ہائی اسکول تک پہنچتے پہنچتے، ان کے والد کی سختی نے انہیں ایک انتہائی سنجیدہ اور شریف نوجوان میں تبدیل کر دیا۔

کم عمری میں کتب بینی کا بے پناہ شوق

گھر سے باہر کھیل نہ سکنے کی صورت میں نیر مسعود سارا دن کتابوں میں غرق رہتے۔ ان کے گھر میں زیادہ تر کتابیں تحقیق، تنقید اور تاریخِ اودھ پر مبنی تھیں۔

محض پانچ سال کی عمر میں انہوں نے محمد حسین آزاد کی مایہ ناز کتاب ‘آبِ حیات’ ہجے کر کے پڑھ لی تھی اور دس سال کی عمر تک ‘دربارِ اکبری’ جیسی ضخیم کتب ختم کر چکے تھے۔

اپنے مطالعے کے ذوق کے بارے میں وہ فرماتے ہیں:

"گرمی اور برسات کے موسم میں جب باہر کھیل نہیں سکتے تھے تو سارا سارا دن پڑھتے رہتے تھے۔ کتا ہیں ہمارے یہاں زیادہ تر ریسرچ کی اور اودھ کی تاریخ کی یا تنقید کی ہوتی تھیں۔ فکشن سے ہمارے والد کو اتنی دلچسپی نہیں تھی۔ اس زمانے اور آج کل کے زمانے میں اتنا فرق ہے کہ اب یقین کرنا مشکل ہے کہ پانچ سال کی عمر میں میں محمد حسین آزاد کی آب حیات پڑھ چکا تھا۔ ہجے کر کر کے پڑھتا تھا، کوئی لفظ سمجھ میں نہیں آیا تو کئی کئی طرح سے اس کا تلفظ کر کے خیال ہوتا تھا کہ اچھا یہ لفظ یوں ہو گا۔ دس سال کی عمر تک در بارا کبری اور کئی دوسری موٹی موٹی کتابیں پڑھ چکا تھا۔ اب مجھے خود حیرت ہوتی ہے، لیکن اس وقت اردو اتنی رائج تھی ہم لوگوں کے یہاں کہ اگر پڑھنے کا شوق ہے اور بچوں کی کتاب میں نہیں ہیں تو یہی پڑھتے تھے ۔ ہمارے پڑوس میں ایک خاندان تھا جس کے سید رفیق حسین بہت مشہور افسانہ نگار تھے۔ ان کی بھانجیاں تھیں الطاف فاطمہ اور نشاط فاطمہ۔ یہ دونوں بعد میں پاکستان چلی گئیں۔ ان کے یہاں بہت عمدہ بچوں کی کتا بیں رہتی تھیں۔ میں وہاں جا کر پڑھتا تھا. (ساگرسین گپتا، نیر مسعود سے انٹرویو شبخون ، شمارہ نمبر ۲۲۶، ص ۴۵ جون)”

اعلیٰ تعلیم اور فارسی زبان سے وابستگی

انٹر میڈیٹ میں فرسٹ ڈویژن لینے کے بعد، انہوں نے 1954 میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کا آغاز کیا۔ والد کی خواہش پر، جو انہیں ایڈمنسٹریٹو سروس میں دیکھنا چاہتے تھے، انہوں نے فارسی کا انتخاب کیا۔

فارسی زبان کی تمام تر باریکیاں انہوں نے اپنے والد سے سیکھیں۔

"ٹیکسٹ پڑھنے میں میرے والد غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔ شعر کو سمجھنا اور سمجھانا دونوں ۔ ایسا بہت ہوتا تھا کہ کوئی شعر پڑھا اور پھر بتایا کہ دیکھو اس میں کیا خوبیاں ہیں۔ تو شعری تحسین مجھے ان سے حاصل ہوئی۔ بہت سے ایسے شعر ہیں جو آسانی سے سمجھ میں نہیں آتے۔ لیکن اگر میں زیادہ غور کروں، والد صاحب کے بنائے ہوئے خطوط پر، تو اس کا مطلب سمجھ میں آجائے گا. (ساگرسین گپتا، نیر مسعود سے انٹرویو شبخون ، شماره نمبر ۲۲۶، ص ۴۵ جون)”

1957 میں انہوں نے لکھنؤ یونیورسٹی سے ایم اے (فارسی) اور 1965 میں الہ آباد یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی (اردو) کی ڈگری حاصل کی۔

اپنے کیریئر کا آغاز 1965 میں اسلامیہ کالج بریلی سے کیا اور پھر لکھنؤ یونیورسٹی کے شعبہ فارسی سے وابستہ ہو گئے، جہاں سے وہ 1996 میں بطور پروفیسر ریٹائر ہوئے۔

نیر مسعود کا تعارف بحیثیت افسانہ نگار، مترجم اور محقق

نیر مسعود کی ادبی صلاحیتیں لڑکپن ہی میں ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھیں۔ 11 سال کی عمر میں ان کا لکھا گیا پہلا ڈرامہ نامور شخصیات (علی عباس حسینی، اختر علی تلہری) کے سامنے پیش کیا گیا۔

باقاعدہ تصنیفی سفر کا آغاز 1965 میں ہوا۔ ان کی کہانیاں ممتاز رسالے "شب خون” کی زینت بنتی رہیں۔ 1984 میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ "سیمیا” منظرِ عام پر آیا۔

ان کی تحریروں میں اس قدر گہرائی تھی کہ محمد عمر میمن نے 1998 میں ان کی دس کہانیوں (بشمول طاؤس چمن کی مینا) کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اس کے علاوہ ان کی سات کہانیاں پیرس سے "کافور” کے عنوان سے بھی شائع ہوئیں۔

مشہور تصانیف اور مرتب کردہ کتب کی مکمل فہرست

نیر مسعود نے اپنی زندگی میں 30 سے زائد کتب تحریر کیں، جن کی درجہ بندی مندرجہ ذیل ہے:

افسانوی مجموعے:

  • طاؤس چمن کی مینا (1988 – دس افسانے)
  • عطرِ کافور
  • سیمیا
  • گنجفہ

تحقیق و تنقید:

  • رجب علی بیگ سرور: حیات اور کارنامے (1967)
  • مرثیہ خوانی کا فن (1989)
  • انیس: سوانح (2002)
  • شفا الدولہ کی سرگزشت (2004)
  • ادبستان (2006)
  • منتخب مضامین (2009)
  • یگانہ: احوال و آثار (1991)
  • تعبیرِ غالب
  • دولہا صاحب عروج (مونوگراف)
  • لکھنؤ کا عروج و زوال

تراجم و ترتیب دی گئی کتب:

  • کافکا کے افسانے (1978)
  • فارسی کہانیاں-1 (1967)
  • حکیم نباتات
  • بستانِ حکمت (انتخاب)
  • قصہ سوتے جاگتے ابوالحسن کا (بچوں کے لیے – 1985)
  • بچوں سے باتیں (مرتب)
  • دیوانِ واجد علی شاہ اختر
  • بزمِ انیس (1990)
  • چار سمت کا دریا (1977)
  • آگ الاؤ صحرا (1988)
  • خطوطِ مشاہیر بنام مسعود حسن رضوی (1985)
  • شہرِ ستم
  • سخنِ اشرف

ان کی شخصیت پر "پروفیسر نیر مسعود: ادیب اور دانشور” (2011) اور "ادب ساز” (2018) جیسی اہم کتب بھی لکھی گئیں۔

نیر مسعود کا تعارف: عالمی اعزازات اور آخری ایام

ادب کے اس بے تاج بادشاہ کو ان کی بے مثال خدمات کے صلے میں حکومتِ ہند اور دیگر عالمی اداروں نے بے شمار اعزازات سے نوازا۔

ان میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ (2001 – طاؤس چمن کی مینا کے لیے) اور مائشٹھیت سرسوتی سمان (2007) شامل ہیں۔ علاوہ ازیں، 1979 میں انہیں تعلیم و ادب کے شعبے میں پدم شری کے اعلیٰ قومی اعزاز سے بھی نوازا گیا۔

ذاتی معلومات کی ایک جھلک:

  • مکمل نام: سید نیر مسعود رضوی
  • پیدائش: 16 نومبر 1936 (لکھنؤ، اتر پردیش)
  • وفات: 24 جولائی 2017
  • لائبریری آف کانگریس کنٹرول نمبر (LCCN): n81139633
  • اہم رشتہ دار: پروفیسر مسعود حسن رضوی (والد)، تمثال مسعود (بیٹا)

وفات اور تدفین:
اردو فکشن کو ایک نئی جہت دینے والے نیر مسعود زندگی کے آخری برسوں میں فالج کے مرض میں مبتلا رہے۔ طویل علالت کے بعد 24 جولائی 2017 کو 80 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا۔

انہیں لکھنؤ کے علاقے حیدر گنج میں واقع کربلا منشی فضل حسین میں سپردِ خاک کیا گیا۔

حرفِ آخر:
اردو ادب کی تاریخ جب بھی لکھی جائے گی، اس میں نیر مسعود کا تعارف ایک ایسے عبقری کے طور پر شامل رہے گا جس نے تحقیق، ترجمے اور افسانہ نگاری کی دنیا میں اپنے منفرد اسلوب سے ایک انمٹ نقش چھوڑا۔

نظر ثانی و تصحیح کشف زمان
گورنمنٹ گریجوایٹ کالج سمن آباد فیصل آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں