ن۔م۔راشد کی نظم نگاری: جدید اردو ادب کے سات اہم ترین اور منفرد زاویے تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
ن۔م۔راشد کی نظم نگاری اردو ادب کی تاریخ میں ایک ایسے درخشاں باب کی حیثیت رکھتی ہے جس نے روایتی اصناف کو وسعت اور ایک نئی جہت سے روشناس کرایا۔ وہ حلقۂ اربابِ ذوق کے صفِ اول کے اور نہایت نمائندہ شاعر تصور کیے جاتے ہیں۔
ان کے شعری کینوس پر موضوعات کی بے پناہ رنگارنگی، تخیل کی بلند پروازی، اور تشبیہات و استعارات کا ایک حسین اور پیچیدہ جال بچھا ہوا نظر آتا ہے۔ ان خصوصیات نے مل کر ان کے کلام کو بے حد پرکشش اور فکر انگیز بنا دیا ہے۔
راشد کے ہاں غزل جیسی روایتی صنف کی طرح بے جا مبالغہ آرائی یا محض لفظی بازی گری نہیں ملتی بلکہ انھوں نے اپنی نظموں میں تغزل کی شیرینی کو ایک انتہائی متواز انداز میں سمویا ہے۔ی
ہ بھی پڑھیں: ن م راشد کی نظم نگاری کی خصوصیات
ابتدائی دور اور فکر کی پختگی
عام طور پر انسانی زندگی میں جوانی کا دور (بالخصوص بیس سے تیس برس کی عمر) ایسا ہوتا ہے جہاں خیالات کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ نوجوان عموماً عشق و محبت، ہجر و وصال اور محبوب کے حسن و جمال کے گرد ہی گھومتے رہتے ہیں۔
لیکن ن م راشد کی نظم نگاری کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ انھوں نے محض بیس سال کی عمر میں جب اپنے ادبی سفر کا آغاز کیا تو ان کی سوچ عام نوجوانوں سے یکسر مختلف تھی۔
تیس سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے جب ان کا پہلا شعری مجموعہ منظرِ عام پر آیا، تو اس میں زندگی کی تلخ حقیقتوں، سماجی جبر اور محرومیوں کا عکس نمایاں تھا۔ ان کی نظر محض زلف و رخسار تک محدود نہیں رہی بلکہ انھوں نے معاشرے کی تاریکیوں کو اپنا موضوع بنایا۔
ن۔م۔راشد کی نظم نگاری اور سماجی حقیقت نگاری کا امتزاج
انسانی مشاہدہ یہی بتاتا ہے کہ جوانی کے جوش میں انسان کو غربت، افلاس، اور سماجی ناانصافیاں کم ہی نظر آتی ہیں۔ مگر راشد کی عظمت کا راز اسی بات میں پوشیدہ ہے کہ انھوں نے اپنے اردگرد بکھرے ہوئے؛ ٹوٹے ہوئے انسانوں، بھوک سے بلکتے بچوں اور ظلم کی چکی میں پستے ہوئے طبقات کو اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔
وہ اگر اپنی محبوبہ کے ساتھ خلوت کے لمحات میں بھی موجود ہوں تب بھی ان کا دل انسانیت کے کرب اور معاشرے کے دکھوں سے غافل نہیں ہوتا۔ ان کا یہ رویہ انھیں اپنے ہم عصروں میں سب سے جدا اور منفرد مقام عطا کرتا ہے۔
نظم ’دریچے کے قریب‘ کا فکری مطالعہ
اس کی سب سے بہترین اور واضح مثال ان کی شاہکار نظم ’دریچے کے قریب‘ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ اس نظم کا منظرنامہ ایک رومانوی وصال کا ہے، جہاں شاعر اپنے محبوب کے ہمراہ ہے۔
فطری سی بات ہے کہ ایسے موقع پر کوئی بھی عاشق اپنے محبوب کی زلفوں کے قصیدے پڑھے گا یا اس کے حسن کے گن گائے گا لیکن راشد کا زاویۂِ نگاہ یہاں بھی چونکا دینے والا ہے۔
وہ اپنی محبوبہ کی توجہ مسجد کے بلند و بالا میناروں کے سائے میں موجود ان بدحال اور ذلت کے مارے ہوئے انسانوں کی طرف دلاتے ہیں جو زندگی کی بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ وہ اسے کائنات کی تلخ ترین حقیقتوں سے روبرو کرواتے ہیں۔
راشد محض معاشرے کی اس ابتر حالت کی تصویر کشی پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ خود کو بھی اس عظیم المیے کا حصہ اور مجرم تصور کرتے ہیں۔ انھیں اس بات کا شدید ملال ہے کہ وہ اس ظلمت کے طوفان کے آگے بند باندھنے سے قاصر ہیں۔ اس کرب کو ان اشعار میں بخوبی محسوس کیا جا سکتا ہے:
"تین سو سال کی ذلت کا نشاں
ایسی ذلت کہ نہیں جس کا مداوا کوئی
دیکھ بازار میں لوگوں کا ہجوم
بے پناہ سیل کے مانند رواں
جیسے جنات بیابانوں میں
مشعلیں لے کے سرِ شام نکل آتے ہیں
ان میں ہر شخص کے سینے کے کسی گوشے میں
ایک دلہن سی بنی بیٹھی ہے ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل
ٹمٹماتی ہوئی ننھی سی خودی کی قندیل
لیکن اتنی بھی توانائی نہیں
بڑھ کے ان میں سے کوئی شعلۂ جوالہ بنے!
ان میں مفلس بھی ہیں بیمار بھی ہیں
زیرِ افلاک مگر ظلم سہے جاتے ہیں”
(دریچے کے قریب)
یہ وہ اشعار ہیں جو ن۔م۔راشد کی نظم نگاری کے بنیادی اور فنی ڈھانچے کو تشکیل دیتے ہیں اور انھی کی بدولت راشد کا نام جدید نظم کے معماروں میں شمار ہوتا ہے۔
روایات سے بغاوت اور مذہبی افکار سے انحراف
ن۔م۔راشد اپنی ذات میں ایک باغی منش انسان تھے۔ انھوں نے شعوری اور غیر شعوری، دونوں سطحوں پر مروجہ روایات سے بغاوت کی۔ گو کہ کہیں کہیں ‘ابو لہب کی شادی’ جیسی نظموں میں غیر شعوری طور پر روایات در بھی آئی ہیں لیکن مجموعی طور پر ان کا لہجہ باغیانہ رہا۔
انسانیت کے درد اور ہمدردی میں وہ اس قدر غرق ہو گئے کہ انھوں نے دنیا کے مقدس ترین رشتوں اور حتیٰ کہ خدا کے وجود کو بھی چیلنج کر دیا۔ انھوں نے کھلے عام انکاری رویہ اپنایا اور اپنے افکار میں ایسی باتیں شامل کیں جنھیں مذہبی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
یہی وجہ ہے کہ انھوں نے اپنے اہلِ خانہ کو وصیت کی تھی کہ مرنے کے بعد ان کی لاش کو دفنانے کی بجائے نذرِ آتش (Cremation) کر دیا جائے، اور ان کی اس وصیت پر عمل بھی کیا گیا۔ ان کی نظم ‘کسان’ اور ‘دریچے کے قریب سے’ میں اس قسم کے باغیانہ افکار کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔
کلرکی نظام کی مخالفت اور معاشی استحصال
ن۔م۔راشد کی نظم نگاری نے معاشرے کے ہر طبقے اور زندگی کی ہر کیفیت کو اپنے اندر سمویا ہے۔ انھوں نے ترقی پسند تحریک کے مخصوص سماجی موضوعات کو بھی اپنے منفرد علامتی اور اشاراتی انداز میں پیش کیا۔
اس کی ایک شاندار مثال ‘کلرکی پیشہ’ پر لکھی گئی ان کی نظم ہے۔ راشد نے اس نظم میں دفتری نظام اور کلرکی کی سخت مخالفت کی ہے۔ اردو ادب کے مشہور نقاد میرا جی نے اس نظم کا نہایت عمیق تجزیہ کیا ہے۔
میرا جی اپنی کتاب (حوالہ: جدید نظم حالی سے میرا جی تک، صفحہ نمبر ۳۷۵) میں لکھتے ہیں:
- "ایک اور بات، تازہ درخشاں لہو۔ یہ لہو کس کا ہے؟ زندگی کی محبوبہ کا یا اس کلرک کا۔ اصل میں یہ خون بہر نو گرفتار کلرک کا ہے، اس لیے تازہ درخشاں ہے۔”
- "آخر میں شاعر سمجھتا ہے کہ اگر ساتویں منزل سے وہ اس محبوبہ کے تعلق کو توڑ دے تو فائیلوں کی دیوار ’ہم آغوش زمیں‘ ہو جائے گی، یعنی کلرکی ختم ہو جائے گی۔”
- "کس کی کلرکی؟ اس نظم کے ہیرو کی نہیں بلکہ کلرکی بنفسہ کیوں کہ وہ جس انداز سے بوئے مے کا دھوکہ دے کر اس میں ہر نو گرفتار کے تازہ درخشاں لہو کی بو ملا دیتی ہے، آسودگی اور خوش حالی کے خواب دکھا کر ایک اچھے بھلے انسان کو بے جان مشین بنا دیتی ہے۔”
- "اس کا احساس نہ صرف اس نظم کے کلرک کو ہو چکا ہے بلکہ دنیا بھر کے کلرکوں کو ہو چکا ہے۔ گویا یہ نظم کلرکی سسٹم کی مخالفت کرتی ہے اور اس میں شاعر کی فن کارانہ ذہانت نے خارجی بیان کو داخلی انداز میں سمو دیا ہے۔”
اردو شاعری میں عورت کا نیا روپ اور نظم ’داشتہ‘
قدیم اردو شاعری سے لے کر ترقی پسند دور تک، عورت کو مختلف زاویوں سے پیش کیا گیا ہے۔ کبھی وہ حسن و جمال کا پیکر بن کر سامنے آئی، تو کبھی ترقی پسندوں نے اس کے سماجی مقام اور حقوق کی بات کی۔
تاہم، میرا جی اور راشد کے ہاں عورت کا ایک بالکل مختلف اور تلخ روپ ابھر کر سامنے آتا ہے۔ راشد کی نظم ‘داشتہ’ میں عورت کا وہ استحصال دکھایا گیا ہے جہاں وہ ایک مالدار شخص کی رکھیل یا داشتہ بننے پر مجبور ہے۔
وہ نہ تو معاشرے میں ایک عزت دار مقام رکھتی ہے، نہ ہی اسے باقاعدہ لونڈی یا طوائف کہا جا سکتا ہے۔ مالدار طبقہ جب چاہتا ہے اس کا جسمانی اور جذباتی استحصال کرتا ہے، اور جب جی بھر جاتا ہے تو اسے تنہا چھوڑ دیتا ہے۔
راشد اس ظلم پر نہ صرف نوحہ کناں ہیں بلکہ اپنی نظم میں وہ اس سماجی منافقت کا پردہ چاک کرتے ہوئے خود کو بھی اس حمام میں ننگا اور قصور وار ٹھہراتے ہیں۔ ملاحظہ کریں یہ درد ناک اشعار:
"یہ ترے گریۂ غمناک سے میں جان گیا
تجھ سے وابستگیِ شوق بھی ہے
ہو چلی سینے میں بیدار وہ دل سوزی بھی
مجھ سے مہجورِ ازل جس پہ ہیں مجبورِ ازل!
نفسِ خود بیں کی تسلی کے لیے
وہ سہارا بھی تجھے دینے پہ آمادہ ہوں
تجھے اندوہ کی دلدل سے جو آزاد کرے
کوئی اندیشہ اگر ہے تو یہی
تیرے ان اشکوں میں اک لمحہ کی نومیدی کا پرتو ہو تو کہیں
اور جب وقت کی امواج کو ساحل مل جائے
یہ سہارا تری رسوائی کا اک اور بہانہ بن جائے!جس طرح شہر کا وہ سب سے بڑا مرد لیئم
جسم کی مزدِ شبانہ دے کر
بن کے رازق، تری تذلیل کیے جاتا ہے
میں بھی باہوں کا سہارا دے کر
تیری آئندہ کی توہین کا مجرم بن جاؤں! "
(داشتہ)
تہذیبی علامات، ہیئتی تجربات اور فنی عظمت
ن۔م۔راشد کی نظم نگاری میں مشرقی تہذیب کی عکاسی کے لیے علامتی نظام کا بھرپور استعمال کیا گیا ہے۔ صحرا اور ریت جیسی علامات ان کی شاعری میں جا بجا بکھری پڑی ہیں جو مشرق کے زوال اور کرب کو ظاہر کرتی ہیں۔
انھوں نے پابند نظموں کی نسبت آزاد اور معریٰ نظم کو اپنے جذبات کے اظہار کا بہترین اور مؤثر ذریعہ بنایا۔ ان کی نظموں میں مثنوی کی طرح مختلف کردار بھی ابھرتے ہیں جو کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں۔
معروف نقاد پروفیسر کوثر مظہری راشد کی شعری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
"راشد کی نظمیں دور جدید کی افراتفری، سماجی بد حالی، قومی و ملی زوال انسانی عظمت اور تہذیبی اقدار کی شکست و ریخت کا خوبصورت رزم نامہ ہے، جس میں تغزل کا رنگ بھی ہے اور شاہنامہ فردوسی اور الیڈ (Iliad) کا عکس لطیف بھی۔”
راشد کی مشہور نظمیں اور فارسی اثرات
راشد کے شعری مجموعوں نے اردو ادب کو نئی حسیات اور جدید تجربات سے مالا مال کیا۔ ان کی زبان پر فارسیت کا گہرا غلبہ ہے، جس کی وجہ سے ان کی نظموں کی پرتیں اور گہرائیاں محض ایک سرسری مطالعے سے نہیں کھلتیں۔
ان کی تخلیقی ذہانت کو سمجھنے کے لیے قاری کو گہرے غور و خوض کی ضرورت پڑتی ہے۔ ذیل میں ان کی چند نمائندہ اور شاہکار نظموں کا ذکر ہے:
- رات کے سناٹے
- اتفاقات
- دریچے کے قریب
- رقص
- انتقام
- اجنبی عورت
- نمرود کی خدائی
حرفِ آخر
مختصر یہ کہ راشد نے اردو کی جدید نظم کو آسمان کی بلندیوں تک پہنچایا۔ انھوں نے مغربی ادب کی فنی اور جمالیاتی قدروں کو اردو زبان کے سانچے میں ڈھالا اور جدید دور کے انسان کی نفسیاتی الجھنوں، خوف، اور محرومیوں کو اپنی نظموں کا لباس پہنایا۔
انھوں نے اظہار کے نئے راستے تراشے، ہیئت کے منفرد تجربات کیے اور فرسودہ موضوعات کو ترک کر کے اردو نظم کو عالمی معیار کے ہم پلہ لا کھڑا کیا۔ یہی سبب ہے کہ اردو نظم کے ارتقائی سفر میں ن۔م۔راشد کی نظم نگاری ہمیشہ ایک سنگِ میل اور نہایت اہمیت کی حامل تسلیم کی جاتی رہے گی۔
نظرِ ثانی و تصحیح:
مجاہد حسین شاہ
معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
