مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

مصوری اور جدیدیت

مصوری اور جدیدیت: تجریدی آرٹ کا تاریخی اور تکنیکی سفر تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

مصوری محض رنگوں کا کھیل نہیں، بلکہ یہ لکیروں اور رنگوں کی ایک خاموش زبان ہے۔ جس طرح ایک ادیب لفظوں کے ذریعے اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، بالکل اسی طرح ایک مصور (Artist) رنگوں کے انتخاب سے اپنے جذبات کی ترجمانی کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مصوری میں استعمال ہونے والا ہر رنگ اپنے اندر ایک خاص علامتی مفہوم (Symbolic Meaning) رکھتا ہے۔

ہر فنکار کے کام کرنے کا انداز جداگانہ ہوتا ہے جو اس کی تخلیقات میں صاف دکھائی دیتا ہے۔ یہی انفرادیت اس کی "تخلیقی شناخت” بن جاتی ہے۔

  • کسی مصور کا موضوع (Subject) الگ ہوتا ہے۔
  • کسی کے رنگوں کا انتخاب (Color Palette) منفرد ہوتا ہے۔
  • کوئی صرف نسوانی حسن (Portraits) کو کینوس پر اتارتا ہے۔
  • کوئی فطری مناظر (Landscapes) کی ہوبہو تصویر کشی کرتا ہے۔

کیمرے کی ایجاد اور مصوری میں انقلاب

قدیم دور میں مصوروں کو معاشرے میں بہت بلند مقام حاصل تھا، جس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ اس وقت تک کیمرہ (Camera) ایجاد نہیں ہوا تھا۔ مناظر یا چہروں کو محفوظ کرنے کا واحد ذریعہ مصوری ہی تھی۔ لیکن جیسے ہی کیمرہ وجود میں آیا، حقیقت پسندانہ مصوری میں لوگوں کی دلچسپی کم ہونے لگی۔

کیمرے کی اس ایجاد نے مصوری کی دنیا میں ایک بھونچال پیدا کر دیا، جس کے نتیجے میں فنکاروں نے نئے راستے تلاش کیے۔ اسی کوشش نے کئی جدید رجحانات (Modern Trends) کو جنم دیا، جن میں سے اہم یہ ہیں:

  • تاثریت (Impressionism)
  • اظہاریت (Expressionism)
  • مکعبیت (Cubism)
  • تجریدیت (Abstractionism)

تجریدیت (Abstractionism): پس منظر اور آغاز

یورپ کے اہم ترین فنی رجحانات میں تجریدیت کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ اگرچہ یہ رجحان دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکی شہر نیویارک میں اپنے عروج پر پہنچا، تاہم اس کی تاریخی جڑیں پیرس (Paris) میں پیوست تھیں۔

تاریخی طور پر اس اصطلاح کا استعمال کب اور کیسے ہوا، اس کے بارے میں کچھ اہم حقائق یہ ہیں:

  1. امریکن آرٹ میں اصطلاح "Abstract Expressionism” کا استعمال سب سے پہلے 1946ء میں رابرٹ کوٹس (Robert Coates) نے کیا۔
  2. یہی اصطلاح اس سے قبل 1919ء میں جرمنی کے ایک رسالے "Der Sturm” میں "جرمن اظہاریت” کے لیے استعمال ہو چکی تھی۔
  3. امریکہ میں الفریڈ بار (Alfred Barr) نے 1929ء میں واسیلی کینڈنسکی (Wassily Kandinsky) کے فن پاروں کی وضاحت کرتے ہوئے یہ اصطلاح استعمال کی۔

انسائیکلوپیڈیا (Encyclopedia) میں ان حقائق کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتا ہے:

"Although the term abstract expressionism was first applied to American art in 1946 by the art critic Robert Coates, it had been first used in Germany in 1919 in the magazine Der Sturm, regarding German Expressionism in the USA, Alfred Barr was the first to use this term in 1929 in relation to works by Wassily Kandinsky”.
(Page 1: http://en.wikipedia.org/wiki/abstract-expressionism)

اس حوالے سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ واسیلی کینڈنسکی ہی وہ شخصیت تھے جنہوں نے تجریدی اظہاریت کی داغ بیل ڈالی۔

دوسری جنگ عظیم اور آرٹ کی منتقلی

دوسری جنگ عظیم (World War II) نے یورپ کے سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو ہلا کر رکھ دیا۔ پیرس، جو جنگ سے پہلے آرٹ کا عالمی مرکز (Hub) تھا، اب فنکاروں کے لیے سازگار نہیں رہا تھا۔ افراتفری کے اس عالم میں بہت سے فنکاروں نے یورپ چھوڑ دیا اور امریکہ کو اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ سمجھا۔

البتہ، کچھ آرٹسٹ فرانس منتقل ہو گئے یا وہیں مقیم رہے، جن میں پیئر بونارڈ (Pierre Bonnard)، پابلو پکاسو (Pablo Picasso) اور ہنری میٹیس (Henri Matisse) جیسے بڑے نام شامل ہیں۔

جنگ کے بعد یورپ کے نمایاں مصور

دوسری جنگ عظیم کے بعد جن مصوروں نے یورپ میں اپنے فن کا لوہا منوایا، ان میں شامل ہیں:

  • نیکولاس ڈی اسٹیل (Nicolas de Stael)
  • سرج پولیا کوف (Serge Poliakoff)
  • جین ڈوبفیٹ (Jean Dubuffet)
  • ویرا ڈی سلوا (Vieira da Silva)
  • جارج میتھیو (Georges Mathieu)
  • پیئر سولاجس (Pierre Soulages)
  • ایوس کلین (Yves Klein)

نیویارک: تجریدی اظہاریت کا نیا مرکز

1940ء کی دہائی میں نیویارک میں تجریدی اظہاریت (Abstract Expressionism) نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ اس تحریک کو آگے بڑھانے میں پکاسو، ہنری میٹیس اور جان میرو (Joan Miro) کا کردار بہت اہم رہا۔

اس کے علاوہ کچھ دیگر اساتذہ اور فنکاروں کا اثر بھی نمایاں رہا:

  • جان گراہم (John Graham): یہ ایک روسی (Russian) مصور تھے جن کا اثر ڈی کوننگ (De Kooning)، ارشیل گورکی (Arshile Gorky) اور پولک (Pollock) جیسے مصوروں پر نظر آتا ہے۔
  • ہنس ہاف مین (Hans Hofmann): جرمنی سے تعلق رکھنے والے ہاف مین نہ صرف ایک مصور تھے بلکہ ایک بہترین استاد بھی تھے۔ وہ شاگردوں کی بنائی ہوئی تصویروں کی اصلاح (Correction) کرتے تھے، جس نے تجریدی مصوری کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کیا۔

جیکسن پولک (Jackson Pollock) اور نیا تکنیکی انداز

تجریدی مصوری کی دنیا میں جیکسن پولک کا نام سب سے نمایاں ہے۔ روایتی طریقوں سے بغاوت کر کے انہوں نے مصوری کے نئے اور انوکھے اسالیب متعارف کروائے اور ہم عصروں کو بھی اس طرف متوجہ کیا۔

پولک کا طریقہ کار (Technique):
وہ کینوس کو اسٹینڈ پر رکھنے کے بجائے زمین پر بچھاتے تھے اور برش سے رنگ بھرنے کے بجائے رنگوں کو کینوس پر ٹپکاتے یا پھینکتے تھے۔ ان کا طریقہ کار کچھ یوں بیان کیا گیا ہے:

"The placing of unstretched raw canvas on the floor where it could be attacked from all four sides using artist materials and industrial materials, linear skeins of paint dripped and thrown, drawing, staining brushing, imagery and non-imagery.”
(Page 5-6: http://en.wikipedia.org/wiki/abstract-expressionism)

اس تکنیک میں:

  1. بغیر کھنچا ہوا کینوس (Unstretched Canvas) زمین پر رکھا جاتا۔
  2. فنکار چاروں طرف سے گھوم کر کام کرتا۔
  3. رنگوں کی لکیریں ٹپکائی جاتیں یا پھینکی جاتیں۔

نتیجے میں جو تصویر بنتی، اس میں کوئی واضح عکس یا مورت نہیں ہوتی تھی بلکہ یہ صرف داغوں، دھبوں اور لکیروں کا ایک مجموعہ ہوتا تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں جدت طرازی (Innovation) کے لیے کتنی محنت کی جاتی تھی۔

تجریدیت کیوں مقبول ہوئی؟

مصوری میں تجریدی رجحان کے فروغ کی چند بڑی وجوہات تھیں:

  1. روایت سے بیزاری: مصور پرانے اور روایتی انداز سے اکتا چکے تھے اور کچھ نیا کرنا چاہتے تھے۔
  2. شناخت کا بحران: فنکاروں کے پاس اپنی الگ پہچان بنانے کا اس سے بہتر کوئی وسیلہ نہ تھا۔
  3. کیمرے کا چیلنج: کیمرے نے حقیقت نگاری کی اہمیت گھٹا دی تھی، اس لیے مصوروں نے سوچا کہ ایسے نئے تجربات کیے جائیں جو کیمرے کی آنکھ سے ممکن نہ ہوں۔

مختصر یہ کہ ہر مصور اپنی انفرادیت قائم کرنے کی دھن میں نت نئے طریقے آزما رہا تھا اور انہی کوششوں کے نتیجے میں "تجریدی مصوری” نے اپنا مقام بنایا، جس میں مصوروں نے فطرت (Nature) کی ہوبہو نقل کو مکمل طور پر ترک کر دیا۔

پروف ریڈنگ : محمد حماد ربانی
ڈجکوٹ فیصل آباد سے
فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)
متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں