محمد حسین آزاد کی نظم نگاری کا تنقیدی جائزہ جدید اردو ادب کے معمار محمد حسین آزاد کے نظم اور نثر پر انمٹ نقوش تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
یہ بھی پڑھیں: اردو کے آغاز و ارتقاء کے حوالے سے محمد حسین آزاد کا نظریہ برج بھاشا
اردو ادب کی تاریخ میں مولانا محمد حسین آزاد کا نام ایک ایسے عبقری کے طور پر درج ہے جنھوں نے نہ صرف بوسیدہ اور زوال پذیر روایتی شاعری کو ایک نئی زندگی بخشی بلکہ نثر کے میدان میں بھی ایک ایسا سحر انگیز اسلوب متعارف کروایا جس کی مثال آج تک نہیں ملتی۔ ان کی تخلیقی بصیرت نے اردو زبان کو اس وقت جدید رجحانات سے روشناس کرایا، جب اسے اس کی اشد ضرورت تھی۔
اردو شاعری کا زوال اور آزاد کا شعورِ نو
انیسویں صدی میں اردو شاعری روایتی مبالغہ آرائی، ایہام گوئی، اور پر تکلف تشبیہات و استعارات تک محدود ہو کر رہ گئی تھی۔ آزاد نے شدت سے محسوس کیا کہ محض قافیہ پیمائی، خیالی محبوب کے قصے اور بے وقت کی راگنیاں عوام کے لیے ذہنی بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ انھیں اس بات کا ادراک ہو گیا تھا کہ اگر شاعری کا تعلق زمینی حقائق اور زندگی کے حقیقی مسائل سے نہ جوڑا گیا، تو اردو شاعری بہت جلد اپنی موت آپ مر جائے گی۔
انھی حالات کو بھانپتے ہوئے، محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کے تاریخی پلیٹ فارم سے "نظم کلام موزوں کے باب میں خیالات” کے عنوان سے اپنے انقلابی افکار پیش کیے۔ انھوں نے واضح کیا کہ روایتی شاعری کے پہنے ہوئے زیورات اب فرسودہ ہو چکے ہیں اور بدلتے ہوئے زمانے کے جمالیاتی تقاضوں کو پورا نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: محمد حسین آزاد کی ادبی نثر کا تنقیدی جائزہ
ان کی تجویز تھی کہ انگریزی زبان و ادب کا گہرا مطالعہ کیا جائے تاکہ عصری موضوعات اور جدید طرزِ اظہار کو اپنا کر اردو شاعری کو نئی جِلا بخشی جا سکے۔
‘شبِ قدر’: جدید اردو نظم کا سنگِ بنیاد
اسی اصلاحی تحریک کے زیرِ اثر، انجمنِ پنجاب کے ایک اجلاس میں آزاد نے اپنی مشہور نظم ‘شبِ قدر’ پڑھ کر سنائی۔ یہ محض ایک نظم نہیں تھی بلکہ جدید اردو نظم نگاری کے باقاعدہ آغاز کا اعلان تھا۔ پروفیسر کوثر مظہری کے حوالے سے یہ ایک مصدقہ حقیقت ہے کہ معروف محقق پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی نے اسے اردو کی اولین جدید نظم تسلیم کیا ہے۔
اس شاہکار نظم میں آزاد نے رات کی اہمیت اور اس کی پراسرار خاموشی کی افادیت کو اجاگر کیا ہے۔ انھوں نے نہایت خوبصورتی سے دکھایا ہے کہ رات کا پرسکون وقت مختلف طبقاتِ زندگی کے لیے کس قدر قیمتی سرمایہ ہے؛ جہاں ایک طرف تھکے ہارے انسان آرام کرتے ہیں، وہیں علما علمی عقدے حل کرتے ہیں، طلبہ امتحانات کی تیاری کرتے ہیں، تاجر اپنے لین دین کا حساب کرتے ہیں اور نجومی آسمان کے ستاروں میں قسمت کا حال تلاش کرتے ہیں۔
نظم کا ایک منتخب اور گراں قدر حصہ ملاحظہ فرمائیں:
"ہر لفظ کو پہناتا ہے معنی نئے نئے
دکھلاتا زورِ طبع ہے یعنی نئے نئے
لیکن کبھی مقاصدِ اصلی سے چھوٹ کے
کرتا ہے آپ رد و قدح جھوٹ موٹ کے
بیٹھا حرام کر کے ہے آرام خواب کو
کیڑے کی طرح لگ گیا ظالم کتاب کو
ہیں مدرسہ کے طالبِ علم اپنے حال میں
کل صبح امتحان ہے سو اس کے خیال میں
مل مل کے یاد کرتے ہیں آپس میں دور سے
پڑھتے جدا جدا بھی ہیں کچھ فکر و غور سے
کر لیں جو کچھ کہ کرنا یہ شب درمیان ہے
کل صبح اپنی جان ہے اور امتحان ہے
جی چھوڑ بیٹھے مرد یہ ہمت سے دور ہے
قسمت تو ہر طرح ہے، یہ محنت ضرور ہے
اور وہ جو لکھ پتی ہے مہاجن جہان میں
آدھی بھی ہے پر وہ ابھی ہے دکان میں
گنتی میں دام دام کے ہے دم دیے ہوئے
بیٹھا ہے گود میں بہی کھاتا لیے ہوئے
ہے سارے لین دین کی میزان تمام کی
لیکن غضب سے بدھ نہیں ملتی چھ دام کی
اور دیکھنا نجومیِ دانا کی شان کو
ہے کس نظر سے دیکھ رہا آسمان کو
ہے محو اپنے زائچہ میں اک حساب پر
کٹتی ہے اس کی تارے ہی گن کر تمام رات
اک آنکھ دوربین پہ ہے اک کتاب پر
اے رات تیرے پردہ دامن کی اوٹ میں
نکلے نئے ستارے سرِ چرخ پیر ہیں
اک جنتی بناؤں کہ طرزِ جدید ہو
چمکے جو اُس میں اپنا ستارہ تو عید ہو
سوز و سیاہکار بھی ہے اپنی چوٹ میں
بیٹھا نقب لگا کے کسی کے مکاں میں ہے
اور ہاتھ ڈالا اس کے ہر اک ایں و آں میں ہے”
(نظم: شبِ قدر)
نظم کے عنوان کا التباس: ایک تنقیدی زاویہ
اپنی بے ساختگی، آسان الفاظ اور سلیس تراکیب کے باعث یہ نظم ادبی لحاظ سے ایک شاہکار ہے۔ تاہم، اس کے عنوان کے حوالے سے ایک اہم تنقیدی بحث بھی موجود ہے۔ شیخ محمد اکرام کی تصنیف ‘موجِ کوثر’ (صفحہ: ۱۲۵) میں پروفیسر کوثر مظہری کا یہ تبصرہ نقل کیا گیا ہے کہ نظم کا عنوان "شبِ قدر” قاری کو فوری طور پر شعبان کی پندرہویں رات (شبِ برات/مخصوص مذہبی رات) کی طرف متوجہ کر دیتا ہے، جس سے ایک طرح کا التباس پیدا ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک، نظم کی سادگی کو مدنظر رکھتے ہوئے، اگر اس کا عنوان محض "رات” رکھا جاتا تو یہ زیادہ موزوں ہوتا۔
محمد حسین آزاد کا اسلوبِ نثر اور ‘نیرنگِ خیال’
جس طرح شاعری کے میدان میں آزاد نے تجدید کا بیڑا اٹھایا، اسی طرح نثر میں انھوں نے ایک ایسی لفظی جادوگری اور انوکھا اسلوب متعارف کروایا جس کے وہ خود ہی موجد تھے اور جو ان کے بعد کسی اور سے نہ بن سکا۔ ان کی تصنیف ‘نیرنگِ خیال’ کو بلاشبہ ان کے اسلوبِ نگارش کی حتمی اور نمائندہ کتاب قرار دیا جا سکتا ہے۔
یہ کتاب محض ۱۴ مضامین پر مشتمل ہے، مگر اردو ادب میں اس کا مرتبہ نہایت بلند ہے۔ ان تمام مضامین کا تعلق تمثیل نگاری (Allegory) سے ہے۔ اگرچہ ان کا بنیادی خاکہ انگریزی ادب سے مستعار لیا گیا ہے لیکن مولانا آزاد کی تخلیقی قوت نے اُنھیں اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کو یہ ان کی خالص ذاتی تخلیق محسوس ہوتے ہیں۔
اسلوبِ تحریر کی نمایاں اور بے مثال خصوصیات
آزاد کی تحریروں کا بغور جائزہ لینے سے ان کے اندازِ بیان کی درج ذیل حیران کن خصوصیات سامنے آتی ہیں:
۱. متحرک اور جاندار منظر نگاری (Verbal Imagery)
آزاد کی قلمی طاقت کا سب سے بڑا کمال ان کی منظر کشی ہے۔ وہ الفاظ سے ایک ایسا کینوس تیار کرتے ہیں کہ خیالی اور غیر حقیقی مناظر بھی آنکھوں کے سامنے حقیقی دنیا کی طرح چلتے پھرتے نظر آتے ہیں۔ ‘نیرنگِ خیال’ کے ایک مضمون میں دنیا کا رنگ ڈھنگ تبدیل ہونے کا منظر اُنھوں نے اس طرح پیش کیا ہے:
"بلبلوں کے چہچہے، خوش آواز جانوروں کے زمزمے۔۔ جابجا درختوں کے جھرمٹ تھے۔ ان ہی کے سائے میں سب چین کی زندگی بسر کرتے تھے۔”
اسی طرح مضمون "گلشنِ امید” میں بہار کا دلکش منظر اور "انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا” میں پریشان حال لوگوں کے ہجوم کی منظر کشی ان کی بے پناہ فنی مہارت کا ثبوت ہے۔
۲. غیر معمولی کردار نگاری (Characterization)
چاہے تاریخِ ادب کی مایہ ناز کتاب ‘آبِ حیات’ ہو یا تمثیلی مجموعہ ‘نیرنگِ خیال’، آزاد کے کردار قاری کے ذہن پر نقش ہو جاتے ہیں۔ ان کے تمثیلی مضامین میں تجریدی خصوصیات (Abstract Concepts) کو انسانوں کا روپ دیا گیا ہے۔ مضمون "باغِ عالم کا رنگ کیا تھا کیا ہوگیا” میں خسرو آرام، غرور، خود پسندی، تدبیر، مشورہ اور محنت پسند جیسے تصورات باقاعدہ کرداروں کی صورت میں ملتے ہیں۔ ہیرو ‘محنت پسند’ کا لوگوں کی حالتِ زار پر ہنسنا اور انھیں بے وقوف قرار دینا اتنے فطری انداز میں بیان ہوا ہے کہ وہ گوشت پوست کے انسان محسوس ہوتے ہیں۔
۳. نثر میں شاعری کا لطف (Word-Painting)
قدیم اردو نثر میں داستانوی اور پر تکلف انداز کو آزاد نے ایک نئے ڈھنگ سے اپنایا۔ ان کا مقصد محض بات پہنچانا نہیں، بلکہ قاری کو لفظوں کی خوبصورتی کا مزہ چکھانا ہوتا ہے۔ ان کی عبارتوں میں قوافی اور ردیف کا استعمال نثر کو ایک مترنم شکل دے دیتا ہے۔ مضمون کا آغاز عموماً داستان گوؤں کی طرح کرتے ہیں، مثلاً:
"سیر کرنے والے گلشن حال کے اور دور بین لگانے۔۔۔”
ان کی اسی عبارت آرائی اور نثر کو سجا کر پیش کرنے کی خوبی کو دیکھتے ہوئے، مشہور اردو نقاد رام بابو سکسینہ نے ان کے فن کا نچوڑ اس تاریخی جملے میں پیش کیا تھا:
"آزاد نثر میں شاعری کرتے ہیں۔”
۴. فارسی اور عربی تراکیب کا شاہانہ استعمال
آج کا جدید ادیب ثقیل زبان سے گریز کرتا ہے اور دبستانِ دہلی کی پیروی میں سادگی اپناتا ہے، مگر آزاد کا قلم اس اصول سے مستثنیٰ ہے۔ وہ اپنی عبارت کو ایک شاہانہ اور پر شکوہ رنگ دینے کے لیے مشکل اور مرکب الفاظ کا آزادانہ استعمال کرتے ہیں۔ ‘نیرنگِ خیال’ دراصل عربی اور فارسی الفاظ سے مزین مناظر کی ایک شاندار آرٹ گیلری ہے۔
ان کی تخلیق کردہ چند مشہور اور بھاری تراکیب میں گلشنِ حال، مسرتِ عام، بے فکریِ مدام، گل گشت، رنگ بے رنگ، اور محنت پسند خردمند شامل ہیں، جو ان کے اسلوب کی انفرادیت کو ظاہر کرتی ہیں۔
انگریزی مضامین سے ماخوذ ہونے کے باوجود، مولانا محمد حسین آزاد نے اپنے مخصوص لب و لہجے اور فنی اسلوب سے ‘نیرنگِ خیال’ کو ایک ایسا لافانی شاہکار بنا دیا ہے جس نے اردو کے طویل نثری اور شعری سفر کو ایک نئی، روشن اور جدید سمت عطا کی۔ ان کی ذات سے وابستہ یہ انوکھا طرزِ تحریر انھی پر شروع ہو کر انھی پر ختم ہو گیا۔
نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ,معلمِ اردو
کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد
