موسیقی میں تجریدیت: ایک فنی اور تنقیدی جائزہ،تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
انسانی تہذیب اور زندگی میں موسیقی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ یہ فن کی وہ قسم ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لیے کسی خاص ڈگری یا فنی باریکیوں کو سمجھنا ضروری نہیں۔ ایک عام آدمی بھی اس سے اتنا ہی سرور حاصل کر سکتا ہے جتنا کہ موسیقی کے رموز جاننے والا ماہر، اگرچہ ماہرین کا لطف عام لوگوں سے مختلف ضرور ہوتا ہے۔
ہندوستان میں موسیقی کی جڑیں صدیوں پرانی ہیں، لیکن جب یورپ میں فنون لطیفہ نے ترقی کی منازل طے کیں تو اس کے اثرات ہندوستانی موسیقی پر بھی مرتب ہوئے۔ اس کے نتیجے میں یہاں بھی نت نئے تجربات کا آغاز ہوا اور انہی تجربات میں سے ایک اہم نام "تجریدی موسیقی” (Abstract Music) کا ہے۔
تجریدی موسیقی اور انسانی نفسیات
عام طور پر موسیقی کا اثر یہ ہوتا ہے کہ اسے سن کر انسانی جسم میں ایک تھرک اور تازگی پیدا ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خوشی کی تقریبات موسیقی کے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہیں۔ لیکن تجریدی موسیقی کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔
یہ موسیقی خون میں وہ روایتی جوش اور حرارت پیدا نہیں کرتی، کیونکہ اس میں جذبات کا کھلا اظہار نہیں ہوتا۔ اسے اکثر "فن برائے فن” کی بہترین مثال سمجھا جاتا ہے۔
ناقدین کی رائے
اس حوالے سے پروفیسر حمید احمد خان کا نقطہ نظر کافی سخت ہے۔ وہ تجریدی موسیقی پر تنقید کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"یہاں بھی فن کی تکنیک کا بھونڈا، بے معنی اور بے مقصد مظاہرہ ہوتا ہے۔ اس قسم کی موسیقی رگوں میں خون کو حرکت میں نہیں لاتی کیونکہ جذبے سے عاری اور محض فنی چابک دستی پر مبنی ہوتی ہے۔”
(بحوالہ: فنون، دسمبر 1966ء، تجریدی مصوری، صفحہ 294)
سمجھ اور احساس کا فرق
بظاہر تجریدی موسیقی کا کوئی طے شدہ مقصد نظر نہیں آتا اور نہ ہی یہ عام فہم ہوتی ہے۔ یہ بظاہر بے معنی آوازوں کا ایک مجموعہ معلوم ہوتی ہے، لیکن اس کے باوجود موجودہ دور میں اس کا چلن عام ہو چکا ہے اور اس کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اس کی کامیابی کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ موسیقی میں تجریدی تکنیک کو قبول کرنا نسبتاً آسان ہے۔
- موسیقی پر "سمجھ میں آنے” کی شرط لاگو نہیں ہوتی۔
- یہاں صرف "احساس” ہی کافی ہوتا ہے۔
- اس کے برعکس ادب اور مصوری میں تجریدیت پر یہ اعتراض فوراً جڑ دیا جاتا ہے کہ "یہ کیا ہے؟ سمجھ نہیں آ رہا۔”
مصوری کا تعلق آنکھ سے ہے اور ادب کا تعلق دل و دماغ کے فہم سے، لیکن موسیقی خالصتاً محسوس کرنے والی چیز ہے۔
مشہور نقاد مشتاق احمد نوری نے ادب اور موسیقی کے اس فرق کو بہت خوبصورتی سے بیان کیا ہے:
"موسیقی کے لئے سمجھ میں آنے کی شرط کبھی بھی نہیں لگائی جاسکتی۔ موسیقی کے لئے صرف احساس کافی ہے اور ادب میں احساس کے ساتھ ادراک، ابلاغ، ترسیل اور تفہیم سبھی کچھ ضروری ہے۔”
(بحوالہ: شاعر نئی کہانی، ایک تجزیہ، صفحہ 30)
دیگر فنون پر موسیقی کی برتری
تجریدیت کے میدان میں موسیقی دیگر فنون (جیسے مصوری اور شاعری) سے زیادہ کامیاب رہی ہے۔ انور سدید کا ماننا ہے کہ فن کی معراج ہی تجریدیت ہے اور موسیقی اس بلندی تک پہنچنے میں سب سے آگے ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
"فنون کی آخری زقند بس اس تجریدیت کو چھو لینے کی حد تک ہے اور وہی تخلیق اعلیٰ و ارفع قرار پاتی ہے جو کسی نہ کسی حد تک عظیم قوت کے اس پہلو کو جو تجریدیت کا حامل ہے مس کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔ شاعری اور مصوری اس عمل میں محض ایک حد تک مگر موسیقی نسبتا زیادہ کامیاب ہے۔”
(بحوالہ: اوراق، پہلا ورق، صفحہ 8)
تجرید: پہلے موسیقی یا مصوری؟
تاریخی اعتبار سے تجرید کا استعمال سب سے پہلے موسیقی میں ہوا، اور بعد میں اسے مجسمہ سازی اور مصوری نے اپنایا۔ چونکہ موسیقی کی فنی باریکیاں بہت کم لوگ سمجھتے ہیں، اس لیے اس رجحان کے شامل ہونے کا احساس لوگوں کو بہت دیر بعد ہوا۔ موسیقی میں صرف احساس کی اہمیت ہے اور اپنے احساسات کی گہرائی کو سمجھنے کا ہنر ہر کسی کے پاس نہیں ہوتا، اسی لیے تجریدی موسیقی بھی ایک بڑی تعداد کے لیے معمہ بنی رہی۔
انور سدید نے اس تاریخی حقیقت کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مصوری نے دراصل موسیقی کی پیروی کی ہے۔ ان کے الفاظ ملاحظہ ہوں:
"مصوری نے بھی موسیقی کے تتبع میں تجریدیت کو اپنانے کی کوشش کی ہے لیکن چونکہ موسیقی، شاعری اور مصوری تینوں کسی نہ کسی حد تک آواز صورت اور رنگ سے منسلک ہیں اس لیے بقول جان کینڈل وہ پوری طرح Non-Representational قرار نہیں پا سکتیں۔ باایں ہمہ اس میں بھی کوئی کلام نہیں ہے کہ موسیقی کے مقابلے میں مصوری اور شاعری زیادہ Representational ہیں۔ لہذا کم تجریدی ہیں۔”
(بحوالہ: اوراق، پہلا ورق، صفحہ 8)
مختصر یہ کہ تجریدی موسیقی نے آرٹ کی دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما کی ہیں۔ اگرچہ یہ عام روایتی موسیقی کی طرح سادہ نہیں ہے، لیکن اس نے اپنی انفرادیت کی بنا پر ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے اور آج بھی موسیقی کی دنیا میں ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود ہے۔
نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
