مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

مرزا غالب کی شخصیت کا تنقیدی جائزہ

مرزا غالب کی شخصیت کا تنقیدی جائزہ: دعوے اور تاریخی حقائق تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025

مرزا غالب کی اصل شخصیت کیسی تھی؟ انھوں نے اپنے خطوط اور تحریروں میں جو صفات خود سے منسوب کی ہیں یا ان کے عقیدت مندوں نے جو خوبیاں بیان کی ہیں، کیا وہ واقعی ان میں موجود تھیں؟ عام تاثر یہ ہے کہ غالب میں وہ تمام خوبیاں اور اس سے بھی بڑھ کر اوصاف موجود تھے جو ایک مثالی اور سچے انسان میں ہونے چاہئیں۔

کہا جاتا ہے کہ غالب انتہائی راست گو اور سچے انسان تھے۔ اگر ان پر کوئی درست تنقید کی جاتی تو وہ اسے کھلے دل سے تسلیم کر لیتے تھے اور اپنے مخالفین کے معاملے میں ہمیشہ معافی اور درگزر سے کام لیتے تھے۔ ان کی ذہانت، تیز فہمی اور حافظہ اس قدر کمال کا تھا کہ اگر کوئی الجھی ہوئی بات ان کے ذہن میں آتی، تو وہ فوراً سلجھ جاتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے ان کا ذہن ایک ایسی مشین ہے جس میں کوئی بھی ٹیڑھی چیز جائے تو سیدھی ہو کر نکلتی ہے۔

مزید برآں، غالب کو انصاف پسند اور حق پرست مانا جاتا ہے۔ نظم و نثر کی سمجھ بوجھ میں ان کا کوئی ثانی نہیں تھا۔ فارسی زبان، محاورات اور اہلِ ایران کے اسلوبِ بیان پر انہیں اس قدر عبور حاصل تھا کہ خود ایران کے مستند شعراء کے علاوہ شاید ہی کسی کو ایسا کمال حاصل ہو۔

دعوؤں اور حقیقت کے درمیان تضاد

اگر مندرجہ بالا تمام دعوے سو فیصد درست مان لیے جائیں، تو منطقی طور پر یہ نتیجہ نکلنا چاہیے کہ:

  • غالب کے ہاں کوئی بات حقیقت کے خلاف نہ ہو۔
  • ان کے اعتراضات ہمیشہ درست ہوں۔
  • اشعار کا حوالہ اور متن بالکل ٹھیک ہو۔
  • ان کا بیان ایسا واضح ہو کہ کسی غلط فہمی کی گنجائش نہ رہے۔
  • اور اگر کبھی کوئی بشری خامی یا غلطی ہو جائے، اور کوئی اس کی نشاندہی کر دے، تو وہ فوراً اس کا اعتراف کر لیں۔

لیکن تاریخی اور ادبی شواہد کچھ اور ہی کہانی سناتے ہیں۔ ذیل میں وہ 8 اہم تاریخی حقائق اور واقعات پیش کیے جا رہے ہیں جو غالب کے ان دعوؤں کی اصل حقیقت کھولتے ہیں:

1. "قاطع برہان” کی اشاعت اور مالی امداد کا تضاد

قاطع برہان کے پہلے ایڈیشن کی تقریظ میں غالب نے واضح طور پر لکھا کہ اگر منشی نولکشور اس کے خریدار نہ بنتے تو اس کتاب کا مسودہ ضائع ہو جاتا اور یہ کبھی نہ چھپ پاتی۔
لیکن جب اسی کتاب کا دوسرا ایڈیشن چھپوانے کا وقت آیا تو انہوں نے سیاح کو ایک خط میں لکھا:

”میرے پاس روپیہ کہاں جو .. دوبارہ چھپواؤں؟ پہلے بھی نواب مغفور (یوسف علی خاں والی رامپور) نے ۲۰۰ روپے بھیج دیے تھے، تب پہلا مسودہ صاف ہو کر چھپوایا گیا تھا، اب بھی وعدہ کیا تھا کہ اپریل کی وجہ مقرری کے ساتھ ۲۰۰ پہنچیں گے، وہ .. ہم گئے، اپریل کا روپیہ رئیس حال (کلب علی خاں) سے .. پایا۔ کتاب کا روپیہ نہ پایا، یاد دلاؤں گا، مگر اس مرحوم کا وعدہ سررشتہ دفتر سے نہ تھا جو دفتر سے اس کی تصدیق ہو۔“

حقیقت کیا ہے؟ دراصل یہ خط سیاح کے لیے نہیں، بلکہ ان کے مربی غلام بابا خاں کو سنانے کے لیے لکھا گیا تھا تاکہ وہ بھی یوسف علی خاں کی طرح مالی امداد کریں۔ ایک اور خط سے ثابت ہوتا ہے کہ غلام بابا خاں نے دوسرے ایڈیشن کی ۲۰۰ جلدیں خریدیں تھیں۔ رامپور کے سرکاری ریکارڈ سے پہلے ایڈیشن کے لیے ۲۰۰ روپے ملنے کی کوئی تصدیق نہیں ہوتی۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ اگر غالب کو واقعی یوسف علی خاں سے رقم مل چکی تھی، تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ کتاب کی تقریظ میں اشاعت کا سارا کریڈٹ منشی نولکشور کو دیتے؟

2. غلام امام شہید سے حسد اور دوغلا پن

جب غلام امام شہید کی حیدرآباد میں زبردست پذیرائی ہوئی، تو یہ بات غالب کو بہت ناگوار گزری۔ انہوں نے ذکا کو لکھے گئے خط میں اپنی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا:

”شہید وہاں .. سخن ناشناسوں کو زورِ طبع دکھا رہے ہیں۔ مدعی (یعنی شہید) اپنے زعم میں مجھ کو اپنا ہمفن جان کر حسد کرتا ہے۔ میں امیر علی شیر جیسا محتسب .. کہاں سے لاؤں جو نیا کرے اور کاذب کو سزا دے؟“

حقیقت کیا ہے؟ جب غالب اور شہید کے ایک مشترکہ دوست بیخبر نے اس حوالے سے پوچھا تو غالب نے ان کے نام خط میں اس بات سے قطعی انکار کر دیا کہ انھوں نے ذکا کو شہید کے بارے میں کوئی توہین آمیز بات لکھی تھی۔ انہوں نے حیلہ تراشا کہ میں نے تو ذکا کو صرف شہید کے وطن کے بارے میں اطلاع دی تھی۔

3. کلکتہ کا سفر اور گورنر جنرل سے ملاقات کا دعویٰ

۱۸۵۷ء کے ہنگامے کے بعد غالب نے ذکا کو ایک خط میں اپنے کلکتہ کے سفر کے حوالے سے بڑے دعوے کیے:

”کلکتہ گیا، نواب گورنر سے ملنے کی درخواست کی، دفتر دیکھا گیا، میری ریاست کا حال معلوم کیا گیا، ملازمت ہوئی سات پارچے اور جیغہ سرپیچ اور مالائے مروارید یہ تین رقم خلعت ملا، زان بعد جب دلی میں دربار ہوا مجھ کو بھی خلعت ملا۔“

حقیقت کیا ہے؟ غالب نے کلکتہ سے جو اصل خطوط بھیجے تھے، ان سے صرف اتنا ثابت ہوتا ہے کہ انھوں نے گورنر جنرل کے ایک عام دربار میں شرکت کی تھی۔ ان خطوط یا سرکاری ریکارڈ میں کسی خاص ملاقات (ملازمت)، درخواست یا کلکتہ میں خلعت ملنے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ البتہ انہیں دہلی کے دربار میں بعد میں خلعت ضرور ملا تھا۔

4. "فرہنگ جہانگیری” اور ابن یمین کے شعر کی بحث

فرہنگ جہانگیری میں لفظ ”ہوس“ (واؤ مجہول کے ساتھ) بمعنی ‘ہوا و ہوس’ درج ہے، اور بطور سند ابن یمین کا ایک شعر دیا گیا ہے جس میں ‘ہوس’ قافیہ ہے۔ خدا بخش لائبریری میں موجود کلیاتِ ابن یمین میں یہ ایک غزل کا شعر ہے، اور اس کے ساتھ کا قافیہ ‘خروس’ ہے۔ البتہ غزل میں ہوس کی جگہ کوئی اور لفظ ہے۔

جب غالب پر قاطع برہان کے حوالے سے اعتراض ہوا، تو انہوں نے "لطائف غیبی” میں دعویٰ کیا کہ:

”یہ ایک سہ بیتی قطعے کا شعر ہے، واؤ مجہول نہیں، بفتحہ ہا و واؤ ساکن ہے۔ قطعے کے دوسرے قوافی فردوس و قوس ہیں، مگر اس وقت یاد نہیں آتا۔“

حقیقت کیا ہے؟ یہ مبینہ تین اشعار والا قطعہ نہ تو کلیاتِ ابن یمین میں موجود ہے اور نہ ہی کسی اور مستند مجموعے میں۔ غالب نے محض اپنی بات ثابت کرنے کے لیے یہ جواز گھڑا کیوں کہ ابن یمین اپنے قطعات کے لیے مشہور تھا۔ غالب کو یہ ڈر نہیں رہا کہ اگر کسی نے اصلی اشعار پیش کر دیے تو ان کی اس بے بنیاد تاویل کا کیا بنے گا۔

5. حرفِ ‘ذال’ کا تنازع اور آغا احمد علی پر الزام

غالب نے قاطع برہان میں فارسی حرف ‘ذال’ کے اصول پر ایک بات لکھی، جو دراصل فرہنگ جہانگیری میں پہلے سے موجود تھی۔ آغا احمد علی نے اپنی کتاب "موید برہان” (جو قاطع برہان کا رد تھی) میں فرہنگ جہانگیری کی عبارت ہو بہو نقل کی، اور باقاعدہ وضاحت کی کہ یہ عبارت کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں ختم ہوتی ہے۔

حقیقت کیا ہے؟ اس قدر واضح حوالے کے باوجود، غالب نے اپنی کتاب "تیغ تیز” میں آغا پر الزام لگایا کہ انہوں نے غالب کی بات چرائی ہے۔ غالب نے دعویٰ کیا کہ یہ بات کسی پرانی فرہنگ میں موجود نہیں۔ بعد ازاں آغا احمد علی نے "شمشیر تیز تر” میں غالب کی اس صریح زیادتی کا پردہ چاک کیا۔

6. "تیغ تیز” میں سرقے کا ایک اور جھوٹا الزام

اپنی کتاب تیغ تیز میں غالب نے آغا احمد علی (جنہیں وہ مولوی جی کہتے تھے) پر ایک اور الزام لگایا:

”مولوی جی .. ایک فقرہ لکھتے ہیں ‘غمِ گفتار پارسی زبان خورد’ اور یہ .. درفش کاویانی کا ہے .. مگر اس طرح .. ‘غمِ تباہیِ آیینِ گفتارِ پارسی خورد’۔ مولوی نے بے معنی کر کے لکھا .. اگر سرقہ ہے تو چاہیے سراسر فقرہ بے تغیر لفظ لکھنا، اچکا پن اور اٹھائی گیرا پن ہو۔“

حقیقت کیا ہے؟ اس الزام میں تین بنیادی خامیاں ہیں:

  1. غالب کی اپنی عبارت انتہائی عامیانہ ہے، جس میں کوئی ایسا خاص نکتہ نہیں جسے چرایا جائے۔
  2. غالب خود کہہ رہے ہیں کہ سرقہ "سراسر بے تغیر” ہونا چاہیے، جب کہ انھوں نے جو عبارت پیش کی وہ خود مختلف تھی۔
  3. آغا نے "موید برہان” میں جو فقرہ لکھا تھا، اس کی ساخت بالکل مختلف تھی اور اس پر سرقے کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوتا۔

اس غلط بیانی پر آغا نے شمشیر تیز تر میں غالب کو خوب آڑے ہاتھوں لیا۔ (واضح رہے کہ درفش کاویانی دراصل قاطع برہان کی دوسری اشاعت کا نام تھا)۔

7. "دیدہ عیب ساز” کا تنازع

غالب نے تیغ تیز میں آغا احمد علی پر ایک بار پھر یہ اعتراض کیا کہ انہوں نے لفظ "دیدہ عیب ساز” خود سے گھڑ کر لکھا ہے۔

حقیقت کیا ہے؟ آغا احمد علی نے موید برہان میں نہایت صراحت کے ساتھ لکھا تھا کہ یہ ترکیب انہوں نے خود نہیں بنائی، بلکہ یہ برہان قاطع میں موجود ہے۔ غالب کا یہ اعتراض بھی محض تنقید برائے تنقید تھا۔

8. دیوان کی اشاعت پر بیانات کا کھلا تضاد

اپنے دیوان کی اشاعت کے حوالے سے غالب کے بیانات میں زبردست تضاد پایا جاتا ہے۔
ایک طرف انہوں نے شیو نرائن کو (۱۰ جنوری ۱۸۶۲ء) لکھا:

”غور کرو میرٹھ کے چھاپے خانے والے محمد عظیم نے کس عجز و الحاح سے دیوان لیا تھا، اور میں نے نظر تمھاری ناخوشی پر بمبر اس سے پھیر لیا۔“

اور دوسری جانب اسی شخص کے بارے میں سیاح کو (۱۸۶۰ء) میں لکھتے ہیں:

”دیوان کا چھاپا کیسا، وہ شخص ناآشنا موسوم بہ عظیم الدین .. آدمی نہیں بھوت ہے۔“

ان تمام تاریخی شواہد، حوالوں اور ادبی معرکوں سے یہ بات بالکل واضح ہو جاتی ہے کہ مرزا غالب جہاں اردو اور فارسی ادب کے بے تاج بادشاہ تھے، وہیں ان کی شخصیت میں عام انسانوں جیسی بشری کمزوریاں، تضادات اور انا پرستی بھی موجود تھی۔ ان حقائق کو جانے بغیر غالب کی شخصیت کا مطالعہ ہمیشہ ادھورا رہے گا۔

نظرِ ثانی و تصحیح: مجاہد حسین شاہ, معلمِ اردو کنکورڈیا کالج، مارگلہ کیمپس، ڈی۔۱۷، اسلام آباد

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں