مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

میر حسن کی حالات زندگی اور کلام کی خصوصیات

میر غلام حسن نام اورتخلص بھی حسن تھا — میر حسن 1836ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ میر حسن کا تعلق ایک ایسے خاندان سے تھا جو چار پشتوں سے شاعری کے باعث شہرت وامتیازکا باعث رہا۔ ان کا تعلق ایک معززخاندان سے تھا۔
ان کے جدِ امجد میرا امالی ہروی
ہرات سے آ کر دہلی میں آباد ہو گئے تھے۔ میر حسن کے والد میرضاحک مشہور ہجو گو شاعر تھے۔ میر حسن کے پوتے میر انیس مشہور مرثیہ گو شاعر تھے۔
انہوں نے اپنے والد کی نگرانی میں دہلی میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کیے۔ جب دہلی پر حملوں اور لوٹ مار کے باعث آفت آ پڑی تو وہ اپنے والد کے ہمراہ فیض آباد چلے گئے اور نواب سالارجنگ کے دربار سے منسلک ہو گئے۔ بعد میں ان کے بیٹے نوازش علی کے دربار سے وابستہ ہو گئے۔ فیض آباد ان دنوں اودھ کا دارلحکومت تھا۔
جب نواب آصف الدولہ نے لکھنؤ کو دارالسلطنت قرار دیا تو میرحسن بھی لکھنؤ منتقل ہو گئے۔ باقی زندگی اسی شہر میں گزار دی۔میر حسن شاعری میں باقاعدہ ضیاء الدین کے شاگرد تھے لیکن متاثر میر اور سودا سے بھی تھے۔
میر حسن کا انتقال 1201 ہجری بمطابق 1876ء میں ہوا۔
میر حسن نے غزل، قصیدہ، رباعیات، تزکرے اور متعدد م اور متعددمثنویاں بھی لکھیں۔
"وجہ شہرت”
میر حسن کی یادگار غزلیات و قصائد کا ایک دیوان،مثنویوں کا ایک مجموعہ اور شاعروں پرایک تذکرہ ہے مگر انکی شہرت کا باعث انکی مثنویاں ہیں ۔میرحسن کی شہرت کا اصل سبب ان کی مثنوی "سحر البیان”ہے ۔اس میں شہزادہ بے نظیر اور شہزادی بدر منیر کے عشق کی داستان نظم کی گئ ہے ۔میرحسن نے یہ مثنوی اپنی وفات سے تین سال قبل 1874ء میں مکمل کی ۔ظاہر ہے اس میں انکی فنی پختگی عروج پر ہے شاید اس لیے میرحسن نے کہا:
زیس عمر کی اس کہانی میں صرف
تب ایسے نہ نکلے ہیں موتی سےحرف
جوانی میں جب ہوگیا ہوں میں پیر
تب ایسے ہوئے ہیں سخن دل پذیر
"تصانیف”
میر حسن کی تصانیف میں سات ہزار اشعار کا کلیات اور گیارہ مثنویاں شامل ہیں ۔”رموز العارفین”اور”گلزار آرم”بھی مقبول مثنویاں ہیں ۔”تذکرہ شعرائے اردو”بھی بہت مقبول ہوا۔
"خصوصیات کلام”
"کردار نگاری”
*کسی بھی کہانی میں کردار نگاری کو مرکزی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور کردار ہی کہانی کی کامیابی اور ناکامی میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔
میر حسن کی مثنوی "سحر البیان”کا ہر کردار ان کے معاشرے کا جیتا جاگتا کردار ہے۔چونکہ میر حسن ہر کردار کے نفسیاتی رویے سے بخوبی آگاہ ہیں، اس لیے انہوں نے”سحر البیان” میں کردار نگاری کو نہایت کامیابی سے پیش کیا ہے، جس کی وجہ مثنوی کی آرائش و زیبائش اور حسن و رعنائی کو چار چاند لگ گئے ہیں میر حسن مثنوی میں شہزادہ بے نظیر کی خوبصورتی کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
عجب صاحب حسن پیدا ہوا
جسے مہروماہ دیکھ کے شیدا ہوا
وہ رخسار نازک کہ ہو جائے لال
اگر اس پہ بوسے کا گزرے خیال
منظر کشی:
میر حسن کو تصویرکشی اور منظر نگاری پر بڑا عبور حاصل ہے، وہ جس منظر کو بیان کرتے ہیں اس کی تمام ضروری جزئیات کو اُس خوبصورتی سے سامنے لاتے ہیں کہ منظر مجسم ہوکر نظروں کے سامنے آ جاتاہے۔ مثلاً
ادھر آسمان پر درخشندہ مہ
ادھر یہ زمین پر مہ چاردہ
ہوئی صبح شب کا گیا آٹھ حجاب
درختوں میں نکلا ہے یہ آفتاب
زبان و محاورات:
میر حسن نے مثنوی سحر رالبیان میں سادہ رواں، شریں خوبصورت اور فصیح زبان کا استعمال کیا ہے۔ زبان کی ہر خوبی اس کے اندر موجود ہے، یہی حال اس کے محاورات کابھی ہے۔ اس مثنوی کی مقبولیت میں اس کی زبان کا بہت بڑا حصہ ہے۔
لگی کہنے ماتھا کو ئی اپنا کوٹ
ستارہ پڑا ہے فلک پر سے ٹوٹ
نظر آئے اتنے جو اک بار چاند
زمانے کے منہ کو لگے چار چاند
مکالمہ نگاری:
میر حسن کو مقالہ نگاری پر بھی پوری قدرت حاصل ہے۔ ان کے کردار موقع کی مناسبت سے بات چیت کرتے ہیں اور وہی محاورے استعمال کرتے ہیں جو اس موقع کے لئے انتہائی مناسب ہو ۔ خصوصاََ عورتوں کی بات چیت میں ان کے محاوروں کا رنگ بہت نکھرکر آتا ہے۔

کہے سے ہمارے نہ مانو گی تم
جو دیکھو گیآنکھوں تو جانوگی تم

    نہیں اور کچھ تم نہ کیجیو ہراس
    چلی آو ٹک ان  درختوں کے  پاس

معاشرت کی عکاسی:
میر حسن کی مثنویوں سے ہمیں اس دور کے معاشرے کے بارے میں معلومات حاصل ہوتی ہے۔ اس زمانے کے رسم و رواج، اعتقادات، اخلاقی اور تمدنی حالات معاشرتی روابط کے بارے میں انہوں نے تفصیل سے لکھا ہے۔

وہ نوشہ کا گھوڑے پہ ہونا سوار
وہ موتی کا سہرا جواہر کے ہار

   وہ جلوے کا ہونا، وہ شادی کی دھوم
    وہ آپس میں دولہا دلہن  کی رسوم

ان اشعار میں میر حسن نے شادی کے مواقع پر ہونے والی رسموں اور تجربات کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔ گھوڑے کی سواری، موتی کے سہرے، جواہر کے ہار، شادی کی دھوم اور دولہا دلہن کے آپسی رشتوں کی رسم و رواج اس دور کے معاشرے کی ایک جھلک پیش کرتی ہیں۔

میر حسن کی شاعری سے ہمیں اس زمانے کے لوگوں کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے بارے میں معلومات ملتی ہیں، جو تاریخی اور سماجی نقطہ نظر سے بہت ہی اہم ہیں۔
تشبیہ و استعارہ کا استعمال :
میر حسن کی زبان بالکل سادہ اور انداز بیان بے تکلف ہے۔ وہ تشبیہ اور استعارہ کو اپنے اشعار کی خوبصورتی اور دلکشی کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ ان کی تشبیہات بہت خوبصورت اور برمحل ہوتی ہیں۔
وہ ساعد وہ بازو بھرے گول گول
برابر ہو الماس کے جن کا مول

    وہ دست حنا بستہ خوبی کے باب
    شفق میں ہو  جوں  پنجہ آفتاب

ان اشعار میں میر حسن نے تشبیہ اور استعارے کا بہت ہی خوبصورت استعمال کیا ہے۔ ان کی تشبیہات سے اشعار میں ایک نئی زندگی اور خوبصورتی آ جاتی ہے۔

ضرب المثال کا استعمال :
میر حسن کے بعض اشعار اس قدر رواں ہیں کہ وہ ضرب الامثل بن گئے ہیں۔

صدا عیش دو راں دکھاتا نہیں
گیا وقت پھر ہاتھ آتا نہیں

کسی پاس دولت ہی یہ رہتی نہیں

سدا ناؤ کاغذ کی بہتی نہیں

ان اشعار میں میر حسن نے وقت کی قدر اور دولت کی حقیقت کو بہت ہی خوبصورتی سے بیان کیا ہے۔
ان اشعار میں ایک گہرا فلسفہ پوشیدہ ہے جو قاری کو غور و فکر پر مجبور کرتا ہے۔ میر حسن کی شاعری میں حکمت اور دانائی کا عنصر واضح طور پر نظر آتا ہے۔

       "مجموعی جائزہ"

میر حسن اردو ادب کے ایک ایسے شاعر ہیں جن کی شاعری میں معاشرتی زندگی، نفسیاتی گہرائی، تصویر کشی کی خوبصورتی اور زبان کی سادگی کا حسین امتزاج ہے۔ ان کی مثنوی سحر البیان نہ صرف ایک عشقی داستان ہے، بلکہ اردو شاعری کی ایک نادر تحریر ہے جو آج بھی قارئین کو متاثر کرتی ہے۔

"زبان کی سادگی، بیان کی روانی اور جذبات کی گہرائی — یہی میر حسن کی شاعری کا راز ہے!”_

(کنزہ اسرار)

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں