مولوی اسماعیل میرٹھی کی نظم نگاری کی خصوصیات: جدید اردو نظم، فطرت نگاری اور بچوں کے ادب کا عظیم معمار تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
اردو ادب کی تاریخ میں جب بھی جدید نظم اور بچوں کی نفسیات پر مبنی شاعری کا ذکر آتا ہے، تو مولوی اسماعیل میرٹھی کا نام ایک درخشاں ستارے کی مانند جگمگاتا ہے۔ محمد حسین آزاد نے انجمن پنجاب کے پلیٹ فارم سے جس جدید شعری تحریک کا بیج بویا اور مولانا الطاف حسین حالی نے جسے پروان چڑھایا، اسی نظریاتی اور عملی تحریک کو اسماعیل میرٹھی نے اپنی استقامت، فنی مہارت اور تخلیقی بصیرت سے بامِ عروج تک پہنچایا۔ انہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے اس تحریک کو نہ صرف ایک نئی رفتار اور وقار بخشا بلکہ اردو نظم کو روایتی موضوعات سے نکال کر ایک نئی اور تعمیری جہت سے بھی روشناس کرایا۔
یہ مضمون اسماعیل میرٹھی کی حیات، ان کی شعری خدمات، ہیئتی تجربات اور بچوں کے ادب میں ان کے لازوال کردار کا ایک جامع اور تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔
ابتدائی حالات اور سوانحی خاکہ
اردو ادب کے اس مایہ ناز سپوت کی ولادت ۱۲ نومبر ۱۸۴۴ء کو میرٹھ کے ایک تاریخی علاقے ‘محلہ مشائخان’ میں ہوئی۔ ان کی ادبی اور تعلیمی خدمات کے اعتراف میں آج اس علاقے کو اسماعیل نگر کے نام سے جانا جاتا ہے۔ آپ نے اپنی طویل اور بامقصد زندگی کا بیشتر حصہ درس و تدریس اور تصنیف و تالیف میں گزارا، اور بالآخر ۷۳ برس کی عمر پا کر یکم نومبر ۱۹۱۷ء کو میرٹھ ہی میں خالقِ حقیقی سے جا ملے۔
درسی کتب اور ‘اسماعیل ریڈرز’ کی تاریخی اہمیت
اسماعیل میرٹھی کا سب سے بڑا اور نمایاں کارنامہ بچوں کے لیے اردو کی معیاری درسی کتب (ریڈرز) کی تیاری ہے۔ جب انہیں تدریسی عمل کے دوران بچوں کے لیے مناسب اور ان کی نفسیات کے عین مطابق نصابی مواد کی کمی کا شدت سے احساس ہوا، تو انہوں نے خود اس خلا کو پر کرنے کا بیڑا اٹھایا۔ ان کتابوں میں شامل بیشتر مضامین، سبق آموز کہانیاں، حکایات اور نظمیں ان کے اپنے زورِ قلم کا نتیجہ ہیں، جبکہ کچھ حصے انگریزی اور فارسی سے نہایت خوبصورتی کے ساتھ ترجمہ کیے گئے ہیں۔ آج ایک صدی سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے باوجود ان کی مرتب کردہ یہ کتابیں بچوں کے ادب میں ایک شاہکار کی حیثیت رکھتی ہیں اور اسی ذوق و شوق سے پڑھی جاتی ہیں۔
بچوں کی نفسیات اور اخلاقی تربیت کا حسین امتزاج
اسماعیل میرٹھی کو یہ کمال حاصل تھا کہ وہ بچوں کے لیے لکھتے وقت خود بھی ذہنی طور پر بچے بن جایا کرتے تھے۔ ان کی شاعری کا لب و لہجہ انتہائی سادہ، شیریں اور رنگارنگ ہے۔ انہوں نے اخلاقیات، اصول و ضوابط اور زندگی کے پیچیدہ اسباق کو خشک اور نصابی انداز میں پیش کرنے کے بجائے دلچسپ پیرائے میں ڈھالا۔ ان کا مقصد بچوں کے دلوں میں برائی کی قباحت بٹھانا اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کو پروان چڑھانا تھا۔
جانوروں، موسموں اور روزمرہ کے مناظر کی تصویر کشی انہوں نے اتنی سادگی سے کی ہے کہ معصوم ذہن فوراً اس کا اثر قبول کر لیتے ہیں۔ اس کی ایک بہترین مثال ان کی مشہور نظم ‘اونٹ’ کے یہ اشعار ہیں:
اونٹ! گھبراتا نہیں تو بار سے
دیکھتا ہے اس کی جانب پیار سے
گویا کہتا ہے کہ اے میرے سوار
ایک دن تو اور بھی ہمت نہ ہار
ہاں نہ بے دل ہو نہ رستے میں ٹھٹک
صاف سر چشمہ ہے آگے دھر لپک
مجھ کو آتی ہے ہوا سے بوئے آب
ناامیدی سے نہ کر تو اضطراب
اسی طرح ان کی ایک اور شہرہ آفاق نظم ‘پن چکی’ بچوں کو لگن اور محنت کا درس اس دلکش انداز میں دیتی ہے:
تو نے چلنے کی شرط ہے باندھی
تو بڑے کام کی ہے اے چکی!
مجھ کو بھاتی ہے تیری لے چکی!
علم سیکھو سبق پڑھو بچو
اور آگے چلو بڑھو بچو
مناظرِ فطرت اور نیچرل شاعری کے بے مثال نقوش
اسماعیل میرٹھی کی شاعری کی ایک اور بڑی خصوصیت ان کی ‘نیچرل شاعری’ اور فطرت نگاری ہے۔ انہوں نے کائنات کی جاذبِ نظر تبدیلیوں، موسموں کے تغیر و تبدل اور قدرت کے حسین مناظر کو اپنے کلام میں سمو کر قاری کے دل میں خالقِ کائنات کی عظمت کا یقین پختہ کیا ہے۔
نظم ‘برسات’ میں قدرت کی منظر کشی اور اس کے ثمرات کا احاطہ انہوں نے کچھ یوں کیا ہے:
وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی
تو بے جان مٹی میں جان آگئی
زمیں سبزے سے لہلہانے لگی
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی
جڑی بوٹیاں پیڑ آئے نکل
موسمِ گرما اور دیہاتی زندگی پر لکھی گئی ان کی نظمیں خالص مقامی رنگ اور ماحول کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں کسان، اس کے جانور، اور کھیت کھلیان مرکزی حیثیت رکھتے ہیں۔
نظم نگاری میں ہیئتی تجربات اور جدیدیت کے بنیاد گزار
بچوں کے شاعر کی حیثیت سے بے پناہ مقبولیت کے سبب اسماعیل میرٹھی کی دیگر اہم ادبی خدمات پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ مستحق تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ جدید نظم کی ہیئت (Form) میں تجربات کرنے والے اولین شعراء میں سے ایک تھے۔
معروف نقاد پروفیسر گوپی چند نارنگ ان کے ادبی مرتبے کا تعین کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"بچوں کا ادب اسماعیل میرٹھی کی ادبی شخصیت کا محض ایک رخ ہے۔ ان کا شمار جدید نظم کے ہیئتی تجربوں کے بنیاد گزاروں میں بھی ہونا چاہیے۔ آزاد اور حالی نے جدید نظم کے لئے زیادہ تر مثنوی اور مسدس کے فارم کو برتا تھا۔ اسماعیل نے ان کے علاوہ مثلث، مربع، مخمس اور مثمن سے بھی کام لیا ہے۔ ترقی پسند شاعروں نے آزاد نظم اور نظم معریٰ کے جو تجربے کیے، ان سے بہت پہلے عبدالحلیم شرر، نظم طباطبائی اور نادر کاکوروی اور ان سے بھی پہلے اسماعیل میرٹھی ان راہوں سے کانٹے نکال چکے تھے۔”
اسماعیل میرٹھی نے اردو میں نظمِ معریٰ (Blank Verse) کی داغ بیل ڈالی۔ اس کی شاندار مثالیں ان کی نظمیں ‘تاروں بھری رات’ اور ‘چڑیا کے بچے’ ہیں۔ بغیر قافیے کے لکھی گئی ان نظموں میں تسلسل اور روانی کمال کی ہے۔ ‘تاروں بھری رات’ کے چند مصرعے ملاحظہ کریں:
ارے چھوٹے چھوٹے تارو
کہ چمک دمک رہے ہو
تمہیں دیکھ کر نہ ہووے
مجھے کسی طرح تحیر
کہ تم اونچے آسماں پر
جو ہے کل جہاں سے اعلیٰ
اسی طرح نظم ‘چڑیا کے بچے’ میں جذبات اور منظر نگاری کو نظمِ معریٰ میں نہایت خوبی سے پرویا گیا ہے:
دو تین چھوٹے بچے چڑیا کے گھونسلے میں
چپ چاپ لگ رہے ہیں سینے سے اپنی ماں کے
چڑیا نے مامتا سے پھیلا کے دونوں بازو
اپنے پروں کے اندر بچوں کو ڈھک لیا ہے
بڑوں کے لیے شاعری اور سماجی و قومی شعور
یہ کہنا سراسر غلط ہوگا کہ اسماعیل میرٹھی صرف بچوں کے شاعر تھے۔ انہوں نے بالغوں کے لیے بھی انتہائی اعلیٰ پائے کی نظمیں تخلیق کیں جن میں گہرا مشاہدہ، قومی شعور، اور انگریزوں کی استعماری پالیسیوں کے خلاف سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔ وہ اندھی تقلید کے سخت خلاف تھے۔ ان کی نظم ‘کورانہ انگریزی پرستی’ اس مائنڈسیٹ پر ایک گہرا طنز ہے جو اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغرب کے رنگ میں رنگا جا چکا تھا:
رہا وہ جرگہ جسے چر گئی ہے انگریزی
سواں خدا کی ضرورت نہ انبیا درکار
وہ آنکھ میچ کے برخود غلط بنے ایسے
اسی طرح انہوں نے ‘شفق’ جیسی نظمیں لکھ کر نیچرل شاعری کی روایت کو معراج تک پہنچایا۔ وہ شام کے وقت آسمان پر پھیلی سرخی کی سائنسی اور جمالیاتی توجیہہ کچھ یوں پیش کرتے ہیں:
شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے
اسماعیل میرٹھی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ
ادبی نقادوں نے جدید اردو نظم کے ارتقاء میں اسماعیل میرٹھی کے کردار کو ہمیشہ کلیدی مانا ہے۔ انجمن پنجاب کے مشاعروں سے جس نئی شاعری کا آغاز ہوا، اس میں روایتی گل و بلبل، اور ہجر و وصال کے بجائے حب الوطنی، رحم و انصاف، اور امید جیسے موضوعات شامل کیے گئے۔
ڈاکٹر عبادت بریلوی اپنی تصنیف "جدید شاعری” (ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ) میں تسلیم کرتے ہیں کہ یہ دور اردو شاعری کا نیا موڑ تھا۔ اسی دور میں اکبر الہ آبادی اور اسماعیل میرٹھی نے اپنا لوہا منوایا۔
معروف محقق حامد حسن قادری اپنی کتاب "داستان تاریخ اردو” میں یہاں تک لکھتے ہیں کہ اگرچہ جدید نظم کی تحریک کا سہرا حالی اور آزاد کے سر ہے، لیکن محاسنِ شاعری کے اعتبار سے اسماعیل میرٹھی کی نظمیں ان دونوں حضرات سے کہیں بہتر ہیں۔ ان کے نزدیک نئے اور غیر مانوس الفاظ کو نظم میں نگینے کی طرح جڑنے کا فن اسماعیل میرٹھی پر ختم تھا۔
نیاز فتح پوری نے رسالہ ‘نگار’ (ستمبر ۱۹۳۹ء) میں لکھا کہ اسماعیل میرٹھی دبستانی حیثیت رکھتے ہیں، اور وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے قدیم رنگ کو ترک کر کے مغربی انداز کی حقیقت پسندانہ شاعری کو اپنایا۔ ڈاکٹر کوثر مظہری نے بھی اعتراف کیا ہے کہ اسماعیل کی نظموں میں حالی اور آزاد کی نسبت زیادہ جاذبیت اور روانی پائی جاتی ہے۔
تمثیلی اور حکایتی نظمیں: اخلاقیات کا عملی نمونہ
ان کی بے شمار نظمیں تمثیل (Allegory) کے انداز میں لکھی گئی ہیں، جہاں بے جان اشیاء اور جانوروں کو کردار بنا کر انسانیت کو سبق دیا گیا ہے۔
- دال چپاتی اور دال کی فریاد: ان نظموں میں باہمی تعاون کی اہمیت اجاگر کی گئی ہے کہ دنیا میں انا اور خود غرضی کے بجائے مل جل کر رہنے میں ہی کامیابی ہے۔
- دو مکھیاں: اس نظم میں حرص اور عاقبت اندیشی کا تقابل دکھایا گیا ہے کہ جو انسان لالچ میں اندھا ہوکر جلد بازی کرتا ہے، وہ نقصان اٹھاتا ہے، جبکہ دور اندیش انسان محفوظ رہتا ہے۔
- ایک کتا: ہڈی کی لالچ میں اپنی ہی پرچھائیں پر جھپٹنے والے کتے کی اس مشہور کہانی کے ذریعے لالچ کے برے انجام کو منظوم کیا گیا ہے۔
- کچھوا اور خرگوش: غرور کا سر نیچا اور مستقل مزاجی کی جیت کی یہ عالمگیر کہانی آج بھی ان کے مخصوص پیرائے میں پڑھی جاتی ہے۔
- ماں کی مامتا: مسدس کی ہیئت میں لکھی گئی یہ نظم انسانی رشتے، تہذیب اور محبت کا انتہائی پراثر بیان ہے:
رات کو لوریاں سناتی ہے
گود میں لے کے بیٹھ جاتی ہے
کس قدر زحمتیں اٹھاتی ہے
بچہ ہے اور ماں کی چھاتی ہے
دیہی زندگی سے محبت ان کی نظم ‘ہماری گائے’ میں جھلکتی ہے جو معیشت میں کسان اور مویشیوں کے کردار کی خوبصورت تصویر ہے:
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں
یادگار اور ضرب المثل اشعار
مولوی اسماعیل میرٹھی کے قلم سے نکلے ہوئے کئی اشعار آج بھی زبان زدِ عام ہیں اور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کی شاندار عکاسی کرتے ہیں۔ ذیل میں ان کے چند مشہور اشعار درج ہیں جو ان کی قادر الکلامی کا ثبوت ہیں:
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
ناؤ کاغذ کی سدا چلتی نہیںبندگی کا شعور ہے جب تک
بندہ پرور! وہ بندگی ہی نہیںنہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
مِرے مذہب میں ہے تیری رضا فرضکبھی بُھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتاخواہشوں نے ڈبو دیا دِل کو
ورنہ یہ بحرِ بیکراں ہوتاسلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مُجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیںاِن بد دِلوں نے عشق کو بدنام کر دیا
جو مرتکب شکایتِ جور و جفا کے ہیںمارا بھی اور مار کر زندہ بھی کر دیا
یہ شعبدے تو شوخیٔ نازو ادا کے ہیںاظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیںخود فروشی حُسن کو جب سے ہوئی مدِ نظر
نرخِ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیںآغازِ عشق عُمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو کیاجاگیرِ دَدر پر ہمیں سرکارِ عشق نے
تحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کاکسی کی برقِ تبسّم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا ساجی چاہتا ہے آپ کے در پر پڑا رہوں
صاحب نہیں ہے اور کوئی اِس غلام کاطالب ہوں تجھ سے تیری مُحبت کے جام کا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی تشنہ کام کازلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں
مولانا اسماعیل میرٹھی کی شخصیت فقط ایک معلم یا بچوں کے شاعر تک محدود نہیں تھی۔ وہ جدید اردو نظم کے اولین معماروں میں سے تھے جنہوں نے ادب کو زندگی کی حقیقتوں، فطرت کی خوبصورتی اور اعلیٰ اخلاقی قدروں سے ہم آہنگ کیا۔ انہوں نے مغربی ادب (جیسے ‘دی ورم’ یا ‘فادر ولیم’) کے شاندار تراجم کیے، مشکل اور روایتی بحروں سے ہٹ کر نئے ہیئتی تجربات کیے، اور اردو کو ایک ایسا نصاب دیا جو صدی گزرنے کے بعد بھی اپنی افادیت نہیں کھو سکا۔ ان کی سادگی، سلاست، منظر نگاری اور نفسیاتی گہرائی انہیں اردو ادب کا ایک ایسا لازوال اور منفرد ستون بناتی ہے جس پر آنے والی نسلیں ہمیشہ فخر کرتی رہیں گی۔
نظر ثانی و تصحیح: فہد عظیم علی
طالب علم ایم فل ریسرچ اسکالر اردو رفاہ انٹرنیشنل یونیورسٹی ساہیوال
