مشرق و مغرب میں علامت نگاری کا تصور: روایت اور جدیدیت کا سنگم،تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
ادبی دنیا میں عام طور پر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ علامت (Symbolism) کا تصور مغرب کی دین ہے اور صرف جدید تحریک نے ہی قاری کو اس سے روشناس کرایا۔ تاہم، یہ نظریہ قطعی طور پر درست نہیں ہے۔ یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ جدید تحریک نے اسے ایک مضبوط "رجحان” کی شکل دی، لیکن جہاں تک اردو ادب کا تعلق ہے، علامتی شعور کی جڑیں قدیم روایات میں پیوست ہیں۔
اردو شاعری: تشبیہ سے علامت تک کا سفر
اردو کی کلاسیکی شاعری کا جائزہ لیا جائے تو میر تقی میر، مرزا غالب، خواجہ حیدر علی آتش اور علامہ اقبال جیسے اساتذہ کے ہاں تشبیہ، استعارہ اور تمثیل کا بھرپور استعمال ملتا ہے۔ ان شعراء نے نہ صرف روایتی الفاظ (جیسے گل، قاتل، رقیب، شمع، پروانہ) کو نئے معانی پہنائے بلکہ اپنی تحریروں میں "رموز ، اشاروں” اور "کنایوں” کی بنیاد بھی رکھی۔
خاص طور پر علامہ اقبال کے کلام میں ایسے الفاظ کی کثرت ہے جو "کثیر المعنویت” (Multi-layered meanings) کے حامل ہیں۔ یہ الفاظ محض اشارے نہیں رہتے بلکہ علامت کے درجے پر فائز ہو جاتے ہیں۔ یہی فنی خصوصیات آگے چل کر فیض احمد فیض کی شاعری میں بھی نمایاں ہوئیں۔ البتہ، ناقدین کے مطابق شاعری میں باقاعدہ اور شعوری علامت نگاری کا آغاز میرا جی سے ہوا، جنہوں نے ذاتی علامتوں (Personal Symbols) کی ایجاد میں اہم کردار ادا کیا۔
اردو نثر اور داستانوں میں علامتی عناصر
شاعری کے برعکس اگر نثر کی بات کی جائے تو قدیم قصے کہانیوں اور داستانوں میں بھی علامت کا وجود ملتا ہے۔ ملا وجہی کی مشہور زمانہ تصنیف "سب رس” کو کل تمثیلی و علامتی داستان تسلیم کیا جاتا ہے۔
شہزاد منظر اس حوالے سے لکھتے ہیں:
"اردو نثر میں علامت نگاری کی ابتداء ‘سب رس’ سے ہوئی ہے۔ ملا وجہی کی ‘سب رس’ خود ایک علامتی تصنیف ہے۔ اگر اردو میں علامت نگاری کا سراغ لگایا جائے تو اس کا سلسلہ قدیم داستانوں سے جا کر ملے گا۔ کیونکہ داستانیں اور قدیم قصے کہانیاں محض کہانیاں نہیں ہیں، ان میں بھی رمز و علامت کے خزانے پوشیدہ ہیں۔”
صنفِ افسانہ اور علامتی روایت کا ارتقاء
اردو افسانہ بھی اپنی ابتداء سے ہی علامتی روایت سے تہی دامن نہیں رہا۔ افسانہ نگاروں نے ضرورت کے مطابق کبھی شعوری اور کبھی غیر شعوری طور پر تمثیل، استعارہ اور رمز و کنایہ کا استعمال کیا، جنہیں علامت کی ابتدائی شکلیں مانا جاتا ہے۔
ابتدائی دور کے بڑے ناموں مثلاً پریم چند، احمد علی، راجندر سنگھ بیدی، کرشن چندر، منٹو، عصمت چغتائی، ممتاز شیریں، عزیز احمد اور احمد ندیم قاسمی نے اپنے فن کے حسن کو دو بالا کرنے کے لیے ان فنی حربوں کا سہارا لیا۔ چاہے رومانیت کی تحریک ہو یا حقیقت پسندی، ہر دور کے فنکار علامت کے دلدادہ رہے ہیں۔
منشی پریم چند: حقیقت نگاری میں چھپی رمزیت
پریم چند نے جب افسانہ نگاری شروع کی تو انہوں نے صناعانہ زبان کے بجائے سلیس اور براہِ راست انداز کو ترجیح دی۔ اس کے باوجود ان کے بعض افسانوں میں گہری رمزیت ملتی ہے۔
مثال کے طور پر ان کا شاہکار افسانہ "شطرنج کی بازی” اپنے عہد کی سیاسی تہذیب اور مغلیہ سلطنت کے زوال کا نوحہ ہے۔ اس میں استعمال ہونے والی منظر کشی مثلاً:
- ویران مسجد کی خستہ حال دیواریں
- ٹوٹے پھوٹے مینار اور شام کے دھندلے سائے
- کھنڈرات میں ابابیلوں اور چمگادڑوں کی بیٹیں
یہ تمام الفاظ و جملے دراصل زوال کے گہرے رموز و اشارات ہیں۔
رومانی افسانہ نگاروں کا اسلوب
پریم چند کے علاوہ رومانی افسانہ نگاروں کے ہاں بھی علامتی اسلوب کی کارفرمائی نظر آتی ہے۔ اس تحریک کے بانی یلدرم کے ہاں رمزیاتی رویہ کثرت سے ملتا ہے، جسے بعد میں نیاز فتح پوری نے بھی اپنایا۔
- یلدرم کے افسانے "خارستان و گلستان”، "صحبتِ ناجنس” اور "سودائے تکلمین” کی فضا مکمل طور پر علامتی ہے۔ انہوں نے کرداروں کے نفسیاتی امراض کو علامتی شکل میں پیش کیا۔
- نیاز فتح پوری کے افسانوں "کیوپڈ اور سائیکی” اور "الحمرا کا گلاب” میں استعاراتی اور رمزیاتی اظہار نمایاں ہے۔
احمد علی: اردو افسانے میں جدید علامت نگاری کے سرخیل
رومانیت کے دور میں "انگارے” کا شائع ہونا ایک اہم موڑ تھا، جو تکنیک اور موضوع دونوں اعتبار سے منفرد تھا۔ اس گروپ میں احمد علی اور سجاد ظہیر کے افسانے رمزیاتی اسلوب کے حامل تھے۔
احمد علی کے افسانوں کا تجزیہ:
احمد علی نے اپنے افسانوں میں جنسی گھٹن، معاشرتی زوال اور انسانی بے بسی کو بیان کرنے کے لیے بہترین علامتی انداز اپنایا۔
- بادل نہیں آتے: اس افسانے میں عورت کی بے بسی اور مولوی کی جنسی طلب کو اشاروں کنایوں میں بیان کیا گیا ہے، کیونکہ جنسی موضوعات اکثر براہِ راست اظہار کے بجائے رمزیہ بیان کے متقاضی ہوتے ہیں۔
- مہاوتوں کی ایک رات: اس میں زوال آمادہ معاشرتی اقدار کی عکاسی کی گئی ہے۔
- قید خانہ: یہ افسانہ انسانی وجود کی خارجی اور باطنی قید کی بہترین مثال ہے۔ احمد علی نے جسم کو ایک ایسے قید خانے سے تعبیر کیا ہے جس میں روح قید ہے۔
ممتاز شیریں، احمد علی کے فن پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
"قید خانہ میں احساس مجسم بن گیا ہے۔ اس افسانے کا کردار ہی حساس آدمی کا ذہن ہے۔ اس احساس کے زیرِ اثر نہ صرف ذہن سوچتا ہے اور آنکھ دیکھتی ہے بلکہ احساس جسم کے رگ و پے میں سرایت کر گیا ہے۔ ذہن، جسم، روح سب اس کرب، گھٹن اور قید میں جکڑے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔”
ص ۱۰۷، کتاب معیار، مصنفہ ممتاز شیریں
زندگی اور موت کے سوالات:
احمد علی کے افسانوں "موت سے پہلے” اور "ہمارا کمرہ” میں زندگی اور موت کے فلسفیانہ مسائل کو چھیڑا گیا ہے۔
- "موت سے پہلے” میں موت پر سوالیہ نشان لگائے گئے ہیں۔
- "ہمارا کمرہ” میں زندگی کے مقصد اور انسانی الجھنوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔
ممتاز شیریں نے احمد علی کے اس رمزیاتی اسلوب میں مغربی مصنف کافکا (Kafka) کے اثرات کی نشاندہی کی ہے اور لکھا ہے کہ "قید خانہ”، "ہمارا کمرہ” اور "موت سے پہلے” میں کافکا کا طریقہ اظہار پایا جاتا ہے۔
ایضاً ص 102
"ہماری گلی” اور سیاسی استعارے
احمد علی کا افسانہ "ہماری گلی” انگریزی سامراج کے ظلم و ستم اور ہندوستان کی سیاسی و معاشی حالت کا رمزیہ بیان ہے۔ انہوں نے دہلی کے ایک محلے "کوچہ چیلان” کو مرکز بنا کر کئی اہم اشارے دیے:
- مرزا دودھ والے کے اکلوتے بیٹے کی آزادی کی تحریک میں شہادت۔
- اس کی بیوی کا مسلسل یہ گانا گانا: "گئی یک بیک جو ہوا پلٹ، نہیں میرے دل کو قرار ہے”۔
افسانہ ہماری گلی، احمد علی کتاب اردو افسانے کا انسائیکلو پیڈیا اردو افسانے کی روایت،ص ۵۵۳
کھجور کا درخت بطور علامت:
افسانے میں موجود "پرانا کھجور کا درخت” گزشتہ ہندوستان کی علامت ہے۔ وہ ہندوستان جو انگریزوں کی آمد سے پہلے خوشحال تھا (درخت پر پھل لگتے تھے، شہد کی مکھیاں آتی تھیں، پرندے بسیرا کرتے تھے)۔ لیکن اب غلامی کے دور میں نہ اس پر پھل لگتے ہیں اور نہ پرندے بیٹھتے ہیں، جو ملک کے "سیاسی آشوب” کی طرف اشارہ ہے۔
اخلاقی پستی کا بیان:
احمد علی نے غلام قوم کی اخلاقی گراوٹ کو بھی بے نقاب کیا ہے۔
"ہمارے محلے میں اکثر ایک پاگل عورت آیا کرتی تھی… کچھ خدا ترس کبھی کبھی اسے کپڑے پہنا دیا کرتے تھے۔ لیکن چند ہی گھنٹوں کے بعد وہ پھر ننگی ہو جاتی تھی۔ یا تو کوئی کپڑوں کو اتار لیتا یا وہ خود ان کو پھاڑ کر پھینک دیتی تھی۔”
۲۰۰۹۱۹۰۳ مصنف: مرزا جاوید بیگ
یہ جملہ معاشرے کے ان امیر اور نام نہاد شرفاء کی طرف اشارہ ہے جو اپنی ہوس کی تکمیل کے لیے اتنے گر جاتے ہیں کہ ایک پاگل عورت کو بھی نہیں بخشتے۔ ان خصوصیات کی بنا پر بعض ناقدین احمد علی کو اردو افسانے میں علامت نگاری کا سرخیل قرار دیتے ہیں۔
مرزا ادیب: ترقی پسند دور میں منفرد آواز
"انگارے” کے بعد ترقی پسند تحریک کے عروج میں مرزا ادیب نے افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ اگرچہ وہ ترقی پسند تھے مگر ان کا انداز منفرد تھا۔ انہوں نے "صحرانورد کے خطوط” اور "ساتواں چراغ” جیسے افسانوں میں معنوی تہہ داری پیدا کی۔
کیا مرزا ادیب پہلے علامتی افسانہ نگار ہیں؟
مرزا ادیب کے افسانے "پسِ پردہ” اور "درونِ تیرگی” کے بارے میں ناقدین کی آراء مختلف ہیں:
- رشید امجد کا ماننا ہے کہ مرزا ادیب کا اسلوب بظاہر سادہ ہے لیکن اندرونی طور پر کہانی کے باطنی آہنگ اور مطالب کی تہہ داری کا پورا ساتھ دیتا ہے۔
- علی حیدر ملک کا خیال ہے کہ "درونِ تیرگی” مکمل علامتی افسانہ نہیں بلکہ یہ اپنے وقت کے عام دھارے سے ہٹ کر ایک کہانی تھی جس میں علامت کے ابتدائی نقوش ملتے ہیں۔
- دوسری جانب وزیر آغا لکھتے ہیں کہ مرزا ادیب کے شاہکار افسانے، بالخصوص "پسِ پردہ” اور "درونِ تیرگی”، جدید افسانے کے علامتی رنگ کے پیش رو قرار دیے جا سکتے ہیں۔
دیگر اہم افسانہ نگاروں کے تجربات
اردو افسانے کی تاریخ میں دیگر اہم ناموں نے بھی علامت نگاری کے تجربات کیے:
- ممتاز شیریں: ان کے افسانے "میگھ ملہار” کو بھی علامتی تسلیم کیا جاتا ہے۔ یہ افسانہ چار حصوں پر مشتمل ہے، جس کے ابتدائی دو حصوں میں اساطیری (Mythological) اور رمزی فضا ملتی ہے۔ انہوں نے عصری حقیقت کو اساطیری کرداروں کے ذریعے پیش کیا۔
- کرشن چندر: عام طور پر اصلاحی اور سماجی مسائل پر لکھنے والے کرشن چندر نے بھی نئی تکنیکیں آزمائیں۔ ان کے افسانے "غالیچہ” میں خارجی حقیقت سے ہٹ کر داخلی کیفیات کو اہمیت دی گئی ہے۔ اس افسانے میں ایک "بے جان غالیچہ” مرکزی کردار (آرٹسٹ) کی محرومیِ عشق اور ذہنی و داخلی کرب کی علامت بن کر ابھرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ناقدین اسے علامتی افسانوں میں شمار کرتے ہیں۔
اردو ادب، اور خاص طور پر افسانے میں علامت نگاری کوئی اچانک پیدا ہونے والا رجحان نہیں ہے۔ یہ ایک مسلسل ارتقائی عمل ہے جو قدیم داستانوں سے شروع ہو کر پریم چند، احمد علی اور مرزا ادیب جیسے اساتذہ کے ہاتھوں پروان چڑھا اور جدید دور میں ایک مستحکم تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔
نظر ثانی و تصحیح: محمد حماد ربانی
ڈجکوٹ فیصل آباد، فاضل درس نظامی (ایم اے اسلامیات)،متعلم طب یونانی و اسلامی سال سوئم
