مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

مجید امجد کی غزل گوئی کے۱۰ اہم پہلو

مجید امجد کی غزل گوئی اور جدید ادب میں ان کا منفرد مقام

اردو ادب کی تاریخ میں مجید امجد کی غزل گوئی اور نظم نگاری دونوں ہی ایک نمایاں اور منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے، ان کی زندگی کے دوران ان کی عظیم شخصیت اور تخلیقی صلاحیتوں کو وہ پذیرائی نہیں مل سکی جس کے وہ حقیقی طور پر حقدار تھے۔

تاہم، یہ ایک ناگزیر حقیقت ہے کہ پاکستان میں جدید غزل کے ارتقاء کا مطالعہ مجید امجد کے ذکر کے بغیر بالکل ادھورا ہے۔ انہوں نے روایتی راستوں سے ہٹ کر اپنی غزلوں میں نت نئے اور جرات مندانہ تجربات کیے۔

خاص طور پر، ہئیت (فارم) کے حوالے سے ان کے تجربات اردو شاعری میں ایک بالکل نیا اور تازہ ترین انداز لے کرآئے۔ وہ ایک ایسے تخلیق کار تھے جو اپنی فنکارانہ صلاحیتوں میں تکمیل پسندی (Perfectionism) کی حد تک حساس تھے۔

غزل کی ہئیت میں جدت اور قافیہ کا انوکھا استعمال

بعض اوقات ان کی غزلوں کے مطلعے میں ایک مختلف اور منفرد قافیہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ اس کے بعد، مطلع کے دوسرے مصرعے میں جو قافیہ استعمال ہوتا ہے، وہی پوری غزل میں تسلسل کے ساتھ دہرایا جاتا ہے۔

ان کے اس خاص انداز اور فنی پختگی کی ایک بہترین مثال ان کے یہ مشہور اشعار ہیں:

جو دن کبھی نہیں بیتا وہ دن کب آئے گا
انہی دنوں میں اس اک دن کو کون دیکھے گا

میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے
میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا

معانی، اسلوب اور نظم و غزل کا امتزاج

روایتی شعراء کے برعکس، مجید امجد کبھی بھی بنی بنائی اور فرسودہ ہئیت پر انحصار نہیں کرتے تھے۔ ان کی شاعری کا بنیادی نظریہ ہی نو کاری اور جدت طرازی پر مبنی تھا۔

یہ بھی پڑھیں: منیر نیازی کی شاعری کا تنقیدی جائزہ

وہ ہر بار معانی، اسلوب اور ہئیت کے حوالے سے ایک نیا تجربہ کرنے کے عادی تھے۔ کئی بار انہوں نے اپنے اس تخلیقی انداز کا بھرپور فائدہ بھی اٹھایا۔

عموماً وہ غزلیں تخلیق کرتے اور انہیں مشاعروں میں یا اپنے قریبی دوست احباب کی محفلوں میں سناتے۔ لیکن کچھ عرصہ گزرنے کے بعد، وہ انہی غزلوں کو باقاعدہ عنوان دے کر نظم کے فارمیٹ میں شائع کروا دیا کرتے تھے۔

غزلوں کا نظموں میں ارتقاء اور اشاعتی مراحل

اردو ادب میں ان کی بے شمار غزلیں ایسی موجود ہیں جو بعد ازاں نظموں کے روپ میں منظرِ عام پر آئیں۔ اوپر درج کیے گئے اشعار بھی اسی تخلیقی زمرسے تعلق رکھتے ہیں۔

ان کے مشہور شعری مجموعے ’امروز‘ میں شامل کلام جیسے ”کون دیکھے گا“، ”جہانِ نور“ اور ”بول انمول“ دراصل غزلیں ہی تھیں، جنہیں بعد میں عنوانات کے ساتھ نظموں کے طور پر چھاپا گیا۔

مثال کے طور پر، ان کی معروف نظم ”کون دیکھے گا“ رسالہ ’قند‘ کے مجید امجد نمبر میں واضح طور پر غزل کی صنف کے تحت ہی شائع ہوئی تھی۔ ان کی تخلیقی بے چینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اشاعت کے بعد بھی وہ اپنی نظموں پر مسلسل نظرِ ثانی کرتے رہتے تھے۔

اس اہم نکتے پر روشنی ڈالتے ہوئے ممتاز نقاد خواجہ محمد ذکریاں نے ’کلیات مجید امجد‘ کے دیباچے (دیباچہ طبع نو، صفحہ ۳۲) میں لکھا ہے:
"مجید امجد کی بہت سی نظموں میں لفظی تبدیلیاں ملتی ہیں۔ رسائل میں پہلی دفعہ اور طرح سے شائع ہوئی ہیں اور بعد میں چند الفاظ تبدیل کر کے قدرے مختلف صورت میں چھپوا دی گئی ہیں۔ بعض اوقات یہ فیصلہ کرنا بھی آسان نہیں کہ آگے پیچھے مختلف رسائل میں چھپنے والی نظموں میں سے آخری نسخہ کون سا ہے، کیونکہ یہ بھی ممکن ہے چند ماہ بعد چھپنے والی نظم ترمیم کے مراحل سے چند ماہ پہلے گزر چکی ہو۔”

مجید امجد کی غزل گوئی میں کائناتی شعور اورتصویر کشی

معروف نقاد انور سدید نے مجید امجد کی شاعری کا گہرا تجزیہ کیا ہے۔ اپنی کتاب ’اردو ادب کی تحریکیں‘ (صفحہ ۵۹۴) میں وہ ان کے فن کے بارے میں رقم طراز ہیں:
"اگرچہ مجید امجد کے ہاں اشیاء اور مظاہر سے جسمانی قرب کا احساس بہت نمایاں ہے اور موجود سے غیر معمولی شغف نے اس کی شاعری کو ارضی بنیادیں مہیا کر دی ہیں۔ مگر مجید امجد کے ہاں ایک کائناتی شعور (Cosmic Consciousness) بھی ہے، جو بہت کم دوسرے شعراء کو حاصل ہوا ہے۔”

دراصل، مجید امجد کی غزل گوئی کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے غزل کے اندر جو تصویر کشی (پیکر تراشی) استعمال کی، وہ بنیادی طور پر نظم کے مزاج سے مطابقت رکھتی تھی۔

انور سدید کے نقطہ نظر سے، مجید امجد اردو غزل کی تیزی سے بدلتی ہوئی روایت کا ایک انتہائی اہم زاویہ ہیں۔ ان کا ماننا ہے کہ ناصر کاظمی کی مانند مجید امجد نے بھی غزل کی صنف میں میر تقی میر کی قلندری، بے نیازی اور درویشانہ مزاج کو دوبارہ زندہ کیا۔

تاہم، مجید امجد کو اپنے ہم عصر شعراء سے جو چیز ممتاز کرتی ہے، وہ ان کی یہ کامیاب کوشش ہے کہ انہوں نے نظم کے جدید اور وسیع مزاج کو غزل کے کینوس پر رائج کیا۔

پیکر تراشی اور زمینی حقیقتوں کا بیان

انہوں نے اپنے دور کے تمام دکھوں، رنج و ملال اور خوشی کے لمحوں کو انتہائی فنی مہارت اور نزاکت کے ساتھ اپنی شاعری کا حصہ بنایا۔

وہ غزل ہو یا نظم، انہوں نے ہر موضوع کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے۔ ان کی غزلوں کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ پیکر تراشی کے فن کے بھی عظیم ماہر تھے۔

ان کی شاعری میں الہامی اور ماورائی حسن کے بجائے ارضی اور زمینی پیکر تراشی کے بہترین نمونے نظر آتے ہیں۔ وہ زندگی کی تلخ اور ننگی حقیقتوں کا براہ راست سامنا کرتے ہیں اور اپنے قاری کو بھی اس سچائی کا شدت سے احساس دلاتے ہیں۔

ان کی اس ارضی پیکر تراشی کا ایک نمائندہ شعر ملاحظہ کریں:

نگہ اٹھی تو زمانے کے سامنے ترا روپ
پلک جھکی تو مرے دل کے روبرو ترا غم

مجید امجد: سوانح حیات اور عملی زندگی کا سفر

مجید امجد کی زندگی انتہائی سادہ اور مختلف نشیب و فراز سے بھرپور تھی۔ ان کے حالاتِ زندگی کا مختصر مگر جامع خاکہ درج ذیل ہے:

  • اصلی نام: عبدالمجید
  • تخلص: امجد
  • تاریخِ پیدائش: 29 جون 1914ء
  • جائے پیدائش: جھنگ، پنجاب
  • تاریخِ وفات: 11 مئی 1974ء
  • بین الاقوامی شناخت (LCCN): n81077034

تعلیم اور ملازمت کی جدوجہد

انہوں نے سال 1934ء میں تاریخی تعلیمی ادارے اسلامیہ کالج، لاہور سے اپنی بی اے کی ڈگری مکمل کی۔ تعلیم سے فراغت کے بعد روزگار کا کٹھن مرحلہ پیش آیا۔

ابتداء میں انہیں رائے دہندگان (ووٹرز) کی فہرستیں مرتب کرنے کی عارضی نوکری ملی، جو محض چند ماہ میں اپنے اختتام کو پہنچ گئی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک انشورنس کمپنی کے ایجنٹ کے طور پر قسمت آزمائی کی۔

مگر یہ کام جس غیر معمولی لگن، تیز رفتاری اور محنت کا متقاضی تھا، وہ مجید امجد جیسی درویش صفت شخصیت کے بس کی بات نہ تھی۔

صحافت اور سرکاری ملازمت

سال 1935ء میں ایک نیم سرکاری نوعیت کا رسالہ ’عروج‘ کے نام سے جاری کیا گیا، جس میں انہیں ایڈیٹر کی ذمہ داریاں سونپی گئیں۔ مجید امجد ایک طویل عرصے تک اس رسالے کی ادارت سے وابستہ رہے۔

یہ بھی پڑھیں: مجید امجد کی نظم نگاری کا تنقیدی مطالعہ

بالآخر، 1949ء میں انہیں محکمۂ خوراک (فوڈ ڈیپارٹمنٹ) میں ایک مستحکم نوکری مل گئی۔ اسی محکمے میں کام کرتے ہوئے، وہ 1972ء میں ساہیوال شہر سے بطور اسسٹنٹ فوڈ کنٹرولر ریٹائر ہوئے۔

آخری ایام، وفات اور بعد از مرگ اعزازات

انہوں نے اپنی زندگی کے آخری 27، 28 سال ساہیوال میں ہی گزارے۔ بدقسمتی سے ان کی خاندانی اور ازدواجی زندگی سکون سے محروم تھی۔

ان کی اہلیہ نے طلاق تو نہیں لی، لیکن وہ ان سے مکمل طور پر الگ ہو کر رہنے لگیں۔ مجید امجد اپنی بقیہ زندگی انتہائی تنہائی اور شدید مالی تنگ دستی کے عالم میں گزارنے پر مجبور تھے۔

جب ان کے مالی حالات انتہائی دگرگوں ہو گئے تو بعض قریبی دوستوں کی کوششوں اور توجہ دلانے پر حکومتِ پاکستان نے مارچ 1974ء میں ان کے لیے پانچ سو روپے ماہانہ کا ادبی وظیفہ مقرر کیا۔

انہیں فطری طور پر شعر و ادب سے لگاؤ تھا۔ اگرچہ انہوں نے غزل میں کمال دکھایا، لیکن انہیں غزل کی نسبت نظم سے زیادہ دلی انسیت تھی اور وہ بنیادی طور پر ایک نظم گو شاعر تھے۔

11 مئی 1974ء کو ساہیوال میں ان کا انتقال ہوا اور اگلے دن 12 مئی کو انہیں ان کے آبائی شہر جھنگ کے قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔

ان کی شاندار ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے، وفات کے بعد ساہیوال کے معروف ”کنعاں پارک“ کا نام تبدیل کر کے ”امجد پارک“ اور ”ساہیوال ہال“ کا نام ”امجد ہال“ رکھ دیا گیا۔ (یہ سوانحی حوالہ محمد شمس الحق کی مرتب کردہ کتاب پیمانۂ غزل، جلد دوم، صفحہ 63 سے ماخوذ ہے)۔

تصانیف، شعری مجموعے اور تحقیقی مقالہ جات

مجید امجد کی شعری و ادبی خدمات پر مبنی کتابوں اور ان پر لکھے گئے مقالہ جات کی تفصیل درج ذیل ہے:

مجید امجد کی اپنی تصانیف

  • شب رفتہ (اشاعت: 1958ء)
  • چراغ طاق جہاں
  • میرے خدا میرے دل
  • شب رفتہ کے بعد
  • کلیات مجید امجد (ان کی کلیات بعد ازاں ’لوحِ دل‘ کے عنوان سے بھی شائع کی گئی)

مجید امجد کی شخصیت اور فن پر لکھی گئی کتابیں

  • گلاب کے پھول
  • مجید امجد: شخصیت، فن اور منتخب کلام (اشاعت: 1978ء)
  • قند، مجید امجد نمبر (خصوصی شمارہ نمبر 008، 009)

جامعاتی مقالہ جات اور تحقیق

اردو ادب کے محققین نے ان کی شاعری اور مجید امجد کی غزل گوئی پر گہرا تحقیقی کام کیا ہے۔ جن میں نمایاں مقالے یہ ہیں:

  1. جدید اردو شعری تناظر میں مجید امجد کی شاعری کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (مقالہ نگار: عامر سہیل)
  2. مجید امجد کی شاعری میں امیجری (مقالہ نگار: سدھیر احمد)

مجید امجد ایک ایسے شاعر تھے جنہوں نے لفظوں کو ایک نئی زندگی دی، اور ان کی شعری میراث آج بھی اردو ادب کے ماتھے کا جھومر ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: روبینہ خوشحال ایم فل اردو نمل یونیورسٹی اسلام آباد کیمپس

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں