پنجابی اور ماہیا کی تعریف،تاریخ، اور اہمیت، تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025
موضوعات کی فہرست
ماہیا خطہ پنجاب اور ہزارہ کی ثقافت میں رچا بسا ایک انتہائی مقبول اور دلکش لوک گیت ہے۔ اس کی گونج پنجاب کے چپے چپے میں سنائی دیتی ہے، خواہ وہ سرائیکی اور ملتانی علاقے ہوں یا گوجری، ڈوگری، ہندکو، پوٹھوہاری، ماجھی، لہندے اور بار کے خطے۔
ماہیے کی عوام میں سینہ بہ سینہ مقبولیت ہے اور یہ کسی ایک شاعر کا نہیں بلکہ خود رو پودوں کی مانند عوام کے سچے جذبات کی عکاسی کرنے والا اور مشترکہ اثاثہ اور ثقافتی میراث ہے۔ ظاہری ساخت میں منفرد ہونے کے باوجود، یہ سماج کی اجتماعی سوچ کا ترجمان ہے۔
لفظ ’ماہیا‘ کی ابتدا اور لغوی معنی
اگرچہ ماہیے کے ابتدائی خالق کے بارے میں حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا، لیکن نامور محققین اور اسکالرز نے اس کے ماخذ پر گہری تحقیق کی ہے۔
تنویر بخاری صاحب اپنی کتاب ‘ماہیا فن تے بنتر’ میں اس حوالے سے نہایت جامع بحث کرتے ہیں۔ ان کے مطابق:
"ماہیا بنیادی طور پر لفظ ‘ماہی’ اور ‘الف ندائیہ’ کے ملاپ سے وجود میں آیا ہے۔ اس کے مرادی معنی میں اے ماہی، اے ساجن، اے ساتھی، اے محبوب، اور اے میرے معشوق وغیرہ شامل ہیں۔”
اسی طرح امین خیال لفظ کی ساخت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"‘ماہیا’ کا لغوی مطلب ہے ‘مہیں’ یعنی بھینسیں چرانے والا۔ وہ شخص جو جنگل یا بیلے میں بھینسیں چرانے کا پیشہ اختیار کرے، اسے ماہی کہا جاتا ہے۔”
پنجابی میں ‘مہیں’ (مہی) یا ‘مینہہ’ کو ‘مجھ’ (بھینس) بھی کہا جاتا ہے۔ مختلف زبانوں میں اس لفظ کی ارتقائی شکلیں کچھ یوں ہیں:
- زبانیں: پنجابی، سندھی، بلوچی، کشمیری، پراکرت، سنسکرت، اردو
- مترادفات: مینہہ، مینہن، میہی، مینش، مہسی، مہشی، بھینس (ف۱)
تنویر بخاری بھی امین خیال کی اس بات سے متفق ہیں کے "ماہی” سے مراد بھینسیں چرانے والا ہی ہے۔ اس دعوے کی تصدیق کے لیے انہوں نے کلاسک ادب سے متعدد ٹھوس دلائل پیش کیے ہیں۔
کلاسیکی صوفیانہ اور رومانوی شاعری میں ’ماہی‘ کا ذکر
اسکالرز کی اس رائے کی تائید درج ذیل تاریخی حوالوں سے بہ خوبی ہوتی ہے (ف۲):
- مادھو لال شاہ حسین (۹۴۵ھ تا ۱۰۰۸ھ | ۱۵۳۹ء تا ۱۵۹۹ء):
> "میری تے ماہی دی پریت چروکی، جاں سر آہے چَھتّے” - علی حیدر ملتانی (۱۱۰۱ھ تا ۱۱۹۹ھ | ۱۶۹۰ء تا ۱۷۸۵ء):
> "حیدرؔنال ماہی دے پھر ساں جھنگ ونجن بھاویں شورونجن” - حضرت شاہ عبد الطیف بھٹائی (۱۱۰۲ھ تا ۱۱۶۵ھ):
> "وے ماہی! میں سمجھ نہ لایا نینہہ” - حضرت سچل سر مست (۱۱۵۳ھ | ۱۷۴۰ء جنم):
> "میں ماہی دی مستا نی وَسدا دِل وِچ دِلبر جانی” - شاہ جہاں مقبل (ہیر دا قصہ – تحریر: ۱۱۶۰ھ | ۱۷۴۷ء):
> "ماہی ڈھونڈ کے بابلااسیں آندا صفت ایسدی کہی نہ جاوندی ای” - حضرت وارث شاہ (لکھت: ۱۱۸۰ھ | ۱۷۶۶-۶۷ء):
> "جوہ وچ ماہی مجھیں چار دے سَن رانجھے ہیر وَل کر دھیان میاں”
رومانوی داستانوں سے تعلق: سوہنی اور مہیوال
روایات کے مطابق، ماہیے کا براہِ راست تعلق پنجاب کی مشہور رومانوی داستان سوہنی مہیوال سے ہے۔
کہا جاتا ہے کہ عزت بیگ نامی ایک پردیسی نوجوان اپنی محبوبہ (سوہنی) کی محبت میں اس کے علاقے میں بھینسیں (مہیں) چَرانے لگا تھا۔ اسی نسبت سے اسے ‘مہیوال’ کا خطاب ملا۔ جب یہی چرواہا اپنی محبوبہ کی یاد میں درد بھرے عاشقانہ بول گنگناتا، تو اسے ‘ماہیا’ پکارا جانے لگا۔ یہیں سے اس صنفِ سخن نے باقاعدہ شکل اختیار کی۔
ماہیے کی ہیت اور تکنیکی پہلو
تکنیکی اعتبار سے، پنجابی ماہیا تین مصرعوں پر مشتمل ایک بے حد دل کش صنفِ سخن ہے۔ اس کی بنیادی پہچان اس کی مخصوص ساخت ہے:
- پہلا مصرع: اور تیسرا مصرع وزن اور بحر میں بالکل برابر (ہم وزن) ہوتے ہیں۔
- دوسرا مصرع: پہلے اور تیسرے مصرعے کی نسبت سائز میں تھوڑا چھوٹا ہوتا ہے (اس میں ایک سلےبل یا دو حرف کم ہوتے ہیں)۔
اس کی ایک روایتی مثال ملاحظہ کریں:
اک بار تو مل ساچین
دیکھ ذرا آگرو
لونا ہو اول ساچین
معروف نقاد قاضی مشتاق احمد اپنی کتاب "اردو شاعری (میر سے پروین شاکر تک)” (مکتبہ جامعہ، نئی دہلی، ص: 24) میں ماہیے کی خوب صورتی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"پنجابی میں ماہیے کا مطلب چرواہا اور محبوب دونوں ہے۔ پنجاب کے چرواہے بھینسیں چراتے وقت بانسری بجاتے تھے یا گیت گاتے تھے تاکہ بھینسوں پر نظر بھی رہے اور جی بھی بہلتا رہے۔ یوں مہیوال اور رانجھے جیسے رومانی کرداروں سے یہ صنف پروان چڑھی۔”
اردو ماہیے کی چند خوبصورت مثالیں
وقت کے ساتھ ساتھ اردو شعراء نے بھی اس صنف میں طبع آزمائی کی۔ چند جدید اردو ماہیے درج ذیل ہیں:
دیپک قمر:
بھائی سے لڑے بھائی
یہ اپنے ہی پرکھوں سے
ہے ریت چلی آئی
آنند:
دھتکار کے لائق ہے
دنیا ہے یہ دنیا کب
پیار کے لائق ہے
نذیر فتح پوری:
نا پختہ دلیلوں سے
کیس بگڑتا ہے
کمزور وکیلوں سے
اور..
ہر غم کا مداوا ہے
ماں کا تبسم تو
قدرت کا کرشمہ ہے
موضوعاتی تنوع اور قافیے کی آزادی
ماہیے کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا خیال محض تین مصرعوں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ عموماً بات پہلے دو مصرعوں میں پوری ہو جاتی ہے، جب کہ تیسرا مصرع قاری کے ذہن کو ایک نیا رنگ یا جھٹکا دینے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ بعض اوقات تیسرا مصرع خیال کی سمت ہی بدل دیتا ہے۔
اگرچہ اس میں عموماً قافیے کی پابندی کی جاتی ہے، لیکن کئی جدید شعراء بغیر قافیے کے بھی ماہیے لکھ رہے ہیں۔ اس میں دوہے یا دیگر اصناف کی طرح کسی مخصوص بحر کی سخت قید نہیں ہے، بس بحر کا چھوٹی ہونا اور دوسرے مصرعے کا ایک ‘سلےبل’ (Syllable) کم ہونا ضروری ہے۔ پہلے اس میں صرف حسن و عشق کی کہانیاں ہوتی تھیں، مگر اب ہر قسم کے معاشرتی اور سماجی مضامین اس کا حصہ ہیں۔
پنجابی لوک گیت سے فلم اور اردو ادب تک کا سفر
جس طرح ‘رباعی’ ایرانی لوک گیت کے خول سے نکل کر اعلیٰ درجے کی شاعری بنی، بالکل ویسے ہی ماہیا نے بھی پنجابی لوک گیت سے اپنا سفر شروع کیا اور اردو و ہندی ادب میں ایک معتبر مقام حاصل کیا۔
فلم انڈسٹری کا کردار:
ماہیے کو ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مقبول بنانے میں سنیما کا کردار ناقابلِ فراموش ہے۔ اس کی غیر معمولی غنائیت اور موسیقیت (Musicality) کی وجہ سے یہ فلموں کے لیے بہترین انتخاب ثابت ہوا۔
شروع میں یہ صرف پنجابی فلموں تک محدود تھا، لیکن جب اردو شاعروں نے اسے اپنانا شروع کیا، تو ہندی اور اردو سنیما میں بھی ماہیے دھوم مچانے لگے۔ فلموں کے لیے لکھے گئے ان گیتوں کو عوام نے بے حد پسند کیا اور آج بھی لوگ انہیں گنگناتے ہیں۔
فلمی ماہیے عوام میں محض گیت ہیں مگر ادبی دنیا میں بلند مقام رکھتے ہیں۔ سنیما نے انہیں لوک گیت سے نکال عالمی ادب کا حصہ بنایا اور نئی نسل شعراء اس میں طبع آزمائی کر رہی ہے۔ موسیقیت، اختصار اور جذبات کی سچی عکاسی نے ماہیے کو اردو شاعری کی مستحکم ذیلی صنف بنا دیا ہے،جس کی اہمیت سے کوئی ادبی نقاد انکار نہیں کر سکتا۔
نظر ثانی و تصحیح: فرح شوکت بی۔ایس اُردو،میقات پنجم(گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج سرگودھا روڈ فیصل آباد)
