موضوعات کی فہرست
خطوط کی افادیت اور اہمیت | Khutoot ki Afadiyat aur Ahmiyat
خطوط کی افادیت اور اہمیت
محقق کا تعارف
ابو رافع نے اپنا پی۔ایچ۔ڈی مقالہ "مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ” ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور میں ڈاکٹر شباب الدین کی نگرانی میں 2013 میں پیش کیا۔
موضوع: خطوط نویسی—سماجی و ادبی افادیت کے حوالے سے۔
مقالے کا خلاصہ
صفحہ نمبر 39 پر خطوط کی افادیت پر تحقیقی روشنی ڈالی گئی ہے۔
محقق نے بتایا ہے کہ خطوط نگاری نہ صرف ذاتی اظہار کا ذریعہ ہے، بلکہ یہ ادبی، تاریخی، دستاویزی اور معاشرتی ربط کا قیمتی ذریعہ بھی ہے۔
مولوی عبد الحق کی شہرت یافتہ مثال بیان کی گئی ہے:
"مکتوب دلّی خیالات و جذبات کا روزنامچہ اور اسرار حیات کا صحیفہ ہے… خطوط سے انسانی سیرت کا جیسا اندازہ ہوتا ہے، وہ کسی دوسرے ذریعے سے نہیں ہو سکتا۔”
باوثوق ادبی قلمکاروں نے بھی خطوط نگاری کو اردو ادب میں ایک اہم صنف تصور کیا ہے، جیسے مرزا غالب نے کہا:
"میں نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا”—جو اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ خطوط نے افراد کے درمیان قریبی فکری ربط کو مضبوط کیا۔دستاویزی تحقیق میں خطوط کی حیثیت بھی نمایاں ہے—یہ صاحبِ طرز حوالہ جات کا قیمتی ذریعہ ہیں جن سے تحقیق کو عمق و شفافیت ملتی ہے۔
خطوط کی افادیت اور اہمیت
ماخذ و حوالہ جات
- مقالہ: مکتوبات شبلی کا تحقیقی و تنقیدی مطالعہ
- مقالہ نگار: ابو رافع (Pu07/160575)
- نگران: ڈاکٹر شباب الدین
- ادارہ: ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی، جونپور
- مولوی عبد الحق: "مکتوب… اسرار حیات کا صحیفہ…”
- مرزا غالب: "میں نے مراسلے کو مکالمہ بنا دیا”
- تحقیق میں خطوط کی اہمیت: "دستاویزی تحقیق میں سب سے زیادہ اہمیت مکاتیب کی ہوتی ہے…”