مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

افسانہ خود کی تلاش

( کومل یاسمین)

"زندگی پھولوں کی سیج نہیں یہ ایک ایسا ناہموار راستہ ہے جس پر قدم ڈگمگا جاتے ہیں
وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو مسلسل دیکھتے ہوئے اسی سوچ میں ڈوبی ہوئی تھی
کہ اس کی زندگی نہ جانے کب اور کونسا موڑ اختیار کر جائے
کہ ماں کی چنگھاڑتی ہوتی آواز نے اسے حال میں لا پٹکا
کہ اب سارا دن یہی بیٹھ کر گزار دینا چولہے چوکے کو بھی سنبھال لے ذرا جا کر
اور ایک تیرا باپ آتے ہی شروع ہو جائے گا چل جلدی سے سبزی بنا اور ہنڈیا چڑھا
سات بہن بھائیوں میں سب سے بڑی کہ جس نے گھر کو بھی سنبھالا اور بہن بھائیوں کو بھی اپنی اولاد سمجھ کر پالا جلدی جلدی رات کا کھانا بنایا ڈرتے ڈرتے ابا کو کھانا
دیا ماں نے تو اپنی زندگی ابا کے ساتھ جھگڑے میں ہی گزار دی آج پھر دل میں درد کی شدید لہر اٹھی جب مسکان جو میری واحد دوست کہ میرے ابا تو جب کام سے آتے ہیں تو مجھے گلے لگاتے ہیں اور ایک میں بدقسمت جو ماں باپ کے پیار کو ہی ترستی ہی اس دنیا سے چلی جاؤں گی ہر روز رات کو یہ سوچتی کہ صبح اماں سے اجازت لوں گی کہ میں بھی ہمارے گھر سے جو دو کلومیٹر سکول ہے پڑھانے چلی جاوں لیکن ہر رات کی طرح "نئی صبح میرے لیے ایک اور امتحان لئے آتی آج کا دن نہایت خوش گوار دل تھا کہ آج اپنے ہاتھوں کا بنا پلاؤ کھاؤ دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر اماں کے پاس پہنچی تو اماں نے کہا آگ لگے تمھاری اس زبان کو جو ہر وقت کھانے کے لیے مچلتی رہتی ہے اماں کا ایسا جواب سن کر دل ایک ٹھنڈی "آہ” بھر کہ ہی رہ گیا اس گھر میں اپنی پسند کی چیز بنانا حرام ہے بارویں تک تعلیم حاصل کی ایک دن بھی ایسا نہ آیا جب دوسری لڑکیوں کی طرح شوخ و چنچل لباس پہنے چند پیسے جو پاس ہوتے تو سنبھال لیتی کہ کام آجائیں گے میں ہر روز یہ سوچتی کہ "کچھ لوگوں اپنی قسمت سونے کے قلم سے لکھوا کر آتے ہیں اور من چاہی مراد پاتے ہیں” ہمسائے کی لڑکی سلائی کڑھائی خوب کرتی میں چھت پر سے ہی جھانک کر دیکھتی رہتی اماں سے کہا میں بھی سیکھ لیا کروں اماں مان گئی ایک ہی دن ابھی گزرا کہ ابا نے بلاوا بھیج دیا کہ ابھی کہ ابھی گھر آجا گھر پہنچی تو ابا نے ایسا تھپڑ مارا کہ ہونٹوں اور دانتوں سے خون رسنے لگا کہ بے غیرت اب تو ان کم ظرف اور کمنیے لوگوں کے گھر جانا گھر میں کسی کو علم نہ تھا کہ ابا نے یہاں بھی جھگڑا مول لیا ہے ابا اور اماں کے ہر روز کے جھگڑے کی وجہ سے میرا دماغ جب کوئی بات سوچتا تو اس قدر میں توہمات کا شکار ہو جاتی کہ ہر بات کے منفی پہلو مجھ پر آشکار ہو جاتے میرے دل میں یہی خواہش پنپنے لگی کی میری زندگی ایک ایسا موڑ اختیار کر جائے میں اپنے بہن بھائیوں کی زندگی میں اعتماد کی فضا قائم کر سکوں لیکن میری قسمت "میں زندگی سے نہیں زندگی ہی مجھ سے نالاں” مجھے ہر وقت یہ وسوسہ ہونے لگا میں کیا کبھی کچھ کر سکوں گی میرے خواب میرے خواہشات سب گھر کے کام کاج کی نظر ہو جائے گے ہر لمحہ میری زندگی قنوطیت میں گھیری رہنے لگی گھر میں جب میرے بیاہ کا تذکرہ بھی ہوتا تو ذہن میں منفی سوچیں یوں ڈیرا ڈال لیتی کہ مجھے سانس لینے میں تکلیف محسوس ہونے لگتی مجھے لگنے لگا کہ میں نفسیاتی مریضہ بن چکی ہوں کہتے ہیں نہ کہ کچھ ذمہ داریاں انسان کو وقت سے پہلے بڑا کر دیتی ہیں کبھی کبھار زندگی کی آزمائشیں ہمیں ایسی حقیقتیں دیکھاتی ہیں جو ہماری سوچ سے بھی بڑی ہوتی ہے شادی! میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کون ایسی لڑکی کو قبول کرے گا جس کے دل میں خوف ہو جس کے ماضی میں مار ہو جسے مردوں سے ڈر لگتا ہو ابا کی مار محلے والوں کے سامنے روز کی تذلیل یہ سب یادیں آج بھی میرے ساتھ ہیں میں نہیں چاہتی کہ ابا جیسا ہمسفر مجھے ملے
میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ کوئی میرے لیے "دعا کرے کیونکہ کچھ زخم نظر نہیں آتے مگر وہ انسان کو اندر سے توڑ دیتے ہیں۔۔۔

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں