مفت اردو ادب وٹسپ چینل

اردو ادب وٹسپ گرپ میں شامل ہو کر روزانہ، پی ڈی ایف کتب اور اہم مواد تک رسائی حاصل کریں

خدیجہ مستور کی ناول نگاری

خدیجہ مستور کی ناول نگاری: ”آنگن“ اور ”زمین“ کا تنقیدی و تجزیاتی مطالعہ تحریر از احمد سیال ایم فل اردو یونیورسٹی آف پشاور 2025۔

اردو ادب کی تاریخ میں جب بھی خواتین قلمکاروں کا ذکر ہوتا ہے، خدیجہ مستور کا نام سرِ فہرست آتا ہے۔ انہوں نے اپنی خدا داد تخلیقی صلاحیتوں اور گہرے فنی شعور کے بل بوتے پر اردو ناول نگاری کو نئی وسعتوں سے روشناس کرایا۔ ان کی ادبی ساکھ بنانے میں ان کے شہرہ آفاق ناول ”آنگن“ کا کردار کلیدی حیثیت رکھتا ہے.

اگرچہ بظاہر یہ ناول ایک متوسط طبقے کے مسلمان گھرانے کی کہانی سناتا ہے، لیکن درحقیقت یہ اس عہد کے پورے برصغیر کے ”آنگنوں“ کا ترجمان ہے۔ یہ محض ایک خاندان کا قصہ نہیں بلکہ اس دور کے سماجی و سیاسی حالات کا ایک مکمل آئینہ ہے۔ اسے تقسیمِ ہند کے المیے اور ہجرت کے کرب پر لکھا گیا ایک ایسا شاہکار تسلیم کیا جاتا ہے جس کی مثال ملنا مشکل ہے۔

ناول ”آنگن“: فنی محاسن اور اسلوب

اس ناول کی سب سے بڑی خوبی اس کی سادگی اور حقیقت نگاری ہے۔ مشہور ناقد ڈاکٹر شہاب ظفر اعظمی اپنی کتاب ”اردو ناول کے اسالیب“ میں اس ناول کی فنی پختگی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

”آنگن ایک ایسا ناول ہے جو بے پناہ سادگی اور عمومیت لیے ہوئے ہے۔ ناول نگار کو جس فنی شعور کی ضرورت ہوتی ہے وہ خدیجہ مستور کے یہاں موجود ہے۔ انہوں نے ناول کا تانا بانا سیدھی سادی باتوں اور روزمرہ کے واقعات سے تیار کیا ہے۔ یہ ناول قاری کو اپنی زندگی سے بہت قریب محسوس ہوتا ہے، اسے اپنے بنیادی مسائل کا احساس دلاتا ہے اور یہ محسوس ہونے نہیں دیتا کہ وہ کسی اجنبی دنیا میں سفر کر رہا ہے۔“

شہاب ظفر اعظمی ( ڈاکٹر ) اردو ناول کے اسالیب تخلیق کار پبلشرز دہلی ۲۰۰۵ ص ۱۳۲ (۲۲) ایضاً ص ۱۳۳

مصنفہ نے ناول میں اتر پردیش (UP) کے ایک خاندان کو علامتی طور پر پیش کر کے پورے برصغیر کی سیاسی و سماجی اتھل پتھل کو اجاگر کیا ہے۔ پلاٹ کی ساخت روایتی ہونے کے باوجود اتنی جاندار ہے کہ ابتدا سے لے کر انجام تک واقعات کا تسلسل کہیں نہیں ٹوٹتا۔

کہانی کا تانا بانا: ماضی اور حال

ناول کی ساخت کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے:

  1. ماضی (فلیش بیک): جو کہانی کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
  2. حال: جو تقسیم کے بعد کی صورتحال ہے۔

کہانی کی مرکزی کردار عالیہ ہے جس کی یادوں اور سوچ کے ذریعے ہمیں ماضی کا منظرنامہ دیکھنے کو ملتا ہے۔

اہم کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ

خدیجہ مستور کی کردار نگاری کمال کی ہے۔ ہر کردار اپنی انفرادی نفسیات اور سماجی حیثیت کا عکاس ہے۔

  • تہمینہ: عالیہ کی بہن، جو اپنے پھوپھی زاد صفدر سے محبت کرتی ہے۔ صفدر کی ماں کا انتقال بچپن میں ہو جاتا ہے اور وہ انہی کے گھر پلا بڑھا ہے۔ تہمینہ کے والد تو اس رشتے پر راضی ہوتے ہیں مگر والدہ اپنی ”زمیندارانہ انا“ اور روایتی سوچ کی وجہ سے انکار کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً تہمینہ کی شادی جمیل سے طے پاتی ہے، جسے وہ قبول نہیں کر پاتی اور خودکشی کر لیتی ہے۔
  • کسم: یہ ایک اور کردار ہے جس کی خودکشی کا واقعہ عالیہ کی شخصیت پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے۔
  • عالیہ کے والد: ایک قوم پرست کردار جو انگریزوں کی ملازمت مجبوری میں کرتا ہے لیکن دل میں تحریکِ آزادی کا جذبہ رکھتا ہے۔ وہ غصے کے عالم میں ایک انگریز افسر کو قتل کر دیتا ہے اور جیل چلا جاتا ہے، جس کے بعد خاندان کی کفالت کی ذمہ داری ”بڑے ابا“ پر آ جاتی ہے۔
  • چھمی: یہ ناول کا سب سے جاندار اور توانا کردار ہے۔ یہ عالیہ کے منجھلے چچا کی بیٹی ہے۔ جب جمیل (جو پہلے چھمی میں دلچسپی لیتا تھا) عالیہ کے آنے کے بعد اسے نظر انداز کرتا ہے، تو چھمی ہار ماننے کے بجائے ”باغی“ ہو جاتی ہے۔ اسی بغاوت میں وہ ایک نالائق شخص سے شادی کر لیتی ہے۔ سیاسی طور پر چھمی اور جمیل مسلم لیگ کے حامی ہیں جبکہ بڑے چچا کانگریسی خیالات رکھتے ہیں۔

تقسیم کا المیہ اور اختتام

کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے، تقسیم ہند کا سانحہ رونما ہوتا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد عالیہ کی ملاقات دوبارہ صفدر سے ہوتی ہے۔ صفدر شادی کی پیشکش کرتا ہے، عالیہ کا دل کسی حد تک راضی بھی ہوتا ہے مگر وہ یہ سوچ کر انکار کر دیتی ہے کہ صفدر اب وہ نہیں رہا بلکہ ”نچلی سطح“ پر آ گیا ہے۔ اس طرح عالیہ کا کردار ایک ایسے مبصر کا ہے جو ہر چیز کو پرکھتا ہے مگر جذباتی وابستگی سے گریزاں رہتا ہے۔

منظر نگاری کا کمال

خدیجہ مستور نے ناول میں ماحول کی عکاسی اتنی مہارت سے کی ہے کہ قاری خود کو اسی گھر میں موجود پاتا ہے۔ ایک منظر ملاحظہ کیجیے:

”آج بھی شام سے بادل چھا گئے تھے خنکی بڑھ گئی تھی۔ کھڑکی کے پاس لگا ہوا بجلی کا بلب خاموشی سے جل رہا تھا۔ گلی کے پار اسکول کی ادھ بنی عمارت کے قریب درختوں کے جھنڈ سے اُلو کے بولنے کی آواز کی نحوست رات کو اور بھی سنسان کیے جا رہی تھی۔“

ایضاً ص ۱۳۳

ناول ”زمین“: ایک نئے دور کا آغاز

خدیجہ مستور کا دوسرا اہم ناول ”زمین“ ہے، جو 1984ء میں منظرِ عام پر آیا۔ اگرچہ اسے ”آنگن“ جتنی عوامی مقبولیت حاصل نہ ہو سکی، لیکن ادبی حلقوں میں اسے ایک اہم دستاویز کی حیثیت حاصل ہے۔ ناقدین کے مطابق، ”زمین“ دراصل وہیں سے شروع ہوتا ہے جہاں ”آنگن“ ختم ہوا تھا۔ اسے ”آنگن“ کی توسیع بھی کہا جا سکتا ہے۔

موضوع: اقدار کی شکست و ریخت

اس ناول کا موضوع پاکستان بننے کے بعد کے مسائل، مہاجرین کی آباد کاری اور اخلاقی اقدار کا زوال ہے۔ مرکزی کردار ساجدہ ہے جو اپنے بوڑھے والد کے ساتھ مہاجر کیمپ میں مقیم ہے۔ والد کی موت کے بعد ساجدہ تنہا رہ جاتی ہے۔

تنہائی کے اس عالم میں اسے اپنے پرانے محبوب صلاح الدین کی یاد ستاتی ہے جس نے وعدہ کیا تھا کہ وہ اسے پاکستان میں ڈھونڈ لے گا۔ لیکن حالات کی ستم ظریفی دیکھیں کہ ساجدہ کو سہارا لینے کے لیے ناظم اور اس کی بہن سلیمہ کے گھر جانا پڑتا ہے۔

کرداروں کی پیچیدگی اور سماجی رویے

ناول ”زمین“ کے کردار نئی مملکت میں پیدا ہونے والی سماجی برائیوں اور موقع پرستی کی عکاسی کرتے ہیں۔

  • ناظم کا خاندان: یہ خاندان بھی مہاجر ہے لیکن انہوں نے چالاکی اور اثر و رسوخ سے ایک کوٹھی پر قبضہ جما لیا ہے۔ ناظم کے والد (جنہیں مالک کہا جاتا ہے) اور والدہ کے تعلقات کشیدہ ہیں۔ ناظم کی والدہ ایک مظلوم عورت ہے، جبکہ مالک کا جھکاؤ سلیمہ کی والدہ (خالہ بی) کی طرف تھا جو اب انہی کے گھر میں بیوہ ہو کر رہ رہی ہیں۔
  • ساجدہ اور ناظم: ساجدہ مجبوری کے تحت ناظم سے شادی کر لیتی ہے۔ ناظم سیاست میں سرگرم ہے اور ساجدہ ایک وفادار بیوی کی طرح اس کا ساتھ دیتی ہے، مگر اس کے دل میں ناظم کے لیے وہ محبت نہیں جو صلاح الدین کے لیے تھی۔ جب صلاح الدین سے اس کی ملاقات ہوتی ہے تو اسے اندازہ ہوتا ہے کہ وقت نے صلاح الدین کی شخصیت کو بھی مسخ کر دیا ہے، لہٰذا وہ اپنے شوہر اور بچوں کی خاطر سمجھوتہ کر لیتی ہے۔
  • کاظم: یہ ناظم کا بھائی ہے اور ناول کا سب سے منفی کردار ہے۔ یہ جاگیردارانہ اور استحصالی ذہنیت کا نمائندہ ہے۔ اعلیٰ عہدے پر فائز ہونے کے باوجود اس کا اخلاقی معیار گرا ہوا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی نوکرانی تاجی کو ہوس کا نشانہ بناتا ہے بلکہ اپنی بھابھی ساجدہ پر بھی بری نظر رکھتا ہے۔

تقابلی جائزہ: آنگن بمقابلہ زمین

خدیجہ مستور نے دونوں ناولوں میں جس طرح کردار نگاری کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔

  • آنگن میں سیاست پسِ منظر میں چلتی ہے اور گھر کا ”آنگن“ مرکزی اہمیت رکھتا ہے۔
  • زمین میں سیاست اور سماجی استحصال پیش منظر میں آ جاتے ہیں۔

ناول ”زمین“ میں مصنفہ نے دکھایا ہے کہ کس طرح حصولِ پاکستان کے بعد کچھ لوگوں نے اپنے مفادات کے لیے ملک کو لوٹا۔ کاظم جیسے کردار اس بات کا ثبوت ہیں کہ نئی مملکت میں کس طرح طاقتور طبقے نے کمزوروں اور یہاں تک کہ اپنی اقدار کا بھی استحصال کیا۔

مختصراً یہ کہ جہاں ”آنگن“ تقسیم سے پہلے کی تہذیب اور جذباتی کشمکش کا نوحہ ہے، وہیں ”زمین“ تقسیم کے بعد کے خوابوں کے ٹوٹنے اور حقیقت کے تلخ روپ کی داستان ہے۔

نظر ثانی و تصحیح: محمد عمر بی ایس اردو

اس تحریر پر اپنے رائے کا اظہار کریں